صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1660 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بچے کے کان میں اذان دینے کا کیا طریقہ ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,085

سوال (Question):

بچے کے کان میں اذان دینے کا کیا طریقہ ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بچے کے کان میں اذان دینے کا کیا طریقہ ہے؟

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین وملت اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب بچے کی ولادت ہو تو اس کے کان میں اذان دینے کا کیا طریقہ ہے؟ سائل: امداد علی قادری ضلع لیہ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب جب بچے کی ولادت ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے داہنے(سیدھےکان میں اذان ،اوربائیں کان میں اقامت کہی جائے: امام عالی مقام حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص کے ہاں بچہ پیداہواس کےدائیں کان میں اذان ،اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے تو بچہ اُمّ الصِؔبْیَان سے محفوظ رہےگا: (مسند ابی یعلیٰ جلد6صفحہ32حدیث6747) (اُمُّ الصِؔبْیَان کے متعلق امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،صَرع(بہت خبیث بلاہے اور اسی کواُمُّ الصِؔبْیَان کہتے ہیں ،اور بچوں کو ہو،ورنہ صَرع(یعنی مرگی: (ملفوظات اعلیٰ حضرت صفحہ417 (رسالہ عقیقہ کے بارے میں سوال و جواب صفحہ7) (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں ، جب بچہ پیدا ہو تو فوراً سیدھے کان میں اذان ،بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان و اُمُّ الصِؔبْیَان سے بچے: (فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ452) (صدرالشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں ، جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے اذان کہنے سے ان شاء ﷲ تعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی( بہتر یہ ہے کہ دہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ بہت سے لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اذان کہی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہوتی ہے تو نہیں کہتے۔ یہ نہ چاہیے بلکہ لڑکی پیدا ہو جب بھی اذان و اقامت کہی جائے . (بہارشریعت حصہ15صفحہ355 عقیقہ کا بیان) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ ✍کتبــــــــــــــــــــــہ ابورضا محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh