صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1587 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتے ہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,658

سوال (Question):

تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتے ہیں؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری کپڑے کی دکان ہے جب ہم شرٹ بیچتے ہیں تو تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتےہیں علمائے کرام مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : امداد علی ضلع لیہ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ اَلْجَـوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب شریعتِ مطہّرہ نے تجارت میں نفع کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جو مارکیٹ کا ریٹ ہو اسی اعتبار سے نفع لیا جائے یعنی عمو می طور پرجو نفع لیتے ہیں وہی لیا جائے کیونکہ جو زیادہ نفع لیتاہے لوگ اس سے کم خریداری کرتے ہیں اورلوگوں کی نظر میں اس کی عزت بھی کم ہوجاتی ہے جتنا ہوسکے لوگوں سے بھلائی کی نیت ہو دھوکہ دہی اور فریب کاری کی نیت نہ ہو . امام اہلسنّت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ آج کل دکاندار عمو ماََ ہر چیز کی قیمت بڑھا کر کہتے ہیں اور پھر اس سے کم پر بیچ ڈالتے ہیں یہ شرعاً جائز ہے؟ ہر ایک کا چار پیسے کی چیز کا دُگنی یا تین گنی؟ تو امام اہلسنت سید اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: (ماقبل اور یہ)دونوں باتیں جائز ہیں، جبکہ جھوٹ نہ بولے فریب نہ کرے ۔ مثلاً کہا یہ چیز تین یا چار پیسے کی میری خرید ہے، اور پڑی تھی پونے چار کو یا خرید وغیرہ ٹھیک بتائے مگر مال بدل دیا یہ دھوکہ ہے یہ صورتیں حرام ہیں، ورنہ چیزوں کے مول لگانے میں کمی بیشی حرج نہیں رکھتی فتاویٰ رضویہ جلد17صفحہ139 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور . واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــہ :ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh