ادھار بیچنے پر نقد سے زیادہ قیمت وصول کرنا
سوال (Question):
ایک موبائل نقد 20 ہزار کا ہے لیکن قسطوں پر (ادھار) 25 ہزار کا بیچا جاتا ہے، کیا یہ سود ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قسطوں پر یا ادھار بیچنے کی صورت میں نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت مقرر کرنا جائز ہے، یہ سود نہیں بلکہ تجارت ہے۔ شرط یہ ہے کہ سودا طے کرتے وقت کوئی ایک قیمت (نقد والی یا ادھار والی) فائنل کر لی جائے اور بعد میں تاخیر پر کوئی اضافی جرمانہ (Penalty) نہ لگایا جائے۔ واللہ اعلم۔