صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1740 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,678

سوال (Question):

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ۔ عرض ہے کہ زید کی بیوی کے پاس پندرہ تولہ سونا ہے جس کی زکاة اس کا شوھر ہمیشہ دیتا ہے۔ اس سال اس کے شوہر پر بیس لاکھ کا قرض ہے پھر بھی وہ زکاة دینا چاھتا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔ (مولانا) محمد کلیم اشرف رضوی علیمی، بنگلور۔ الجوابـــــــــــــــ عورت اگر مالک نصاب ہے تو اس کے زیورات کی زکاة خود اسی پر واجب ہے۔یوں ہی صدقہ فطر اور قربانی بھی اسی پر واجب ہے ،یہ سب چیزیں اس کے شوہر پر واجب نہیں۔ ہاں! بیوی کی اجازت سے اس کی زکاة اور صدقہ فطر کی ادائیگی اور قربانی شوہر کرسکتا ہے۔ اس لیے جب پندرہ تولہ سونا کی مالک بیوی ہے تو اس سونے کی زکاة اسی پر واجب ہے اور شوہر کے اوپر بیس لاکھ قرض ہونے سے اس کی عورت کے اوپر سے زکاة ساقط نہ ہوگی۔ہاں! اگر یہ قرض بیوی پر ہوتا اور اس کے پاس ان سونوں کے علاوہ اور اتنا مال زکاة نہ ہوتا کہ قرض کی مقدار نکالنے کے بعد سالِ زکاة مکمل ہونے پر نصاب کی مقدار بچتا تو اس پر زکاة واجب نہ ہوتی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی۔ یوپی۔ مجریہ١٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//١۴/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh