Fatwa #1465
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
برباد فصل کے معاوضہ سے متعلق ایک سوال از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,500
سوال (Question):
برباد فصل کے معاوضہ سے متعلق ایک سوال از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
برباد فصل کے معاوضہ سے متعلق ایک سوال
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیانِ شرح اِس بارے میں کہ۔ زید نے بکر کا کھیت لیز پر رکھا تھا یعنی بکر زمین کا مالک ہے زید نے ایک سال بھر کے لئے بکر کو پیسے دے دیئے زید کو اُس میں فائدہ ہو یا نقصان بکر کو اپنی زمین کی قیمت مل گئی ہے , لیکِن زید نے فصل بوئی اور زید کی فصل سردی کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی سرکار کی طرف سے،، Goverment،، اُس فصل کا معاوضہ ( رقم ) آیا جو فصل خراب ہو گئی تھی اب اُن معاوضہ پر کس کا حق ہوگا بکر کا یا زید کا ،، زید کا کہنا ہے کہ یہ حق میرا ہوگا اسلئے کہ فصل میں نے بوئی ہے اِس میں جو بھی لاگت لگی تھی میں نے لگائی بیج لگانا اُس میں پانی دینا کٹائی وغیرہ یہ سب لاگت زید نے لگائی تھی، قرآن و حدیث کی روشنی میں جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں المستفتی ،رحمت علی نظامی علیمی ساکن، مندسور مدھیہ پردیش الجوابــــــــــــــــــــــــــ جب زید نے سال بھر کے لیے زمین کرایہ پر لے کر فصل لگائی تھی اور فصل برباد ہوگئی، جس پر گورنمنٹ نے معاوضہ کے نام سے امداد دی تو ظاہر یہ ہے کہ گورنمنٹ نے یہ رقم زید ہی کو دی ہے۔ اب چوں کہ عام طور پر مانا یہی جاتا ہے کہ کھیت کا مالک ہی کھیتی کرتا ہے یا وہ مزدوری دے کر کھیتی کراتا ہے اس لیے گورنمنٹ کی طرف سے اس طرح کی رقم مالکِ زمین کو دی جاتی ہے۔ یا اس کے بینک اکاونٹ میں ڈالی جاتی ہے۔اس لیے ظاہر یہی ہے کہ اس رقم کا حق دار زید ہے اور بکر کا اس رقم کو لے لینا گورنمنٹ کے ساتھ دھوکہ ہے اور شریعتِ طاہرہ کسی کے ساتھ بھی دھوکہ کی اجازت نہیں دیتی۔ مان لیجیے کہ اگر زید بکر کی زمین کو کرایہ پر لے کر کھیتی نہ کرتا اور خود بکر بھی اس زمین میں کھیتی نہ کرتا بلکہ زمین خالی پڑی رہتی تو کیا گورنمنٹ کی طرف سے بکر کو کوئی امداد ملتی؟۔واضح سی بات ہے کہ ایسی صورت میں بکر کو امداد نہ ملتی۔کیوں کہ یہ تو فصل برباد ہونے کا معاوضہ ہے اور وہ بکر نے لگائی تھی اس لیے ظاہر یہی ہے کہ اس معاوضہ کا حق دار بکر ہے۔ ھذا ما ظہر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٠/رجب المرجب ١۴۴٣ھ//٢٢/ فروری٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9