Fatwa #1941
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بے نیت طلاق حالت نشہ وغیرہ میں کئی بار طلاق دیا؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,192
سوال (Question):
بے نیت طلاق حالت نشہ وغیرہ میں کئی بار طلاق دیا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بے نیت طلاق حالت نشہ وغیرہ میں کئی بار طلاق دیا؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ اگر شوہر نے شراب پینے کے بعد حالت نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دی اس طرح کہ بیوی کی طرف اشارہ کرکے اس کے بھائی سے کہا کہ جا میں نے اسے طلاق دیدی ایک بار کہا پھر کچھ مہینے کے بعد بیوی سے جھگڑا ہوا تو غصہ میں اس سے کہا جا میں نے تجھے طلاق دی تجھے چھوڑ رہا ہوں اس طرح سے غصہ اور نشہ میں کئی بار طلاق دی لیکن اب کہتا ہے میں نے طلاق کے ارادے سے نہیں کہا تو کیا حکم ہے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ قرآن مقدس اور حدیث شریف کے حوالے سے جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتیہ: نذرانہ بانو موہینی بابا BIC انٹر کالج جھانسی یوپی انڈیا الجواب -بعون الملک الوھاب فتاوی رضویہ میں ہے: “صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی” اھ (ج١٢، ص٤٥١، کتاب الطلاق ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور حالت نشہ کی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ در مختار میں ہے: “ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولو عبدا مکرھا أو ھازلا أو سفیھا أو سکران” ولو بنبیذ أو حشیش أو افیون أو بنج زجرا به یفتی” اھ (کتاب الطلاق ص ٢٠٦ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) فتاوی رضویہ جدید میں ہے: “نشہ کی چیز پی اور اس نشہ میں طلاق دی بلاشبہہ بالاتفاق ہوگئی” اھ (ج١٢، ص٣٨٦، کتاب الطلاق ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں اب بے حلالہ رجعت نہیں کرسکتا۔ قرآن مجید میں ہے: ” فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۰﴾ (سورۃ البقرۃ: ٢٣٠) پھر اگر اس کو ( تیسری ) طلاق دے دی تو وہ عورت اس ( تیسری طلاق ) کے بعد اس پر حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی اور مرد سے نکاح کرے ‘ پھر اگر وہ ( دوسرا خاوند ) اس کو طلاق دے دے تو پھر ان پر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس ( طلاق کی عدت کے بعد ) پھر باہم رجوع کرلیں اگر ان کا یہ گمان ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں جن کو اللہ ان لوگوں کیلیے بیان فرماتا ہے جو علم والے ہیں۔ کتبہ محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔غصہ کی حالت میں طلاق ہوگی یا نہیں ؟ / ناراضگی کی وجہ سے طلاق ؟
اپنی بیوی سے کہا”میں نے تجھے جواب دیدیا” توطلاق ہوئی یانہیں؟
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9