صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #851 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا کیسا ہے؟ از مفتی نظام الدین رضوی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,943

سوال (Question):

تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا کیسا ہے؟ از مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا کیسا ہے؟

سوال : ہمارے یہاں کی جامع مسجد دو منزلہ ہے پھر بھی جمعہ کی نماز میں مسجد تنگ پڑ جاتی ہے اس پر مزید یہ تعزیہ دار لوگ تعزیہ کا ڈھانچہ محرم گزر جانے کے بعد مسجد کی دوسری منزل پر رکھ دیتے ہیں اور وہ پورے سال اسی جگہ رکھا رہتا ہے، وہ ڈھانچہ بھی دو چار نمازیوں کی جگہ گھیرتا ہے تو ایسی تنگی کی صورت میں اس ڈھانچے کو مسجد میں رکھنا جائز ہے یا نہیں اور اگر اس کی وجہ سے تنگی نہ بھی ہو تو کیا حکم ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا حرام و گناہ ہے، چاہے نیچے کی منزل میں رکھیں یا اوپر کی اور مسجد خواہ کشادہ ہو یا تنگ، کہ مسجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہے مسجد تو عبادت، تلاوت اور ذکر الہی کے لیے بنائی گئی ہے اس میں یہ چیزیں رکھنا منع ہے حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” انما ھی لذکر اللہ والصلوۃ وتلاوۃ القرآن ” مساجد تو ذکر الہی اور نماز و تلاوت قرآن کے لیے ہیں ۔ ( صحیح مسلم شریف صفحہ 129 جلد 1 باب وجوب غسل البول) پھر شرعاً موجودہ تعزیہ داری ناجائز ہے ، تو مسجد کو اس کے کسی غرض کے لئے استعمال کرنا بھی ناجائز ہوگا، مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجد کو تعزیہ کے ڈھانچے سے خالی کریں اور نمازیوں کو وہاں نماز پڑھنے کا موقع دیں اور فورا ہی اس پر عمل درآمد ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh