صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #354 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بدن یا کپڑے پر نجاست غلیظہ لگنے کا حکم

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,725

سوال (Question):

بدن یا کپڑے پر نجاست غلیظہ لگنے کا حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بدن یا کپڑے پر نجاست غلیظہ لگنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ

اگر کپڑے یا جسم پر ایک درہم سے کم پیشاب لگ جائے تو کیا وہ کپڑا یا جسم پاک ہی رہے گا یا ناپاک ہو جاے گا اور اگر ناپاک ہو گیا تو کیا پاک کئے بغیر نماز ہو جائے گی۔

سائل:وقاص احمد

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب۔

وہ کپڑا یا جسم پاک ہی رہے گا ناپاک نہ ہوگا مگر اس کا دھلنا سنت ہے اگر بغیر دھلے نماز پڑھی تو ہوجاے گی مگر خلاف سنت ہوگی اس کا دوبارہ پڑھنا بہتر ہے۔

ہدایہ میں ہے “و ﻗﺪﺭ اﻟﺪﺭﻫﻢ ﻭﻣﺎ ﺩﻭﻧﻪ ﻣﻦ اﻟﻨﺠﺲ اﻟﻤﻐﻠﻆ ﻛﺎﻟﺪﻡ ﻭاﻟﺒﻮﻝ ﻭاﻟﺨﻤﺮ ﻭﺧﺮء اﻟﺪﺟﺎﺝ ﻭﺑﻮﻝ اﻟﺤﻤﺎﺭ ﺟﺎﺯﺕ اﻟﺼﻼﺓ ﻣﻌﻪ ﻭﺇﻥ ﺯاﺩ ﻟﻢ ﺗﺠﺰ”(ہدایہ،ج١، ص٣٧، ش)۔

بہار شریعت میں ہے

“نجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے”(ج٢، ص٣٨٩)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

٢١فروری٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh