صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1310 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,904

سوال (Question):

بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کی زید امام ایک بینک کا ایجنٹ ہے اور بینک اس کو کمیشن دیتی ہے تو کیا صورت مذکورہ میں زید امام کی اقتداء درست ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں اگر زید کو ناجائز کام نہ کرنا پڑے تو اسے بینک کا ایجنٹ بننا جائز ہے کام کرنے کی جو اجرت ملے وہ اجرت بھی زید کے لیے حلال ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں” کہ جس ملازمت میں خود ناجائز کام کرنے پڑے جیسے یہ ملازمت جس میں سود کا لین دین اس کا لکھنا پڑھنا تقاضہ کرنا اس کے ذمہ ہو ایسی ملازمت خود حرام ہے اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے وہ مال حلال بھی اس کے لیے حرام ہے اور مال حرام ہے تو حرام در حرام. ١ھ. (فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 173) لہذا زید امام کے اندر بینک کی ملازمت کے علاوہ کوئی اور وجہ شرعی مانع نہ ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh