صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1173 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

باپ اور بھائی کی موجودگی میں ماموں نے نکاح کر دیا تو نکاح ہوا یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,262

سوال (Question):

باپ اور بھائی کی موجودگی میں ماموں نے نکاح کر دیا تو نکاح ہوا یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

باپ اور بھائی کی موجودگی میں ماموں نے نکاح کر دیا تو نکاح ہوا یا نہیں؟

سوال : ماموں نے اپنی نابالغ بھانجی کا نکاح اپنی اجازت سے کر دیا حالانکہ اس وقت باپ اور بھائی بھی موجود تھے جس وقت لڑکی بالغ ہوئی تو اس وقت لڑکی نے کہا کہ میں اس شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور لڑکی نے عدالت منصفی میں ایک دعوی بھی دائر کیا جس میں لڑکی نے یہ بتلایا کہ میرا نکاح نابالغی میں ہوا تھا اور اب میں بالغ ہوگئی ہوں اور مجھے اختیار ہے کہ میں اپنا نکاح فسخ کر دوں اور عدالت منصفی نے لڑکی کا نکاح فسخ کر دیا اس صورت میں لڑکی اپنا دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں نابالغ بھانجی کا نکاح باپ کی اجازت کے بغیر اگر ماموں نے غیر کفو سے کیا یا مہر میں فاحش کمی کے ساتھ کیا تو نکاح باطل ہوا. درمختار مع الشامی جلد اول صفحہ 305 میں ہے ‘‘ ان کان المزوج غیرھما ای غیر الاب وابیہ لا یصح النکاح من غیر کفؤ او بغبن فاحش اصلا ” اور اگر باپ کی اجازت کے بغیر صرف ماموں نے کفو کے ساتھ مہر مثل کے بدلے کیا تو نکاح فضولی ہوا اس صورت میں باپ کی اجازت پر موقوف تھا اگر اس نے نکاح کی خبر سن کر رد کر دیا اور کہا کہ میں اس نکاح کو جائز نہیں ٹھہراتا یا رد کرتا ہوں یا میں راضی نہیں ہوں یا ان کے مثل اور کوئی لفظ کہا تو رد ہو گیا. اس صورت میں لڑکی طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح کر سکتی ہے. اور اگر باپ نے اس نکاح کی اجازت پہلے دے دی تھی یا ماموں نے کفؤ سے مہر مثل کے ساتھ نکاح کیا تو باپ نے صراحۃ اجازت دے دی مثلاً کہا کہ بہتر ہوا یا میں نے پسند کیا یا مجھے منظور ہے یا ان کے مثل اور کوئی کلمہ کہا. یا بعد نکاح باپ نے دلالۃ اجازت دے دی مثلا اس نے شوہر کی جانب سے لڑکی کے لیے عیدی کپڑا وغیرہ قبول کیا یا باپ نے اسی قسم کا اور کوئی کام کیا جس سے رضامندی سمجھی جائے تو نکاح لازم ہو گیا. در مختار میں ہے ” لو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ” ان تمام صورتوں میں لڑکی شوہر سے طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح ہرگز نہیں کر سکتی کہ کفؤ سے مہر مثل کے ساتھ کیا ہوا ماموں کا نکاح باپ کی اجازت پر موقوف تھا جب اس نے نافذ کر دیا لازم ہوگیا بشرطیکہ باپ معروف بسوء الاختیار نہ ہو. لہذا اس صورت میں لڑکی کو کو بعد بلوغ اختیار فسخ نہ رہا اور جب اختیار فسخ نہ رہا تو بالغ ہوتے ہی لڑکی کا یہ کہنا کہ میں اس شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی فضول ہے. اور موجودہ زمانے کے نام نہاد عدالت منصفی سے نکاح فسخ کرانا بہرصورت بے کار ہے یہ دارالقضاء شرعی نہیں اور نہ ہی حاکم شرع. لہذا ان کے فسخ کرنے سے نکاح ہرگز فسخ نہ ہوگا. ھکذا فی الجزء الخامس من الفتاویٰ الرضویہ. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 677

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh