صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1021 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بینک سے ملی زائد رقم سود ہے یا نہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,772

سوال (Question):

بینک سے ملی زائد رقم سود ہے یا نہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بینک سے ملی زائد رقم سود ہے یا نہیں؟

زید کے پاس کچھ رقم ہے وہ اسے بینک میں متعینہ مدت کے لیے جمع کرنا چاہتا ہے اور مدت خاص گزرنے پر بینک اسے معتد بہ نفع دے گا تو کیا وہ اس نفع کو شادی وغیرہ یا دیگر کار خیر میں صرف کرسکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــ حکومت ہند کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر زائد رقم ملتی ہے وہ سود نہیں مال مباح ہے اور مال مباح کا حصول جائز ہے ۔ یہ حکم فکسڈ ڈپوزٹ، سیونگ بینک اکاؤنٹ، سب کو عام ہے ۔ لہذا اس قسم کی نفع کی رقم بینک سے وصول کرنا اور شادی وغیرہ میں خرچ کرنا جائز ہے ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اسے اپنے کام میں نہ لا کر فقرا ے مسلمین ، کو دیدیں یا کسی دینی مدرسے میں جمع کردیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh