Fatwa #2762
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تعارف وسوانح مفتی سلمان ازہری ( مفتی صاحب ) کی زبانی ۔ خصوصی انٹرویو۔
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,905
سوال (Question):
تعارف وسوانح مفتی سلمان ازہری ( مفتی صاحب ) کی زبانی ۔ خصوصی انٹرویو۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
تعارف وسوانح مفتی سلمان ازہری ( مفتی صاحب ) کی زبانی ۔ خصوصی انٹرویو۔
ناظرین کرام آج ہم ایک شخصیت کا انٹرویو کرنے جا رہے ہیں جس سے باطل کے ایوان کانپ اٹھتے ہیں۔ ناظرین کرام آپ کی ہماری محبوب شخصیت، ترجمان فکر رضا حضرت علامہ مولانا مفتی سلمان احمد القادری الازہری صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ مفتی صاحب کیسے مزاج ہیں آپ کے ؟ٹھیک ہیں ؟ جی الحمدللہ۔ اللہ کا فضل و کرم احسان ہے آپ تمامی حضرات کی دعائیں ہیں ۔ ماشاءاللہ میرے لیے تو مفتی صاحب یہ بہت خوبصورت موقع ہے کہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر سوالات کرنے کا موقع مل رہا ہے اور ناظرین کرام ایسی شخصیت کہ پوری دنیا میں الحمدللہ آپ کے چاہنے والے موجود ہیں اور جب آپ گفتگو فرماتے ہیں تو یقین مانیں دل چاہتا ہے کہ بندہ سنتا رہے آج ہم نے ان سے بہت ساری باتیں پوچھنی ہیں لیکن آغاز میں ہم کچھ سوالات کریں گے جو خاص طور پر آپ ہی سے متعلق ہوں گے ۔مفتی صاحب آپ کی اجازت ہو تو میں پھر آغاز کروں ۔جی جزاک اللہ یہ ارشاد فرمائیے گا کہآپ کا آبائی شہر کون سا ہے اور کس برادری سے آپ تعلق رکھتے ہیں ۔
الحمدللہ وکفی وسلام علی حبیبہ المصطفی اما بعدفاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء صدق اللہ مولانا العظیم۔ اللہم صل وسلم علی سیدنا محمد وآلہ وا صحابہ وبارک وسلم صلاۃ سرمدا۔ میں مشکور و ممنون ہوں آپ کی محبتوں کا اور جس طرح سے آپ نے مجھ سے یہ طلب فرمایا میرے متعلق معلومات کا توسب سے پہلے میں اس بات کی آپ کو آگاہی دے دوں کہ میں وہ چیز نہیں ہوں کہ جس کو پہچانا جائے یا جس کو دیکھا جائے ۔ہماری جو کچھ بھی حیثیت ہے وہ مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نسبت سے ہے ۔ اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں مانگتے تاجدار پھرتے ہیں کیا بات ہے سبحان اللہ۔ اور پھر میں نے بھی اپنا تعارف اور اپنا انٹروڈکشن اسی سے کرانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے جیسا حضرت بیدم وارثی نے کہا تھا سگ طیبہ سب مجھے کہہ کے پکاریں بے دم یہی رکھیو میری پہچان مدینے والے ہماری اصل شناخت تو یہ ہے۔ باقی جو پرسنل سوالات ہیں انٹرسٹ کے لیے اگر آپ نے سوال کیا یا ناظرین آپ کے چاہتے ہیں تو میں چند باتیں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ مفتی صاحب کا آبائی وطن میں ہندوستان کے صوبہ کرناٹک سے تعلق رکھتا ہوں میری پیدائش کرناٹک کا ایک شہر ہے ہبلی اس کے قریب میں ایک قصبہ ہے تڑس نام سے وہاں ہماری ولادت ہوئی ۔(ماشاءاللہ) ویسے میرے والد گرامی بڑے عالم دین تھے اور وہ ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے کیرلا سے ۔ صوبہ کیرلا ہندوستان کا ایک علاقہ ہے اور وہاں سے وہ اپنی دینی خدمات کے لیے کرناٹک میں آ کر کے بسے بلکہ میرے دادا ہی آئے تھے اور پھر اس کے بعد ہم وہیں آباد ہوئے (ماشاءاللہ) اور پھر جہاں تک آپ نے برادری کے متعلق سوال کیا ہے اس سلسلے میں بھی ہمارا خاندانی وطیرہ یہی رہا ہےکہ میرے والد گرامی اس بات سے ہمیں منع کرتے تھے کہ نسب لوگوں کے پاس ظاہر کر کے اپنی فوقیت بتانا یہ مناسب نہیں ،کبھی انہوں نے بھی اس چیز کا ہم لوگوں کو حکم بھی نہیں دیا اور نہ ہی اظہار کرتے ،لیکن الحمدللہ میرا خاندان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے (ماشاءاللہ ماشاءاللہ الحمدللہ سبحان اللہ) ہمارے خاندان میں ابھی بھی تقریبا 148 علماء موجود ہیں (اللہ اکبر) میرے والد گرامی کے خاندان میں ،تو یہ علماء کا خاندان رہا ہے اور ہمارا سلسلہ نسب سرکار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تک ہے( یعنی کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھائی مفتی صاحب کوئی اپنے خاندان کے پہلے عالم یا مفتی ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ 148 الحمدللہ علماء آپ کے خاندان میں ہیں ) میری تقریبا آٹھ پشتوں تک میں جانتا ہوں جو سب عالم دین ہیں ماشاءاللہ اور ان کی لکھی ہوئی تفاسیر قرآن بھی ہیں اور کئی کتب ہیں ۔ الحمدللہ یہ دینی ماحول کئی صدیوں سے ہمارے گھر رہا ہے۔ ( سبحان اللہ سبحان اللہ)مفتی سلمان ازہری صاحب کے والد ماجد کے مختصر حالات
مفتی صاحب قبلہ میں چاہوں گا خاص طور پر آپ اپنے والد گرامی چونکہ وہ بھی ایک بڑی شخصیت ہیں ،زبردست عالم دین ہیں تو ان کا تعارف آپ ارشاد فرمائیں ۔ میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد ابن حسن رضوی مصباحی علیہ الرحمہ وفات پا چکے اللہ تبارک و تعالی ان کی تربت پر رحم و کرم فرمائے۔ آمین۔ بچپن سے ہی اپنے والد سے پڑھتے رہے، میرے دادا بھی بڑے عالم دین تھے، شہر کے قاضی بھی تھے اور اس وقت ہمارے والد گرامی پڑھنے کے لیے باہر کہیں جانا چاہتے تھے تو اس وقت میرے والد کے ایک استاد تھے مولانا تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ وہ اپنے ساتھ ان کو راجستھان لے گئے، اور وہاں پھر کمیٹی کے کچھ معاملات ہوئے تو حضرت ہمارے والد کو تنہا چھوڑ کر چلے گئے جب ان کی عمر نو سال کی تھی ۔میرے والد فرماتے ہیں کہ اس وقت جو میرے سامنے ایسی دقتیں تھی کہ کمیٹی والے میرے استاد کے نام پر مجھ کو بھی کہنے لگے کہ تمہارے جو استاد لے کر کے آئے تھے وہ توچلے گئے تم یہاں کیا کر رہے ہو۔ کرناٹک سے آئے ہو راجستھان۔ ان کا بڑی مشقتوں کا سفر تھا انہوں نے کئی مرتبہ اس کو بیان کیا اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین جگہ پر خط لکھے ایک بریلی شریف میں منظر اسلام اور ایک مراد آباد حضور صدر الافاضل کا جو ادارہ تھا جامعہ نعیمیہ اور اس کے بعد پھر ایک جامعہ اشرفیہ مبارک پور کہ اس وقت خطوط لکھے جاتے تھےاور جواب بھی آتے تھے ۔تو فرماتے ہیں سب سے پہلے مجھے حضور حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ کا جواب آیا کہ بیٹا آپ ا ٓسکتے ہو، ہمارے یہاں داخلہ لے سکتے ہو۔ تو یہ تنہا ہی اپنے والد کو بتائے بغیر اشرفیہ پہنچ گئے مبارک پور اعظم گڑھ۔ فرماتے ہیں کہ داخلہ میرا ہو گیا میں بڑی خوشی سے حضرت کی شاگردی میں رہا پڑھائی چل رہی تھی پھر ہمارے دادا کو بعد میں خبر ہوئی کہ مولانا تقی الدین صاحب ہمارے بیٹے کو اکیلا چھوڑ کر دوسری جگہ چلے گئے اور ان کے ساتھ یہ حالات ہوئے پھر رابطہ ہوا تو خط آیا کہ بیٹا تم واپس چلے آؤ۔ اب ہمارے والد صاحب یہ کہنے لگے کہ نہیں اب مجھے جانا نہیں ہے ۔ہمارے دادا مزاج کے بڑے سخت تھے اور پابند شرع بھی اتنے کہ بہت چھوٹی چیزوں پر بھی بہت سختی فرمایا کرتے تھے۔ اللہ اکبر تو ہمارے والد گرامی کو دادا نے بلایا تو انہوں نے آنے سے انکار کیا پھر اس کے بعد حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ کو خط لکھا کہ ہمارے بیٹے کو آپ واپس بھیج دیجیے ۔ یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ اس میں بہت ساری عبرتیں ہیں ،بہت سارا درس ہے جو نئے طلباء ہیں ان کے لیے ۔(جی جی) تو حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ بلاتے ہیں ہمارے والد کو چھوٹی عمر تھی کہا کہ بیٹا دیکھو تمہارے والد کا خط آیا ہے تمہیں وہ بلا رہے ہیں واپس چلے جاؤ وہ کچھ ناراض لگتے ہیں وہ یہاں پڑھانا نہیں چاہتے ہیں ۔کیونکہ اس وقت اعظم گڑھ کی ایک امیج الگ تھی ،الگ انداز سے سمجھتے تھے کہ یہ ایک بہت دور علاقہ ہے پتہ نہیں کیا ہو جائے گا ۔تو ہمارے والد نے کہا حضور اگر میں وہاں چلا گیا تو پھر واپس میری تعلیم یہاں نہیں ہوگی کیونکہ میرے دادا شافعی ہیں ،میری دادی بھی شافعی المسلک۔والد گرامی جو ہے حضور حافظ ملت کی تربیت میں رہے اور ان کو پرسنل شوق بھی تھا کہ حنفی مذہب میں تعلیم حاصل کی جائے۔ تو آپ نے کہا کہ حضور آپ سنبھال لیجیے ہمارے والد صاحب کو ،تو حضورحافظ ملت علیہ الرحمہ نے خط لکھ کر کے بھیجا کہٓ اپ کا بیٹا پڑھنا چاہتا ہے آپ اس کو چھوڑ دیجیے ہمارے پاس ،ہم اس کو اچھا بنائیں گے۔ ہمارے دادا کا ایک سخت ترین خط آتا ہے کہ میں خود بھی عالم ہوں میں اپنے بیٹے کو کیسے بنا سکتا ہوں جانتا ہوں آپ اگر ہمارے بیٹے کو واپس نہیں بھیجیں گے تو میں آپ کے مدرسے کو بند کروا دوں گا یا میں بہت بڑا ایکشن لے لوں گا۔ تو یہ خط جب پہنچا حضور حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ تو گھبرائے ،کمیٹی والے بھی تھے اس وقت ،انہوں نے کہا کمیٹی والوں نے کہ حضور ایک بچے کے لیے آپ اتنا بڑا رسک کیوں اٹھانا چاہتے ہیں یہ صاحب کون ہیں کیا معلوم ؟ اتنا خط سختی کے ساتھ لکھے ہیں۔ تو سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے ہمارے والد کو بلاتے ہیں حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ بیٹا آپ چلے جاؤ اس لیے کہ تمہارے والد جو ہے اتنا سخت خط لکھتے ہیں۔ تو ہمارے والد کہتے ہیں کہ میں نےحضور حافظ ملت کے دامن کو پکڑا اور کہا کہ ٹھیک ہے حضور میرے والد کا حکم اور آپ کا حکم لیکن میں جا رہا ہوں جانے کے بعد خدانخواستہ اگر میری لائن چینج ہو گئی تو اس کےذمہ دار آپ ہوں گے۔ اللہ اکبر تو حافظ ملت علیہ الرحمہ نے ان کو سینے سے لگا لیا اور وہیں بیٹھ کر کے ہمارے دادا کو انہوں نے خط لکھا یہ آپ کا بیٹا نہیں ہے یہ میرا بیٹا ہے آپ جو ایکشن لے سکتے ہیں لے لیجیے او رہم اس کو نہیں بھیجیں گے۔ چھ سال تک نہیں بھیجا۔ ان چھ سال تک کیونکہ چھٹیاں ہوتی تھی ہر شعبان میں سارے طلبہ چلے جاتے تھے لیکن میرے والد کو حضور حافظ ملت اپنے گھر میں رکھتے تھے ایسی شفقت تھی۔ ایسی شفقتیں تھیں محبتیں تھیں ۔لیکن اس کے بعد ہمارے دادا کو جب یہ خط آیا تو مسکرا کر کے رکھ دیے کہا کہ جب اتنی زیادہ شفقت کرنے والا استاد ہو تو وہاں سے بلانا مناسب ہی نہیں۔( کیا کہنے واہ واہ واہ ) تو اس کے بعد پھر ان کی تعلیم تقریبا وہیں جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں مکمل ہوئی اور وہیں پر حضور حافظ ملت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بہت ساری چیزیں وہ نقل کیا کرتے تھے پھر سرکار مفتی اعظم ہند رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت بھی لیا اور کچھ اجازتیں بھی لیں۔ اور اس کے بعد پھر واپس اپنے وطن آئے اور ہمارے علاقے کے یوں سمجھ لیں کہ جنوب ہند کا جو علاقہ ہے وہاں کے پہلے مصباحی عالم دین تھے ۔ اور بہت ساری تفصیلات ہیں میں ساری چیزیں بیان کروں تو کافی وقت اسی میں گزر جائیں گی ۔ وہ پھر وہاں سے مصر جانا چاہتے تھے۔ہماری دادی نے کہا بزرگ سے اجازت لے لو اگر وہ کہیں تو چلے جاوٓ۔ہمارے علاقے کے ایک بزرگ ہیں حضرت مقبول احمد شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ہماری دادی جو ہیں ہمیشہ بزرگوں کا احترام کرتیں وہ بہت بڑی عالمہ تھیں شافعی المسلک کی۔( ماشاءاللہ) انہوں نے ہمارے والد سے کہا کہ جانا ہے تو پہلے اس بزرگ سے اجازت لے لو۔ اس بزرگ کا حال یہ ہوتا تھا کہ وہ جذب میں رہتے۔ اور ہمارے علاقے کی سنیت کے لیے بہت بڑا کردار ہے حضرت پیر مقبول احمد شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ،تو ان کے پاس گئے یہ اور جا کر کے ان سے کہا کہ حضور میں عالم بن کر کے آیا ہوں جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے جامعہ ازہر مصر جانا چاہتا ہوں تو انہوں نے پیٹھ پر مارا اور کہا کہ کیا وہاں مرنے جائے گا ۔ جاؤ بچوں کو پڑھاؤ امامت کرو اور گھر چلاؤ ۔دو سے تین مرتبہ انہوں نے یہی کہا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے والد کے ساتھ تین لوگ جا رہے تھے مصر۔ اس وقت پانی کی جہاز سے جاتے تھے جب انہوں نے منع کیا تو ہمارے والد واپس آئے ۔ دادی یعنی اپنی ماں سے کہا کہ انہوں نے اس طرح سے کہا ہے ہماری دادی محترمہ نے کہا کہ اگر اس بزرگ نے منع کیا ہے تو میری بھی اجازت نہیں ہے ۔ ہمارے والد فرماتے ہیں کہ میں اس وقت ایسا محسوس کرتا رہا کہ میری اتنی خواہش تھی ان لوگوں نے مجھے جانے سے روک دیا بہرحال جو بھی مصلحت رہی ایک مہینہ گزرا تھا ان کے دو ساتھی جو جانے والے تھے وہ چلے گئے لیکن مہینے بھر کے بعد خبر آئی کہ جس جہاز سے یہ لوگ گئے تھے اس میں پلیگ کی بیماری پھیل گئی( اللہ اکبر) اور ایک دو نہیں کئی لوگوں کی موتیں اس میں ہوئی اور ان کو وہیں کفن پہنا کر کے سمندر میں ڈال دیا گیا ۔ ہمارے والد ہمیشہ اس بات کو بیان کرتے تھے کہ اس بزرگ کی دور بیں نگاہوں نے دیکھا ہوگا اور یہی فرماتے تھے کہ وہاں کیا کرنے جا رہا ہے ۔بہرحال یہ ان کی ایک مختصر سی زندگی میں نے آپ کے سامنےرکھی ۔بڑے سادہ مزاج تھے کبھی نام و نمود کی کوشش نہیں کیا ۔شریعت کے لیے بھی بڑی سختی کے ساتھ پیش آتے ۔ نمازوں کی پابندی گھر میں عورتیں بھی کرتیں یہاں تک کہ اگر عورتوں میں سے کوئی فجر کی نماز میں نہ اٹھے تو ہمارے گھر میں کھانا بنانے کی اس کو اجازت بھی نہیں دی جاتی۔( اللہ اکبر) یہ الحمدللہ انہوں نے پابندی بہت مینٹین کیا اور آخری وقت تک جہاں تک میرے علم میں ہے ان کی بہت ہی سختی کے ساتھ شریعت پر عمل رہا ، میں آپ کے سامنے بیان کروں کہ رمضان المبارک میں ہر تین دن پر ختم قران کرتے تھے اور سترہویں رمضان آتی تو صبح بیٹھ کر کے رات تک پورا ایک ختم کر دیتے تھے اللہ کا فضل و کرم احسان ہے کہ ان کی تربیتیں ہیں ہمارے ساتھ ان کی شفقتیں ہیں اور ہمیشہ اس سادہ مزاجی کے ساتھ انہوں نے زندگی بسرکی ۔سبحان اللہ سبحان اللہ ناظرین کرام جب والد ایسے بزرگ ہوں اتنی سادہ طبیعت اور شریعت پر عملداری ہو تو ظاہر بات ہے کہ پھر اولاد نے تو اتنا شاندار اتنا زبردست ہونا ہی تھا ۔الحمدللہ یہ کہتے ہیں نا جیسا بیج آپ ڈالیں گے ویسی فصل تیار ہوگی تو ماشاءاللہ آج مفتی سلمان ازہری صاحب یہ ان کے والد گرامی بلکہ یوں کہیے کہ والدین کی تقوی و پرہیزگاری کا ثمر نظر آتے ہیں ۔ مفتی صاحب کی شادی کب ہوئی اور کتنے بچے ہیں آپ کے ؟ بچوں کو کیا بنائیں گے ؟ میری تعلیم جب وہاں سے مکمل کر کے آیا تھا جامعہ ازہر سے تو سن 2012 میں میری شادی ہوئی ہے اپنے ہی علاقے میں ۔ اور الحمدللہ اللہ کا فضل و کرم ہے تین اولاد بھی اللہ نے نوازے ہیں (ماشاءاللہ ماشاءاللہ) چھوٹا سا بیٹا ہے اور دو بیٹیاں ہیں( واہ واہ اللہ پاک ان کے نصیب بلند فرمائے) اور یقینا یہ بھی دل چاہتا ہے پوچھنے کو لیکن مجھے سوالات چونکہ بہت سارے ہیں دل چاہ رہا ہے پوچھنے کو کہ بھائی کیا سوچا ہے بچوں کے لیے کس انداز سے تربیت کریں گے اگر مختصر طور پر بتاتے تاکہ ہمارے بہت سارے والدین جو سوچتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو کیا بنائیں تو آپ کے اس جملے سے رہنمائی ہو جائے۔ قرآن پاک کی میں تفسیر کیا کرتا تھا اس وقت جو ہے سورہ آل عمران کی کچھ آیتوں کی تفسیر کے وقت میں کافی انسپائر تھا ۔جب حضرت بی بی مریم کی والدہ ماجدہ نے نذرکیا تھا اللہ کریم کی بارگاہ میں۔حمل میں ہی انہوں نے یہ نیت کی تھی۔ آیتیں میں اس لیے کوٹ کر کے آپ کو بتا رہا ہوں کہ اس کے بعد پھر انہوں نے اپنی بیٹی کو جب حضرت مریم پیدا ہوئی تو بیت المقدس میں وقف کیا( سبحان اللہ) اور وقف کرنے کے بعد جو ہے اولاد اللہ کریم کی ایسی نگہداشت میں ہوتا ہے تو میں اپنی زندگی کا دیکھتا ہوں کہ مصروفیت اتنی زیادہ ہے ہو سکتا ہے میں اپنی اولاد کو زیادہ وقت نہ دے رہا ہوں لیکن میری ہر دعا یہی رہتی ہے کہ مولا میرے اولاد کو میں نے تیرے دین کے لیے وقف کیا ہ۔ وہ بیٹی ہو کہ بیٹا ہو میں خالصتا یہ چاہتا ہوں کہ وہ دین متین کے کام آئے ۔ اور آپ اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ کیا بنانا چاہتے ہیں توہر والد کا والدہ کا ایک ایکسپیکٹیشن ہوتا ہے بچہ بڑا بن جائے میرا ایکسپیکٹیشن اتنا ہے کہ دنیا ان کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کتا سمجھے اور اتنا تعارف ان کا ہو جائے بس ہم یہ چاہتے ہیں (سبحان اللہ اللہ اپ کو سلامت رکھے)مفتی صاحب کا جامعہ اشرفیہ سے جامعہ ازہر تک کا تعلیمی سفر
اچھا مفتی صاحب یہ بڑا خاص سوال ہے اور اس بارے میں یقینا لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ بھائی جو ا ج ٓمفتی سلمان ازہری صاحب ہمارے سامنے تشریف فرما ہیں آخر تعلیمی سفر آپ کا کیسا رہا ،کیا نشیب و فراز آئے ابتدائی طور پر تعلیمی معاملہ کیا تھا ،کس نے شروع میں آپ کو تعلیم دی اور کس طرح آپنے تعلیم حاصل کی ہے ۔پھر آگے جامعۃ الازہر تک کا جو سفر ہے میں چاہوں گا کہ حضرت کی زبانی سنتے ہیں۔ دیکھیے یہ سب معاملات من جانب اللہ ہیں ۔اللہ تبارک و تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء :عموما میرے خاندان کا ایسا رواج ہے اور بزرگوں کی جو وصیت چلتی آرہی ہے کہ اپنے بیٹوں میں سے اگر زیادہ ہیں تو دو کو عالم بنایا جائے یا اگر کم ہے تو ایک بیٹا ۔ہر ایک عالم بنتا ہے ہمارے خاندان سے اوپر سے چلا آرہا ہے ۔تو میرے والد گرامی نے ہمارے بڑے بھائی صاحب کو عالم بنایاہے وہ بھی جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے فارغ ہوئے حضرت علامہ مفتی زبیر احمد مصباحی جومیرے استاد بھی ہیں بڑے بھائی بھی ہیں۔ لیکن اور ایک کو بنانا تھا تو چونکہ مجھ سے جو جسٹ میرے بڑے بھائی ہیں ان کے متعلق بڑی تیاریاں چلتی تھیں گھر میں اور ان کو حافظ بنانا ہے یا عالم بنانا ہے اس طرح سے ان کے لیے ساری تیاریاں چلتی تھی۔ ہمارا تو ایسا مسئلہ نہیں تھا میں چونکہ اسکول میں بھی فرسٹ آیا کرتا تھا ہمیشہ رینک لایا کرتا تھا ۔سارے ٹیچرز کی نگاہوں کا مرکز رہتا تھا اور مجھے جب میں شاید ففت یا سکس کلاس میں ہوتا اس وقت بھی ٹیچرز جو ہے نا مجھے ڈاکٹر کہتے تھے ۔گھر والے بھی ایسی ہی امید میں تھے کہ اس کو بڑا شوق ہے سائنسوغیرہ کا ،پڑھائی لکھائی میں کافی اچھا ہے ساری چیزیں۔ تو ہمارے والد کو بھی یہ معلوم تھا کہ یہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے خیر ہمارے بھائی صاحب آئے تھے چھٹیوں میں ربیع الاول شریف کی تو مسابقہ کروا رہے تھے مجھ سے اور میرے جسٹ بڑے بھائی سے کہ یاسین شریف آپ سناو۔چونکہ بچپن میں ہی ہمارے گھر میں یاسین یاد کرا دیا جاتا ہے بچوں کو ،تو جب دونوں سے انہوں نے تلاوت سنی تو میرے جو بھائی ہیں ان سے کئی مرتبہ قرآن پاک میں یعنی یسین شریف پڑھنے میں بھول ہوئی اور میں بغیر کسی خطا کے سنا گیا کیونکہ روز کی روٹین تھی ،پڑھ دیا تو وہ جا کر کے ہمارے والد صاحب سے یہ ریکویسٹ کرنے لگے میرے بڑے بھائی کہ ان کی جگہ ان کو لے کے جاتے ہیں۔یہ اچانک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ تیاریاں ان کی تھی لیکن اچانک جو ہے ان کی سفارش پر میرے نام کا قرعہ نکل آیا۔اور قرعہ کی بات آئی ہے تو اب حالات ایسے ہیں میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا قرعہ فال میرے نام کا اکثر نکلا ۔ پھر جو ہے اچانک یہ معاملہ ہوا اس کے بعد پھر آٹھ دن کے اندر طے کیا انہوں نے اور اپنے ساتھ مجھے جامعہ اشرفیہ مبارک پور لے کے چلے گئے ۔ اور پھر وہاں میں نے حفظ کی تعلیم حاصل کی ۔اور بیچ میں طلبہ کی نصیحت کے لئے کہتا ہوں ۔ پہلی مرتبہ دور گیا تھا تقریباد ہزار کلومیٹر کا سفر ہوتا ہے ہمارے گھر سے یہ اشرفیہ مبارک پور کا سفر بہت لمبا سفر ہے چند دنوں کے بعد گھبراہٹ والدین کی یاد اور ساری چیزیں واپس آئے تو پھر سکول کے ساتھیوں نے اور ٹیچرز نے پھر وہ دماغ میں ڈالنی شروع کی چھ مہینے کی چھٹی کے بعد آیا تھا کہ تم تو ڈاکٹر بننے والے تھے ،یہ اچانک کہاں چلے گئے مدرسے میں۔ تو میں تھوڑا سا کبیدہ خاطر ہو کر اپنے والد صاحب کے پاس آ کر یہ بات عرض کیا تو ان کا ایک جملہ آج بھی مجھے یاد ہے انہوں نے کہا کہ بیٹا اس راستے پر چل پڑو اللہ تبارک و تعالی تم کو ایسا روحانی ڈاکٹر بنائے گا کہ دنیا کے ڈاکٹر بھی تمہارے سامنے ہیچ ہوں گے۔ اور اللہ کا فضل و کرم احسان ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اس راستے میں ہم نے دیکھا ہے سارے لوگوں کو، پھر سارے بڑے بڑے ڈاکٹروں کو بھی ہمارے پاس آتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت وہ ضرور بتائیے گا جب آپ پہلی مرتبہ بریلی شریف گئے تھے وہ میں چاہوں گا وہ منظر کیا تھا کوئی خاص واقعہ بھی ہوا تھا اس موقع پر جی میں نے ایک تقریر میں اس کو بیان بھی کیا تھا مسئلہ یہ تھا کہ میں حفظ سے فراغت حاصل کیا جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے اور ممبئی میں میں جامعہ غوثیہ سے عالمیت کیا فضیلت کیا اس کے بعد پھر بریلی شریف جانے کا میرا بہت بڑا خواب تھا کہ حضور سرکار سیدی تاج الشریعہ رحمت اللہ تعالی علیہ باحیات تھے اور وہ پڑھاتے تھے۔ اور یہی چیز میرے لیے بہت زیادہ تھی کہ حضرت کی بارگاہ میں جانا ہے اور شرف تلمذ حاصل کرنا ہے ، وہاں ٹیسٹ ہوتے تھے شوال میں، میں دبئی تراویح پڑھا کر کے آیا تھا اس سال۔ اور بہت سارا سامان میرے پاس تھا ،کپڑے تھے، اور میں اپنی اس وقت جو کتابیں لکھا یا ترجمے کیا ہوا تھا وہ سب محفوظ تھے لے کر کے آرہا تھاجب بریلی شریف ہماری ٹرین پہنچ رہی تھی رات کے چار بجے کے قریب اور ہمارے استاد اور میرے بڑے بھائی صاحب نے یہ نصیحت کیا تھا کہ سنسان علاقے میں اسٹیشن ہے وہاں باہر جو ہے اندھیرا چھایا رہتا ہے تھوڑی دیر انتظار کر کے پھر اجالا ہونے کے بعد جانا، ان کی اس نصیحت پر میں اتر کر کے اسٹیشن پر انتظار کرنے لگا ،ہلکی سی آنکھ لگی اور کوئی چور آیا اور میرا بیگ ہی لے کر چلا گیا ،میں نے بہت کوشش کی آکر نہیں ملا وہیں سے واپس آنے کا ارادہ کرلیا پھر دل میں خیال آیا کی اب آہی گیا ہوں تو کم از کم بارگاہ اعلی حضرت عظیم البرکت میں حاضری دے دوںتعلیم کا بعد میں دیکھا جائے گا تو پھر میں یہ سوچ کر کے آیا اور مزار اعلی حضرت پر جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کر کے میں گیا سناٹا تھا چند لوگ تھے لیکن وہاں ایک قاری صاحب کھڑے ہو کر کے کونے میں یہ پڑھ رہے تھے اعلی حضرت کی ہی نعت پاک سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے وہ پڑھتے جا رہے تھے اور میں فاتحہ پڑھ رہا تھا بعد میں پھر دل میں احساس ہونے لگا کہیں یہ میرے ہی لیے تو نہیں پڑھ رہیں کیونکہ اشعار آپ پڑھیں گےٓ اپ کو تو پتہ ہے ۔تو غفلت تو تھی ہی میری اور اوپر سے یہ شعر کہ سونے والو جاگتے رہیے چوروں کی رکھوا لی ہے صادق آرہا تھاپہ شعرپوار تو پھر میں نے سوچا کہ نہیں سرکار اعلی حضرت علیہ رحمۃ والرضوان کی بارگاہ میں مجھے رہنا چاہیے پھر اس کے بعد انہی کپڑوں کے ساتھ گیا جامعۃ الرضا میں ٹیسٹ چل رہے تھے جیسے ہی میں جا کر کے ٹیسٹ دیا اللہ کا فضل و کرم احسان ہے کہ جب رزلٹ آیا تو سب سے پہلا نمبر میرا ہی تھا( اچھا وہاں بھی اول )اب یہ تو ٹیسٹ کا معاملہ تھا۔ اس کے بعد پھر تعلیمی سلسلہ جو شروع ہوا چند دن نہیں گزرے تھے کہ سرکار تاج الشریعہ رحمت اللہ تعالی علیہ نے اپنے خاص شاگردوں میں ایسا شامل فرما لیا کہ جب بھی عبارت پڑھنی ہوتی حضرت کے پاس تو میں ہی پڑھتا اور روزانہ حضرت پڑھاتے بھی تھے اور اس کے بعد پھر پوچھتے بھی تھے پڑھانے کے بعد کہ آج سارے طلبہ کو سمجھ میں ٓایا نہیں یا کچھ اشکالات ہیں ۔ تو اس قدر حضرت سے قرب بڑھ گیا کہ الحمدللہ حضرت کی بہت عنایتیں ہیں اور پھر میرے مصر جانے میں بھی حضرت کی ہی تحریک تھی سبحان اللہ سبحان اللہ جامعہ ازہر بھی حضرت نے بھیجا بلکہ یوں سمجھ لیں جامعۃ الرضا سے سب سے پہلی بیچ جو ازہر گئی ہےالحمد اللہ اس میں میں تنہا تھا اور بڑی عزتوں کے ساتھ حضرت نے روانہ کیا تھا میرے سر پرعمامہ باندھا تھا مجھے عطر کی ایک شیشی عطا فرمائی اور ایک دستی دی تھی وہ ابھی رکھی ہوئی ہے اور حضرت نے ایک شعر پڑھ کر کے کہا تھا میں جب مصر گیا تھا جامعہ ازہر تو وہاں حالات کیا تھے اور اب تم جا رہے ہو ۔فتح الباری میں نے خریدا تھا بخاری شریف کی شرح حضرت نے فرمایا اس میں سب سے پہلے مجھے ایک شعر ملا تھا کہ سب سے بڑا زہر دنیا میں یہ دوستی ہے ہ اور آدمی جتنی دوستی کم کرے گا اتنے امان میں رہے گا ۔تو آپ کی یہ نصیحت تھی کہ وہاں جانے کے بعد اس چیز پر آپ بھی عمل کرو یہ ہے ہمارا بریلی سے ازہر تک کا سفر۔ حضرت مجھے تو بہت لطف آیا اپ کی یہ باتیں سن کر اور یقینا یہ جرنی جتنا سادگی سے آپ بیان کر گئے نا حضرت جی اتنی آسان نہیں تھی جتنا ہمیں سننے میں لگی ہے ۔یقینا بہت سارے نشیب و فراز اس میں آئے ہوں گے۔ ایک بات میں یہاں ضرور کہنا چاہوں گا کہ دیکھیں جامعۃ الرضا میں پڑھنے سے پہلے ایک آزمائشی مرحلہ ان کے پاس آیا ان کے اوپر مفتی صاحب کے اوپر۔ مگر دیکھیں کہ عام طور پر ایسا کوئی آزمائشی مرحلہ آتا ہے نا تو ہم واقعتا بیک ہو جاتے ہیں کیوں کیونکہ شیطان پورا زور لگاتا ہے کہ بھئی اگر یہ پڑ ھ گیا اور اس انداز سے پڑھا گیا کہ جس انداز سے اب یہ پڑھنے جا رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ میرے لیے بڑا خطرناک ہو وہ شیطان تو ظاہر بات ہے کھلا دشمن ہے لیکن آپ یہ دیکھیں کہ الحمدللہ حضرت استقامت پر قائم رہے اور حضرت پر کرم ہے بزرگوں کا ۔ بزرگوں نے ان پر کرم فرمایا اور نگاہ فرمائی اور ماشاءاللہ اس بات پر مائل ہو گئے کہ نہیں اب میں نے پڑھنا ہے اور ٹیسٹ دیا تو اول پوزیشن آئی تو یہاں سے جو ہمارے طلبہ احباب ہیں وہ یہ غور کریں کہ بھائی اگر اس طرح کا کوئی مرحلہ ا ٓجائے تو ہم نے دین کی پڑھائی سے، علم دین کے حصول سے بیک نہیں ہونا ہم نے حالات کا سامنا کرنا ہے اور انشاءاللہ پڑھ کے رہنا ہے اللہ تعالی ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے۔ دوسری قسط ان شاء اللہ جلد آئے گی ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9