صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1846 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بھائی کی ساس سے نکاح کرنا کیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,056

سوال (Question):

بھائی کی ساس سے نکاح کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بھائی کی ساس سے نکاح کرنا کیسا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ زید اپنے حقیقی بھائی کی ساس سے نکاح کرسکتا ہے کہ نہیں مع دلائل جواب عنایت فرمائیں المستفتی عابد حسین الجامعی الجواب بعون الملک الوھاب کرسکتا ہے جبکہ کوئی اور چیز مانع نکاح نہ ہو بھائی کی ساس ہونا حرمت نکاح کا سبب نہیں کہ مصاہرت سے صرف مندرجہ ذیل عورتیں ہی حرام ہیں (١) زوجۂ موطؤہ کی لڑکیاں، (٢) زوجہ کی ماں، دادیاں، نانیاں، (٣) باپ ،دادا وغیرہما اصول کی بیبیاں، (٤) بیٹے پوتے وغیرہما فروع کی بیبیاں۔ (بہار شریعت حصہ ٧، ص٢٢، محرمات کا بیان، مکتبۃ المدینہ کراچی) قرآن پاک میں ہے:وَ اُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمۡ وَ رَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلۡتُمۡ بِہِنَّ ۫ فَاِنۡ لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ ۫ وَ حَلَآئِلُ اَبۡنَآئِکُمُ الَّذِیۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِکُمۡ ۙ وَ اَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخۡتَیۡنِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا وَّ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ۚ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ۚ وَ اُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ ” (سورۃ النساء: ٢٣، ٢٤) اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ، اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آ جائیں یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان(محرمات) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں(کنزالایمان) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔
عورت سے نکاح کے لیے اجازت لیتے وقت گواہ موجود نہ ہوں اور ایجاب وقبول کے وقت موجود ہوں تو کیا نکاح ہوگا یا نہیں؟
کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر شعبہ افتاء وشیخ الحدیث میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh