Fatwa #2491
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃابراہیم آیت ۲۴تا۲۷۔ اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًاکَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیْ السَّمَآء
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,282
سوال (Question):
تفسیرسورۃابراہیم آیت ۲۴تا۲۷۔ اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًاکَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیْ السَّمَآء
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شجرطیب اورشجرخبیث کیاہے ؟
{اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًاکَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیْ السَّمَآء ِ }(۲۴){تُؤْتِیْٓ اُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا وَ یَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ }(۲۵){وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَہَا مِنْ قَرَارٍ}(۲۶){یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ وَ یُضِلُّ اللہُ الظّٰلِمِیْنَ وَ یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَآء ُ}(۲۷) ترجمہ کنزالایمان:کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں۔ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں۔ اور گندی بات کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں۔ اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہے کرے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب کریمﷺ! کیا آپ ﷺنے نہ دیکھا کہ اللہ تعالی نے کلمہ پاک کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت ہو جس کی جڑقائم ہو اور اس کی شاخیں آسمان میںہوں۔ ہر وقت اپنے رب تعالی کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اللہ تعالی لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔ اور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں۔ اللہ تعالی ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت رکھتا ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ تعالی جو چاہتا ہے اسی طرح کرتا ہے۔شجرطیب کی مثال
حَدَّثَنِی عُبَیْدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِی بِشَجَرَۃٍ تُشْبِہُ أَوْ کَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا یَتَحَاتُّ وَرَقُہَا وَلَا وَلَا وَلَا تُؤْتِی أُکْلَہَا کُلَّ حِینٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِی نَفْسِی أَنَّہَا النَّخْلَۃُ وَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ لَا یَتَکَلَّمَانِ فَکَرِہْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ فَلَمَّا لَمْ یَقُولُوا شَیْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہِیَ النَّخْلَۃُ فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ یَا أَبَتَاہُ وَاللَّہِ لَقَدْ کَانَ وَقَعَ فِی نَفْسِی أَنَّہَا النَّخْلَۃُ فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَکَلَّمَ قَالَ لَمْ أَرَکُمْ تَکَلَّمُونَ فَکَرِہْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَیْئًا قَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَکُونَ قُلْتَہَا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:ہم ایک دفعہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں تھے کہ آپ ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا:مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو بندہ مسلم سے مشابہ ہے یا مرد مسلم کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور نہ یہ ہوتا ہے، نہ یہ ہوتا ہے اور نہ یہ ہوتا ہے۔ وہ اپنا پھل ہر موسم میں دیتا ہے۔حضرت سیدناعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:میرے دل میں خیال آیا وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے دیکھا کہ حضرت سیدناابوبکر و عمررضی اللہ عنہما جیسے بزرگ خاموش بیٹھے ہیں تو میں نے بھی جواب دینا مناسب نہ خیال کیا۔ جب انہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:وہ کھجور کا درخت ہے۔جب ہم اس مجلس سے اٹھ آئے تو میں نے حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے کہا:ابا جان، اللہ تعالی کی قسم!میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے فرمایا:تمہیں جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ حضرت سیدناعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:میں نے دیکھا کہ آپ حضرات خاموش ہیں تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ آگے بڑھ کر کچھ بات کروں۔ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگر تم کہہ دیتے تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے زیادہ خوشی ہوتی۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۷۹)اکابر کی موجودگی میں ہم کوکلام کرنے سے منع کیاگیاہے
وَسُئِلَ ابْنُ المُبَارَکِ بِحُضُوْرِ سُفْیَانَ بنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَسْأَلَۃٍ، فَقَالَ:إِنَّا نُہِیْنَا أَنْ نَتَکَلَّمَ عِنْد أَکَابِرِنَا. ترجمہ :حضرت محدث حافظ سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں حضرت سیدناامام عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا :ہمیں اپنے اکابر کی موجودگی میں کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (سیر أعلام النبلاء :شمس الدین أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی (۷:۳۹۲)شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ
یہاں حق و باطل، ایمان وکفر او رطیب و خبیث کو ایک نہایت عمیق اور پر معنی مثال کے ذریعے مجسم کرکے بیان کیا گیا ہے ۔ یہ آیات اس سلسلے کی گزشتہ آیات کی بحث کو مکمل کرتی ہیں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے :کیا تو نے دیکھا نہیں کہ خد انے کس طرح پاکیزہ کلام کے لئے مثال دی ہے اور اسے طیب و پاکیزہ در خت سے تشبیہ دی ہے {ائَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ } پھر اس شجرہ طیبہ یعنی پاکیزہ و با بر کت درخت کی خصوصیات بیان کی گئی ہے اور مختصر عبارت میں ا س کے تمام پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم قرآن کریم میں موجود اس شجرہ کی خصوصیات کا مطالعہ کریں ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ کلمہ طیبہ سے مراد کیا ہے ۔ بعض مفسرین نے اس کو کلمہ ء توحید او رجملہ لاالہ الا اللہ سے تفسیر کی ہے جب کہ بعض دوسرے اسے اوامر و فرامین الٰہی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔بعض اسے ایمان سمجھتے ہیں کہ جو لاالہ الااللہ کامعنی و مفہوم ہے ۔ بعض دوسروں نے اس کی موئمن سے تفسیر کی ہے اور بعض نے اس کا مفہوم اصلاحی و تربیتی روش او رلائحہ عمل کے بیان کیا ہے ۔ لیکن کلمہء طیبہ کے مفہوم و معنی کی وسعت کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس میں یہ تمام تفاسیر شامل ہیں کیونکہ لفظ کلمہ کے وسیع معنی میں تمام موجودات شامل ہیں ۔ اسی بناء پر مخلوقات کو کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے ۔ نیز طیب ہر قسم کی پاک و پاکیزہ چیز کو کہتے ہیں ۔ نتیجہء کلام یہ ہے کہ اس مثال کے مفہوم میں ہر پاک ،سنت ، حکم ،روش ، عمل ، انسان شامل ہے ۔ مختصر یہ کہ ہر پاک و با برکت موجود کلمہ طیبہ ہے اور یہ سب ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہیں کہ جس کی یہ خصوصیات ہیں : (۱)… وہ موجودہ کہ جو نشو و نما کا حامل ہے نہ کہ بے روح ، جامد اور بے حرکت ہے ۔ بڑھنے اور پھلنے پھولنے والاہے ۔ دوسروں کی اور اپنی پرورش و اصلاح کرنے والا ہے ۔ لفظ شجرہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے ۔ (۲)…یہ درخت پاک و طیب ہے لیکن کس لحاظ سے ، اس سلسلے میں کسی خاص پہلو کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔ لہٰذا ا س کامفہوم یہ ہے کہ یہ ہر پہلو سے پاکیزہ ہے ۔ اس کا پھل پاکیزہ ہے ، اس کے شگوفے اور پھول پاکیزہ ہیں ، اس کا سایہ پاکیزہ ہے اور اس سے خارج ہونے والی ہوا پاکیزہ ہے ۔ (۳)…یہ درخت ایک منظم نظام کا حامل ہے ۔ اس کی جڑ اور اس کی شاخوں میں سے ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے ۔اصولی طور پر اس میں جڑ اور شاخ کاوجود اس میں موجود منظم نظام کی دلیل ہے ۔ (۴)… اس کی جڑ اور ریشہ ثابت ومستحکم ہے ۔ اس طرح سے کہ طوفان اور تند و تیز آندھیاں اسے اس کی جگہ سے اکھاڑ نہیں سکتیں ۔ اس میں ایسی توانائی ہے کہ اس کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی شاخیں سورج کی کرنوں کے نیچے اور آزاد ہوا میںمحفوظ ہیں کیونکہ جو شاخ جتنی اونچی ہو اسے اتنی ہی قوی تر جڑ کی ضرورت ہے {ائَصْلُھَا ثَابِتٌ } (۵) اس شجرہ کی شاخیں کسی پست اور محدود ماحول میں نہیں ہیں بلکہ وہ آسمان کی بلندیوں میں ہیں ۔ یہ شاخیں ہو اکا سینہ چیرکر بلندی پر جاپہنچیں ہیں ۔ جی ہاں اس کی شاخیں آسمان میں ہیں{وَفَرْعُھَا فِی السَّمَاء ِ }۔ واضح ہے کہ شاخیں جس قدر بلند ہو ںگی ، زمین کے گرد وغبار سے اتنی ہی دور ہو ں گی اور ان کے پھل اتنے ہی زیادہ پاکیزہ ہوں گے اور ایسی شاخیں سورج کی کرنوں اور پاکیزہ ہوا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گی اور ان کا اثر طیب پھلوں پر بہتر ہو گا ۔ (۶)… یہ شجرہ طیبہ پھلوں سے لدا ہوا ہے ۔ یہ ان درختوں کی مانند نہیں کہ جو بے ثمر ہوتے ہیں یہ درخت اپنا پھل دیتا ہے {تُؤْتِی ائُکُلَھَا } (۷)… اور ایہ ایسا درخت ہے جو ایک دو فصلوں میں پھل نہیں دیتا بلکہ ہر موسم میں اس پر پھل لدے ہوتے ہیں تو جب بھی اس کی جانب ہاتھ بڑھا ئے محروم نہیں لوٹے گا {کُلَّ حِینٍ } (۸)… اس کا یہ پھل کسی قانون کے بغیر نہیں بلکہ قوانین فطرت کے مطابق سنتِ الہٰی کے تحت اور اپنے پر وردگار کے اذن سے ہے اور سب کے لئے عام ہے {بِاِذْنِ رَبِّھَا }۔ اس شجرہ طیبہ کی یہ خصوصیات آپ کے سامنے ہیں اب غور کیجئے کہ یہ بر کات کس درخت کو حاصل ہیں ۔ یقینا یہ خوبیاں او ربر کتیں کلمہء توحید اور اس کے معنی میں موجود ہیں ، ایک موحد اور صاحب معرفت انسان کو حاصل ہیں اور ایک اصلاحی اور پاکیزہ لائحہء عمل میں موجود ہیں او ریہ سب مفاہیم محکم و ثابت جڑوں کے حامل ہیں ، سب میں ایسی فراواں شاخیں ہیں جو آسمان سے باتیں کرنے والی ہیں اورمادی آلودگیوں او ر کثافتوں سے دور ہیں ۔ سب ثمر آور ، نور افشاں اور فیض بخش ہیں ۔ جو شخص جس وقت بھی ان کے پا س آئے اور ہاتھ ان کے شاخسارِ وجود کی طرف پھیلائے ان کے لذیزو معطر اور قوت بخش پھلوں سے اپنا دامن ِ مراد بھر لے گا ۔ حوادث کی تیز آندھیاں اور سخت طوفان انہیں ان کی جگہ سے ہٹا نہیں سکتے اور ان کا افق فکر چھوٹی سی دنیا میں محدود نہیں ہے وہ زمان و مکان کے حجاب چاک کرکے ابدیت کی طرف آگے بڑھتے ہیں ۔ ان کا پروگرام ہوا و ہوس کے تابع نہیں بلکہ سب کے سب اذن پر ور دگار سے ا س کے فرمان کے مطابق آگے بڑھتے اور حرکت کرتے ہیں او ریہی ان کے ثمر بخش ہونے کا سرچشمہ ہے ۔ پر وردگار کے یہ کلمات ِ طیبہ عظیم و با ایمان جوانمردوں کی زندگی کے لئے برکت کا باعث ہے او ران کی موت ہے او ران کی موت حرکت کا سبب ہے ا، ان کے آثار ، ان کے کلمات ، ان کی باتیں ، ان کے شاگرد ، ان کی کتابیں ،ان کی پرافتخار تاریخ حتی کہ ان کی خاموش قبریں سب کی سب الہام بخش ، سر چشمہ ہدایت ، انسان ساز اور تربیت کنندہ ہیں ۔ جی ہاں !اللہ تعالی اس طرح سے لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید وہ سمجھ جائیں {وَیَضْرِبُ اللہُ الْائَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُونَ }۔ یہاں مفسرین کے درمیان ایک سوال پیدا ہوا او روہ یہ ہے کہ کوئی درخت مذکورہ بالاصفات کا وجودِخارجی رکھتا ہے کہ جس سے کلمہء طیبہ کو تشبیہ دی گئی ہے ایسا درخت موجود ہے او روہ کھجور کا درخت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجبوراً کل حین کی تفسیر چھ ماہ ، بیان کی ہے ۔ لیکن کسی وجہ سے بھی ضروری نہیں کہ ہم اس قسم کے درخت کے وجود پر اصرار کریں بلکہ مختلف زبانوں میں ایسی بہت تشبیہیں موجود ہیں جو بالکل وجودِ خاجی نہیں رکھتیں مثلاًہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم ایسے آفتاب کی مانند ہے جو کبھی غروب نہیں ہوتا (حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آفتاب ہمیشہ غروب ہوتاہے )یا کہاجاتا ہے کہ میرا ہجر ایسی رات کی طرح ہے جو ختم ہونے کو نہیں آتی(حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر شب ختم ہو جاتی ہے )۔ بہر حال تشبیہ کا مقصد چونکہ حقائق کو مجسم کر نا ہے اور عقلی مسائل کو محسوس کے قالب میں ڈھالنا ہے لہٰذا ایسی تشبیہات میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ پوری طرح دلنشیں ،موثر اور جاذب ہیں ۔ اس کے باوجود دنیا میں ایسے درخت موجود ہیں جن کی شاخوں پر سے سارا سال پھل ختم نہیں ہوتے یہاں تک کہ ہم نے خودگرم علاقوں میں بعض ایسے درخت دیکھے ہیں کہ ان پر پھل بھی موجود تھا اور تازہ پھول بھی اُگے ہوئے تھے اور نئے پھل کے آثار بھی موجود تھے جب کہ موسم سر دیوں کاتھا ۔ مسائل سمجھنے اور افہام و تفہیم کا بہترین طریقہ چونکہ موازنہ کرنا ہے لہٰذا شجرہ طیبہ کے ذکر کے بعد بلا فاصلہ اگلی آیت میں فرمایا گیاہے :رہی مثال کلمہء خبیثہ کی ، تو وہ خبیث ، ناپاک اور بے ریشہ درخت کی مانند ہے کہ جو زمین سے اکھڑچکا ہے اور طوفان آتے ہیں تو روزانہ کسی اور کونے میں جاگر تا ہے اور اسے قرار و ثبات میسر نہیں {وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیثَۃٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْائَرْضِ مَا لَھَا مِنْ قَرَارٍ }۔ کلمہء خبیثہ وہی کفر و شرک کا کلمہ ہے ، گھٹیا ، قبیح او ربری گفتار ہے ، گمراہ کن اور غلط قانون ہے او رناپاک و آلودہ انسان ہیں خلاصہ یہ کہ ہرخبیث اورناپاک چیز کلمہ خبیثہ ہے ۔ واضح ہے کہ ہر ناکارہ او رقبیح و منحوس درخت کہ جس کی جڑیں اکھڑ گئی ہوں اس میں نہ نشو و نما ہوگی ، نہ ترقی و تکامل ، نہ پھل پھول ، نہ سایہ و منظراو رنہ ثبات و قراردہ تو ایک لکڑی جو سوائے جلانے اور آگ لگانے کے کسی کام کی نہیں بلکہ راستے کی رکاوٹ ہے ۔ ایسا درخت کبھی گزند پہنچا تا اور مجروح کرتا ہے اورلوگوں کے لئے تکلیف و آزار کا باعث بنتا ہے ۔ یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ شجرہ طیبہ کی تعریف میں قرآن تفصیل سے بات کرتا ہے لیکن جب شجرہ خبیثہ کے ذکر کا موقع آتا ہے ۔ تو ایک مختصر سا جملہ کہہ کر گزر جاتا ہے ۔ صرف اتنا کہتا ہے ۔ {اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار} یہ زمین سے اکھڑا ہوا ہے اور اسے ثبات و قرار نہیں ہے ۔کیونکہ جس وقت یہ ثابت ہو گیا کہ یہ درخت جڑ کے بغیر ہے تو پھر شاخ و بر گ اور پھل پھول کے ذکر کی ضرورت نہیں رہتی ۔ علاوہ ازیں یہ ایک طرح کی لطافت ِ بیان ہے کہ انسان محبوب کا ذکر کرتا ہے تو اس کی تمام خصوصیات بیان کرتاہے لیکن جب مبغوض کے ذکر کا موقع آتا ہے تو بس ایک نفرت انگیز جملہ کہہ کے آگے بڑھ جاتا ہے ۔ یہاں پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مفسرین اس درخت کے متعلق جوکہ مشبہ بہ کے طور پر آیا ہے کے بارے میں سوال اٹھا تے ہیں کہ یہ کونسا درخت ہے ۔ بعض نے اسے حنظل سمجھا ہے کہ جس کا پھل بہت تلخ اور برا ہوتا ہے بعض نے اسے کشوت (بروزن سقوط)کہا ہے ۔ یہ ایک پیچیدہ ساپودا ہے ، جو بیابانوں میں خاردار بوٹیوں سے لپٹ کر اوپر چلا جاتا ہے ۔ نہ ا س کی جڑ ہوتی ہے نہ پتے (توجہ رہے کہ شجرلغت میں درخت کو بھی کہا جاتا ہے اور پودے کو بھی )۔ لیکن جیسا کہ ہم نے شجرہ طیبہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر تشبیہ میں مشبہ بہ ان تمام صفات کے ساتھ وجود خارجی رکھتا ہو بلکہ یہاں مقصد کلمہء شرک ، انحرافی طرز عمل اور خبیث لوگوں کے حقیقی چہرہ کو مجسم طور پر پیش کرنا ہے اور بتانا ہے کہ وہ ان درختوں کی طرح ہیں جن کی ہر چیز خبیث اور ناپاک ہے اور ان کا ثمر سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ راستے میں مزاحم ہوتے ہیں اور درد سر کا باعث بنتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ایسے ناپاک درخت کم نہیں کہ جو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گئے ہوں اور بیابان میں طوفان اور تیز آندھی کی زد پر ہوں ۔ مذکورہ بالاآیت میں دو ناطق مثالوں کے ذریعے ایمان و کفر ، مومن و کافر اور کلی طور پر ہرپاک و ناپاک وجود کو مجسم شکل میں ذکر کیا گیا ہے لہٰذ آخری زیر نظر آیت میں نتیجہ کار اور ان کا انجام آخر ذکر کیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے :ایمان لانے والوں کو خدا ان کی ثابت و پائیدار گفتار و اعتقاد کے سبب ثابت قدم رکھتا ہے ، اس جہاں میں بھی اور اس جہاں میں بھی {یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ } ۔ کیونکہ ا ن کا ایمان سطحی اور متزلزل نہیں ہوتا نہ ان کی شخصیت کھوکھلی اور متلون ہوتی ہے بلکہ وہ ایک شجرہ طیبہ ہیں کہ جس کی جڑیں ثابت و پائیدارہیں اور جس کی شاخیں آسمان کی طرح بلندہیں اور چونکہ کوئی شخص لطف ِ خداوندی سے بے نیاز نہیں ، دوسرے لفظوں میں ہر نعمت بالآخر اس کی ذات ِ پاک کی طرف لوٹتی ہے لہٰذا یہ سچے ثابت قدم مومنین لطفِ خد ا تعالی کے بھروسہ پر ہر حادثے کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح استقامت دکھاتے ہیں ۔ لغزش کہ جس سے زندگی میں بچا نہیں جاسکتا ان کے راستے میں آتی ہے تو خدا تعالی ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ شیاطین ہر طرف سے انہیں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس دنیا کی زرق برق چیزوں کے ذریعے انہیں پھسلانے کی سعی کرتے ہیں مگر ان کااللہ تعالی انہیں محفوظ رکھتا ہے ۔ جہنمی طاقتیں اور سنگدل ظالم انہیں طرح طرح کی دھمکیوں کے ذریعے جھکانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انہیں اثبات ِ قدم عطا کرتا ہے کیونکہ ان کی جڑ اور بنیاد ثابت و مستحکم ہوتی ہے ۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ یہ خدائی حفاظت وثبا ت ان کی ساری زندگی پر محیط ہے ۔ اس جہاں کی زندگی پر بھی اور اس جہاں کی زندگی پر بھی ۔ یہاں وہ ایمان و پاکیزگی پر باقی رہتے ہیں اور ان کا دامن آلودگیوں کے عار و ننگ سے پاک ہوتا ہے اور وہاں وہ خدا تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے ۔ پھر ان کے مقابل افراد کے بارے میں فرمایا گیاہے :اوراللہ تعالی ظالموں کوگمراہ کرتا ہے اور اللہ تعالی جو کچھ چاہتا ہے انجام دیتا ہے {وَیُضِلُّ اللہُ الظَّالِمِینَ وَیَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَاء ُ}۔ثابت قدمی کی بہت زبردست حکایت
وَأخرج إِبْنِ الْجَوْزِیّ فِی کتاب عُیُون الحکایات بِسَنَدِہِ عَن أبی عَلیّ الضَّرِیر وَہُوَ أول من سکن طرسوس حِین بناہا أَبُو مُسلم قَالَ إِن ثَلَاثَۃ إخْوَۃ من الشَّام کَانُوا یغزون وَکَانُوا فُرْسَانًا شجعانا فأسرہم الرّوم مرّۃ فَقَالَ لَہُم الْملک إِنِّی أجعَل فِیکُم الْملک وأزوجکم بَنَاتِی وتدخلون فِی النَّصْرَانِیَّۃ فَأَبَوا وَقَالُوا یَا محمداہ فَأمر الْملک بِثَلَاثَۃ قدور فصب فِیہَا الزَّیْت ثمَّ أوقد تحتہَا ثَلَاثَۃ أَیَّام یعرضون فِی کل یَوْم علی تِلْکَ الْقُدُور وَیدعونَ إِلَی دین النَّصْرَانِیَّۃ فیأبون فَألْقی الْأَکْبَر فِی الْقدر ثمَّ الثَّانِی ثمَّ أدنی الْأَصْغَر فَجعل یفتنہ عَن دینہ بِکُل أَمر فَقَامَ إِلَیْہِ علج فَقَالَ أَیہَا الْملک أَنا أفتنہ عَن دینہ قَالَ بِمَاذَا قَالَ قد علمت أَن الْعَرَب أسْرع شَیْء إِلَی النِّسَاء وَلَیْسَ فِی الرّوم أجمل من إبنتی فادفعہ إِلَیّ حَتَّی أخلیہ مَعہَا فَإِنَّہَا ستفتنہ فَضرب لَہُ أَََجَلًا أَرْبَعِینَ یَوْمًا وَدفعہ إِلَیْہِ فجَاء بِہِ فَأدْخلہُ مَعَ إبنتہ وأخبرہا بِالْأَمر فَقَالَت لَہُ دَعہ فقد کفیتک أمرہ فَأَقَامَ مَعہَا نَہَارہ صَائِم ولیلہ قَائِم حَتَّی مر أَکثر الْأَجَل فَقَالَ العلج لابنتہ مَا صنعت قَالَت مَا صنعت شَیْئا ہَذَا رجل فقد أَخَوَیْہِ فِی ہَذِہ الْبَلدۃ فَأَخَاف أَن یکون إمتناعہ من أجلہما کلما رأی آثارہما وَلَکِن إستزد الْملک فِی الْأَجَل وانقلنی وإیاہ إِلَی بلد غیر ہَذَا فزادہ أَیَّامًا فأخرجہما إِلَی قَرْیَۃ أُخْرَی فَمَکثَ علی ذَلِک أَیَّامًا صَائِم النَّہَار قَائِم اللَّیْل حَتَّی إِذا بَقِی من الْأَجَل أَیَّام قَالَت لَہُ الْجَارِیَۃ لَیْلَۃ یَا ہَذَا إِنِّی أَرَاک تقدس رَبًّاعَظِیما وَإِنِّی قد دخلت مَعَک فِی دینک وَترکت دین آبَائِی قَالَ لَہَا فَکیف الْحِیلَۃ فِی الْہَرَب قَالَت أَنا أحتال لَک وجاء تہ بِدَابَّۃ فرکباہا فَکَانَا یسیران بِاللَّیْلِ ویکمنان بِالنَّہَارِ فَبَیْنَمَا ہما یسیران لَیْلَۃ إِذْ سمعا وَقع خیل فَإِذا ہُوَ بأخویہ ومعہما مَلَائِکَۃ رسل إِلَیْہِ فَسلم عَلَیْہِمَا وسألہما عَن حَالہمَا فَقَالَا مَا کَانَت إِلَّا الغطسۃ الَّتِی رَأَیْت حَتَّی خرجنَا فِی الفردوس وَإِن اللہ أرسلنَا إِلَیْک لنشہد تزویجک بِہَذِہِ الفتاۃ فَزَوجُوہُ إِیَّاہَا وَرَجَعُوا وَخرج إِلَی بِلَاد الشَّام فَأَقَامَ مَعہَا وَکَانَا مشہورین بذلک معروفین بِالشَّام فِی الزَّمن الأول وَقد قَالَ فیہمَا بعض الشُّعَرَاء أبیاتا مِنْہَا۔ (سیعطی الصَّادِقین بِفضل صدق … نجاۃ فِی الْحَیَاۃ وَفِی الْمَمَات ترجمہ :امام ابومسلم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ شام کے رہنے والے تین بھائی جہاد کرتے تھے اورتینوں بڑے بہادرتھے ،وہ تینوںسگے بھائی روم کے عیسائیوں سے جہاد کی غرض سے جانے والے لشکر میں شامل ہوئے، دورانِ جہاد انہیں گرفتار کر کے روم کے بادشاہ کے دربار میں لے جایا گیا تو اس نے منصب و مرتبے اور عیش و عشرت کا لالچ دے کر انہیں نصرانی ہو جانے کی دعوت دی۔ بادشاہ کی دعوت سن کر انہوں نے جواب دیا ہم اپنے دین کوکبھی بھی نہیں چھوڑسکتے، اس دین کی خاطر سر کٹانا ہمارے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔ تم ہمارے ساتھ جو چاہے کرو، ان شاء اللہ تعالی ہمارے پائے اِستقلال میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آئے گا۔ یہ کہہ کر تینوں بھائی بیک وقت شاہ ِروم کے دربار میں کھڑے ہوکر حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اِستغاثہ کرتے ہوئے یا محمداہ !یا محمداہ !یا محمداہﷺکی صدائیں بلند کرنے لگے ۔ جب بادشاہ نے یہ دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا اور اس نے انہیں دردناک سزا دینے کی دھمکی دے کر دینِ اسلام چھوڑنے کا کہا، لیکن ان بھائیوں نے اس کی دھمکی کی پرواہ نہ کی تو بادشاہ نے اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ تین بڑی بڑی دیگوں میں تیل ڈال کر ان کے نیچے آگ جلا دو۔ جب تیل خوب گرم ہوجائے اورکھولنے لگے تو مجھے اطلاع کردینا ۔ جلاد حکم پاتے ہی دوڑے اور تین دیگوں میں تیل ڈال کر ان کے نیچے آگ لگادی۔ مسلسل تین دن تک وہ دیگیں آگ پر رکھی رہیں اور ان مجاہدین کو روزانہ نصرانیت کی دعوت دی جاتی اور لالچ دیا جاتا رہا لیکن ان کے قدم بالکل نہ ڈگمگائے ۔ چوتھے دن بادشاہ نے پھر انہیں لالچ اور دھمکی دی لیکن وہ اپنے مذموم ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا تو ا س نے بڑے بھائی کو جلتے ہوئے تیل میں ڈلوا دیا، پھر اس سے چھوٹے بھائی کو بھی نصرانیت قبول نہ کرنے پر جلتے ہوئے تیل میں ڈلوا دیا ،اب سب سے چھوٹے بھائی کی باری تھی جو کہ بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے تھے، ایک گورنر نے آگے بڑھ کر بادشاہ سے کہا کہ اسے اسلام سے منحرف کرنے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں، آپ مجھے چند دن کی مہلت دے دیں ۔ بادشاہ کے پوچھنے پر اس نے اپنا ناپاک منصوبہ بیان کیا تو بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس مجاہد کو گورنر کے حوالے کر دیا۔ چنانچہ گورنر نے گھر آکر اپنی خوبصورت بیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنے حسن و شباب کے ذریعے اس نوجوان کو اپنے دامِ فریب میں پھنسانے اور نصرانیت قبول کروانے کی کوشش کرے۔ بیٹی نے اس کی حامی بھر لی اور وہ خوب سج سنور کر اس مجاہد کے پاس گئی اوراسے بہکانے کی خوب کوشش کرنے لگی، لیکن ہوا یوں کہ وہ نوجوان ساری رات نماز اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہا اور دن میں بھی ذکرِ الٰہی کرتا رہا اور اس نے لڑکی کے حسن و شباب کی طرف آنکھ تک اٹھا کر نہ دیکھا۔ کئی دن کی مسلسل کوشش کے باوجود بھی جب وہ مجاہد گورنر کی بیٹی کی طرف مائل نہ ہوا تو اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا: یہ تو ہر وقت گُم سُم رہتا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شہر میں اس کے دوبھائیوں کو مار دیا گیا ہے ،یہ ان کی یاد میں غمگین رہتا ہے اور میری طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتا ۔ اگر ایسا ہوجائے کہ ہمیں اس شہر سے کسی دو سرے شہر میںمنتقل کردیا جائے اور بادشاہ سے مزید کچھ دنوں کی مہلت لے لی جائے تو نئے شہر میں جانے سے اس نوجوان کا غم کم ہوجائے گا، پھر میں اسے ضرور اپنی طرف مائل کرلوں گی۔ چنانچہ جب گورنر نے بادشاہ سے صورتِ حال بیان کی تو اس نے دونوں باتیں منظور کرلیں اور انہیں دوسرے شہر میں بھیج دیا گیا۔ وہاں وہ لڑکی روزانہ نئے نئے انداز سے بناؤ سنگھار کر کے نوجوان کو مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن اس مجاہد کے معمول میں ذرہ برابر فرق نہ آیا، حتّٰی کہ ایک رات یوں ہوا کہ وہ اس نوجوان کے پا س آئی اور کہنے لگی:میں تمہاری عبادت وریاضت اور پاکدامنی سے بہت متاثر ہوئی ہوں اور اب میں تمہارے دین سے محبت کرنے لگی ہوں کہ جس کی تعلیمات میں یہاں تک اچھائی ہے کہ کسی غیر عورت کو نہ دیکھا جائے تو یقینا وہی دین حق ہے۔ میں آج اور ابھی عیسائیت سے توبہ کرکے تمہارے دین میں داخل ہوتی ہوں۔ مجھے کلمہ پڑھاکر اپنے دین میں داخل کرلیجئے ۔ پھراس لڑکی نے سچے دل سے عیسائیت سے توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔ (شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی :۲۱۲)توحیدصرف کہنے کانام نہیں ہے
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ دھوکے میں نہ آنا، باتوں کے چکر میں نہ پڑنا، توحید ایک کہنے کا نام نہیں ہے، ایک جاننے کا نام ہے، کہنے کو تو منافق بھی کہتے تھے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ان کے کہنے کا کیا اعتبار ہے؟ قرآن کہتا ہے:{اذا جاء ک المنافقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ}جب یہ منافق حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں :{نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ}اللہ کو پتہ ہے کہ آپ ﷺاللہ تعالی کے رسول ہیں}واللہ یشھد ان المنافقون لکذبون}لیکن اللہ گواہ ہے کہ منافق جھوٹ بولتے ہیں ، گویا کہ منافق کی زبان سے{ انک لرسول اللہ} بھی جھوٹ ہے۔ شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی کی حکایت اسی بات کو سمجھانے کے لیے شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں: یکے قطرہ از ابر نیساں چکید خجل شد چوں بینائے دریا بدید کہ جائے کہ او است من کیستم حقا کہ او ہست من نیستم کہ بادل سے ایک قطرہ ٹپکا، جو اپنے آپ کو سمجھ رہا تھاکہ میں بھی کچھ ہوں او رجب دریا پر نظر پڑی تو شرم سار ہو گیااور کہنے لگا کہ پانی تو دریا بہاتا ہے، میری کیا حیثیت ہے ؟ اللہ کی قسم!یہ ہے، میں نہیں ہوں، یہ میں نہیں ہوں والی بات ہے { لا الہ الا اللہ} جس وقت تک دریا پر نظر نہیں پڑی تھی ، اس وقت تک اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا سمجھ رہاتھا اور اسی طرح شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی نے ایک دوسری حکایت لکھی: چوں سلطان عزت علم در کشد جہاں سربجیب عدم در برد کہ ایک گاؤں کا چوہدر ی تھا، سارے لوگ اس کے سامنے دست بستہ ہوتے تھے ، سارے اس کے سامنے جھکتے تھے ، ایک دفعہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بادشاہ کے دربار میں چلا گیا ، جب بادشاہ پر نظر پڑی تو کانپنے لگ گیا، ٹانگیں کانپنے لگ گئیں ، جیسے بڑے آدمی کے سامنے جاتے ہوئے ہو جاتا ہے ، بیٹا کہتا ہے :ابو کیا ہو گیا ؟ لوگ تو آپ کے سامنے کانپتے تھے ، آپ یہاں کانپنے لگ گئے؟ آپ تو چوہدری تھے؟ وہ کہتا ہے کہ میں چوہدری اس وقت تک تھا جب تک اس دربار میں نہیں آیا تھا، جب اس دربار میں آگیا تو چودراہٹ ختم، اس کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے ، جب اس کی عظمت ظاہر ہوتی ہے تو جہاں ایسے لگتا ہے کہ ہے ہی نہیں ، اس کو کہتے ہیں لا موجود الا اللہ اس کی عظمت کے سامنے سب کچھ ملیامیٹ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک او رحکایت بیان کی کہ کسی نے جگنو کو کہا کہ تو رات کو بڑا چمکتا ہے ، دن کو نہیں چمکتا ؟ وہ کہتا ہے رات کو اس لیے چمکتا ہوں کہ اندھیرا ہوتا ہے ، سورج کے سامنے کون چمکے ؟ رہتا یہیں ہوں، لیکن چمکتا نہیں ہوں ۔ تو پہلے ہوتا ہے : ’’میں‘‘ جب اللہ کی عظمت نمایاں ہوتی ہے تو ہوتا ہے :تو ہی تو، توہی تو ، توہی تو، یہ ہے جو {لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بعد انسان توحید کی طرف جاتا ہے ۔توحید کو سمجھنے کے لیے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا دامن پکڑو
اب آگئی بات کہ یہ جولا الہ الا اللہ کے درجات ہیں، ان کو عقل کے ذریعہ سے حاصل نہیں کرسکتے، عقل کے پیچھے پڑنے والے تو ماریں کھاتے پھرتے ہیں ، کیوں کہ یہ توحید اور اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ تعلق اس کو انہیں لفظوں سے تعبیر کر سکتے ہیں کہ تو دل میں تو آتا ہے، عقل میں نہیں آتا ، میں جان گیا تیری پہچان یہی ہے ، یہ منزلیں اگر طے کرنی ہیں تو کامل راہ نما چاہیے او رتمام کاملوں کا کامل ، تمام ہادیوں کا ہادی ، تمام راہ نماؤں کا راہ نما، اس دربا رکو پورا جاننے والے حبیب کریمﷺکا دامن پکڑو تو مقام توحید پر آؤ گے ، ان کا دامن چھوڑکر کوئی راستہ نہیں ہے توحید کی طرف جانے کا او راللہ تعالی کو منانے کا اگرراستہ ہے تو وہی ہے ،جب حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا دامن پکڑ لیا تو باقی سارے دروازے بند ، صرف یہی ایک دروازہ باقی ہے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے خلاف وہی شخص راستہ اختیار کر سکتا ہے جو منزل پر کبھی نہیں پہنچے گا۔ سعدی کبھی دل میں خیال بھی نہ لانا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بغیر دل کی منزل طے کی جاسکتی ہے ، اس کا کبھی دل میں خیال بھی نہ لانا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے نقش قدم پر چلے بغیر دل کی صفائی حاصل ہو سکتی ہے ، اس دربار تک رسائی صرف حضورتاجدارختم نبوتﷺسے ہے ، یہ ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ پورے دین کا خلاصہ جب یہ دامن پکڑو گے تو دامن پکڑنے کے بعد پھر وہی بات آئے گی، وہ آپ کو بتائیں گے کہ اس دروازے کی سیڑھی سب سے پہلے نماز ہے ، دوسرے نمبر پر زکوٰۃ ہے ، تیسرے نمبر پر صوم ہے ، چوتھے نمبر پر حج ہے اور یہاں پھر وہی بات ہو گی کہ صرف کہہ دینا کافی نہیں ، اس کی روح کیا ہے ؟ نماز کے لیے کیا کیا شرطیں ہیں ، کیا کیا پاکیزگی ظاہری او رباطنی طور پر چاہیے ؟ زکوٰۃ میں پورا مالی نظام آگیا ، پورا بدنی نظام صلوۃ میں آگیا ، صوم اللہ کے عشق کا مظاہرہ ہے او رحج تو اللہ تعالیٰ پر مر مٹنے کا نام ہے، آخری آخری معاملہ جو حج کا ہے ، یہ تو مر مٹنے کا نام ہے ، یہ منزلیں اسی طرح طے ہوتی ہیں او راس میں سارا دین سمٹ کر آجاتا ہے ۔ نماز کس اخلاق کا تقاضا کرتی ہے ؟ کس طرز عمل کاتقاضا کرتی ہے ؟ زکوٰۃ مالی نظام کیا چاہتی ہے ؟ مالیات میں کیا احتیاط چاہتی ہے ؟ صوم انسان کو کیا سبق دیتاہے ؟ او رحج کی حقیقت اصل کے اعتبار سے قربانی ہے ، یہ انسان کو فنا کے مقام تک لے جاتا ہے۔کلمہ طیبہ کی سات شروط کی وضاحت جن کے بغیرایمان کامل نہیں ہوتا
وہ سات شروط ان دوشعروں میں مذکورہیں الْعِلْمُ وَالْیَقِینُ وَالْقَبُولُ … وَالِانْقِیَادُ فَادْرِ مَا أَقُولُ وَالصِّدْقُ وَالْإِخْلَاصُ وَالْمَحَبَّہْ … وَفَّقَکَ اللَّہُ لِمَا أَحَبَّہْ ترجمہ :کلمہ طیبہ کی شروط کوبیان کرتے ہوئے الشیخ حافظ الحکمی لکھتے ہیں کہ علم اور یقین اور قبول اور انقیاد کو جان لے جو میں کہہ رہا ہوں۔صدق اور اخلاص اور محبت اللہ تجھے اس کی توفیق دے جسے وہ پسند کرتا ہے۔ توضیح الشرط الأول :(العلم )بمعناہا المراد منہا نفیاً وإثباتاً المنافی للجہل بذلک ، قال اللہ تعالی :{فَاعْلَمْ اَنَّہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ} وقال تعالی :{اِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ} أی بلا إلہ إلا اللہ وہم یعلمون بقلوبہم معنی ما نطقوا بہ بألسنتہم وفی الصحیح عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔ ترجمہ :پہلی شرط… (علم)اس سے مراد نفی اور اثبات جو کہ جہالت کے منافی ہے۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {فَاعْلَمْ اَنَّہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ}(سورۃ محمد:۱۹) تو آپ جان لیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {اِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ}(سورۃ الزخرف : ۸۶) مگر وہ جو حق کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو یعنی لا الہ الا اللہ کا اقرار کریں اور اپنے دلوں کے ساتھ اسکا معنی بھی جانتے ہوں جو انکی زبان کہہ رہی ہے۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:جو شخص اس حالت میں مرا کہ اسے لا الہ الا اللہ کا علم ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (ا:۵۰۹) دوسری شرط الشرط الثانی (الیقین )بأن یکون قائلہا مستیقناً بمدلول ہذہ الکلمۃ یقیناً جازماً ، فإن الإیمان لا یغنی فیہ إلا علم الیقین لا علم الظن ، فکیف إذا دخلہ الشک ، قال اللہ عز وجل :{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓیکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ}فاشترط فی صدق إیمانہم باللہ ورسولہ کونہم لم یرتابوا ، أی لم یشکوا ، فأما المرتاب فہو من المنافقین وفی الصحیح من حدیث أبی ہریرۃ قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ، وَأَنِّی رَسُولُ اللہِ، لَا یَلْقَی اللہَ بِہِمَا عَبْدٌ غَیْرَ شَاکٍّ فِیہِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَوفی روایۃ لا یلقی اللہ بہما عبد غیر شاک فیہما فیُحجب عن الجنۃ وفیہ عنہ رضی اللہ عنہ من حدیث طویل أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعثہ بنعلیہ فقال من لقیت من وراء ہذا الحائط یشہد أن لا إلہ إلا اللہ مستیقناً بہا قلبہ فبشرہ بالجنۃالحدیث فاشترط فی دخول قائلہا الجنۃ أن یکون مستیقناً بہا قلبہ غیر شاک فیہا ، وإذا انتفی الشرط انتفی المشروط ۔ ترجمہ :دوسری شرط…(یقین)یہ اس کے کہنے والے کو جس پر یہ کلمہ دلالت کررہا ہے اس پر پختہ یقین ہونا چاہئے کیونکہ ایمان میں ایسا علم جو کہ ظنی ہو کافی نہیں بلکہ ایسا ایمان ہونا چاہئے جو کہ یقینی علم پر مبنی ہو تو اگر اس میں شک یعنی ظن داخل ہوگیا تو پھر اسکا کیا حال ہوگا؟ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓیکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ}(سورۃ الحجرات : ۱۵) ترجمہ ضیاء الایمان:مومن تو وہ ہیں جو اللہ تعالی اور اسکے رسول کریمﷺ پر (پختہ)ایمان لائیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہیں تو یہی پکے اور سچے مومن ہیں۔ تو اس آیت میں اللہ تعالی اور اسکے رسول کریمﷺ پر صدق ایمان کی شرط یہ لگائی کہ وہ شک وشبہ کی گنجائش نہ رکھیں، جسے شک وشبہ ہوتا ہے وہ منافق ہے۔ حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:(جس نے یہ شہادت دی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ تعالی کا رسول(ﷺ) ہوں، تو اگر وہ بندہ اس میں بغیر شک کیے اپنے رب سے جاملے تو وہ جنت میں داخل ہوگا)۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ:(ان دونوں میں شک نہ کرنے والا اللہ تعالی سے جاملے تو اس سے جنت چھپائی نہیں جائے گی)۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے انہیں جوتے دیکر بھیجا اور کہا کہ جو بھی اس باغ کے باہر ملے اور وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی اپنے دل کے یقین کے ساتھ دیتا ہو اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔ تو جنت میں داخل ہونے کی شرط یہ لگائی کہ جو اسے اپنے دل کے یقین کے ساتھ پڑھتا ہو اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہ رکھتا ہو، تو جب شرط نہ پائی جائے تو پھر مشروط بھی نہیں ہوتا۔ تیسری شرط الشرط الثالث (القبول )لما اقتضتہ ہذہ الکلمۃ بقلبہ ولسانہ ، وقد قص اللہ عز وجل علینا من أنباء ما قد سبق من إنجاء من قَبِلہا وانتقامہ ممن ردہا وأباہا قال تعالی {اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَہُمْ وَ مَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ}{مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاہْدُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ}{ وَ قِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْـُوْلُوْنَ}إلی قولہ{اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ یَسْتَکْبِرُوْنَ}{وَ یَقُوْلُوْنَ اَینَّا لَتَارِکُوْٓا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ}فجعل اللہ علۃ تعذیبہم وسببہ ہو استکبارہم عن قول لا إلہ إلا اللہ ، وتکذیبہم من جاء بہا ، فلم ینفوا ما نفتہ ولم یثبتوا ما أثبتتہ ، بل قالوا إنکاراًً واستکباراً (أجعل الآلہۃ إلہاً واحداً إن ہذا لشیء ٌ عجاب وانطلق الملأ منہم أن امشوا واصبروا علی ألہتکم إن ہذا لشیء ٌ یُرادما سمعنا بہذا فی الملۃ الآخرۃ إن ہذا إلا اختلاق ) فکذبہم اللہ عز وجل ورد ذلک علیہم علی لسان رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال (بل جاء بالحق وصدق المرسلین )ثم قال فی شأن من قبلہا ( إلا عباد اللہ المخلصین أولئک لہم رزقٌ معلوم . فواکہ وہم مکرمون فی جنات النعیم )وفی الصحیح عن أبی موسی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :مثل ما بعثنی اللہ بہ من الہدی والعلم کمثل الغیث الکثیر أصاب أرضاً فکان منہا نقیۃ قبلت الماء فأنبتت الکلأ والعشب الکثیر وأصاب منہا طائفۃ أُخری إنما ہی قیعان لا تمسک ماء ً ولا تُنبت کلأً ، فذلک مثل من فقہ فی دین اللہ ونفعہ مابعثنی اللہ بہ فعلم وعلّم ، ومثل من لم یرفع بذللک رأساً ولم یقبل ہدی اللہ الذی أُرسلت بہ ۔ ترجمہ :تیسری شرط:(قبول)یہ کلمہ جس چیز کا تقاضا کرتا ہے اسے دل اور زبان کے ساتھ قبول کرنا، اللہ عزوجل نے سابقہ امتوں کے قصے بیان کرتے ہوئے ان لوگوں کی نجات کا بیان کیا جنہوں نے اسے قبول کیا اور جنہوں نے اسے رد اور اسکا انکار کیا انکی سزا کا بھی بیان کیا ہے فرمان باری تعالی ہے: {اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَہُمْ وَ مَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ}{مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاہْدُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ}{وَ قِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْـُوْلُوْنَ}(سورۃ الصافات: ۲۴،۲۳،۲۲) ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا اور انکے ہمراہیوں کو بھی اور ان کو بھی جن جن کی یہ اللہ کے علاوہ پرستش کرتے تھے ان سب کو جمع کر کے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو اور انہیں ٹھہرا لو (اس لئے کہ)ان سے سوال کئے جانے والے ہیں)اللہ تعالی کے اس فرمان تک “یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں تو یہ سرکشی اور تکبر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی بات پر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟۔ تو اللہ تعالی نے انکے لئے عذاب کی علت اور اسکا سبب یہ بیان کیا کہ وہ لاالہ الا اللہ سے تکبر کرتے اور اسے جو یہ کلمہ لے کر آیا جھٹلاتے اور اس چیز کی نفی نہیں کرتے تھے جس کی اس کلمے نے نفی کی اور نہ ہی اسکا اثبات کرتے جس کی یہ کلمہ اثبات کرتا ہے بلکہ انہوں نے اس سے انکار اور تکبر وسرکشی کرتے ہوئے یہ کہا کہ: {اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِلٰہًا وَّاحِدًااِنَّ ہٰذَا لَشَیْء ٌ عُجَابٌ}{وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْ اِنَّ ہٰذَا لَشَیْء ٌ یُّرَادُ} ترجمہ :کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود بنادیا واقعی یہ بہت عجیب بات ہے، ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے اور ڈٹے رہو یقینا اس بات میں کوئی غرض ہے، ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی کچھ نہیں یہ توصرف گھڑی ہوئی بات ہے۔ تو اللہ تعالی نے انہیں جھٹلاتے اور ان کا رد کرتے ہوئے اپنے حبیب کریم ﷺ کی زبان سے یہ فرمایا: (نہیں نہیں)بلکہ (نبی)تو حق (سچا دین)لائے ہیں اور سب رسولوں کو سچا مانتے ہیںپھر اسکے بعد ان کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا جن لوگوں نے اس کلمے کو قبول کیا:مگر اللہ تعالی کے خالص اور برگزیدہ بندے انہیں کے لئے مقرر کردہ رزق ہے ہر طرح کے میوے اور وہ باعزت ہونگے نعمتوں والی جنتوں میں۔ اور صحیح بخاری میں حضرت سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اس ہدایت اور علم کی مثال جو کہ اللہ تعالی نے مجھے دیکر مبعوث کیا ہے اس موسلا دھار بارش کی ہے جو کہ ایسی زمین پر ہوتی ہے جو کہ صاف ہو اور پانی کو قبول کرنے کے بعد بہت زیادہ گھاس اور سبزہ اگائے، اور دوسری زمین کا ٹکڑا ایسا ہے کہ جہاں بارش ہو تو وہ نہ تو پانی ہی روکتا ہے اور نہ ہی گھاس اور سبزا اگاتا ہے، تو یہی مثال اس کی ہے جو کہ اللہ کے دین کی سمجھ رکھتا ہے تو اسے وہ چیز نفع دیتی ہے جسے دیکر اللہ تعالی نے مجھے بھیجا ہے اسے وہ خود بھی سیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے اور وہ جو اس کی طرف سراٹھا کر دیکھتا اور دھیان بھی نہیں دیتا اور نہ ہی اللہ تعالی کی اس ہدایت کو جسے میں دیکر مبعوث کیا گیا ہوں قبول کرتا ہے۔ چوتھی شرط الشرط الرابع (الانقیاد )لما دلت علیہ المنافی لترک ذلک ، قال اللہ عز وجل (وَمَنْ یُسْلِمْ وَجْہَہُ إِلَی اللَّہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَی )أی بلا إلہ إلا اللہ (وَإِلَی اللَّہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ )ومعنی یُسلم وجہہ أی ینقاد ،وہو محسن موحد ، ومن لم یسلم وجہہ إلی اللہ ولم یک محسناً فإنہ لم یستمسک بالعروۃ الوثقی ،وہو المعنی بقولہ عز وجل بعد ذلک (ومن کفر فلا یحزنک کفرہ ، إلینا مرجعہم فننبؤہم بما عملوا )وفی حدیث صحیح أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یُؤمن أحدکم حتی یکون ہواہ تبعاً لما جِئت بہ وہذا ہو تمام الانقیاد وغایتہ ۔ ترجمہ :چوتھی شرط:(انقیاد)مطیع ہونا:جو اس کے منافی ہونے پر دلالت کرے اس کا ترک کرنا ضروری ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:اور جو شخص اپنے آپ کو اللہ تعالی کے تابع کردے اور پھر وہ ہو احسان کرنے والا یقینا اس نے مضبوط کنڈے کو تھام لیا اور تمام کاموں کا انجام اللہ تعالی ہی کی طرف ہے۔یعنی جس نے لاالہ الا اللہ کے ساتھ کنڈے کو پکڑلیا اور احسان کرنے والا:اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کا مطیع اور اسکے تابع ہو اور پھر موحد بھی ہو۔اور جو اپنے آپ کو اللہ تعالی کا مطیع اور تابع نہ کرے اس نے مضبوط کنڈے کو ہاتھ نہیں ڈالا اور اللہ تعالی کے اس قول کا معنی بھی یہی ہے:آپﷺ کافروں کے کفر سے رنجیدہ نہ ہوں آخر ان سب نے ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انکو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے۔صحیح حدیث میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکا فرمان ثابت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:(آپ میں کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہشات کو اس کے تابع نہ کردے جو میں لایا ہوں)۔تو یہی مکمل اور انتہائی اتباع اور پیروی ہے۔ پانچویں شرط والخامس (الصدق )فیہا المنافی للکذب ، وہو أن یقولہا صدقاً من قلبہ یواطیء قلبہ لسانہ ، قال اللہ عز وجل الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُتْرَکُوا أَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللَّہُ الَّذِینَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِینَ )وقال فی شأن المنافقین الذین قالوہا کذباً (ومن الناس من یقول آمنا باللہ وبالیوم الآخر وما ہم بمؤمنین یخادعون اللہ والذین آمنوا وما یخدعون إلا أنفسہم وما یشعرون فی قلوبہم مرض فزادہم اللہ مرضا ولہم عذاب ألیم بما کانوا یکذبون وفی الصحیحین من حدیث معاذ بن جبل رضی للہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما من أحد یشہد أن لا إلہ إلا اللہ وأن محمداً عبدہ ورسولہ صدقاً من قلبہ إلا حرمہ اللہ علی النار۔ ترجمہ :پانچویں شرط:(صدق)جو کہ کذب اور جھوٹ کے منافی ہے وہ اس طرح کہ اسے یہ کلمہ صدق دل کے ساتھ کہنا چاہیے اور اسکا دل اسکی زبان سے جو نکل رہا ہے اس میں اسکی پیروی کرے۔ فرمان باری تعالی ہے:الم، کیا لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ان کے اس کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہی چھوڑ دینگے ان سے پہلے لوگوں کو بھی ہم نے آزمایا یقینا اللہ تعالی ان کو بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی جو جھوٹے ہیں۔ اور منافقوں اور جھوٹوں کے متعلق ارشاد فرمایا:اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ ایمان والے نہیں ہیں، وہ اللہ تعالی اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں مگر سمجھتے نہیں، ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالی نے ان کی بیماری کو مزید بڑھادیا اور انکے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ بخاری اور مسلم میں حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:(جو بھی صدق دل سے لاالہ الا اللہ پڑھے اور اسکی گواہی دے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ اسکے بندے اور رسول ہیں تو اللہ تعالی اس پر آگ کو حرام کردیتا ہے۔ چھٹی شرط والسادس(الإخلاص)وہوتصفیۃ العمل عن جمیع شوائب الشرک قال تبارک وتعالی :(ألا للہ الدین الخالص )وقال (قل اللہ أعبد مخلصاً لہ دینی )وفی الصحیح عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :أسعد الناس بشفاعتی من قال لا إلہ إلا اللہ خالصا
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9