Fatwa #2681
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تعارف امام ابن جوزی رحمہ اللہ اور پسر عزیز کو آپ کے ناصحانہ کلمات
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,365
سوال (Question):
تعارف امام ابن جوزی رحمہ اللہ اور پسر عزیز کو آپ کے ناصحانہ کلمات
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
تعارف امام ابن جوزی رحمہ اللہ اور پسر عزیز کو آپ کے ناصحانہ کلمات ____________________________________
نام و نسب آپ کا نام عبد الرحمٰن ہے لقب جمال الدین کنیت ابو الفرج اور ابن الجوزی کے نام سے مشہور ہیں سلسلہ نسب یہ ہے عبد الرحمٰن بن ابی الحسن علی بن محمد بن علی بن عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن حمادیٰ بن احمد بن محمد بن جعفر الجوزی بن عبد اﷲ بن القاسم بن النضربن القاسم بن محمد بن عبد اﷲ بن عبد الرحمٰن بن القاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق القرشی التیمی البکری البغدادی الحنبلی اور شیخ عبد الصمد بن ابی الجیش کہتے ہیں کہ یہ بصرہ کے ایک محلہ کی طرف نسبت ہے جس کا نام محلۃ الجوز ہے بعض کا قول ہے کہ یہ نہیں بلکہ شہر واسط میں ان کے اجداد کے گھر میں جوز یعنی اخروٹ کا ایک درخت تھا جس کے سوا وہاں اور کوئی اس کا درخت نہیں تھا.پیدائش
آپ کے سن پیدائش میں بھی اختلاف ہے بعض کا قول ہے کہ ۵۰۸ ھ ہے اور بعض کا قول ہے کہ ۵۰۹ ھ ہے اور بعض کا قول ہے کہ ۵۱۰ ھ ہے بعض نے اس بات کا قول کیا ہے کہ آپ کی تحریر ملی تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ مجھ کو اپنی پیدائش کا سن ٹھیک معلوم نہیں ہاں اتنا معلوم ہے کہ والد صاحب کا ۵۱۴ ھ میں انتقال ہوا تھا اور والدہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری عمر تقریباً تین برس کی تھی اس بنا پر آپ کا سن پیدائش ۵۱۱ ھ یا ۵۱۲ ھ ہوگا, آپ بغداد میں درب حبیب میں پیدا ہوئے تھے.ابتدائی حالات اور تحصیل علم
بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا جب پڑھنے کے قابل ہوئے تو ماں نے مشہور محدث ابن ناصر کی مسجد میں چھوڑ دیا ان سے حدیث سنی قرآن مجید حفظ کیا اور تجوید میں مہارت پیدا کی شیوخ حدیث سے حدیث کی سماعت اور کتابت کی اور بڑی محنت و انہماک اور جفاکشی سے علم کی تحصیل کی اپنے صاحبزادہ سے اپنے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں “مجھے خوب یاد ہے کہ میں چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوا بڑی عمر کے طلبہ میرے ہم سبق تھے مجھے یاد نہیں کہ میں کبھی راستہ میں بچوں کے ساتھ کھیلا ہوں یا زور سے ہنسا ہوں سات برس کی عمر میں جامع مسجد کے سامنے کے میدان میں چلا جایا کرتا تھا وہاں کسی مداری یا شعبدہ باز کے حلقہ میں کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنے کے بجائے محدث کے درس حدیث میں شریک ہوتا وہ حدیث و سیرت کی جو بات کہتا وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتی پھر گھر جا کر اس کو لکھ لیتا دوسرے لڑکے دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے اوراق لے کر کسی طرف چلا جاتا اور الگ تھلگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جاتا میں اساتذہ و شیوخ کے حلقوں میں حاضری دینے میں اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی صبح اور شام اس طرح گزرتی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا مگر اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مخلوق کی احسان مندی سے بچایا آپ کے والد بچپن میں انتقال کر گئے تو آپ کی والدہ اور پھوپھی نے آپ کی پرورش کی آپ کے ہاں تانبے کی تجارت ہوتی تھی اس وجہ سے آپ کی بعض قدیم سندوں میں ابن الجوزی الصفار لکھا ہوا ہے جب آپ بڑے ہوئے تو آپ کی پھوپھی حافظ ابو الفضل ابن ناصر کے ہاں لے گئیں تو آپ نے ان کی طرف توجہ کی اور ان کو حدیث سنائی بعض کا قول ہے کہ آپ کی ابتدائی تعلیم ۵۱۶ ھ میں ہوئی تھی قرآن مجید حفظ کیا اور ائمہ قرأۃ کی ایک جماعت سے تحصیل علم کی بڑے ہونے کے بعد شہر واسط میں علی بن الباقلانی سے قرآن مجید روایات کے ساتھ پڑھا.علم حدیث
یوں تو علامہ ابن جوزی جملہ علوم متداولہ میں بڑا اونچا مقام رکھتے تھے مگر جس علم میں انہیں ابدی و آفاقی شہرت حاصل ہوئی وہ علم حدیث ہے اس علم میں آپ کی بہت سی تصانیف ہیں حتیٰ کہ اپنے مقام علم و تجربہ پر اعتماد کی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ میرے زمانے تک رسول اکرم ﷺ سے روایت شدہ کوئی بھی حدیث میرے سامنے بیان کی جائے تو میں بتا سکتا ہوں کہ یہ صحت و ضعف کے کس درجے پر ہے. حدیث کی سماعت و کتابت میں اتنا اشتغال رہا اور اپنے ہاتھ سے مرویات حدیث کی اتنی کتابت کی کہ بعض مورخین کا بیان ہے کہ انہوں نے انتقال کے وقت وصیت کی کہ ان کے غسل کا پانی اس کترن اور بُرادہ سے گرم کیا جائے جو حدیث کے لکھنے کے لیے قلم بنانے میں جمع ہو گیا تھا چنانچہ وہ اتنا تھا کہ پانی گرم ہو گیا پھر بھی وہ بچا رہا.مشائخ
آپ نے اپنے مشائخ میں ستاسی ۸۷ اشخاص کا ذکر کیا ہے حالاں کہ ان کے سوا بھی اور کئی علماء سے علم حاصل کیا ہے جن میں سے چند بڑے بڑے اساتذہ کے نام یہ ہیں, ابو القاسم بن الحصین قاضی ابو بکر الانصاری ابو بکر محمد بن الحسین المزرنی ابو القاسم الحریر علی بن عبد الواحد ینوری ابو السعادات احمد بن احمد المتوکلی احمد بن احمد المتوکلی ابو غالب بن البناء اور ان کے بھائی یحییٰ ابو عبد اﷲ الحسین بن محمد ابارع ابو الحسن علی بن احد الموحد ابو غالب محمد الحسن الماوردی.تلامذہ
آپ کے تلامذہ میں آپ کے صاحبزادے محی الدین اور پوتے شمس الدین یوسف بن قزاد غلی واعظ اور حافظ عبد الغنی ابن الدبیثی ابن النجار ابن خلیل التقی الیلدانی ابن عبد الدائم اور النجیب عبد اللطیف قابل ذکر ہیں.وفات
۵۹۷ ھ میں شبِ جمعہ کو اس داعی الی اﷲ نے بغداد میں انتقال کیا پورے بغداد میں کہرام مچ گیا بازار بند ہو گئے جامع منصور میں نمازِ جنازہ ہوئی یہ وسیع مسجد کثرت اژدحام سے تنگ اور ناکافی ثابت ہوئی یہ بغداد کی تاریخ میں ایک یادگار دن تھا ہر طرف غم کے آثار اور گریہ کی آوازیں بلند تھیں لوگوں کو ان سے ایسا تعلق تھا کہ رمضان بھر لوگوں نے راتیں ان کی قبر کے پاس گزاریں اور قرآن مجید ختم کیے.تصنیفی و دینی خدمات
علامہ ابن الجوزی رحمۃ اﷲ علیہ نے زبانی وعظ و تقریر پر اکتفا نہیں کیا آپ نے متعدد کتابیں ایسی لکھیں جنہوں نے علمی طبقہ پر بڑا اثر ڈالا اور غلط رجحانات کی اصلاح کی حافظ ابن الدبیثی نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے شیخ امام جمال الدین ابن الجوزی رحمۃ اﷲ علیہ کی بہت سی تصانیف مختلف فنون میں ہیں جیسے تفسیر فقہ حدیث وعظ و رقائق تاریخ و غیرہ حدیث اور علوم حدیث کی معرفت صحیح و ضعیف حدیث کی واقفیت میں آپ کو درجہ کمال حاصل تھا اور اس فن میں آپ کی بہت سی تصانیف ہیں جیسے مسانید ابواب اور اماء الرجال اور ان احادیث کی معرفت جن سے احکام اور فقہ میں استدلال کیا جاتا ہے اور ان احادیث کی معرفت جو قابل استدلال نہیں ہیں جیسے ضعیف و موضوع حدیثیں اور جیسے انقطاع اور اتصال کا بیان وعظ میں آپ کی تقریر شستہ ہوتی تھی اشارات عمدہ معانی لطیف اور استعارات نفیس آپ کا کلام پاکیزہ ہوتا تھا انداز کلام شائستہ زبان شیریں اور بیان اعلیٰ تھا آپکے علم اور عمر میں برکت دی گئی تھی. ابن النجار آپ کی چند تصانیف کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ جس نے آپ کی تالیفات میں غور کیا اس کو آپ کا حفظ, ضبط اور علمی مرتبہ معلوم ہوا آپ با وجود ان فضائل اور وسیع علوم کے وظائف اور عبادات کے بھی پابند تھے. الامام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری پہلی تصنیف اس وقت ہوئی تھی جب میری عمر تقریباً تیرہ برس کی تھی. واقعی قدرت نے آپ کو تصنیف کا ملکہ اور موقعہ بڑی فیاضی سے عطا کیا تھا یہاں تک کہ کثرتِ تصنیف میں آپ کا نام بطور ضرب المثل مشہور ہو گیا. ابن عماد کا کہنا ہے کہ علامہ ابن جوزی سے ایک مرتبہ ان کی تعداد تصانیف کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب یہ تھا کہ میری تصنیفات تین سو چالیس سے کہیں زیادہ ہیں جن میں کئی کتابیں بیس بیس جلدوں میں پھیلی ہوئی ہیں اسمائے رجال کے امامِ فن علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ میں نے زندگی میں ابن جوزی جیسا صاحب تصانیف کثیرہ نہ دیکھا نہ سنا ہے ابن خلکان تو یہاں تک کہہ گئے کہ حکایت کرنے والے اگرچہ ابن جوزی کی تعداد کتب کے بارے میں مبالغہ سے بھی کام لیتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کی تالیفات کو احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا مگر افسوس صد افسوس کہ آپ کے حالات میں رقم شدہ تعداد و مصنفات ایک سو کے عدد سے تجاوز نہیں کر پاتی باقی کتب کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صر صر زمانہ نے ان پر گرد نسیان ڈال دی ہے. بہ ہر حال مذکورہ بالا سطور کے مطالعہ سے یہ بات رز روشن کی طرح عیاں و آشکار ہو جاتی ہے کہ آپ اپنے وقت کے عالم ربانی و محقق اعظم تھے. جیسا کہ ہم میں سے ہر شخص یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ نسان کو فطری طور پر اپنی اولاد سے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے اور کیوں نہ ہو وہ اس کے بدن کا ایک حصہ ہے انسان اپنی اولاد کیلئے ہی ہر قسم کے دکھ درد تکلیف مصیبت جھیلتا ہے اور چاہتاہے کہ وہ اپنے بیٹوں بیٹیوں کو ساری دنیا کی خوشیاں فراہم کرے کبھی انہیں غم کی پرچھائیں چھو کر بھی نہ جائے لیکن عمومایہ ساری محبت اور محبت کے مظاہر دنیاوی عیش و عشرت کی فراہمی تک ہی محدود رہ جاتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرے اسے شہر کے سب سے ممتاز اسکول میں داخلہ دلانے کی کوشش کرتے ہیں ہمیشہ تعلیمی اخراجات کوہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں تعلیم ختم ہونے کے بعد اس کے لئے اچھے روزگار کی تلاش میں جٹ جاتے ہیں اور پھر روزگار ملنے کے بعد کوشش ہوتی ہے کہ وہ کس طرح ترقی کے مراحل طے کرے لیکن اس محبت میں ہم وہ چیز بھول جاتے ہیں جو سب سے زیادہ ضروری ہے بطور ایک مسلم کے ہمارا یہ فرض بنتاہے کہ ہم اپنی اولاد کو دین و ایمان پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کریں قران و سنت پر عمل کرنے کی وصیت کریں اور اسے ایک اچھا سچا اور پکا مسلمان بننے کی ترغیب دیں اور اس کے سامنے خود بھی ایک اچھے مسلمان کا نمونہ پیش کریں قران پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وساطت سے ہم سبھی کو حکم دیا ہے کہ اپنی اولاد کی دینی نگرانی ہماری ذمہ داری ہے ارشاد خداوندی ہے قوا انفسکم و اھلیکم ناراً خود بھی جہنم سے بچو اور اپنے اہل و عیال کو بھی جہنم کا ایندھن ہونے سے بچانے کی کوشش کرو. یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام سے لے کر کے صحابہ, اولیا و صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین ان تمام نے اپنی اولاد کو شریعت کے مطابق نصیحتیں فرمائیں انہیں دین میں کامل بنایا بعض مقربین خدائے پاک نے تو ان کی تربیت کے لئے مکمل کتابیں و رسائل تصنیف فرمائی ہیں انہیں بندگان خدا میں سے ایک عظیم المرتبت شخصیت الامام الحافظ ابو الفرج ابن الجوزی کی ہے جنہوں نے اپنے لخت جگر کے لئے مکمل ایک رسالہ بنام لفتۃ الکبد فی نصیحۃ الولد تصنیف فرمائی ہے جس میں آپ نے بیٹے کو بڑے ہی حسین انداز میں نصیحت فرمائی ہے کہ جس کے پڑھنے اور اس میں غور کرنے سے واقعی دل کی دنیا بدل جاتی ہے آنکھیں اشک سے بھر آتی ہیں. آئیے میں اس رسالہ کی بعض وہ نصیحت آمیز باتیں جو آپ نے اپنے لخت جگر نور نظر کو کیا ہے آپ قارئین کے بھی حوالہ کرتا چلوں تاکہ آپ کے علم و عمل, اخلاص و اخلاق, زہد و تقوی, اور خشیت ربانی و حب نبی صلی اللہ علیہ و سلم میں مزید اضافہ ہو, وہ ناصحانہ باتیں درج ذیل بترتیب آ رہی ہیں.عقل و شعور کی اہمیت اور احساس ذمہ داری
عزیز از جان! اللہ تجھے توفیق خیرات نوازے, اس بات کو دل کی تختی پر نقش کر لے کہ انسان اس وقت تک حامل دانش و بینش قرار نہیں دیا جاتا جب تک کہ وہ تقاضہ ہائے عقل کو رنگ عمل نہ دے, لہذا عقل و شعور کی ساری توانائیاں اکٹھا کر کے اپنی فکر کو عمل کے لیے مہمیز کر دو, اور نفس کے ساتھ ہمیشہ محتاط و چوبند رہو اور اپنا خیال رکھو.پابندی شرع کا اہتمام
پسر عزیز! جب بات حدود شرع کی ا جائے تو ایسے وقت آنے نفس کا بطور خاص جائزہ لیا کرو پھر تمہیں پتا چل جائے گا کہ اس کا بچاؤ کیسے کیا جاتا ہے کیوں کہ جو اپنے نفس کی حفاظت و رعایت میں کامیاب ہوگیا وہ صحیح معنوں میں کامیاب ہو گیا اور جو اس محاذ پر نا کام ہو گیا سمجھو وہ مارا گیا.علم و عمل اور اخلاص نیت
یوں ہی اس بات کی بھی کوشش کرنا کہ کسی قسم کی عبادت و ریاضت میں اسی وقت مشغول ہونا جب تمہیں اس کا وافر اور قطعی علم ہو جائے کیوں کہ تمہارے سامنے ایسے اہل زہد و تصوف کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں جنہوں نے علم کے بغیر عبادت شروع کر دی اور انجام کار نتیجہ یہ ہوا کہ راہ راست سے بھٹک گئے. خوب صورت کپڑوں میں خود کو مزین رکھا کرو وہ تمہیں دنیا داروں کے آگے جھکنے سے روکے رکھیں گے یوں ہی زاہدوں کے درمیان مشہور نہ ہونے دیں گے. یوں ہی ہمہ وقت اپنی نگاہوں باتوں اور قدموں کو محاسبہ کرتے رہنا کیوں کہ ان کے ثابت تم سے مواخذہ ہونا ہے اور تم جتنا اپنے علم سے فائدہ اٹھا گے وہ اتنا ہی تمہارے سامعین کے لئے نفع رساں ہوگا ورنہ جب واعظ و خطیب اپنے علم پر خود عمل پیرا نہیں ہوا تو اس کی پند و نصیحت لوگوں کے دلوں ایسے ہی پھسل جاتی ہے جیسے پانی چٹان سے بآسانی پھسل جاتا ہے.توبہ میں جلدی اور وقت کی قدر و قیمت
نور نظر! اپنے نفس کے تئیں ہمیشہ چوبند رہنا کبھی اس سے مطمئن نہ ہونا جو کچھ پہلے گناہ ہو چکے ان پر ایک ندامت بہاتے رہنا اہل کمال سے اکتساب فیض کرتے رہنا جب تک دم میں دم ہے اپنی شاخ عمل کو سر سبز و شاداب رکھنے کی کوشش کرتے رہنا. تمہاری زندگی کے جو لمحات بیکار بیت گئے ان کا سوچو ان میں خود تمہارے لئے درس عبرت موجود ہے تو نے لذتوں کے دام میں عمر عزیز کی کتنا گھڑیاں گنوا دیں اور فضل و کمال کے کتنے زینے طے کرنے سے محروم رہ گئے حالانکہ سلف صالحین ہر قسم کے فضائل و کمالات کی تحصیل میں خود کو ہمہ تن مشغول رکھتے تھے اگر ان میں سے کوئی ایک فضیلت بھی جاتی رہتی تو اس کے غم میں ان کے پلکوں سے اشکوں کے آبشار جاری ہو جاتے تھے.معرفت الہی کی تعمیر
انسان کی فطرت کا تقاضہ ہے کہ وہ سب سے پہلے کائنات رنگ و بو میں بکھرے ہوئے دلائل و شواہد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی معرفت میں کمال پیدا کرے. اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت و رسالت کی سچائی کے دلائل پر نظر کرے. اب جب وجود باری تعالیٰ اور رسالت محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کا عقیدہ لوح دل پر نوش ہو جائے, پھر اپنی عنان توجہ شریعت مطہرہ کی طرف موڑنا چاہیے کہ اگر اس ترتیب کا خیال نہ رکھا جائے تو اس کے اعتقاد کی دیواروں میں کبھی بھی دراڑ پڑ سکتی ہے. اب اسے چاہیے کہ نماز و وضو کے ضروری مسائل معلوم کرے صاحب دولت ہو تو زکوۃ کے مسئلے پر آگاہی حاصل کرے اس طرح حج اور دین کے دیگر واجبات سیکھے جب اسے ان واجبات دینیہ کا علم ہو جائے تو انہیں رنگ عمل دینا شروع کر دے اب جسے جتنی قوت پرواز ہے اسی کے مطابق وہ آسمان فضل و کمال پر کمند ڈالے گا انبوہ چاہے تو قرآن کریم کا حفظ کرے, اس کی تفسیر سیکھے حدیث رسول میں درک حاصل کرے آپ کی سیرت طیبہ کو پڑھے صحابہ کرام کی سیرتیں جانے اور یونٹس کے علما و مشائخ کی حیات و خدمات پر بھی نظر رکھے تاکہ اس کا طائر علم و فضل آسمان ترقی کی طرف رو بہ رو پرواز ہو سکے. یوں ہی زبان و بیان کی اصلاح اور اس کی سلامت و بلاغت میں ترقی کے لئے اس کے قواعد و اصول کا علم سیکھے اور مروجہ زبان میں درج حاصل کرے. یاد رہے فقہ تمام علوم کی جڑ ہے اور وعظ و نصیحت اس کا پھل نیز اس کے فوائد و برکات کو پھیلانے کا ایک مؤثر ذریعہ. عزیز وافر تمیز! مذکورہ علوم و فنون میں-اللہ کی توفیق سے- میں نے بہت ساری کتابیں تصنیف کی ہیں جو تمہیں متقدمین کی کتابوں سے بے نیاز کر دیں گی, لہذا کتابوں کی چھان بین اور تصنیف کتب کے لئے تمہیں یہاں وہاں مارے مارےپھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں وہ سب کچھ تمہارے لئے پہلے ہی مہیا کر دیا ہے. انسان کے حوصلے اس کی اپنی تساہلی کے باعث پژمردہ ہو جاتے ہیں ورنہ ان چیزوں سے انہیں کبھی بھی سیری ہی نہیں ہوتی اور اس کے بغیر انہیں چین ہی نہیں آتا. میں اس بات کو قطعی طور پر جانتا ہوں کہ ہمتیں انسانوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں ہاں بسا اوقات وہ پست ضرور پڑ جاتی ہیں تا ہم کریدنے اور ابھارنے سے وہ پھر چل پڑتی ہیں, لہذا جب کبھی اپنے اندر تساہلی دیکھو یا خود کو احساس کمتری کا شکار پاؤ تو اللہ کی بارگاہ سے توفیق خیر کی بھیک مانگو اور اس بات کا یقین رکھو کہ تمہیں ہر خیر و نعمت اس کی طاعت و بندگی سے ملتی ہے یوں ہی ہر نقصان اس کی معصیت و نا فرمانی سے پہنچتا ہے. ذرا مجھے بتاؤ کہ وہ کون ہے کہ جس پر مولی اپنے عطا و نوال کی بارش فرمائے اور وہ با مراد نہ ہو سکے ؟ اور جس سے وہ اپنی رحمت و نعمت روک لے وہ کچھ پا سکے ؟ یا اپنے کسی مقصد میں مراد آشنا ہو سکے ؟شب و روز کا تربیتی انداز
پیارے بیٹے! طلوع فجر کے وقت جاگنے کی عادت ڈالو وہ وقت بڑا گراں مایہ ہوتا ہے لہذا اس وقت بطور خاص دنیا کی کوئی بات نہ کرنا کیوں کہ سلف صالحین رحمہم اللہ کا یہ معمول تھا کہ وہ اس وقت دنیا کے کسی معاملے کو زیر بحث نہیں لاتے تھے. جب نیند سے بیدار ہو تو یہ دعا پڑھنا نہ بھولو: الحمدلله الدي احيانا بعد ما اماتنا و اليه النشور الحمد لله الذي يمسك السماء ان تقع على الارض الا بإذنه ان الله بالناس لرؤوف الرحيم. پھر فطری ضرورتوں کی تکمیل کے بعد با طہارت ہو کر قلب و باطن کے پورے جھکاؤ کے ساتھ سنت فجر ادا کرو پھر ادائے فرض ک لئے سراپا آڈٹ بن کر مسجد پہنچو ہو سکے تو سر راہ یہ دعا پڑھو: اللهم اني أسئلك بحق السائلين عليك و بحق ممشاي هذا اني لم اخرج اشرا و لت بطرا و لا رياء و لا سمعة خرجت اتقاء سخطك و ابتغاء مرضاتك أسئلك ان تجيرني من النار و ان تغفر لي ذنوبي انه لا يغفر الذنوب الا أنت. مقدور بھر کوشش کیا کرو کہ امام کے دائیں طرف نماز پڑھنے کی نصیب ہو نماز سے فارغ ہو کر دس مرتبہ لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شي قدير پڑھا کرو پھر دس مرتبہ سبحان اللہ, دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کی کر آیت الکرسی پڑھ لیا کرو اور پھر اللہ تعالیٰ سے قبولیت نماز کی دعا مانگو اگر دل جمے تو وہیں بیٹھ کر طلوع آفتاب بلکہ اس کے بلند ہونے تک ذکر الہی میں مشغول رہو پھر نماز اشراق کی جتنی رکعتیں ہو سکیں ادا کرو آٹھ ہوں تو بہتر ہے.شب و روز کے معمولات
اب سورج کی کرنیں ہر سو بکھر چکی ہیں اپنے آپ کو گتھی سلجھانے میں لگا دو آن میں سب سے زیادہ اہم صحت قرآن ہے پھر فقہ, اگر تم چاشت کے وقت تک اپنے اسباق کی تیاری کر لو تو صلوۃ الضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھنا نہ بھولو پھر مطالعہ کتب یا تحریر و کتابت کا مشغلہ عصر تک جاری رکھو, عصر سے مغرب تک اپنے اسباق کی تیاری میں جٹ جاؤ نماز مغرب کے بعد دو رکعتیں خاص طور سے پڑھ لیا کرو جس میں دو جزء قرآن کی تلاوت کیا کرو اب نماز عشا کے بعد پھر اپنے اسباق کو یاد کرنے میں منہمک ہو جاؤ. جب بستر پر جاؤ تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣۴ مرتبہ اللہ اکبر کا ورد کر کے یہ دعا پڑھو: اللهم لني عذابك يوم تجمع عبادك. مولا جس دن یعنی بروز قیامت بندوں کی شیرازہ بندی ہوگی اس دن اپنے عذاب و عتاب سے ہمیں بچا لینا. جب نیند سے آنکھیں کھلیں, فورا اپنے پہلو کو خواب گاہ سے جدا کر سو اور یہ سمجھو کہ نفس نے اپنا کام پورا کر لیا ہے لہذا اٹھو اور جا کر وضو کرو اور نبی شبی کی خلوتوں میں جتنا ہو سکے پروردگار کی بارگاہ میں سجدوں کا خراج پیش کرو اوسطا دو رکعتیں ادا کرو آن کے بعد پھر دو مزید رکعتیں جن میں دو جزء قرآن کی تلاوت کرو ازاں بعد تحصیل علم اور اپنے اسباق کی تیاری میں لگ جاؤ کیوں کہ علم بہ ہر حال ہر طرح کے نوافل سے افضل ہے.وجہ تصنیف رسالہ
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے جب اپنے ولد بار بدرالدین ابو القاسم کے اندر طلب علوم دینیہ کے بابت تھوڑی سستی و تساہلی دیکھی تو اپنے ان کو حصول علوم دینیہ کی طرف ابھارنے اور زندگی کے قیمتی لمحات اچھی طرح سے با مقصد گزارنے کا طریقہ بتانے کے لئے ایک جامع رسالہ بنام لفتۃ الکبد فی نصیحۃ الولد تحریر فرمایا جس سے صرف آپ کے لخت جگر کے ہی فائدہ حاصل نہیں کیا بلکہ اس شان دار رسالہ سے آج بھی دنیا مستفید و مستنیر ہوتی آ رہی ہے اور تا قیامت ہوتی رہے گی. خلاصہ کلا یہ ہے کہ امام ابن جوزی علیہ الرحمہ کا شمار علمائے ربانیین میں سے ہوتا ہے آپ نے وعظ و نصیحت تصنیف و تالیف تعلیم و تدریس کے ذریعہ لوگوں کی رہنمائی فرمائی ہے اور جس طرح ایک والد اپنی اولاد کی کامیابی کے لئے راہیں ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکل اسی طرح آپ نے بھی اپنے ولد عزیز “ابو القاسم بدر الدین علی” کی دارین میں کامیابی و کامرانی کے لئے ایک از حد نفع بخش رسالہ تحریر فرمایا ہے جس سے آپ کے فرزند ارجمند نے خوب استفادہ کیا اور دوسروں نے بھی. اخیر میں دعا ہے کہ مولی تعالیٰ ہمیں بھی آپ کی عظیم تصانیف اور بالخصوص آپ کے اس عظیم رسالہ سے استفادہ کی توفیق رفیق عطا فرمائے, آمین. از:محمد اظہرالدین علیمی بلرام پوری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9