Fatwa #1171
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,944
سوال (Question):
بینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟
سوال : اسٹیٹ بینک۔ بڑودہ بینک اور دوسرے بینک میں جو پیسہ جمع کرنے سے سود ملتا ہے وہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور بینک سے قرض لینے کی صورت میں بینک کو جو زائد رقم دینی پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ تفصلی جواب عنایت فرمائیں الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ جو بینک کہ مسلمانوں کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے اس میں پیسہ جمع کرنے کے بعد جو نفع ملتا ہے وہ شرعاً سود ہے حرام ہے۔ اور جو بینک کہ خالص کافروں کا ہے اس کا نفع لینا جائز ہے کہ وہ از روۓ شرع سود نہیں ۔ اور بینک سے قرض لے کر اسے زائد رقم دینا ممنوع ہے اگرچہ وہ بینک خالص کافروں کا ہو ۔ ردالمحتار جلد چہارم صفحہ ١٨٨ میں ہے “ان مرادھم من حل الربا والقمار ما اذا حصلت الزیادۃ للمسلم اھ وھوا سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9