Fatwa #769
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بسی ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟ بولی والی کمیٹی ڈالنا کیسا ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,562
سوال (Question):
بسی ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟ بولی والی کمیٹی ڈالنا کیسا ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بسی ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟ بولی والی کمیٹی ڈالنا کیسا ہے
سوال : بسی کی بیع جائز ہے یا نہیں؟ اس کی نوعیت یہ ہے کہ ایک لاکھ کی بسی ہے مذکورہ رقم وصول کرکے ٹیبل پر رکھ دی جاتی ہے اورجو اس کے ممبران ہیں وہ بولی لگاتے ہیں، بیس ہزار روپے سے شروع ہو کر 50، 51 ہزار پر جا کر بولی ختم ہوتی ہے آخری بولی والے کو 49 یا پچاس ہزار ہی ملتے ہیں اور 50 یا 51 ہزار روپے کا اسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور یہ ممبران میں بطور نفع تقسیم ہوتی ہے. ایسی رقم کو مسجد مدرسہ اور دیگر دینی کاموں میں استعمال کرنا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ بسی کا یہ معاملہ بیع خرید و فروخت نہیں، بلکہ واقع میں قرض کا لین دین ہے جس پر سود کی لمبی رقم قرض دینے کے ساتھ ہی وصول کر لے جاتی ہے، ایک لاکھ روپے میں سے جو شخص مثلا پچاس ہزار روپے وصول کرتا ہے وہ دراصل بسی کے شرکاء سے قرض لیتا ہے اور باقی پچاس ہزار روپے جو تمام شرکاء آپس میں بانٹ لیتے ہیں وہ سود ہے، بنیا جب قرض وصول کرتا ہے تب سود لیتا ہے اور یہ ہمدرد و مہربان لوگ قرض دینے سے پہلے ہی سود وصول کرلیتے ہیں. بنیا دس پرسنٹ سواد لیتا ہے اور یہ ہمدرد حضرات پچاس پرسنٹ، بسی لینے والے کو پچاس یا اکیاون ہزار روپے کا جو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور دوسرے لوگ اسے بانٹ لیتے ہیں یہ بلاشبہ قطعاً یقیناً سود ہے اور سود حرام قطعی ہے ۔ قرآن مجید میں ہے اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا ” اللہ تعالی نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام ۔ ایسے فاضل مال کو لینا دینا اپنے استعمال میں لانا یا دینی و دنیاوی کاموں میں استعمال کرنا حرام قطعی گناہ کبیرہ ہے ۔ لہذا اس سے بچیں اور بسی کے دھندے کو مکمل بند کر دیں، چالیس ،پچاس ہزار روپے تو بہت ہیں اگر کوئی 40 پیسے اس طور پر لے گا تو گناہ گار و مستحق عذاب نار ہوگا ۔- حدیث پاک میں ہے سود 73 گناہوں کا مجموعہ ہے، ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے ۔
- حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے اور سود دینے والے پر لعنت فرمائ ۔
- رسول اللہ نے سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9