صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1023 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,037

سوال (Question):

بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم

سوال : زید کا گورنمنٹ بینک میں کھاتا ہے، زید کو بینک سے زائد رقم سود کی شکل میں ملتی ہے ، وہ رقم زید دینی مدرسوں اور غریبوں کو دے سکتاہے کہ نہیں برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ حکومت ہند کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر زائد رقم ملتی ہے وہ سود نہیں بلکہ ایک پاک اور حلال مال ہے ، اسے سود سمجھنا غلط ہے ۔ اس لیے وہ زائد رقم ضرور لے لیں اور اس سے دینی مدارس اور محتاج مسلمانوں کی مدد کریں ، یہ افضل ہے ۔ اور چاہیں تو اپنے نجی امور میں بھی صرف کرسکتے ہیں ۔ مزید دلیل و تحقیق کے لیے ” جدید بینک کاری اور اسلام ” کا مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh