Fatwa #1504
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بیدار ہونے کے بعد پیشاب سے پہلے چپچپا پانی نکلا تو کیا حکم ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,058
سوال (Question):
بیدار ہونے کے بعد پیشاب سے پہلے چپچپا پانی نکلا تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بیدار ہونے کے بعد پیشاب سے پہلے چپچپا پانی نکلا تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسٔلہ میں کہ زید گہری نیند میں سویا ہوا تھا اسے احساس ہوا کہ احتلام ہوگیا لیکن ابھی کامل یقین نہیں تھا زید صبح اٹھا اور اس نے دیکھا کہ کپڑوں پر بھی منی کا کوئ دھپہ نہیں اور نہ ہی جسم پر۔ لیکن پیشاب کرتے وقت ذکر سے چپچپا پانی کا خروج پایا تو کیا اس صورت میں زید ناپاک ہوگا یا نہیں؟ جواب مرحمت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ فقط و السلام محمد نعمان سرسکھیڑہ الجوابــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں اگر اس تری کے منی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو تو زید غسل کرے۔صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “کسی کو خواب ہوا اور مَنی باہر نہ نکلی تھی کہ آنکھ کُھل گئی اور آلہ کو پکڑ لیا کہ مَنی باہر نہ ہو، پھر جب تُندی جاتی رہی چھوڑ دیا اب نکلی تو غُسل واجب ہوگیا ” (بہار شریعت ح٢ ص٣٢۵) اور اگر اس تری کے منی ہونے کا یقین یا ظن غالب نہ ہو تو غسل نہیں ہے۔کیوں کہ منی جب اپنی جگہ سے شہوت سے جدا ہو اور عضو سے باہر ہو اس وقت غسل واجب ہوتا ہے، اب چوں کہ نیند کی حالت میں آدمی کو یہ پورے طور پر یاد نہیں رہتا ہے کہ شہوت کے ساتھ اصلی جگہ سے جدا ہوئی یا نہیں اس لیے بیداری کے بعد پائی جانے والی منی میں بہر صورت غسل لازم ہے۔ اور بیداری کی حالت میں اگر منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوئے بغیر نکل جائے، مثلا بوجھ اٹھانے یا کودنے وغیرہ اسباب سے تو غسل لازم نہیں ہوتا ہے۔ یہاں یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ بیداری کے بعد پائی جانے والی تری کے بارے میں اگر مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو تو بھی اِس احتیاط کے سبب غسل لازم ہونے کا حکم دیا جاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جس تری کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہے وہ در حقیقت منی ہو جو حرارت بدن کے سبب پتلی ہوگئی ہو جس کے سبب اس کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہورہا ہے۔لیکن صورتِ مسئولہ اس سے مختلف ہے کیوں کہ وہ حکم اُس وقت ہے جب کہ نیند کی حالت میں تری نکلی اور حرارتِ بدن وغیرہ کے سبب بیداری کے بعد پتلی محسوس ہورہی ہو، جب کہ صورتِ مسئولہ میں بیداری کی حالت میں نکلنے والی تری میں منی اور مذی کے مابین والا اشتباہ نہیں ہے، بلکہ دونوں میں امتیاز کیا جاسکتا ہے۔ ہم یہاں پر امام اہلِ سنت اعلی حضرت کے تاریخی رسالہ “الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل” میں مذکور چھ صورتیں اور ان کے احکام اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں: پہلی صورت: بیداری کے بعد کپڑے یا بدن پر تری نہ پائی۔ دوسری صورت: تری پائی، لیکن یہ یقین ہے کہ یہ تری منی یا مذی نہیں، بلکہ ودی، یا پیشاب یا پسینہ وغیرہ ہے ان دونوں صورتوں کاحکم: ان دونوں صورتوں میں باتفاق ائمہ حنفیہ غسل نہیں،اگرچہ خواب میں مجامعت اور اس کی لذت اور انزال تک یاد ہو۔ تیسری صورت: اس تری کا منی ہونا ثابت ہو، یعنی: یقین یا ظن غالب ہو کہ یہ منی کی تری ہے۔ حکم: اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب ہے ، اگرچہ خواب وغیرہ بالکل نہ یاد ہو۔ چوتھی صورت: اس تری کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔ حکم: اس صورت میں طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک غسل واجب ہے، خواب وغیرہ یاد ہو یا نہ یاد ہو۔ پانچویں صورت: اس تری کے منی ہونے کا احتمال ہو، اب خواہ اس احتمالِ منی کے ساتھ مذی کا بھی احتمال ہو یا مذی کا احتمال نہ ہو بلکہ احتمالِ منی کے ساتھ پیشاب پسینہ وغیرہ کا احتمال ہو۔ حکم: اگر خواب یاد ہے تو غسل واجب ہے اور اگر خواب یاد نہیں تو اگر منی کے احتمال کے ساتھ مذی کا بھی احتمال ہے تو اس صورت میں اگر سونے سے پہلے شہوت اور انتشار نہ ہو، یا ہو تو سونے سے پہلے مذی نکل کر صاف ہوگئی ہو تو غسل واجب ہے اور اگر سونے سے پہلے شہوت اور انتشار تھا لیکن مذی نکل کر صاف نہ ہوگئی ہو تو غسل واجب نہیں ہے۔ چھٹی صورت: اس تری کے منی نہ ہونے کا تو یقین ہو، مگر مذی ہونے کا احتمال ہو۔ حکم: اس صورت میں اگر خواب یاد ہے تو غسل واجب ہے اور اگر خواب یاد نہیں تو بالاتفاق غسل واجب نہیں۔ومن اراد البسط ونفائس الابحاث فلیرجع الی الرسالة المذکورة المدمجة فی المجلد الاول من العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة، فان فیہا من التحقیقات البدیعة والابحاث الرائعة ما لا توجد فی غیرھا من الاسفار الفقہیة۔ تنبیہ: ان صورتوں کا جامع بیان حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے اپنے سہلِ ممتنع والے اسلوبِ نگارش میں یوں زیب قرطاس کیا ہے: “اِحْتِلام: یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس تری کے مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غُسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو اور اگریقین ہے کہ یہ نہ مَنی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا وَدی یا کچھ اورہے تو اگرچہ اِحْتِلام یاد ہو اور لذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں ۔ اور اگر مَنی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اِحْتِلام ہونا یاد نہیں تو غُسل نہیں ورنہ ہے” (بہار شریعت ح٢ ص ٣٢۴) میرے پیشِ نظر بہارِ شریعت کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہے لیکن یہاں یہ واضح رہے کہ غالباً عبارت”مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو” میں “احتمال” سے پہلے “منی کا” لفظ سہو کاتب سے چھوٹ گیا ہے، کما لا یخفی علی المتامل۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٦/رجب //٢٨/فروری ٢٠٢٢ء ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9