Fatwa #1428
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بیوی کی ناک کو بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار ہوگا یا نہیں؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,419
سوال (Question):
بیوی کی ناک کو بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار ہوگا یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بیوی کی ناک کو بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار ہوگا یا نہیں؟
سوال:- کسی نےاپنی بیوی سے کہا کہ تیری ناک میری بہن کی پشت کی طرح ہے تو ظہار ہوگا یا نہیں؟ الجواب بعون الملك الوهاب: بیوی کی ناک کو بہن کی پشت سے تشبیہ دینے سے ظہار نہیں ہوگا کیونکہ ناک ایساعضو نہیں ہے جس سے کل جسم کو تعبیر کیا جاتا ہو اور نہ ہی وہ جزو شائع ہے مثلا نصف،ربع وثلث،اور ظہار کہتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی یا اسکے کسی ایسے عضو کو جس کو کل جسم سے تعبیر کیا جاتا ہو یا اس کے کسی جزو شائع کو کسی محرم ابدی کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دے جسکو دیکھنا حرام ہو مثلا یہ کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے “الظہار ھو تشبیه الزوجة او جزء منها شائع او معبر به عن الكل بما لا يحل النظر اليه من المحرمة على التابيد ولو برضاع او صهرية كذا فى فتح القدير”(ج۱ ص۵۰۵) نیز اسی میں ہے ۔ “اذا ذكر جزء لا يعبر به عن جميع البدن كاليد والرجل لم يثبت الظهار كذا فى محيط السرخسى(ج ۱ ص ۵۰۶) اور در مختار میں ہے ۔ “وشرعا تشبیه المسلم فلا ظهار لذمي عندنا زوجته ولو كتابية او صغيرة او مجنونة او تشبيه ما يعبر به عنها من اعضائها و تشبيه جزء شائع منها بمحرم عليه تابيدا”(ج۵ ص ۱۲۵) فتاوی عالمگیری اور صاحب درمختار کے قول کے مطابق بیوی کی انف(ناک) کو کسی محرم ابدی کی ظھر(پشت)سے تشبیہ دینے سے ظہار نہیں ہوگا کیونکہ انف عربی زبان میں کوئی ایسا عضو نہیں ہے جس سے کل جسم کو تعبیر کیا جاتا ہو اور نہ ہی وہ جزو شائع ہے مگر ناک کو اردو میں کل سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیری ناک کو طلاق تو طلاق ہو جانی چاہیے لہذا امام اہلسنت رحمہ اللہ کی اس تحقیق کے مطابق اگر کسی نے بیوی کی ناک کو کسی محرم ابدی کی پشت سے تشبیہ دی تو ظہار ہوجائے گا ۔ فتاوی رضویہ میں ہے ۔ ” اور ہمارے یہاں کا یہ عام محاورہ ہے کہ فلاں شخص شہر بھر کی ناک ہے،خاندان کی ناک ہے،عورت موم کی ناک ہے،تو ظاہر اس میں طلاق ہو جانا چاہیے”(فتاوی رضویہ مترجم ج۱۲ ص ۵۴۲ تا۵۴۳) واللہ تعالی أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقه الاسلامی بدار العلوم العلیمیه الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ۱۳/فروری ۲۰۲۰ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9