Fatwa #1676
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بیوی کا بیان ہے کہ شوہر نے تین طلاق دی اور شوہر کو تعداد یاد نہیں تو کیا حکم ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,257
سوال (Question):
بیوی کا بیان ہے کہ شوہر نے تین طلاق دی اور شوہر کو تعداد یاد نہیں تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بیوی کا بیان ہے کہ شوہر نے تین طلاق دی اور شوہر کو تعداد یاد نہیں تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی منکوحہ جو کہ آسیب زدہ ہے اپنے شوہر سے فون پر بات کر رہی تھی جس وقت وہ بات کر رہی تھی اس وقت بھی وہ آسیبی خلل سے دوچار تھی باتوں باتوں میں دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فون پر ہی زید نے اپنی منکوحہ کو طلاق دے دی،زید کی منکوحہ کا کہنا ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں، جب کہ زید کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق تو دی ہے مگر یہ یاد نہیں کہ کتنی دی ہے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی محمد ارقم مقام و پوسٹ جمدا شاہی بستی الجواب: صورت مسئولہ میں اگر زید کو یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس نے تین طلاق نہیں دی ہے تو وہ عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے، یعنی گواہوں کے سامنے مثلاً یہ کہدے کہ میں نے اپنی زوجہ فلانہ کو واپس لیا۔ اور اگر زید کو اس بارے میں شک ہے کہ تین طلاق دی ہے یا کم تو اگرچہ شک کی صورت میں تین طلاق کا حکم نہ دیا جائے گا مگر اس کے لیے احتیاط یہی ہے کہ تین طلاق مان کر بغیر حلالہ اس سے رجعت یا دوبارہ نکاح نہ کرے، کیوں کہ اگر واقعةً اس نے تین طلاق دی ہوگی تو اب سے وطی کرنا زنا کاری کرنا ہوگا اور اس وطی سے پیدا ہونے والے لڑکے ولد الحرام ہوں گے _ والعیاذ باللہ تعالی _ اس لیے احتیاط یہی ہے کہ تین طلاق مانے۔ اور شوہر کے شک کی صورت میں اگر بیوی کو یقین ہے کہ اس نے تین طلاق دے دی ہے اور پھر بھی رجعت کرلیا تو عورت سے خلع وغیرہ جس طرح بن پڑے وہ شوہر سے رہائی حاصل کرے اور اگر وہ کسی طرح چھوڑنے پر رضامند نہیں ہوتا تو اس کو اپنے اوپر قابو نہ دے/ اور اگر وہ زبردستی کرے تو دل سے وطی پر راضی نہ ہو، پھر سارا وبال شوہر پر ہوگا۔ در مختار میں ہے: “وَلَوْ شَكَّ أَطَلَّقَ وَاحِدَةً أَوْ أَكْثَرَ بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ۔” علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قَوْلُهُ بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ) أَيْ كَمَا ذَكَرَهُ الْإِسْبِيجَابِيُّ، إلَّا أَنْ يَسْتَيْقِنَ بِالْأَكْثَرِ أَوْ يَكُونَ أَكْبَرَ ظَنِّهِ. وَعَنْ الْإِمَامِ الثَّانِي إذَا كَانَ لَا يَدْرِي أَثْلَاثٌ أَمْ أَقَلُّ يَتَحَرَّى؛ وَإِنْ اسْتَوَيَا عَمِلَ بِأَشَدِّ ذَلِكَ عَلَيْهِ؛ أَشْبَاهٌ عَنْ الْبَزَّازِيَّةِ قَالَ ط: وَعَلَى قَوْلِ الثَّانِي اقْتَصَرَ قَاضِي خَانْ؛ وَلَعَلَّهُ لِأَنَّهُ يَعْمَلُ بِالِاحْتِيَاطِ خُصُوصًا فِي بَابِ الْفُرُوجِ. اهـ. قُلْت: وَيُمْكِنُ حَمْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْقَضَاءِ وَالثَّانِي عَلَى الدِّيَانَةِ۔” (رد المحتار مع الدر المختار ج۴ ص ۵٠٨ ، ۵٠٩) حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر اس میں شک ہے کہ ایک دی ہے یا زیادہ تو قضاءً ایک ہے دیانةً زیادہ۔” (بہار شریعت ح ٨ص١٧٣) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا، اور گواہ عادل نہیں ملتے، تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے، اگرچہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر۔ اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے، اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو ۔ پھر وبال اس پر ہے۔ لایکلّف ﷲ نفسا الا وسعھا۔” (فتاوی رضویہ ج۵ ص٦۵۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی۔٢٧/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ//٣١/مارچ ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9