صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1524 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

باپ دادا نے عشر نہ ادا کیا ہو تو کیا ورثہ پر اس کی ادائیگی ضروری ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,026

سوال (Question):

باپ دادا نے عشر نہ ادا کیا ہو تو کیا ورثہ پر اس کی ادائیگی ضروری ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

باپ دادا نے عشر نہ ادا کیا ہو تو کیا ورثہ پر اس کی ادائیگی ضروری ہے؟

سوال : ادھر دس بارہ سالوں سے ہمارے والد صاحب گلے کا عشر نکالتے ہیں حالاں کہ اس سے پہلے ہمارے باپ دادا نے عشر نہیں ادا کیا (ہماری معلومات کے مطابق) اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــ اگر آپ کے باپ دادا ابھی تک باحیات ہیں تو ان پر گزشتہ تمام ایام کا عشر ادا کرنا اب بھی واجب ہے. حضور مفتی اعظم ہند سے کسی نے سوال کیا کہ بوجہ عدم واقفیت اب تک جو عشر ادا نہیں کیا گیا اور نہ اب گزشتہ ایام کا ادا کرنا ممکن ہے اس کے لیے کیا کیا جائے؟ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اب بھی واجب ہے کہ جس قدر غلہ یا پھل ہوں ان کا پورا عشر علیحدہ کرے یا اس کی پوری قیمت دے. جو فصل فروخت کی اس میں یہ تفصیل ہے توبہ کرے اور اس میں دین الہی کی ادا کا ارادہ رکھے اور جس قدر کی ادا پر قدرت پاتا جائے ادا کرتا رہے. (فتاوی مصطفویہ صفحہ 298) اگر آپ کے باپ دادا باحیات نہیں اور وہ غلہ صرف ہو چکا اور اس سلسلے میں ان کے کوئی وصیت بھی نہیں تو ان کے ذمہ جو عشر نکالنا باقی تھا اس کا ادا کرنا ورثہ پر واجب نہیں. فتاوی ہندیہ میں غرور بحر الرائق سے ہے ” یسقط بموت المالک من غیر وصیۃ اذا کان قد استھلکہ” ١ھ. (ص 186 جلد 1 باب السادس فی زکوۃ الزرع والثمار) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد سفیر الحق رضوی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh