صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1843 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بلاوجہ شرعی اپنے پیر کو چھوڑ کر دوسرے سے مرید ہونا کیسا ہے۔؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,730

سوال (Question):

بلاوجہ شرعی اپنے پیر کو چھوڑ کر دوسرے سے مرید ہونا کیسا ہے۔؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بلاوجہ شرعی اپنے پیر کو چھوڑ کر دوسرے سے مرید ہونا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں زید کسی پیر صاحب سے مرید ہے اور اب زید کو کوئی دوسرے پیر صاحب پسند آگئے ہیں اور انکی محبت پہلے والے پیر صاحب سے زیادہ ہو گئی ہے تو کیا زید پہلے والے پیر صاحب کی بیعت توڑ کر کسی دوسرے پیر صاحب سے مرید ہو سکتا ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل محمد حنیف رضا احمدآباد انڈیا بسم ﷲ الرحمن الرحیم وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب فتاوی رضویہ میں ہے: “حسب تصریح ائمہ کرام پیر میں چار شرطیں لازم ہیں (١) سنی صحیح العقیدہ ہو۔ (٢) علم دین بقدر کافی رکھتا ہو۔ (٣) کوئی فسق اعلانیہ نہ کرتا ہو۔ (٤) اس کا سلسلہ حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم تک صحیح اتصال کے ساتھ ملا ہو۔” اھ (ج٢٦ ، ص٥٦٨، رضا فاؤنڈیشن لاہور) صورت مسئولہ میں زید کے پیر صاحب میں مذکورہ بالا چاروں شرطیں موجود ہوں تو اسے ہرگز جائز نہیں کہ محض اپنی خواہش پر جامع شرائط پیر کو چھوڑ کر دوسرے سے مرید ہو۔ یوں تو کل کو اسے کوئی اور پیر پسند آجائیں تو انہیں چھوڑ کر ان سے مرید ہونا چاہے گا اور اس کے بعد کوئی اور پسند آجائیں تو ان سے مرید ہونا چاہے گا اس طور پر ہرگز فلاح نہیں پاسکتا بلکہ شیطان کے ہاتھ کا کھلونا بن جائے گا لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے پیر کا ہوکر رہے اور اپنے حق میں اپنے پیر جامع شرائط سے افضل کسی کو نہ جانے ورنہ بے ادب گنا جائے گا۔
عورت سے نکاح کے لیے اجازت لیتے وقت گواہ موجود نہ ہوں اور ایجاب وقبول کے وقت موجود ہوں تو کیا نکاح ہوگا یا نہیں؟
ہاں اگر زید کے پیر میں مذکورہ بالا چاروں شرائط میں سے کوئی ایک بھی کم ہو تو اس پر لازم ہے کہ اس سے ارادت توڑ کر کسی جامع شرائط پیر سے مرید ہو۔ حضور اعلی حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پیر بدلنے سے متعلق سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: “اگرپیرسنی صحیح العقیدہ عالم ہے اور اس کاسلسلہ متصل ہے اورفاسق نہیں تو اس سے دل رجوع نہ ہوناشیطانی وسوسہ ہے توبہ کرے اوراس کے ساتھ اپنا اعتقاد درست کرے، اوراگر پیر میں ان چاروں باتوں سے کوئی بات کم ہے تو وہ پیرنہیں، کوئی اورپیرکہ ان چاروں باتوں کاجامع ہو اس کے ہاتھ پربیعت کرے۔” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢٦، ص٥٧٧، کتاب الحظر والاباحۃ ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) دوسری جگہ تحریر فرمایا: “اپنے زمانے میں اپنے حق میں اپنے شیخ صحیح المشیخہ سے کسی کو افضل جانناسوء ادب ہے” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢٦، ص٥٨٠، کتاب الحظر والاباحۃ ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh