صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2780 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بچےضدی ہو جاتے ہیں ان کی ضد چھڑانے کے لیے کوئی وظیفہ ہے آپ کے پاس؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,457

سوال (Question):

بچےضدی ہو جاتے ہیں ان کی ضد چھڑانے کے لیے کوئی وظیفہ ہے آپ کے پاس؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

Bachchon Ki Zid Chudane Ka Wazifa

بچےضدی ہو جاتے ہیں ان کی ضد چھڑانے کے لیے کوئی وظیفہ ہے آپ کے پاس؟ الجواب : موبائل نہ دیں اور جب موبائل سے ان کو بچا لیں گے تو اپنی ہر ضد سے وہ باز آ جائے گا تو یہ ماڈرن ضد ہے۔ ویسے یہ ضروری نہیں ہے کہ جو بچے موبائل استعمال کرتے ہیں وہی ضدی ہوتے ہیں اور بھی بچے ضدی ہوتے ہیں۔ آج کل عام طور پہ جو ہو رہا ہے وہ موبائل کی وجہ سے اس طرح کی شکایتیں ا ٓرہی ہیں ۔بچپن سے ہی ان کوموبائل دے دیا جاتا ہے اور پھر وہ ہوتا کیا ہےبچہ رو رہا ہے موبائل کھول کر کوئی تماشہ سامنے کر دیا اب وہ دیکھنے لگا اور ماں اپنے کام میں لگ گئی ماں یہ سمجھتی ہے کہ ہم نے اچھا کام کیا حالانکہ اس نے اپنے لیے بہت برا کام کیا ہے یعنی عادت بنانے والی وہی ہے اور پھر ہم سے وظیفہ پوچھتی ہے تو ہم وظیفہ کہاں سے بتائیں گے۔ پہلے تم اپنی اصلاح کر لو پھر ہم وظیفہ بھی بتا دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہو سکتا تمہارا بچہ ایسا ہو کہ تم نے موبائل سے بچایا ہو پھر بھی ضد کرتاہے تب ہم ایک عام بات بتلاتے ہیں جو سب کو سننا اور سمجھنا چاہیے مردوں کو بھی سننا سمجھنا چاہیے عورتوں کو بھی ۔اللہ تعالی حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا ۔ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں فرمائی حق بات بیان کرنی ہے تو ہم تھوڑی دیر کے لیے کچھ باتیں وہ بیان کریں گے جس کو آپ کو غور سے سن لینا چاہیے اور اس کو اپنے دل میں جگہ دینا چاہیے بچے ضدی کیوں ہوتے ہیں، بے ادب اور بد تہذیب کیوں ہوتے ہیں اس پر ہم کو شرعی نقطہ نظر سے توجہ ڈالنی چاہیے ۔کبھی اپ نے سوچا سوال آ گیا ہے تو سنو بات حیا کی ہے لیکن بغیر بتائے ہم تمہاری اصلاح بھی نہیں کر سکتےاس لیے بتانا پڑتا ہے۔ نمبر ایک جب میاں بیوی قریب ہوں تو حق زوجیت کےلیے تو حیا کا تقاضا یہ ہے کہ بالکل برہنہ یعنی ننگے نہ ہوں بلکہ صرف ضرورت کے حساب سے کپڑا ہٹا لے اور مکمل طور پہ اپنے آپ کو برہنہ نہ کریں ننگا نہ کریں ۔مکمل طور پہ جو ننگا کر لیتے ہیں تو ان کے بچے بے حیا ہوتے ہیں اور بے ادب ہوتے ہیں بے شرم ہوتے ہیں ایک بات یہ نوٹ کر لینا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ دوسری بات حدیث شریف میں ایک دعا بتائی گئی ہے کہ جماع سے پہلے وہ دعا ضرور پڑھ لی جائے ۔ وہ مختصر سی دعا ہے اس کو یاد کر لیں ہم ایک آسان دعا ان لوگوں کے لیے بتاتے ہیں جن کو وہ دعا یاد نہیں ہے اور ان کے لیے وہ دعا یاد کرنا مشکل ہے تو ہم ان کے لیے آسان دعا بتاتے ہیں۔ ایک تو اعوذ باللہ پڑھ لیں تو شیطان سے محفوظ رہیں گے۔ بسم اللہ پڑھ لیں کہ ہر کام کی ابتدا میںبسم اللہ پڑھ لینا چاہیے اور تیسری یہ پڑھ لیں شیطان سے محفوظ رہیں گے۔ اعوذ باللہ۔ بسم اللہ ۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ اس کے بعد جماع میں مشغول ہوں تو بچہ باحیا ہوگا با ادب ہوگا شریر نہیں ہوگا نیک ہوگا صالح ہوگا تو یہ جتنی شکایتیں ہیں یہ سب شکایتیں ہیں خود بخود انشاءاللہ تعالی دور ہوتی چلی جائیں گی۔ کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۔(سوال جواب شیشن سے ماخوذ)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh