Fatwa #1226
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بیک وقت کئی جنازے کی نماز پڑھنے کا حکم از مولانا کمال احمد علیمی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,470
سوال (Question):
بیک وقت کئی جنازے کی نماز پڑھنے کا حکم از مولانا کمال احمد علیمی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بیک وقت کئی جنازے کی نماز پڑھنے کا حکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ چند جنازے یکجا موجود ہوں جن میں نابالغ بچہ بچی، اورجوان، بوڑھے مرد وعورت سب ہوں تو ایک ساتھ نماز جنازہ پڑھنے کی صورت میں کون سی ”دعائے میت“ پڑھی جائے گی۔ بالغ کی یا نابالغ کی یا کوئی اور دعا؟ المستفتی: محمد عثمان علیمیؔ سمری خانکوٹ سدھارتھ نگر الجواب بعون اللہ الوھاب چند جنازے یکجا موجود ہوں جن میں نابالغ بچہ بچی، اورجوان، بوڑھے مرد وعورت سب ہوں تو بہتر ہے کہ سب کی نماز جنازہ الگ الگ پڑھیں. درمختار میں ہے: “واذا اجتمعت الجنائز فافراد الصلاۃعلی کل واحدۃ اولی من الجمع” ( درمختار مع ردالمحتار ٣/ ١١٨) بہار شریعت میں ہے: ”کئی جنازے جمع ہو ں، تو ایک ساتھ سب کی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی ایک ہی نماز میں سب کی نیت کر لے اورافضل یہ ہے کہ سب کی علیحدہ علیحدہ پڑھے اور اس صورت میں یعنی جب علیحدہ علیحدہ پڑھے، تو ان میں جو افضل ہے، اس کی پہلے پڑھے ،پھر اس کی جو اس کے بعد سب میں افضل ہےوعلی ھذالقیاس ۔“ (بہار شریعت ، ج1،ص839) اگر ایک ساتھ سب کی نماز پڑھی جائے تو پہلے بالغوں کی پھر نابالغوں کی دعا پڑھی جائے. حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: ”اذاکان فیھم مکلفون وصغار والظاھر انہ یاتی بدعاء الصغار بعد دعاء المکلفین“ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:١/ ٢٣٦ ) فتاوی رضویہ میں ہے : ”بالغوں کےساتھ نابالغوں کی نمازبھی ہوسکتی ہے ۔دونوں دعائیں(یعنی بالغ اور نابالغ والی) پڑھی جائیں ،پہلے بالغوں کی پھر نابالغوں کی ۔اور بہر حال اگر دقت نہ ہو تو ہر جنازے پر جدا نماز بہترہے۔“ (فتاویٰ رضویہ ٢٤/ ١٩٩-٢٠٠ ) فتاوی مصطفویہ میں ہے : ”چاہیں ایک ہی پڑھیں ،چاہیں علیحدہ علیحدہ کرکے ،ایک پڑھیں تو امام کے سامنے مرد کا جنازہ ہو پھر مرد کے بعد نابالغ لڑکے کا ،پھر عورت کا پھر نابالغہ لڑکی کا ،اگر ایک ہی نماز پڑھیں تو دعائے بالغین بہ نیت دعائے للبالغین پڑھ کر پھر نابالغوں کےلیے جو دعاہے وہ بہ نیت دعابرائے نابالغین پڑھیں ۔“ (فتاویٰ مصطفویہ:٢٩٠ ) بہار شریعت میں ہے: ”کئی جنازے جمع ہو ں تو ایک ساتھ سب کی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی ایک ہی نماز میں سب کی نیت کر لے اورافضل یہ ہے کہ سب کی علیحدہ علیحدہ پڑھے اور اس صورت میں یعنی جب علیحدہ علیحدہ پڑھے تو ان میں جو افضل ہے اس کی پہلے پڑھے پھر اس کی جو اس کے بعد سب میں افضل ہےوعلی ھٰذالقیاس ۔“ (بہار شریعت ١/ ٨٣٩ ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢١ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ / ٢٥ جنوری ٢٠٢٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9