Fatwa #1636
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بلوغت سے پہلے لڑکی کا شوہر سے نکاح ہوا وہ فوت ہو گیا تو کیا لڑکی عدت گزارے گی؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,489
سوال (Question):
بلوغت سے پہلے لڑکی کا شوہر سے نکاح ہوا وہ فوت ہو گیا تو کیا لڑکی عدت گزارے گی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بلوغت سے پہلے لڑکی کا شوہر سے نکاح ہوا وہ فوت ہو گیا تو کیا لڑکی عدت گزارے گی؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ : کیا فرماتے ہیں علمائےدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی جس کی عمر ابھی آٹھ یا نو سال ہے نابالغ ہے چھوٹی عمر میں ہی اس کے والدین اس لڑکی کا نکاح کر دیتے ہیں بلوغت سے پہلے پہلے لڑکی کا شوہر سے نکاح ہوا وہ فوت ہو جاتا ہے کیا لڑکی عدت گزارے گی؟ سائل :عمرسجاد فیصل آباد وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب صورت مسئولہ میں اس عورت پرعدت 4ماہ 10دن ہوگی : ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۔ (سورۂ بقرہ آیت نمبر(۲۳۴) ترجمہ: اور تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اللہ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے- اس آیت کے تحت (تفسیر صراط الجنان میں ہے) فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے، یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی : یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے: (تفسیرصراط الجنان جلد1صفحہ359) فتاویٰ رضویہ الخ و بہار شریعت وغیرہا میں ہے: کہ موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشر طیہ کہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو، یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو، لیکن اگرعورت حاملہ ہوتواس کی عدت وضح حمل ہے (بہار شریعت حصہ8صفحہ237تا238مکتبۃ المدینہ کراچی) (فتاویٰ رضویہ جلد13صفحہ294تا295- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمدعمران عطاری مدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9