حمل (Pregnancy) کی حالت میں طلاق کا حکم
سوال (Question):
کیا حاملہ عورت کو طلاق ہو جاتی ہے اور اس کی عدت کیا ہوتی ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
عوام میں یہ غلط فہمی ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی۔ شرعاً حمل کی حالت میں دی گئی طلاق بالکل واقع ہو جاتی ہے۔ حاملہ عورت کی عدت بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے (وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)۔ طلاق کے بعد جس دن اور جس وقت بھی بچہ پیدا ہو جائے، عدت فوراً ختم ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔