صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1141 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟ / ولی اور کفؤ کا بیان

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,446

سوال (Question):

باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟ / ولی اور کفؤ کا بیان

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟

سوال : زید نے اپنی پہلی لڑکی کا نکاح حالت نابالغی میں ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ کئی سال پہلے کر دیا تھا. لڑکا ابھی تک نا بالغ ہے. اور لڑکی بالغ ہو گئی ہے جو اپنے شوہر کے پاس جانے کو تیار نہیں ۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ زید اس کا دوسرا نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ حالت نابالغی میں باپ یا دادا کا کیا ہوا نکاح اس طرح لازم ہو جاتا ہے کہ لڑکی کسی طرح فسخ نہیں کرسکتی . لہذا صورت مسئولہ میں لڑکی کا دوسرا نکاح کرنا حرام ہے ہر گز ہر گز جائز نہیں. ہاں اگر شوہر مر جائے یا بالغ ہونے کے بعد طلاق دے تو دوسرا نکاح کرسکتی ہے کہ نابالغ کی طلاق واقع نہیں ہوتی. فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 267 میں ہے ” ان زوجھما الاب اوالجد فلا خیار لھما بعد بلوغھما “ اور در مختار مع شامی جلد دوم صفحہ ٣٠٨ میں ہے لزم النکاح ولو بغبن فاحش او بغیر کفو ان کان الولی ابا او جدا لم یعرف منھما سوء الاختیار ” اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ٣٣٠ میں ہے” لا یقع طلاق الصبی وان کان یعقل ھکذا فی الفتح القدیر ۔” واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 647

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh