صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1927 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بیوی ماں باپ اور چھ بھائیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,390

سوال (Question):

بیوی ماں باپ اور چھ بھائیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بیوی ماں باپ اور چھ بھائیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ ہندہ کے شوہر زید کا انتقال ہوگیا اور ان کے نام سے کوئی مکان ودکان کھیت وغیرہ نہیں ہے کچھ بینک بیلنس اور کچھ مال تجارت ہے ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ان کے وارثین میں ماں باپ چھ بھائی اور بیوی موجود ہیں تو انہوں نے جو مال چھوڑا ہے اس میں کس کا کتنا حصہ بنتا ہے ؟سائل: محمد عرفان احمد کٹھیلا بازار سدھا رتھ نگر یوپی۔ الجواب-بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وانحصار ورثہ فی المذکورین وعدم موانع ارث کل ترکہ کے بارہ حصہ کرکے اس میں سے تین حصے زید کی بیوی کو اور تین حصے اس کی ماں کو اور چھ حصے اس کے والد کو دیں گے اور بھائیوں کو کچھ نہ دیں گے کہ وہ اصحاب فرائض سے نہیں نہ ہی والد کے ہوتے ہوئے عصبہ بن سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ” وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ ” (سورۃ النساء : ١١) شیخ سراج الدین محمد بن عبد الرشید سجاوندی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے: “اما للزوجات فحالتان الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد وولد الابن” اھ (السراجیۃ، ص٢١، مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃ الاشرفیہ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: “فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ” (سورۃ النساء: ١٢) شیخ سراج الدین محمد بن عبد الرشید سجاوندی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے: “واما للام فاحوال ثلاث…و ثلث مابقي بعد فرض احد الزوجين ” اھ (السراجیۃ ملخصاً، ص٢٣، مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃ الاشرفیہ) اور تحریر فرمایا: “اما الاب فله احوال ثلاث…والتعصيب المحض وذلك عند عدم الولد وولد الابن و ان سفل” اھ (السراجیۃ ملخصاً، ص١٧ ، مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃ الاشرفیہ) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh