Fatwa #2488
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃابراہیم آیت ۳۔ الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,858
سوال (Question):
تفسیرسورۃابراہیم آیت ۳۔ الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اقامتِ دین کی راہ میں رکاوٹ کون ؟
{الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ وَ یَبْغُوْنَہَا عِوَجًا اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ }(۳) ترجمہ کنزالایمان:جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:جولوگ آخرت کی بجائے دنیا وی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں مبتلاء ہیں ۔ہرلبرل وسیکولردین کی راہ روکنے والاہے
وَکُلُّ مَنْ آثَرَ الدُّنْیَا وَزَہْرَتَہَا، واستحب الْبَقَاء َ فِی نَعِیمِہَا عَلَی النَّعِیمِ فِی الْآخِرَۃِ، وَصَدَّ عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ أَیْ صَرَفَ النَّاسَ عَنْہُ وَہُوَ دِینُ اللَّہِ، الَّذِی جَاء َتْ بِہِ الرُّسُلُ، فِی قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَیْرِہِ فَہُوَ دَاخِلٌ فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ دنیاوی زندگی کوآخرت کے مقابلے میں اختیارکرتے ہیں اوریہ کافروںکا طریقہ ہے ، ہروہ آدمی جس نے دنیااوراس کی لذات کو آخرت پرترجیح دی ، دنیاکی نعمتوں میں باقی رہنے کو آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے مقابلے میں پسندکیااورلوگوںکواللہ تعالی اوراس کے دین متین سے جواللہ تعالی کے رسل کرام علیہم السلام لے کرآئے پھیرااوردین کی راہ سے لوگوں کوروکایہ تمام لوگ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے نزدیک اس آیت کریمہ کے تحت داخل ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۴۰)اقامت دین کی راہ میں رکاوٹ لبرل وسیکولراورمجاورضال ومضل ہیں
وَاعْلَمْ أَنَّ مَنْ کَانَ مَوْصُوفًا بِاسْتِحْبَابِ الدُّنْیَا فَہُوَ ضَالٌّ،وَمَنْ مَنَعَ الْغَیْرَ مِنَ الْوُصُولِ إِلَی سَبِیلِ اللَّہِ وَدِینِہِ فَہُوَ مُضِلٌّ، فَالْمَرْتَبَۃُ الْأُولَی إِشَارَۃٌ إِلَی کَوْنِہِمْ ضَالِّینَ، وَہَذِہِ الْمَرْتَبَۃُ الثَّانِیَۃُ وَہِیَ کَوْنُہُمْ صَادِّینَ عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ إِشَارَۃٌ إِلَی کَوْنِہِمْ مُضِلِّینَ وَالنوع الثَّالِثُ:مِنْ تِلْکَ الصِّفَاتِ قَوْلُہُ:وَیَبْغُونَہا عِوَجاً وَاعْلَمْ أَنَّ الْإِضْلَالَ عَلَی مَرْتَبَتَیْنِ:الْمَرْتَبَۃُ الْأُولَی:أَنَّہُ یَسْعَی فِی صَدِّ الْغَیْرِ وَمَنْعِہِ مِنَ الْوُصُولِ إِلَی الْمَنْہَجِ الْقَوِیمِ وَالصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیمِ وَالْمَرْتَبَۃُ الثَّانِیَۃُ:أَنْ یَسْعَی فِی إِلْقَاء ِ الشُّکُوکِ وَالشُّبَہَاتِ فِی الْمَذْہَبِ الْحَقِّ وَیُحَاوِلَ تَقْبِیحَ صِفَتِہِ بِکُلِّ مَا یَقْدِرُ عَلَیْہِ مِنَ الْحِیَلِ، وَہَذَا ہُوَ النِّہَایَۃُ فِی الضَّلَالِ وَالْإِضْلَالِ۔ ترجمہ:امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یادرہے کہ جوشخص دنیاکی محبت سے متصف ہے وہ گمراہ ہے اورجودوسرے کواللہ تعالی کے دین سے روکے وہ گمراہ کرنے والاہے ۔ پہلی مرتبہ ان کے گمراہ ہونے کی طرف اشارہ ہے اوردوسری مرتبہ ان کااللہ تعالی کے راستے سے روکنایہ ان کے گمراہ کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔ اوروہ لوگ جودین میں کجی چاہتے ہیں وہ لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں اورلوگوں کو گمراہ کرنے کے دومرتبے ہیں : پہلامرتبہ: کسی شخص کوصراط مستقیم سے روکنے کی کوشش کرنا۔ دوسرامرتبہ : مذہب حق میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی جائے اوراس کی شکل وصورت حسب طاقت حیلوں کے ذریعے بگاڑنے کی کوشش کرنایہ گمراہی اورگمراہ کرنے کی انتہائی شکل ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۹:۵۹) آج جتنے بھی لبرل وسیکولرپروفیسراوردرباروں پربیٹھے مجاورہیں وہ لوگوں کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے رات دن کوشش میں ہیں اوریہی لوگ ضال بھی ہیں اورمضل بھی ۔ لیڈرہی اقامت دین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں وَعَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ قَالَ:عَہِدَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَی أُمَّتِی الْأَئِمَّۃُ الْمُضِلُّونَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:مجھے اپنی امت کے بارے میں جوخوف ہے اس میں سب سے زیادہ خوف گمراہ کرنے والے لیڈروں کاہے ۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:أبو الحسن نور الدین علی بن أبی بکر بن سلیمان الہیثمی (۵:۲۳۹) حضورتاجدارختم نبوتﷺکا امت کی فکرکرنا کان صلی اللہ علیہ وسلم حریصا علی إصلاح أمتہ راغبا فی دوام خیرتہا فخاف علیہم فساد الأئمۃ لأن بفسادہم یفسد النظام لکونہم قادۃ الأنام فإذا فسدوا فسدت الرعیۃ وکذا العلماء إذا فسدوا فسد الجمہور من حیث أنہم مصابیح الظلام انتہی۔ ترجمہ :امام عبدالرئوف المناوی المتوفی : ۱۰۳۱ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی امت کی اصلاح پر بہت حریص اور امت کی مستقل بھلائی کی رغبت رکھتے تھے اس لئے آپﷺاپنی امت پر قوم کے گمراہ کن سرداروں کی وجہ سے فکرمند رہتے تھے ۔ قوم کے پیشواوں اور سربراہوں کی گمراہی نظام کو خراب کر دیتی ہے کیونکہ یہ لوگ قوم کے قائدین ہوتے ہیں اور جب یہ گمراہ ہوں گے تو قوم بھی گمراہی میں مبتلا ہو گی، اسی طرح جب علماء میں بھی گمراہیاں ہوں گی تو عوام کا ایک بہت بڑا حصہ گمراہی کا شکار ہو جائے گا۔ (فیض القدیر:زین الدین محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفین(۲:۴۱۹)کہاں امام القرطبی رحمہ اللہ تعالی کادوراورکہاں ہم ؟
وَمَا أَکْثَرَ مَا ہُمْ فِی ہَذِہِ الْأَزْمَانِ،وَاللَّہُ الْمُسْتَعَانُ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں تودین دشمن بہت بڑھ چکے ہیں جودین کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۴۰) لبرل کی منشاء ہی دنیاکوجمع کرناہے خواہ کسی بھی طریقہ سے ہو وَقِیلَ :یَسْتَحِبُّونَ أَیْ یَلْتَمِسُونَ الدُّنْیَا مِنْ غَیْرِ وَجْہِہَا، لِأَنَّ نِعْمَۃَ اللَّہِ لَا تُلْتَمَسُ إِلَّا بِطَاعَتِہِ دُونَ مَعْصِیَتِہِ(وَیَبْغُونَہا عِوَجاً) أَیْ یَطْلُبُونَ لَہَا زَیْغًا وَمَیْلًا لِمُوَافَقَۃِ أَہْوَائِہِمْ، وَقَضَاء ِ حَاجَاتِہِمْ وَأَغْرَاضِہِمْ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ {یَسْتَحِبُّونَ}سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی مرضی کے بغیردنیاکے مال کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی کی نعمت اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہے ، مصیبت اورنافرمانی کے ذریعے نہیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۴۰)غلبہ دین کی راہ میں رکاوٹ کون؟
بہت اصرار کے بعد چند اہلِ محبت نوجوانوں کا دل رکھنے کی خاطر رئیس التحریر مترجمِ کتبِ احادیث علامہ حضرت عبدالحکیم اختر شاہ جہانپوری نور اللہ مرقدہ جلسہ میں شمولیت اور تقریر کے لیے راضی ہو گئے،عنوان دیا گیا’’غلبہ دین کی راہ میں رکاوٹ کون؟‘‘حضرت نے مائیک سنبھالا اور ارد گرد نظر دوڑائی تو ایک لمبی قطار پیروں اور خطیبوں کی بیٹھی نظر آئی تو فرمایا:غلبہ دین کی راہ میں رکاوٹ کے اسباب میرے سامنے بیٹھے ہیں بتائیے تقریر کروں؟۔(بتصرف یسیر) یہ بات ذہن میں رہے کہ آج پاکستان میں دین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ یہ لیڈرہی ہیں وہ چاہے خود کوسیاسی کہتے ہوں یامذہبی ، وہ مولوی ہوں یاپیرگدی نشین یہی وہ طبقہ ہے جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین متین کے غلبہ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ جب بھی کوئی درددل رکھنے والاشخص کھڑاہوتاہے اوراقامت دین کی بات کرتاہے یہی لوگ اپنے اپنے اداروں اورچارچارفٹ کی مساجدسے اس اسلامی تحریک کو دبانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اورہمارے خیال میں اسلام کو سب سے زیادہ نقصان انہیں پیروں اورملائوں نے پہنچایاہے اوران کے پیچھے حکمران ،امریکی اوراسرائیلی فوجیں کھڑی ہوتی ہیں، یہ پھراپنے اپنے کام دکھاتے ہیں ۔ ابھی چندسال پہلے سارے مجاورجمع ہوکرشریعت نافذکرنے چلے تھے اورانہوںنے ایک وقت بھی متعین کردیاتھاکہ صرف ایک ہفتہ میں شریعت نافذ کرووگرنہ ہم ساراملک بندکردیں گے ، اس کے بعد کیاہواکہ حکمرانوںنے ان کو دھمکی دی کہ ہم سارے مزارات اوقاف کے قبضہ میں لیکرتم کو بے دخل کردیں گے اورتمھاری جائیدادوں کی تحقیقات ہوں گی ، اس کے بعد سب مجاورخاموش ہوکربیٹھ گئے ، وہ غلبہ دینی کے مطالبہ سے باز آگئے اوراپنی اپنی خانقاہوں میں بیٹھ گئے ۔اقامت دین کی جدوجہد سے گریز کی وجوہات
(۱)…جماعتوں کے تعدّد کا عذر ہم میں سے اکثر لوگ اس عذر کا سہارا لیتے ہیں کہ ملک میں بہت سی جماعتیں دین کا کام کرنے کی مدعی ہیں اب کس کا ساتھ دیں!توہم مسئلہ کوایک مثال کے ساتھ سمجھانے کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح ایک پرانے مریض کے علاج کے لیے چار حاذق طبیبوں اور ڈاکٹروں کو پورے خلوص و اخلاص کے ساتھ تشخیص اور تجویز میں اختلاف ہو سکتا ہے اسی طرح احیائے دین اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے بھی تشخیص اور طریق کار میں فرق ہو سکتا ہے جو فی الواقع موجود ہے ،لیکن اس سے ہمارا فرض تو ساقط نہیں ہو جاتاکھلے دل کے ساتھ ان جماعتوں کا جائزہ لیجئے ان کی تشخیص اور طریق کار پر غور و خوض کیجئے پھر جس جماعت پر دل مطمئن ہو جائے تو پورے خلوص کے ساتھ اس میں شامل ہوجایئے ،آپ ان شاء اللہ ماجور ہوں گے،دیکھئے کسی شخص کو جسکوایک جوتا خریدنا ہوتا ہے تو وہ کتنی دوکانوں کا چکر لگاتا ہے کتنے جوتے دیکھتا ہے پھر ایک کو پسند کر لیتا ہے۔اگر کوئی شخص اس نتیجہ پر پہنچ جائے تواس کے لئے اقامت ِ دین کے لیے جدوجہد کرنا اس پر لازم ہے واجب ہے فرض ہے تو وہ دین کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کا بغور مطالعہ کرے گا اور جس پر اس کا دل ٹھک جائے گا اس کے ساتھ لگ جائے گا۔جماعتوں کی کثرت کا عذر درحقیقت دین کے کام سے فراریت ہے شیطان کا فریب ہے بالکل بے وزن ہے اور عام معنوں میں عذرِ لنگ ہے۔دین کا کام کیجئے اور یک سو ہو کر کیجئے۔اپنی اصلاح کو مقدم رکھیے۔جس جماعت پر دل ٹھک جائے اس میں پوری دل جمعی کے ساتھ شامل ہو جایئے،اللہ تعالی کے ہاں اپنے خلوص و اخلاص کے باعث ماجور ہوں گے۔ فقیراہل اسلام کی خدمت میں ایک گزارش کرتاہے کہ تمام لوگوں کوچاہئے کہ اس وقت پاکستان میں ایک تحریک جوکسی بھی طرح اپنے مقصدسے ہٹنے والی نہیں ہے اورڈٹ کرہرہرمحاذپردین دشمنوں کامقابلہ کررہی ہے اوراس کی قیادت غلبہ دینی کے لئے کوشاں ہے اورہمہ وقت جدوجہد میں ہے ، جس کے امیرحضرت اقدس شیخ الحدیث امیرالمجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی ہیں ۔ان کی امارت کے تحت جمع ہوجائیں اگرآپ واقعی مخلص ہیں کہ اسلام کوغلبہ حاصل ہوتوپھرتاخیرہرگزہرگزنہ کریں۔ (۲) …معاشی خوف دین کی راہ پر آنے کے لیے انسان کو یہ اندیشہ سب سے زیادہ روکتا ہے کہ کیا کھائیںپئیں گے؟ رزق کا معاملہ اس کی راہ کی بڑی رکاوٹ بنتا ہے،اللہ تعالی نے فرمایاکہ{ اَللّٰہُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآء ُ وَ ہُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ }کیوں فکر کرتے ہو!اللہ تعالی اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ تو بہت باریک بین ہے وہ تمہاری ضرورتوں کو تم سے بڑھ کر جاننے والا ہے،وہ القوی ہے العزیز ہے،البتہ طے کرنے کی بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ شعوری طور پر فیصلہ کرے کہ اس کا مطلوب دنیا ہے یا آخرت!فیصلہ کن بات یہ ہے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے تو الا ماشاء اللہ ہمارا یہ حال ہے کہ رجحان کچھ اِدھر ہے کچھ اُدھر،آخر دین کا دل میں شغف ہے اس کی طرف کشش ہے اس کے لیے کام کرنے کی طرف طبیعت راغب اور مائل بھی ہے لیکن جب دنیا کا معاملہ آتا ہے تو دل ڈولنے لگتا ہے قدم ڈگمگانے لگتا ہیں آدمی سوچتا ہے کہ اِدھر جاؤں یا اُدھر جاؤں ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے! یہ وہ کیفیت ہے جس میں ہم میں سے اکثر مبتلا ہیں۔ (۳)…فرصت کا انتظار کبھی ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں کہ فلاں فلاں ذمہ داریاں ہیں ذرا ان سے نمٹ لیں پھر ہمہ وقت دین کے کام میں لگ جائیں گے،اس سے بڑی خود فریبی اور کوئی نہیں ہے،اگر آپ دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر دین کے کاموں میں لگیں گے تو اس وقت حال یہ ہوگا کہ توانائیاں اور صلاحیتیں ہی نہیں فہم میں بھی اضمحلال و اختلال آ چکا ہو گا یا آنے والا ہو گا،ایک ارذل العمر بھی ہوتی ہے جس کے متعلق قرآن مجید کہتا ہے:{لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا} اکثر بڑے بڑے علم و فضل والے بھی ایک عمر کو پہنچ کر علم و فہم سے خالی ہو جاتے ہیں،معلوم ہوا کہ دین کے لیے کام کرنے کا اصل وقت تو وہ ہے جب جسم میں توانائی و قوت اور فہم و علم میں صلاحیت موجود ہو۔ (۴)…محاسبہ اخروی حضورتاجدارختم نبوتﷺکافرمان عالی شان ہے کہ{لَنْ تَزُوْلاَ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدَ رَبِّہٖ حَتّٰی یُسْاَلَ عَنْ خَمْس}ٍ ابن آدم کے قدم اس کٹہرے سے ہرگز ہل نہیں سکیں گے جہاں وہ اپنے رب کے سامنے قیامت کے دن کھڑا ہو گا جب تک اس سے پانچ چیزوں کا حساب نہ لے لیا جائے{ عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا اَفْنَاہُ }پوری عمر کا حساب کہ اسے کہاں فنا کیا، کہاں کھپایا؟ ہم نے تمہیں ستر اسی برس دیئے تھے، یہ کہاں گنوائے{ وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَا اَبْلاَہُ }خاص طور پر شباب کا دور، جوانی کا دور، امنگوں کا دور، قوتوں، توانائیوں اور ولولوں کا دور، جب کہ جسم میں جان ہوتی ہے، جب کہ قوائے جسمانی چاق و چوبند ہوتے ہیں۔پوچھا جائے گا کہ وہ جوانی کے دن کہاں کھپائے اور گنوائے؟ عمر کے بارے میں دو سوالوں کے بعد مال کے متعلق دو سوال{وَعَنْ مَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اکْتَسَبَہ وَفِیْمَا اَنْفَقَہ }مال کمایا کہاں سے تھا (حلال سے یا حرام سے؟)اور خرچ کہاں کیا تھا؟ ادائے حقوق میں، دین کی خدمت میں یا عیاشیوں اور اللوں تللوں میں!او رآخری سوال{وَعَمَّا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ} اور جو علم حاصل ہوا تھا اس پر عمل کتنا کیا؟ گویا جب بھی دینی معلومات کا اضافہ ہوا اسی نسبت سے عمل بھی بڑھا یا یانہیں؟ یہ ہیں پانچ سوالات جو ہر ابن آدم سے کئے جائیں گے.آخرت اور دنیا کے طلب گاروں کے علیحدہ علیحدہ نتائج!
{مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہ فِیْ حَرْثِہٖ وَ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَ مَا لَہ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ } جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طالب ہو گا ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے رہیں گے (اس کو پروان چڑھاتے رہیں گے)اور جو دنیا کی کھیتی کا خواہش مند ہے اسے ہم اسی میں سے کچھ دے دلا دیں گے، لیکن پھر اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے. طے کرنے کی بات یہ ہے کہ آپ کا اصل مقصود و مطلوب کیا ہے؟ مقدم کیا ہے، موخر کیا ہے!آخرت یا دنیا؟ اسی کے مطابق آخرت میں نتائج مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی بتدریج ہمارے سامنے وہ اوصاف بھی آئیں گے جو توحید عملی اور اقامت ِ دین کے لیے مطلوب ہیںفرمایا: {فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْء ٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا}ترجمہ ضیاء الایمان:جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی میں برتنے کا سامان ہے۔ اس آیت کے پہلے حصے میں دنیا کے سروسامان کی اصل حقیقت بیان فرمائی گئی ہے ،یہاں{ شَیْء ٍ} نکرہ ہے،نکرہ تفخیم کے لیے بھی آتا ہے،خواہ بڑی سے بڑی چیز دے دی گئی ہو، چاہے قارون کا خزانہ دے دیا گیا ہو، اس دنیا میں کچھ بھی دے دیا گیا ہو، وہ اس فانی دنیا کے برتنے کا سامان ہے، اس کے سوا کچھ نہیں، تم سمجھتے ہو کہ یہ میری ملکیت اور میری جائیداد ہے، تم سمجھتے ہو کہ اموال و اسباب دنیا تم کو دوام بخش دیں گے{ الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَہ }{یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٓ اَخْلَدَہ }حالانکہ یہ سب عارضی اور فانی ہے.دنیا کی زندگی کی اصل حقیقت
میں عرض کر چکا ہوں کہ مدنی سورتوں میں سورۃ الشوریٰ کے ہم وزن اور مماثل مضامین سورۃ الحدید میں آئے ہیںمکی سورتوں میں جو مقام سورۃ الشوریٰ کا ہے مدنی سورتوں میں وہی مقام سورۃ الحدید کا ہے چنانچہ اس میں بھی اس حقیقت کو کھول کربیان کیا گیا ہے کہ اس دنیا کی زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے جس پر تم ریجھے ہوئے ہو۔ اللہ تعالی نے فرمایا: {اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہْوٌ وَّ زِیْنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰیہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّ مَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانٌ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ } ترجمہ کنزالایمان :جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اس مینہ کی طرح جس کا اگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن(پامال کیا ہوا)ہوگیا اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال ۔ یہ لہوولعب ہے ذرا اور بڑھے تو بناؤ سنگھار اور زیب وزینت کی فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ اچھے سے اچھا لباس ہو، بالکل فیشن کے مطابق ہو، اس سے کہیں ذرا فرق ہوا تو آپ کا دل میلا ہو جائے گا،اسے یہاں زینت کہا گیا ہے،اس سے ذرا آگے بڑھے تو دوسروں کے مقابلے میں فخر پیدا ہو جاتا ہے اپنی دولت پر، اپنی نسل پر، اپنی وجاہت و شوکت پراسے یہاں {تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ }فرمایا گیا:اس سے ذرا آگے بڑھے، جب ادھیڑ عمری کو پہنچے، بڑھاپے کی حد شروع ہوئی تو انسان بڑا واقعیت و حقیقت پسند ہو جاتا ہے اب تو خوب دولت چاہئے، صاحب حیثیت اولاد کی بہتات چاہیے ،اسے یہاں فرمایا گیا:{تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ }جوانی کا دور وہ ہوتا ہے کہ مونچھ نیچی نہ ہو چاہے سب کچھ چلا جائے،اس وقت انسان کو اپنی عزت کا اتنا پاس ہوتا ہے، جبکہ بڑھاپے میں آپ کو نظر آ جائے گا کہ اسی شخص کا یہ حال ہوتا ہے کہ مونچھ نیچی ہی نہیں مونڈنے کی نوبت آ جائے تو آ جائے، دولت ہاتھ سے نہ جائے،انسان کے یہ مختلف عواطف و میلانات ہوتے ہیں زندگی کے مختلف ادوار میں،آخر کار ہوتا کیا ہے کہ انسان کا جسم مٹی میں مل کرمٹی ہو جاتا ہے،اس کی روح عالم بالا کی طرف کوچ کر جاتی ہے اور یوم آخرت یعنی فیصلہ کے دن کا انتظار کرتی ہے،اس کی یہاں مثال دی جیسے بارش کے بعد اس سے اگنے والے نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو جاتے ہیں، کھیتی پک کر زرد ہو جاتی ہے، پھر بھس بن کر رہ جاتی ہے،یہ ہیں تمہاری دنیا کی زندگی کے مراحل و مدارج!رہی آخرت کی زندگی تو اس میں دو قسم کے انجام ہیں{وَ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ} یا تو درد ناک عذاب ہے، بہت شدید سزا ہے یا پھر{ وَّ مَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانٌ یا اللہ} کی مغفرت اور رضا ہے۔تذبذب خسارے کا سودا ہے
اس آیت کو سامنے رکھو گے تویہ دنیا کی زندگی ایک دھوکہ اور فریب کے سوا اور کچھ نہیں،یہی بات فرمائی جا رہی ہے: {فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْء ٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا }جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے، بڑی سے بڑی چیز جو تمہیں دی گئی ہے یہ اس دنیا کی برتنے کی چیز ہے، ملکیت نہیں ہے، یہ کسی اور کے لیے یہیں رہ جائے گی،ویسے اصل حقیقت تو یہ ہے کہ{ وَ لِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ} آخر کار پوری نوعِ انسانی رخت سفر باندھے گی اور وراثت صرف اللہ تعالی ہی کے لیے رہ جائے گی،جب تک سوچ کا یہ اندازہ نہیں ہو گا اقامت ِ دین کی جدوجہد کی وادی میں قدم رکھنا نا سمجھی کی بات ہو جائے گی اس صورت میں انسان قدم قدم پر ٹھٹکے گا جس طرح گاڑی چلتے چلتے رک جاتی ہے، اسی طرح کا معاملہ ایسے انسان کے ساتھ ہو گا جو یک سو نہیں ہے،وہ ایک قدم آگے بڑھائے گا تو دو قدم پیچھے ہٹے گا،ذرا آگے بڑھنے کو دل چاہے گا تو دنیا پیچھے کھینچے گی،وہ حال ہو گا جس کا نقشہ سورہ نساء میں کھینچا ہے{مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآء ِ وَ لَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآء ِ} یہ منافقین کفر و ایمان کے درمیان ڈانواڈول ہو کر رہ جاتے ہیں،تذبذب میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ ہدایت کے راستہ پر چلیں یا نہ چلیں،اسی کا نقشہ سورہ حج میں اس طرح کھینچا گیا ہے{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ} کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالی کی عبادت اور پرستش کرنا تو چاہتے ہیں لیکن کنارے کنارے رہ کر منجدھار میں کودنا نہیںچاہتے،وہاں خطرہ ہے، اندیشہ ہے،اللہ تعالی کی راہ میں کنارے کنارے چلنا چاہتے ہیں،لیکن {فَاِنْ اَصَابَہ خَیْرُ اطْمَاَنَّ بِہٖ} اگر خیر وخیریت ہو، مال غنیمت مل رہا ہو، دولت بھی آ رہی ہو تو مطمئن ہیں{وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَ} اور اگر آزمائش آ گئی، کوئی کٹھن وقت آ گیا، قربانی کا مرحلہ آ گیا، مال دینا پڑے یا جان کے لیے خطرہ آ جائے تو وہ اوندھے منہ گر پڑتے ہیں،یہ ہے دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا، نقصان، خسارہ{ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ }اور درحقیقت یہی ہے اصل خسارہ۔ عزم ِمصمم درکار ہے مذکورہ بالا کردار آپ کو اپنے معاشرے میں انتہائی کثرت سے ملے گا جو یک سو نہیں ہوا ہے،ایسے لوگ خال خال ہوں گے جو طے کر لیں کہ میں تو دراصل طالب آخرت ہوں،دنیا ملتی ہے ملے، نہیں ملتی تو نہ ملے، جتنی ملے میرے رب تعالی کی عطا ہے، لیکن دنیا کسی درجے میں بھی میرے لیے مطلوب و مقصود کا درجہ نہیں رکھتی،دنیا کے سارے عزائم توقعات ختم کر کے جو شخص اس وادی میں آئے گا وہ ٹھیک ٹھاک چلے گا،لہذا جو بھی عقیدہ توحیدونبوت عملی کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی جدوجہد کرنے کا ارادہ کرے اس کا پہلا قدم اور اس کا پہلاو صف یہ ہونا چاہئے کہ اس کا ایک شعوری اور سوچا سمجھا فیصلہ ہو، عزم مصمم ہو کہ میرے نزدیک دنیا کی زندگی، اس کا مال و متاع، اس کا سازوسامان آخرت کے مقابلے میں قطعی ہیچ ہے،میری نظر میں ا سکی مکھی کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں ہے۔ علامہ محمداقبال رحمہ اللہ کا بڑا پیارا شعر ہے یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں، لا الہ الا اللہترجیحات کا مسئلہ
یہ دو چیزیں ہی تو آدمی کو روکتی ہیںسورہ توبہ میں فرمایا: {قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَ اَزْوَاجُکُمْ وَ عَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ وَ اللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ } (اے حبیب کریمﷺ )ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تمہیں اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنے بھائی، اپنی بیویاں، اپنے رشتہ دار، اپنے وہ مال جو تم نے جمع کئے ہیں، اور اپنے وہ کاروبار جو بڑی محنت سے تم نے جمائے ہیں جن کے کساد کا تمہیں اندیشہ رہتا ہے اور اپنے وہ مکان جو تم نے بڑے ارمانوں اور چاؤ کے ساتھ بنائے ہیں، اگر یہ چیزیں تمہیں محبوب تر ہیں اللہ سے، اس کے رسو ل کریمﷺسے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے تو جاؤ انتظار کرو (گومگو کی کیفیت میں مبتلا رہو،عام فہم زبان میں کہا جائے گا کہ دفع ہو جاؤ)یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنا فیصلہ سنا دے،اور اللہ تعالی ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ جب تک آدمی یہ طے نہ کر لے کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں، کام نہیں بنتا،اس آیت مبارکہ کی رو سے ہر شخص اپنے دل میں ایک ترازو نصب کرے، پھر اس کے ایک پلڑے میں آٹھ محبتیں ڈالے اور ایک پلڑے میں تین،آٹھ محبتوں میں سے پانچ کا تعلق ہے رشتہ و پیوند سے،باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں اور عزیز و اقارب، یہ ہیں رشتہ وپیوند او روہ مال جو کمائے اور جمع کئے اور وہ کاروبار جو محنت سے جمائے اور چمکائے اور وہ بلڈنگیں جو بڑے شوق سے تعمیر کرائیں، یہ تین محبتیں ہیں مال و دولت، دنیا ۔ یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ جب تک آدمی ان بتوں کو نہیں توڑ دے گا اس وقت تک وہ یہ شعوری فیصلہ نہیں کر سکے گا کہ یہ سب کچھ اس فانی دنیا کا عارضی کھیل اور کھلونے ہیں اور میں دنیا کا طالب نہیں ہوں،بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں!میں دنیا میں اجنبی اور مسافر کی حیثیت سے رہ رہا ہوں،مجھے اس دنیا کی ضرورت نہیں ہے،جو شعوری طور پر یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں تو آخرت و عاقبت کو اپنی منزل سمجھ کر اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی جدوجہد کا آغاز کر رہا ہوں تو ایسا شخص پھر اللہ تعالی کی راہ میں بڑھتا چلا جاتا ہے،آدمی رشتہ و پیوند اور مال و دولت دنیا کی آٹھ محبتوں کے مقابلے میں تین محبتیں، اللہ تعالی کی محبت، اس کے رسول کریمﷺکی محبت اور اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کی محبت ڈالے،اگر یہ پلڑا جھک جائے تو فہوالمراد، لیکن اگر آٹھ محبتیں بھاری پڑ جائیں تو اللہ کی طرف سے جھڑکی ہے:{فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہ}ٖ اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ فاسق قرار دیتا ہے:{وَ اللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ }بہتر اور باقی رہنے والی دولت
{فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْء ٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ } جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض چند روزہ زندگی کا برتنے کا سازو سامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی. دنیا کا یہ سازو سامان یا تو آپ کی زندگی میں ہی چلا جائے گا یہاں رہ جائے گا اور آپ یہاں سے روانہ ہو جائیں گے ،بہرحال ایک نہ ایک دن تو اس سے جدائی ہو گی۔جیسے سورۃ قیامہ میں فرمایا:{وَّ ظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ } {وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ }نزع کے وقت انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ اب تو جدائی ہے اور جب پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جاتی ہے تو اس وقت انسان یقینا سوچتا ہو گا کہ چاہے ساری دولت چلی جائے لیکن میں یہاں رہ جاؤں،لیکن بہرحال اس دنیا سے جدائی انسان کا مقدر ہے۔یہاں کی دولت اسے یہیں چھوڑنی ہے،رہنے والی دولت وہ ہے جو اللہ تعالی کے پاس ہے:{وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ }ترجمہ ضیاء الایمان : ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ تعالی پر توکل و اعتماد کیا، اللہ تعالی کے پاس بہت عمدہ اور باقی رہنے والا اجر ہے۔توکّل ایمان کا ثمرہ ہے
یہاں دو باتیں فرمائیں:ایمان اور اپنے رب پر توکل،جان لیجئے کہ ایمان کا سب سے بڑا ثمرہ توکل ہے، یہ یقین کہ میرے لیے کچھ نہیں ہو گا جب تک اللہ تعالی کی توفیق شامل نہ ہو،اقامت ِ دین کی جدوجہد کی راہ میں قدم بڑھانے والوں میں یہ دوسرا وصف ہونا ضروری ہے،اگر اپنی ذہانت، اپنی فطانت، اپنی صلاحیت، اپنی منصوبہ بندی، اپنے زورِ بازو پر تکیہ ہے تو سمجھ لیجئے کہ قدم رکھنے سے پہلے ہی ناکام ہو گئے،اپنی قوت کی نفی کرنا یہ ہو گا کہ میرے کئے سے کچھ نہیں ہو سکتا،میں تو اللہ تعالی کی توفیق، اللہ تعالی کی تائید، اللہ تعالی کی نصرت کے بھروسہ پر اس راہ میں قدم رکھ رہا ہوں،توکل اس کی ذات پر ہے، اپنی ذات پر نہیں، اپنے علم پر نہیں، اپنے فہم پر نہیں، اپنی محنت پر نہیں، اپنی مشقت پر نہیں، اپنی کوشش پر نہیں،کسی شے پر کوئی بھروسہ نہ ہو، صرف اللہ تعالی پر یقین ہو،توکل کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوتا جب تک کسی کام کے لیے دنیا میں جن مادی اسباب کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب آپ کے پاس ہوں اور پھر بھی آپ کو یہ یقین نہ ہو کہ ان سے کچھ ہو گا، بلکہ یقین یہ ہو کہ ہو گا وہی جو اللہ چاہے گا،دیا سلائی آپ کے پاس ہے اور سوکھا کاغذ بھی ہے، آپ جانتے ہیں کہ دنیا کاجو قانونِ طبعی ہے اور جو مادی اسباب ہیں وہ رکاو ٹ نہیں بن سکتے،آپ ماچس سے کاغذ جلا سکتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کو یقین رہے کہ میں نہیں جلا سکتا اگر اللہ تعالی نہ چاہے اور اگر اللہ تعالی چاہے تو دیا سلائی کے بغیر بھی کاغذ جل جائے گا،یہ یقین اگر نہیں ہے تو ایمان نہیں ہے،پھر تو ایمان ہے مادی اسباب و وسائل پر جن پر آپ کا اعتماد، تکیہ اور توکل ہے،اگر مادی اسباب و وسائل پر آپ کو بھروسہ اور توکل ہے تو درحقیقت آپ مومن بالمادہ ہیں،آپ کا ایمان ہے مادہ پر اور مادی، عادی اور طبعی قوانین پرجب کہ اللہ تعالی کاحکم یہ ہے کہ{اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ } اللہ تعالی ہی وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں،لہذا اہل ایمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی ہی پر بھروسہ کریں۔ عربی زبان میں حرف جار علیٰ عموماً لزوم کے لیے آتا ہے۔سورۃ طلاق میں فرمایا:{وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہ } یعنی جو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ کرے تو اس کے لیے اللہ تعالی کافی ہے،وہ ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر سے انسان کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔اگر قلبی اطمینان کی یہ کیفیت نہ ہو تو پھر ایمان کہاں رہا اوراللہ تعالی کی ذات پرتوکل کہاں رہا؟۔آیت کے مفاہیم کا حاصل
اس پہلی آیت میں جو باتیں ہمارے سامنے لائی گئیں ان میں ایک تو یہ کہ بندہ مومن کی نگاہوں میں دنیا کی کوئی وقعت نہ ہو. دوسرایہ کہ ایمان بالآخرۃ اتنا مستحضر ہو کہ اصل منزل آخرت ہی ہو جائے اور دنیا کا سارا سازوسامان صرف برتنے کی ایک چیز نظر آئے کہ یہ محض استعمال کی چیز ہے، اس سے زائد اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،تیسری یہ کہ اللہ تعالی ہی پر توکل قائم ہو چکا ہو، اللہ تعالی ہی کی رضا اور خوشنودی ہمارا مطلوب و مقصود اور نصب العین بن جائے۔ نہایت اہم ہدایات و تعلیمات! {وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ }اور وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں سے پہلوتہی کرتے ہیں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔ پہلی آیت میں تین باتیں آئی تھیں، تین اوصاف آئے تھے:دنیا کی بے مائیگی اور بے ثباتی کا یقین ہونا، آخرت کی چیزوں کا خیر اور ابقیٰ ہونے پر یقین ہونا، اور اللہ تعالی پر ایمان اور توکل ہونایہاں بھی تین باتیں آئی ہیں، تین ہی اوصاف آئے ہیں:کبیرہ گناہوں سے اجتناب، فواحش سے پرہیز اور غصہ کی حالت میں عفو و مغفرت ،لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس ترتیب کا اصل حسن کیا ہے!ان میں باہمی ربط و تعلق کیا ہے!کبائر سے اجتناب
قرآن مجید میں تین مقامات پر یہ مضمون آیا ہے کہ اگر تم کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے صغیرہ گناہوں سے درگزر فرمائے گا،یہاں لفظ اجتناب کوبھی سمجھ لیجئے،یہ لفظ جنب سے باب افتعال کا مصدر ہے،جنب پہلو کو کہتے ہیں،اجتناب کا ذکر قرآن کریم میں تین مقامات پر کیوں اور کس لیے ہے؟ غور کیجئے، ایک مزاج تو وہ ہوتا ہے کہ اصلاحِ ذات کے لیے آدمی بہت حساس ہو گیا ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی باقی نہ رہے،ہلکے سے ہلکا داغ بھی سیرت و کردار پر نہ رہے،تو ایسے شخص کی ساری عمر اسی ادھیڑ بن میں لگ جائے گی،پھر تلاش کر کے اور خوردبین لگا لگا کے دامن کے داغ دیکھنے اور انہیں دھونے میں ساری زندگی بتا دے گا،پھر بھی کوئی نہ کوئی داغ رہ جائے گا،کوئی شخص یہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ میں آج کامل ہو گیا ہوں،جس دن اس نے یہ کہا وہ دن اس کی بربادی کا ہے،کیسے کامل ہو سکتا ہے؟ کوئی نہ کوئی بشری اور طبعی کمزوری اور کوئی نہ کوئی خطا تو لگی رہے گی اور وہ زندگی بھر اسی تلاش و جستجو میں اور اس کو رگڑنے میں لگا رہے گا،لہذا ایسا شخص کبھی بھی اقامت ِ دین کی جدوجہد کی وادی میں قدم نہیں رکھ سکے گا،بلکہ اس طرف اس کا دھیان ہی نہیں جائے گا کہ یہ فرائض میں شامل ہے،انسان کے ذہن پر جب مبالغہ کے درجہ میں محض اپنی اصلاح اور سیرت کی صحت کی دھن سوار ہو جاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں رہبانیت وجود میں آجاتی ہے،پھر یہی نسلاً بعد نسل ہوتا چلا جاتا ہے کہ دامن پر کوئی چھوٹا سا داغ بھی نہ رہ جائے۔ آپ خود سوچئے کہ انسان اس طرح کا تقویٰ اپنے اوپر مسلط کر لے تو زندگی اجیرن ہو جائے گی، وہ کام کیا کرے گا؟ یہ ہوتا ہے وہ انتہا پسندانہ اور متشددانہ انداز کہ انسان اپنے دامن کے داغ دھبے ہی دھوتا رہ جاتا ہے، دین کے لیے کوئی مثبت کام نہیں کر سکتا،باطل کو چھوٹ ملی رہتی ہے کہ اس کو کوئی للکارتا ہی نہیں،اس کے لیے میدان کھلا رہتا ہے،اسی لیے تین جگہ پر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ موٹی موٹی چیزیں جو ہم نے بتائی ہیں انہیں چھوڑ دو تو چھوٹی چھوٹی خطائیں ہم معاف کر دیں گے،اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اسے کھلا لائسنس سمجھ لیں اور صغائر کرتے چلے جائیں، معاذ اللہ،یہ جو اندازِ فکر ہے کہ مجاہدہ مع النفس ہی ہوتا چلا جائے، اسی میں ساری عمر بیت جائے اور طاغوت کو میدان میں للکارنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے، دین پامال ہو رہا ہو، اس کا استہزاء و تمسخر ہو رہا ہو، شعائر دینی کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، لیکن حمیت دینی اور غیرت ایمانی جوش میں نہ آئے، غم و غصہ کی حرارت پیدا نہ ہو، باطل اور طاغوتی نظام کوبدلنے کا کوئی داعیہ نہ ابھرے، پر معصیت ماحول میں انفرادی زہد و تقویٰ ہی کو کافی سمجھا جائے، تو درحقیقت منطقی نتیجہ بن جاتا ہے اس متشددانہ اور انتہا پسندانہ نقطہ نظر کا کہ آدمی اپنی ذاتی صلاحیت اور تقویٰ میں اتنا مستغرق ہو جاتا ہے کہ اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ اللہ تعالی کا دین کس غربت اور کسمپرسی میں ہے۔ (۱)سورہ نساء کی آیت کریمہ میں فرمایا{اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ نُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا } (اے اہل ایمان!)اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے باز رہو گے، ان سے اپنا پہلو بچائے رکھو گے، ان سے اپنا دامن پاک رکھو گے جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری جو اور خطائیں، فروگذاشتیں، برائیاں اور غلطیاں ہوں گی، ہم انہیں صاف کر دیں گے ہم انہیں تمہارے نامہ اعمال میں سے ساقط کر دیں گے اور ہم تمہیں داخل کریں گے بڑی عزت اور اکرام والی جگہ میں۔ یہاں بھی کبائر سے مجتنب رہنے کا ذکر آیا ہے. اسی طرح سورہ نجم میں بھی فرمایا گیا:{اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْم} (۲)اس موقع پر یہ حدیث شریف بھی پیش نظر رہے عَنْ أَبِی سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:” أَوْحَی اللہ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنِ اقْلِبْ مَدِینَۃَ کَذَا وَکَذَا بِأَہْلِہَا، قَالَ: فَقَالَ: یَا رَبِّ إِنَّ فِیہِمْ عَبْدَکَ فُلَانًا لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، قَالَ: فَقَالَ: اقْلِبْہَا عَلَیْہِمْ، فَإِنَّ وَجْہَہُ لَمْ یَتَمَعَّرْ فِیَّ سَاعَۃً قَطُّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدناجبرئیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ فلاں فلاںبستیوں کو ان کے رہنے والوں سمیت الٹ دو، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اس پر جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار!ان میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے چشم زدن کی مدت بھی تیری معصیت میں بسر نہیں کی،حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:الٹ ڈالو نہیں پہلے اس پر، پھر دوسروں پر، اس لیے کہ اس کے چہرے کی رنگت بھی کبھی (میری غیرت و حمیت کی)وجہ سے متغیر نہیں ہوئی۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی أبو بکر البیہقی (۱۰:۶۷۴) {وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَم}جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائی، کھلے کھلے قبیح افعال سے مجتنب رہتے ہیں سوائے چھوٹے چھوٹے قصوروں کے۔ غیر ارادی طور پر کوئی خطا اور لغزش ہو گئی، کہیں پیر پھسل گیا، کبھی دل میں وسوسہ آ گیا، کسی وقت کوئی غلطی صادر ہو گئی تو جان لو کہ: {اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ ہُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ فَلَا تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی} بلاشبہ اے حبیب کریمﷺ !آپ کا رب واسع المغفرت ہے (وہ بہت معاف فرمانے والا ہے، اس کی مغفرت نہایت وسیع ہے. اور اے لوگو!) وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین میں سے اٹھایااور وہ تمہیں خوب جانتا ہے جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین کی شکل میں تھے،لہذا اپنے نفس کے تزکیہ اور پاکی کا دعویٰ نہ کرو(اللہ پر اپنے تقویٰ اور اپنی پاکدامنی کا رعب نہ گانٹھو)وہ خوب جانتا ہے کہ کس کے دل میں واقعی و حقیقی تقویٰ ہے۔ یہ بڑا تیکھا انداز ہے،خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو باریک سے باریک چھلنیوں سے چھاننے پر آ جاتے ہیںحالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اس فضا میں سانس لینا بھی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ آپ سودکے بغیرسانس بھی لے سکیں،سود اس فضا میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ سانس کے ذریعے جسم میں لازماً پہنچتاہے،حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث ہے کہ ایک زمانہ آئے گا کہ کوئی سود کھائے یا نہ کھائے اس کے غبا رسے نہیں بچ سکے گا ۔فضا غبار آلود ہو جائے تو خواہی نخواہی سانس کے ذریعے خاک اندر جائے گا نہیں؟ اس طرح سے ہمارے موجودہ اقتصادی و معاشیاتی نظام میں سود پیوست اور رچا بسا ہوا ہے۔اصل ضرورت کیا ہے؟
پرمعصیت اور طاغوتی ماحول میں اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ کبائر سے بچو، ان سے بالکلیہ اجتناب کرو،ساتھ ہی صغائر سے بھی بچنے کی فکر ہو اور اس نام کو بدلنے کی کوشش کرو،باطل سے پنجہ آزمائی کے لیے میدانِ عمل میں نکلو، منظم و متحد ہو کر اسے للکارو،خود بھی موجد بنو اور نظام کو موجد بنانے کے لیے تن من دھن لگا دو اور اگر ضرورت متقاضی ہو تو اللہ تعالی کی راہ میں اپنی گردن کٹا کر سرخرو ہو جاؤ،دین کا اصل مطالبہ اور اصل ضرورت یہ ہے،اس کا برعکس پہلو یہ ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد سے توکنی کتراؤ اور اپنے دامن کے داغ دھبے ہی دھوتے رہو، ایک دفعہ کافی نہ سمجھو تو پھر دھوؤ، پھر دھوؤ،اس طرح تو اس نظام کو بدلنے کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوگی،تم داغ دھبوں کو دھونے سے فارغ ہی نہیں ہو سکو گے کہ اس میدان میں آؤ اور باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارو یہ ہے اس جگہ پر اس اندازِ بیان کا اصل مطلب:{اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ}فواحش سے بچنے کی خصوصی تاکید
یہاں غور کیجئے کہ فواحش کا کبائر سے علیحدہ خصوصی طور پر ذکر کیوں کیا گیا ہے، اور فواحش یعنی بے حیائی کی تمام باتوں سے بچنے کی تاکید علیحدہ سے کیوں کی گئی ہے!اس لیے کہ انسانی سیرت و کردار بلکہ پورے تمدن کے بگاڑ کے لیے سب سے بڑا اندیشہ انسان کا جنسی جذبہ ہے،یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید مرد و زن کی شرم گاہ کو فرج کہتا ہے،فرج کے معنی ہیں اندیشہ کی جگہ ، خطرے کا مقام،پچھلے زمانے میں شہر کے اردگرد بڑی مضبوط فصیل بنائی جاتی تھی،دشمنوں کے حملوں سے شہر کے لیے یہ فصیل پناہ گا کا کام دیتی تھی،اگر کہیں فصیل میں دراڑ پڑ گئی تو یہ اندیشہ کی جگہ ہے، دشمن اس کے ذریعے شہر میں گھس سکتا ہے،اس دراڑ کو عربی میں فرج کہتے ہیں اسی طرح سے انسان کی سیرت و کردار کے لیے سب سے زیادہ اندیشے والی چیز درحقیقت فرج ہے،اسی لیے عصمت و عفت کی حفاظت کی قرآن مجید میں بہت زیادہ تاکید ہے۔ (۳)چنانچہ سورہ مومنون اور سورہ معارج میں ایک لفظ کے فرق کے بغیر بالکل یکساں الفاظ آئے ہیںفرمایا: {وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ }{اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ }{فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآء َ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ} وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملک یمین ہوں، ان پر ہرگز ملامت نہیں،البتہ جو اس کے علاوہ اور کچھ چاہے تو وہی لوگ زیادتی کرنے والے حد سے گزرنے والے ہیں۔ لہذا جہاں کبائر سے بچنا لازم اور ضروری ہے وہاں فواحش سے بچنا بھی لازم اور ضروری ہے چونکہ شیطان کا یہ بڑا کاری وار ہوتا ہے ۔یاد رہے کہ اس نے یہی حربہ پہلے انسانی جوڑے حضرت سیدنا آدم و حضرت سیدتناحوا علیہما السلام پر جنت میں آزمایا تھا: {یبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا} اے بنی آدم!ہوشیار رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اسی طرح فتنہ میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرم گاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھول دے. ابھی اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو رشتہ ازواج میں منسلک نہیں کیا تھا، اسی لیے ایک حدیث میں حیاء کو ایمان کا ایک شعبہ اور ایک دوسری حدیث میں حیاء کو نصف ایمان کہا گیا ہے:{اَلْحَیَاء ُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ اور اَلْحَیَاء ُ نِصْفُ الْاِیْمَانِ}ایک اور حدیث میں ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا کہ تم مجھے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز یعنی زبان اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز یعنی شرم گاہ کی ضمانت دو، یعنی اس کو اللہ کی مرضی کے خلاف استعمال نہیں کرو گے تو میں تم کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ شیطان نے قسمیں کھا کر ان دونوں کو یقین دلایا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور ان دونوں کو پھسلا کر اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کر لیا جس سے منع کیا گیا تھا،جس کے نتیجے میں ان سے جنت کا لباس اتر گیا ۔ آج پوری دنیا فحاشی، بے حیائی اور عریانی کی زد میں ہے،مادہ پرستی کے شرک کے ساتھ ساتھ عریانی و بے حیائی دجالی فتنوں میں بڑے موثر فتنے ہیں،یہی وجہ ہے کہ سورہ اعراف میں حرام چیزوں میں فواحش کو مقدم کیا گیا۔اللہ تعالی نے فرمایا:{قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ مَا بَطَنَ} (اے حبیب کریمﷺ!فرمادیں میرے رب تعالی نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ بے شرمی وبے حیائی کے کام ہیں، خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔ ترکِ فرائض بھی کبائر میں شامل ہے کبیرہ گناہوں میں شرک تو وہ گناہ ہے جس کی کسی طور پر معافی نہیں ہے:{اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ }باقی کبیرہ گناہوں میں سے چند یہ ہیں،فرائض کو ترک کر دینا کبائر میں شمار ہو جائے گانماز چھوڑی تو یہ کبیرہ گناہ ہے ،بغیر شرعی عذر کے روزہ نہیں رکھا، یہ کبیرہ گناہ ہے،اگر آپ صاحب ِ نصاب ہیں اور زکو ٰۃ نہیں دے رہے اور صاحب ِ استطاعت ہوتے ہوئے بھی حج کرنے کی کوشش نہیں کر رہے، یہ دونوں کبیرہ گناہ ہیں اقامت ِ دین کی جدوجہد فرض ہے،بالخصوص جن پر اس کی جدوجہد کا قرض ہونا واضح ہو جائے ان کا اس کو ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ قتل ناحق، سود کا لین دین، زنا اور جن کاموں کو کتاب و سنت نے واضح نصوص کے ذریعے حرام قرار دیا ہے ان میں سے کوئی کام کرنا تمام فقہی مکاتیب فکر میں ان کو کبائر میں شمار کیا گیا ہے ان سب سے ایک مسلمان کو بالکلیہ اجتناب کرنا لازم ہے ۔ان سے وہ اپنا دامن بچائے اورباقی کی ا صلاح کی بھی کوشش کرتا رہے،اس بات کا منتظر نہ رہے کہ میں جب اپنی کامل اصلاح کر لوں گا تب میں دعوت و تبلیغ اور اقامت ِ دین کی جدوجہد کے لیے میدان میں آئوں گا،ایسی صورت میں کبھی بھی اس کی نوبت نہیں آئے گی اور مہلت ِ عمر یونہی تمام ہو جائے گی۔قرآن مجید کی دعوت تو یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں سے اپنا دامن پاک کر کے میدان میں آؤ، باطل کو للکارو، اقامت ِ دین کی جدوجہد میں شامل ہو جاؤ،البتہ فحاشی کی ہر شکل اور ہر نوع سے بچو، یہ سب سے زیادہ اندیشہ کی بات ہے۔ حالت ِ غصہ میں اَنسب و اَحسن رویہ {وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ }تیسری ہدایت اور تعلیم اس بات کی دی جا رہی ہے کہ اقامت ِ دین کی جدوجہد کرنے والوں میں یہ وصف ہونا چاہئے کہ وہ کوئی کام غصہ کی حالت میں نہ کریں،یہ بات نہیں ہے کہ انسان میں غصہ نہ ہو، غصہ ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام میں تو اللہ تعالی کے لیے اور اللہ تعالی کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے تلوار ہاتھ میں لینا چوٹی کی نیکی ہے:{وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآء ِ وَ الضَّرَّآء ِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ }اور جیسے سورہ صف میں فرمایا{اِنَّ ا
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9