صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1358 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تحریر میں لکھا میں اس کو طلاق دیتا ہوں تو حلالہ کی صورت؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,840

سوال (Question):

تحریر میں لکھا میں اس کو طلاق دیتا ہوں تو حلالہ کی صورت؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تحریر میں لکھا میں اس کو طلاق دیتا ہوں تو حلالہ کی صورت؟

کیا عورت عدت میں گھر سے نکل سکتی ہے؟

مسئلہ:- از: محمد سلیم، أنصار نگر، لال گنج بازار، بستی۔ سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ غلام جیلانی نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں مندرجہ ذیل تحریر لکھی۔” غلام جیلانی کے ساتھ نور جہاں کی شادی ہوئی تھی اب تک کسی طرح سے ہم دونوں کا گزر ہوا۔ اب نہیں ہونے والا ہے کسی بھی قیمت پہ میں اس کو طلاق دیتا ہوں ۔ میں اس کا طلاق دیتا ہوں۔ میں اس کا طلاق دیتا ہوں” جب اس تحریر کے مضمون کا نور جہاں کو علم ہوا تو وہ اپنے میکہ چلی گئی اس پر غلام جیلانی بہت پریشان ہوا تو اس کے چچا تیسرے دن نور جہاں کو اس کے میکہ سے واپس لائے اور غلام جیلانی و نور جہاں دونوں کو سخت تاکید کی کہ خبردار ایک دوسرے کے قریب نہ ہونا اور نہ ایک دوسرے سے بات کرنا تو اپنے چچا کی تاکید کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے قریب نہ ہونا اور نہ ایک دوسرے سے بات کرنا یہاں تک کہ سات دن بعد غلام جیلانی دوسرے شہر میں کمانے کے لئے چلا گیا ۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں تحریر مذکور سے غلام جیلانی کی بیوی پر طلاق پڑی یا نہیں اگر پڑی تو کون سی طلاق اور غلام جیلانی اگر رکھنا چاہیے تو کیا صورت ہے اور غلام جیلانی اسے پھر رکھنا چاہے تو کیا صورت ہے اور غلام جیلانی کے چچا جو نورجہاں کو اس کے میکے سے واپس لائے اور وہ غلام جیلانی کے گھر ایک ہفتہ رہی پھر وہ دوسرے شہر میں گیا یا تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں غلام جیلانی کی بیوی پر طلاق مغلظہ پڑگئی اب بغیر حلالہ نورجہاں اس کے لئے حلال نہیں ۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ۲ ع۱۳) حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد نورجہاں کسی سنی صحیح العقیدہ سے صحیح نکاح کرے۔ دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے۔ پھر وہ مر جائے یا طلاق دے دے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ غلام جیلانی سے نکاح کر سکتی ہے ۔ اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دیدی یا مر گیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا۔ كما في حديث العسيلة” پارہ ۲۸ سورہ طلاق کی پہلی آیت کریمہ میں ہے:” لا تخرجوهن من بيوتهم ولا يخرجن الا أن يأتين بفاحشة مبينة. “ یعنی طلاق والی عورت کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلے مگر یہ کی کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔ لہذا غلام جیلانی کے چچا نورجہاں کو عدت گزارنے کے لیے جو اس کے میکے سے واپس لائے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے قریب ہونے اور بات کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا تو قرآن مجید کے حکم پر عمل کیا۔عورت کو طلاق کے بعد زمانۂ عدت میں شوہر کے گھر سے نکالنا یا اس کو خود نکلنا اس صورت میں جائز ہے جب کہ برائی کا اندیشہ ہو۔ غلام جیلانی دوسرے شہر میں چلا گیا تو بہتر کیا اگر نورجہاں کو وہ دوبارہ اپنے نکاح میں لانا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ جب تک حلالہ کی عدت نہ گزر جائے اور وہ نور جہاں سے دوبارہ نکاح نہ کر ے۔ اپنے گھر پر رات نہ گزارے تاکہ لوگ بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh