صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1425 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,101

سوال (Question):

تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں میں بکر جو متعدد قسم کے کاروبار کر رہا ہے ان میں سے ایک کاروبار یہ بھی کرتا ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں زمین پلاٹ خرید کر چھوڑ دیتا ہے اور جب اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ اپنی فروخت کردیتا ہے. خریدنے اور بیچنے کی مدت کبھی دو تین سال کی ہوتی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس زمین پر یا اس کی قیمت پر سال گزرنے کی وجہ سے زکوۃ واجب ہوگی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ جب یہ زمین تجارت ہی کی غرض سے خرید و فروخت کی جاتی ہیں اور ان سے مالک زمین کا مقصد تجارت ہی ہے تو بہرحال سال تمام پر ان کی زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوگی اور حولان حول کے وقت ان کی قیمت کا اعتبار ہوگا. فتاوی ہندیہ میں ہے : الزكاۃ واجبۃ في عروض التجارۃ كائنۃ ما كانت اذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهدايه وتعتبر القيمۃ عند حولان الحول بعد ان تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتی درهم من الدراهم١ھ. (جلد ١ صفحہ ١٧٩) والله تعالى اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبـــــــــــــــــــــــہ : مفتی غلام احمد قادری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh