صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1823 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بچہ کا درمیان صف میں کھڑا ہوکر تکبیر کہنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,974

سوال (Question):

بچہ کا درمیان صف میں کھڑا ہوکر تکبیر کہنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بچہ کا درمیان صف میں کھڑا ہوکر تکبیر کہنا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ ایک بچہ جس کی عمر تقریباً بارہ یا تیرہ سال ہے کیا وہ ٹھیک امام کے پیچھے بیچ صف میں کھڑا ہو کر تکبیر یعنی اقامت کہہ سکتاہے حضرت اس سوال کا جواب دیجئے بہت مہربانی ہوگی ۔ سائل: ماسٹر محمد شہزاد عالم بائسی پورنیہ بہار انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں بچہ کے اندر کوئی اور چیز مانع شرعی نہ ہو تو اس کی عمر کہ بارہ یا تیرہ سال ہے مانع اقامت نہیں نہ ہی اس کا درمیان صف میں کھڑا ہونا منع کہ اس عمر میں آثار بلوغ ظاہر ہوں تو بالغ ہے اور نہ ظاہر ہوں تو کم از کم وہ سمجھ دار ضرور ہے اور نابالغ سمجھ دار بچہ کی اذان و نماز صحیح ہے تو اس کی اقامت بھی صحیح اور اسے درمیان صف میں کھڑا کرنا بھی صحیح ہاں کئی نابالغ لڑکے ہوں تو انہیں مردوں کی صف کے پیچھے کھڑا کیا جائے۔ اعلیٰ حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “نابالغ اگر عاقل ہے اور اس کی اذان اذان سمجھی جائے تو جائز ہے” اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٥, ص٤٢١, کتاب الصلاۃ, باب الاذان والاقامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ سے سوال ہوا: “سمجھ وال لڑکا آٹھ نوبرس کاجونماز خوب جانتاہے اگرتنہا ہوتو آیا اسے یہ حکم ہے کہ صف سے دور کھڑا ہو یا صف میں بھی کھڑا ہوسکتاہے؟” آپ نے جواباً تحریر فرمایا: “صورت مستفسرہ میں اسے صف سے دوریعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑکر کھڑاکرنا تو منع ہےفان صلاۃ الصبی الممیز الذی یعقل الصلاۃ صحیحۃ قطعا،وقدامرالنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بسد الفرج والتراص فی الصفوف ونھی عن خلافہ بنھی شدید (کیونکہ وہ بچہ جوصاحب شعور ہو اور نماز کوجانتا ہو اس کی نماز بالیقین صحیح ہے اورنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صف کے رخنہ کو پر کرنے اور اس میں مل کر کھڑے ہونے کاحکم دیاہے اوراس کے خلاف سے سخت منع فرمایا ہے۔) اور یہ بھی کوئی ضروری امرنہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کوکھڑاہو علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں۔ درمختارمیں ہے:لوواحدا دخل فی الصف (اگر بچہ اکیلا ہو توصف میں داخل ہوجائے۔) ” اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٧, ص٥٢, کتاب الصلاۃ, باب الجماعۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) کنز الدقائق میں ہے: ” یصف الرجال ثم الصبیان ثم النساء” اھ (کنز الدقائق مع البحر الرائق, ج١, ص٦١٦, کتاب الصلاۃ, باب الامامۃ, مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “مرد اور بچے اور خنثی اور عورتیں جمع ہوں تو صفوں کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے مردوں کی صف ہو پھر بچوں کی پھر خنثی کی پھر عورتوں کی اور بچہ تنہا ہو تو مردوں کی صف میں داخل ہو جائے” اھ (بہار شریعت حصہ ٣, ج١, ص٥٨٦, مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔ ٢٨ ذی القعدہ ١٤٤٣ھ مطابق ٢٩جون ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh