صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2434 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃالبقرہ آیت ۸۰ ۔ اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَاتَسْتَغْفِرْ لَہُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,551

سوال (Question):

تفسیرسورۃالبقرہ آیت ۸۰ ۔ اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَاتَسْتَغْفِرْ لَہُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لبرل ، سیکولر، منافق اورمرتداورمرزائی قادیانی کانماز جنازہ پڑھنامنع ہے

{اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَاتَسْتَغْفِرْ لَہُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاللہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ }(۸۰) ترجمہ کنزالایمان:تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہواگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انہیں نہیں بخشے گا یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اے حبیب کریم ﷺ!آپ ان کی مغفرت کی دعا مانگیں یا نہ مانگیں، اگر آپﷺ ستر بار بھی ان کی مغفرت طلب کریںگے تو اللہ تعالی ہرگز ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا ۔یہ اس لیے کہ یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺکے ساتھ کفر کیا کرتے تھے اوراللہ تعالی فاسقوں کوہدایت نہیں دیتا۔

دشمن صحابہ کی نماز جنازہ پڑھنی منع ہے

حَدَّثَنِی نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُبَیٍّ لَمَّا تُوُفِّیَ جَاء َ ابْنُہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعْطِنِی قَمِیصَکَ أُکَفِّنْہُ فِیہِ وَصَلِّ عَلَیْہِ وَاسْتَغْفِرْ لَہُ فَأَعْطَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَمِیصَہُ فَقَالَ آذِنِّی أُصَلِّی عَلَیْہِ فَآذَنَہُ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ جَذَبَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ أَلَیْسَ اللَّہُ نَہَاکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی الْمُنَافِقِینَ فَقَالَ أَنَا بَیْنَ خِیَرَتَیْنِ قَالَ اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَہُمْ فَصَلَّی عَلَیْہِ فَنَزَلَتْ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی(منافق)مرگیا تو اس کا بیٹاحضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:مجھے اپنی قمیض عنایت فرمائیں تاکہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں،نیز آپ ﷺاس کی نماز جنازہ پڑھیں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اسے اپنی قمیض دی اور فرمایا:جب جنازہ تیار ہوجائے تو مجھے اطلاع کرنا میں اس کا جنازہ پڑھوں گا۔چنانچہ انھوں نے جنازہ تیار ہونے کی آپ ﷺکو اطلاع کردی۔جب آپ ﷺنے اس پر نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ کیا تو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپﷺ کا دامن تھام کر عرض کیا:اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو منافقین کاجنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے؟آپ ﷺنے جواب دیا:مجھے دو باتوں کااختیار دیا گیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:آپﷺ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں،اگر آپ ﷺان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش کی دعا کریں گے تو اللہ انھیں ہر گز معاف نہیں فرمائے گا۔چنانچہ آپ ﷺنے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو یہ آیت نازل ہوئی:ان منافقین میں سے اگر کوئی مرجائے تو اس کی نماز نہ پڑھنا(اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہونا)۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۶۸)

کس کس کاجنازہ پڑھنامنع ہے ؟

رسول اللہ ﷺ کاکسی کاجنازہ پڑھانایہ اس کے لئے باعث رحمت ہے مگررسول اللہ ﷺ نے کئی لوگوں کاجنازہ خودنہ پڑھایااور کئی لوگوں کاجنازہ پڑھنے سے منع بھی فرمایا۔ اللہ تعالی نے منع فرمادیا {وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ} ترجمہ:اورآپﷺ ان میں سے کسی کاجنازہ نہ پڑھائیںان میں کوئی مرجائے اورنہ ہی اس کی قبرپر کھڑے ہوں ۔سورۃ التوبۃ : ۸۴) حضرت سیدی صدرالافاضل سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہے۔ اس آیت میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا ۔ مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافِر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافِر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے۔(سورۃ التوبۃ : ۸۴)

رسول اللہ ﷺ کاکسی کے جنازہ میں شرکت فرمانا باعث رحمت ہے

حَدَّثَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْفَقِیہُ بِالرَّیِّ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیمٍ، أَخْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ مَعَ جِنَازَۃٍ حَتَّی وَرَدُّوا الْبَقِیعَ، قَالَ: مَا ہَذَا؟ قَالُوا: ہَذِہِ فُلَانَۃُ مَوْلَاۃُ بَنِی فُلَانٍ فَعَرَفَہَا، فَقَالَ: ہَلَّا آذَنْتُمُونِی بِہَا، قَالُوا: دَفَنَّاہَا ظُہْرًا، وَکُنْتُ قَائِلًا نَائِمًا فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُؤْذِنَکَ بِہَا، فَقَامَ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَہُ وَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ: لَا یَمُوتُ مِنْکُمْ مَیِّتٌ إِلَّا آذَنْتُمُونِی بِہِ، فَإِنَّ صَلَاتِی لَہُمْ رَحْمَۃً۔ ترجمہ:حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بارہم ایک جنازہ کے لئے نکلے اور جنت البقیع میں آئے توایک قبردیکھی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ یہ کس کی قبرہے ؟ توہم نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ! یہ بنی فلاں کی باندی تھی، تورسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟ توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ! اس وقت دوپہر کاوقت تھااورآپﷺ آرام فرمارہے تھے ،ہم نے مناسب نہ جانااس لئے اطلاع نہ دی تورسول اللہ ﷺ قبرکے سامنے کھڑے ہوئے اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صفیں باندھیں اوررسول اللہ ﷺ نے چارتکبیریں کہیں ،پھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کومخاطب کرکے فرمایا:جب بھی کوئی فوت ہوجائے تومجھے ضروربتایاکرو کیونکہ میرامیت پرجنازہ پڑھنااس کیلئے رحمت ہے ۔ (المستدرک علی الصحیحین: أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم بن الحکم الضبی الطہمانی النیسابوری المعروف بابن البیع (۳:۶۸۲)

قدریوں کاجنازہ پڑھنے سے منع فرمایا

ثنا ابْنُ مُصَفَّی، ثنا بَقِیَّۃُ، ثنا الْأَوْزَاعِیُّ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ مَجُوسَ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ المُکَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّہِ تَعَالَی: إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوہُمْ، وَإِنْ لَقِیتُمُوہُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَیْہِمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تُصَلُّوا عَلَیْہِمْ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجابررضی اللہ عنہ نے روایت کیاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بے شک اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالی کی تقدیرکاانکارکرنے والے ہیں ، اگروہ بیمارہوجائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرنااوراگرتم کووہ ملیں تو تم ان کو سلام نہ کرنااوراگروہ مرجائیں تو تم ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا۔ (السنۃ: أبو بکر بن أبی عاصم وہو أحمد بن عمرو بن الضحاک بن مخلد الشیبانی (ا:۱۴۴)

جنازے میں شرکت نہ کرنا

ثنا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زِیَادًا أَبَا الْحَسَنِ، حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنْ عَطَاء ٍ الْخُرَاسَانِیِّ، عَنْ مَکْحُولٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِکُلِّ أُمَّۃٍ مَجُوسًا، وَإِنَّ مَجُوسَ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَدَرِیَّۃُ، فَلَا تَعُودُوہُمْ إِذَا مَرِضُوا، وَلَا تُصَلُّوا عَلَی جَنَائِزِہِمْ إِذَا مَاتُوا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہر امت میں مجوسی ہوئے ہیں بے شک میری امت کے مجوسی قدری ہیں جب یہ بیمارہوجائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرنااوراگرمرجائیں توان کے جنازے نہ پڑھنا۔ (السنۃ: أبو بکر بن أبی عاصم وہو أحمد بن عمرو بن الضحاک بن مخلد الشیبانی (ا:۱۵۱)

دشمن صحابہ کاجنازہ نہ پڑھنا

أَخْبَرَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ الْفَارِسِیُّ، قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ الْمُحَارِبِیُّ، قَالَ: ابنا الْمُحَارِبِیُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَیْدَۃَ الْحَذَّاء ِ، عَنْ عُمَرَ أَبِی حَفْصٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللَّہَ اخْتَارَنِی وَاخْتَارَ لِی أَصْحَابًا، فَجَعَلَہُمْ أَصْحَابِی، وَأَصْہَارِی، وَأَنْصَارِی، وَسَیَأْتِی قَوْمٌ مِنْ بَعْدِکُمْ یَسُبُّونَہُمْ، أَوْ قَالَ:یَنْتَقِصُونَہُمْ، فَلَا تُجَالِسُوہُمْ، وَلَا تُؤَاکِلُوہُمْ، وَلَا تُشَارِبُوہُمْ، وَلَا تُنَاکِحُوہُمْ، وَلَا تُصَلُّوا مَعَہُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَیْہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی نے ساری کائنات میں مجھے اختیارفرمایااورپھرمیرے لئے میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اختیارفرمایا۔ پھران میں میرے سسرال ،اورمیرے انصار بنائے ، اورعن قریب ایک قوم آئے گی جو میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کرے گی یافرمایا: گالیاں دے گی توتم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا، اوران کے ساتھ کھانانہ کھانا، اوران کے ساتھ بیٹھ کرپانی تک نہ پینا، اوران کے ساتھ نکاح نہ کرنااوران کے ساتھ نمازیں نہ پڑھنااورجب وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھنا۔ (السنۃ: أبو بکر أحمد بن محمد بن ہارون بن یزید الخَلَّال البغدادی الحنبلی (۲:۴۸۳)

دشمنِ عثمان کاجنازہ نہ پڑھایا

حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ البَغْدَادِیُّ، وَغَیْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا:حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ،عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ،قَالَ:أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَۃِ رَجُلٍ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ، فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا رَأَیْنَاکَ تَرَکْتَ الصَّلَاۃَ عَلَی أَحَدٍ قَبْلَ ہَذَا؟ قَالَ: إِنَّہُ کَانَ یَبْغَضُ عُثْمَانَ فَأَبْغَضَہُ اللَّہُ۔ ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ایک جنازہ لایاگیاتاکہ جنازہ پڑھایاجائے تورسول اللہ ﷺ نے اس کاجنازہ نہیں پڑھایا،رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی گئی: یارسول اللہ ﷺ! آج تک آپ ﷺنے ہر ایک کاجنازہ پڑھایاہے اس کاکیوں نہیں پڑھایا؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ یہ شخص میرے عثمان کے ساتھ بغض رکھتاتھامیرااللہ بھی اس سے ناراض ہے ۔ (سنن الترمذی: محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۵:۶۳۰)

دودرہم کے برابرخوردبردہونے پر نماز جنازہ سے انکار

عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ:أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیَّ، أَخْبَرَہُ، أَنَّ أَبَا عُمْرَۃَ مَوْلَی الْأَنْصَارِ أَخْبَرَہُ، أَنَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ یَقُولُ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِخَیْبَرَ فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَلَمْ یُصَلِّ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ، فَذَہَبُوا یَنْظُرُونَ فِی مَتَاعِہِ، فَوَجَدُوا فِیہِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ یَہُودَ مَا یُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامحمد بن یحیی بن حبان انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انصارکے غلام ابوعمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایاکہ اس نے حضرت سیدنازید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ ہم خیبر میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے ، اشجع کاایک آدمی مرگیا، نبی کریم ﷺنے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔ لوگ اس کے سامان کو دیکھنے لگے ، انہوںنے اس میںسے ایک نگینہ پایاجو یہودیوں کے پاس ہوتاتھااس کی قیمت صرف اورصرف دودرہم تھی ۔ (المصنف: أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۵:۲۴۴)

خود کشی کرنے والے کاجنازہ بھی نہ پڑھاتے

حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عِیسَی قَالَ:حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ:حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ، وَشَرِیکٌ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَہُ، فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص کاجنازہ لایاگیاجس نے خود کشی کی تھی تورسول اللہ ﷺ نے اس کاجنازہ نہیں پڑھایا۔ (سنن الترمذی: محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۳:۶۷۲)

مقروض کاجنازہ نہ پڑھاتے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلَانَ قَالَ:حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ:أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَوْہَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی قَتَادَۃَ یُحَدِّثُ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِرَجُلٍ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ، فَإِنَّ عَلَیْہِ دَیْنًا، قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ:ہُوَ عَلَیَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بِالوَفَاء ِ، قَالَ:بِالوَفَاء ِ، فَصَلَّی عَلَیْہِ۔ ترجمہ:حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایاگیاتورسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم اپنے دوست کاجنازہ اداکرلو بے شک اس پرقرض ہے، تورسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ !وہ میں اپنے ذمے لیتاہوں میں دے دوں گا،تورسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ پورااداکروگے ؟میں نے عرض کیا: یارسول اللہ !ﷺ پورااداکروں گا۔ (سنن الترمذی: محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۱:۶۳۱) جنازہ اداکرنافرض کفایہ ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ پر جنازہ پڑھنافرض نہ تھااوررسول اللہ ﷺ نے بطورتنبیہ جنازہ پڑھانے سے انکارفرمایاتھالھذامقروض کاجنازہ اداکرنامنع نہیں ۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ جنازہ پڑھانے سے منع فرماتے تھے

فِی حَدِیثِ عُمَر أَنَّہُ أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَی جِنَازَۃِ رَجُلٍ، فَمرَزَہ حُذیفۃ، کَأَنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَصُدہ عَنِ الصَّلَاۃِ عَلَیْہَا۔ ترجمہ:حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک شخص کاجنازہ پڑھانے لگے توحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پہلو میں ہاتھ مار کر ان کومنع فرمادیا۔ (تفسیر القرآن العظیم: أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۹۶) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کاعمل صاحب السر حذیفۃ فلم یکن یصلی علیہم ہو ولا یصلی علیہم من عرفہم بسبب آخر مثل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ. ترجمہ :ابن تیمیہ المتوفی ( ۷۲۸ھ) نے لکھاہے صاحب السرحضرت سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ منافقین کاجنازہ ادانہ کرتے تھے اوراسی طرح دوسروں کو بھی منع کرتے تھے جیسے حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ جیسی شخصیات کو منع کردیتے تھے ۔ (الصارم المسلول :تقی الدین أبو العباس أحمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام ابن تیمیۃ الحرانی الحنبلی الدمشقی :۲۳۲)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنازہ نہ پڑھنے کی وصیتیں کرتے تھے

وَفِی التَّوْضِیح عَن کتاب الإسفراینی:کَانَ عبد اللہ بن عمر وَابْن عَبَّاس وَابْن أبی أوفی وَجَابِر وَأنس بن مَالک وَأَبُو ہُرَیْرَۃ وَعقبَۃ بن عَامر وأقرانہم، رَضِی اللہ تَعَالَی عَنْہُم، یوضون إِلَی أخلافہم بِأَن لَا یسلمُوا علی الْقَدَرِیَّۃ وَلَا یعودوہم وَلَا یصلوا خَلفہم وَلَا یصلوا عَلَیْہِم إِذا مَاتُوا. ترجمہ: حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر وابن عباس وابن ابی اوفی وجابر وانس بن مالک وابوھریرہ وعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم اپنے بعد والوں کووصیت کرتے تھے کہ قدری بدمذہبوں کوسلام نہ کرنااوران کی مزاج پرسی نہ کرنااوران کے پیچھے نماز نہ پڑھنا جب وہ مرجائیں توا ن کاجنازہ نہ پڑھنا۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی بن أحمد بن حسین الغیتابی الحنفی بدر الدین العینی (۲۴:۸۵)

معارف ومسائل

(۱)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے دشمن اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرطعن کرنے والے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نیک اعمال کوشبہ کی نگاہ سے دیکھنے والے ایسے مجرم ہیں کہ ان کے لئے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دعابھی مفید نہیں ہے ۔ اولاًاسلام میں منافقین کے لئے دعائے مغفرت کرناممنوع نہ تھا، یہ فائدہ بھی اسی آیت کریمہ سے حاصل ہوا۔ جبکہ اس فرمان شریف کامقصدحضورتاجدارختم نبوتﷺکواس دعاکااختیاردیناہو،اس سورت میں یہ فرمان عالی منسوخ ہے اوراس کی ناسخ آگے آیت آرہی ہے ۔اس زمانہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دعاسے منافقین کو توفائدہ نہ تھامگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکو اس پراجرضرورملتاتھا۔ کیونکہ جائز دعاکرناعبادت ہے خواہ اپنے لئے ہویادوسرے کے لئے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا منکر ، اوران پرتبراکرنے والاکافرمطلق ہے ۔کیونکہ ان منافقین نے اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکاانکارنہیں کیاتھامگررب تعالی نے ان کو اپنااوراپنے حبیب کریم ﷺکاانکاری فرمایا۔اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تعالی کے نیک بندوں سے عداوت کرنے والوں کوتوبہ کی بھی توفیق نہیں ملتی ، نہ وہ بخشاجائے ۔تفسیری نعیمی (۱۰: ۴۵۶) (۲)اس آیت میں منافقوں کو نہ بخشنے کی وجہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اللہ تعالی اوررسول کریمﷺکے منکر ہیں اور جو اِن کا منکر ہو اور نبی کریمﷺاس کے لئے اپنی رحمتِ عامہ کی بنا پردعا بھی کردیں ، تب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے نہ بخشے گا۔ اِس نہ بخشنے میں حضورپُرنورﷺکی انتہائی عظمت کا اظہار ہے کہ آپ ﷺکا منکر جنت میں نہیں جاسکتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کو کسی کی دعائے مغفرت فائدہ نہیں دیتی، اس کی بخشش ناممکن ہے۔ {وَاللہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ:اور اللہ فاسقوں کوہدایت نہیں دیتا}اس سے مراد یہ ہے کہ جو ایمان سے خارج ہوں ، جب تک وہ کفر پر قائم رہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں ہدایت نہیں دیتا۔ اور جوہدایت کاارادہ کرے ، ہدایت اسے ہی ملتی ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ جبراً کسی کو ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیرصراط الجنان( ۴: ۱۹۰) (۳)جو شخص کفریہ عقائد رکھتاہو(مثلاً:حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ کو نبی ماننا ، امامت کو نبوت سے افضل ماننا،حضرت سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا، حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرنا وغیرہ)، اس کی نمازِ جنازہ پڑھنایا پڑھانا سنی مسلمان کے لیے حرام ہے، جو شخص اس کے کفریہ عقائد سے مطلع ہونے کے باوجود جائز سمجھتے ہوئے اس کی نماز جنازہ پڑھے یا پڑھائے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا اور اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر توبہ کرنے کے بعد تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدیدِ نکاح بھی کرے۔البتہ اگر کوئی شخص کسی کے کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہو یا مطلع ہونے کے باوجود ناجائز سمجھتے ہوئے کسی لالچ کی وجہ سے یا سیاسۃً و رسماً نمازِ جنازہ پڑھے تو وہ دائرہ اسلام سے تو خارج نہیں ہوگا، لیکن حرام فعل کے ارتکاب کی وجہ سے اس کے فاسق و فاجر بننے میں کوئی شک نہیں ہوگا۔ (۴)اسی طرح لبرل وسیکولرشخص جو کہ اسلامی شعائرکاسرعام مذاق اڑاتے ہیں اوربہت سے احکامات شرع جو ان کی سمجھ میں نہیں آتے ان کابھی انکارکردیتے ہیں ایسے تمام لوگوں کاجنازہ پڑھنابھی منع ہے کیونکہ یہ لوگ زندیق ہیں ۔ ہم آگے چل کران کاحکم شرعی بیان کریں گے ۔ (۵)اس آیت سے معلوم ہو اکہ اگر کوئی کافر مر جائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کے مرنے پر نہ اس کے لئے دعا کرے اور نہ ہی ا س کی قبر پر کھڑا ہو۔ افسوس!فی زمانہ حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ملک میں کوئی بڑا کافر مر جاتا ہے تو مسلمانوں کی سربراہی کے دعوے دار اس کے مرنے پر اس طرح اظہارِ افسوس کرتے ہیں جیسے اِ ن کا کوئی اپنا بڑا فوت ہوگیا ہو اور اگر اس کی قبر بنی ہو تو اس پر کھڑے ہو کر دعا ئیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا بالکل حرام ہے۔ آیت کی مناسبت سے ہم یہاں کافر،فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل ذکر کرتے ہیں (۱)… اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اوریہ جو فرمایا ’’اور فسق ہی میں مرگئے‘‘ یہاں فسق سے کفر مراد ہے قرآنِ کریم میں اور جگہ بھی فسق بمعنی کفر وارد ہوا ہے جیسے کہ آیت {اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا }(توکیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو نافرمان ہے)میں۔ (۲)… فاسق کے جنازے کی نماز جائز بلکہ فرضِ کِفایہ ہے ،اس پر صحابہ اور تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اجماع ہے اور اس پر علماء و صالحین کا عمل اور یہی اہلِ سنت و جما عت کا مذہب ہے۔ (۳)… جب کوئی کافر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیے کہ بطریق مَسنون غسل نہ دے بلکہ اس پر پانی بہا دے اور نہ کفن مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے اس کا ستر چھپ جائے اور نہ سنت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنت قبر بنائے ،صرف گڑھا کھود کر اندر رکھ دے ۔(تفسیرصراط الجنان(۴: ۲۰۰)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh