Fatwa #2437
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۱۰۰۔ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسٰنٍ رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,869
سوال (Question):
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۱۰۰۔ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسٰنٍ رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سابقون ،اولون ، مہاجرون اورانصارکی عظمت وفضیلت کابیان اوران کے منکرین کے لئے وعیدشدیدکابیان
{وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسٰنٍ رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَ اَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ }(۱۰۰) ترجمہ کنزالایمان:اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سابقینِ اولین اوردوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان سابقین اولین کی پیروی کرنے والے ہیں ،ان سب سے اللہ تعالی راضی ہوگیا اور یہ اللہ تعالی سے راضی ہیں اور اللہ تعالی نے ان کیلئے باغات تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ ترتیب مراتب کے متعلق نہایت اہم کلام نَصُّ الْقُرْآنِ عَلَی تَفْضِیلِ السَّابِقِینَ الْأَوَّلِینَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ وَہُمُ الَّذِینَ صَلَّوْا إِلَی الْقِبْلَتَیْنِ، فِی قَوْلِ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَطَائِفَۃٍوَفِی قَوْلِ أَصْحَابِ الشَّافِعِیِّ ہُمُ الَّذِینَ شَہِدُوا بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ، وَہِیَ بَیْعَۃُ الْحُدَیْبِیَۃِ، وَقَالَہُ الشَّعْبِیُّ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ وَعَطَاء ِ بْنِ یَسَارٍ:ہُمْ أَہْلُ بَدْرٍ.وَاتَّفَقُوا عَلَی أَنَّ مَنْ ہَاجَرَ قَبْلَ تَحْوِیلِ الْقِبْلَۃِ فَہُوَ مِنَ (الْمُہَاجِرِینَ الْأَوَّلِینَ مِنْ غَیْرِ خِلَافٍ بَیْنَہُمْ أَمَّا أَفْضَلُہُمْ وَہِیَ:الثَّالِثَۃُفَقَالَ أَبُو مَنْصُورٍ الْبَغْدَادِیُّ التَّمِیمِیُّ: أَصْحَابُنَا مُجْمِعُونَ عَلَی أَنَّ أَفْضَلَہُمُ الْخُلَفَاء ُ الْأَرْبَعَۃُ، ثُمَّ السِّتَّۃُ الْبَاقُونَ إِلَی تَمَامِ الْعَشَرَۃِ، ثُمَّ الْبَدْرِیُّونَ ثُمَّ أَصْحَابُ أُحُدٍ ثُمَّ أَہْلُ بَیْعَۃِ الرِّضْوَانِ بِالْحُدَیْبِیَۃِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ٭…حضرت سیدناسعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ کافرمان شریف ہے کہ مہاجرین وانصارمیں سے {وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ}کوفضیلت دینے پرقرآن کریم کی نص موجود ہے اوروہ لوگ ہیں جنہوںنے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نمازپڑھی ٭…حضرت سیدناامام شافعی رضی اللہ عنہ اورآپ کے اصحاب فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جوبیعت رضوان والے ہیں اوربیعت رضوان والے اصحاب کو بیعت حدیبیہ بھی کہاجاتاہے ۔ ٭…امام الشعبی اورمحمدبن کعب اورعطابن یسارکاقول ہے کہ اس سے مراد اہل بدرہیں۔ اورتمام کااس پراتفاق ہے کہ جس نے تحویل قبلہ سے پہلے ہجرت کی تووہ مہاجرین اولین میں سے ہے ، اس میں ان کے درمیان کوئی اختلات نہیں ہے اوررہے ان میں سے افضل تووہ یہ ترتیب ہے : ٭…امام ابومنصوربغدادی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہماے ا صحاب نے اس پراجماع کیاہے کہ ان میں افضل خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم ہیں ، پھرباقی چھے عشرہ مبشرہ کی تکمیل تک ، پھراصحاب بدر، پھراصحاب احد، پھربیعت رضوان والے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۳۳۶)سب سے بڑے مہاجرسب سے افضل
فَوَجَبَ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ مِنْہُ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ فِی الْہِجْرَۃِ وَالنُّصْرَۃِإِزَالَۃً لِلْإِجْمَالِ عَنِ اللَّفْظِ، وَأَیْضًا فَالسَّبْقُ إِلَی الْہِجْرَۃِ طَاعَۃٌ عَظِیمَۃٌ مِنْ حَیْثُ إِنَّ الْہِجْرَۃَ فِعْلٌ شَاقٌّ عَلَی النَّفْسِ، وَمُخَالِفٌ لِلطَّبْعِ، فَمَنْ أَقْدَمَ عَلَیْہِ أَوَّلًا صار قدوۃ لغیرہ من ہَذِہِ الطَّاعَۃِ، وَکَانَ ذَلِکَ مُقَوِّیًا لِقَلْبِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ، وَسَبَبًا لِزَوَالِ الْوَحْشَۃِ عَنْ خَاطِرِہِ، وَکَذَلِکَ السَّبْقُ فِی النُّصْرَۃِ، فَإِنَّ الرَّسُولَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، فَلَا شَکَّ أَنَّ الَّذِینَ سَبَقُوا إِلَی النُّصْرَۃِ وَالْخِدْمَۃِ، فَازُوا بِمَنْصِبٍ عَظِیمٍ، فَلِہَذِہِ الْوُجُوہِ یَجِبُ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ فِی الْہِجْرَۃِ.إِذَا ثَبَتَ ہَذَا فَنَقُولُ:إِنَّ أَسْبَقَ النَّاسِ إِلَی الْہِجْرَۃِ ہُوَ أَبُو بَکْرٍ، لِأَنَّہُ کَانَ فِی خِدْمَۃِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ، وَکَانَ مُصَاحِبًا لَہُ فِی کُلِّ مَسْکَنٍ وَمَوْضِعٍ، فَکَانَ نَصِیبُہُ مِنْ ہَذَا الْمَنْصِبِ أَعْلَی مِنْ نَصِیبِ غَیْرِہِ، وَعَلِیٌّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، وَإِنْ کَانَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ الْأَوَّلِینَ إِلَّا أَنَّہُ إِنَّمَا ہَاجَرَ بَعْدَ ہِجْرَۃِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ، وَلَا شَکَّ أَنَّہُ إِنَّمَا بَقِیَ بِمَکَّۃَ لِمُہِمَّاتِ الرَّسُولِ إِلَّا أَنَّ السَّبْقَ إِلَی الْہِجْرَۃِ إِنَّمَا حَصَلَ لِأَبِی بَکْرٍ، فَکَانَ نَصِیبُ أَبِی بَکْرٍ مِنْ ہَذِہِ الْفَضِیلَۃِ أَوْفَرَ، فَإِذَا ثَبَتَ ہَذَا صَارَ أَبُو بَکْرٍ مَحْکُومًا عَلَیْہِ بِأَنَّہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، وَرَضِیَ ہُوَ عَنِ اللَّہِ، وَذَلِکَ فِی أَعْلَی الدَّرَجَاتِ مِنَ الْفَضْلِ۔فَصَارَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ مِنْ أَدَلِّ الدَّلَائِلِ عَلَی فَضْلِ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، وَعَلَی صِحَّۃِ إِمَامَتِہِمَا. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تولازم ہے کہ سابقون اولون سے مرادہجرت کرنے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی مددکرنے میں سبقت لے جانے والے ہوں ،یہ الفاظ اجمال کاازالہ ہے ۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہجرت میں سبقت یوں عظیم طاعت ہے کہ ہجرت نفس پرشاق فعل اورطبیعت کے مخالف ہے ، جنہوں نے اولاً اس پراقدام کیاوہ اس طاعت میں دوسروں کے لئے پیشوابنے ، تووہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے قلب اطہرکے لئے طاقت دینے والااورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے قلب سے وحشت وغم کودورکرنے کاسبب بنا، اسی طرح حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی مددمیں سبقت لے جاناہے ۔ کیونکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺجب مدینہ منورہ تشریف لائے توبلاشبہ جولوگ تعاون وخدمت میں پہل کرنے والے تھے وہ منصب پاگئے ۔ ان وجوہات کی بناء پریہ لازم ہے کہ ہجرت میں پہل کرنے والے مرادہوں توسنیے :ہجرت میں سب سے سبقت لے جانے والے حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی خدمت میں مکہ مکرمہ اورسفرمیں ساتھ رہے توان کاحصہ دوسروں کے حصہ سے اعلی ہے ، حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ اگرچہ اولین مہاجرین میں سے ہیں مگرانہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بعد ہجرت کی ، بلاشبہ وہ مکہ مکرمہ میں اہم معاملات کی وجہ سے رکے توہجرت میں سبقت حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کاحصہ اس فضیلت میں دوسروں سے وافرہے۔ جب یہ ثابت ہے توحضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اس فضیلت میں سب سے اعلی درجہ پرہیں کہ یہ اللہ تعالی سے راضی اوراللہ تعالی ان سے راضی ۔ جب یہ ثابت ہے تولازم ہے کہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بعدامام برحق ہوں۔پس یہ آیت کریمہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ حضرت سیدناابوبکروعمررضی اللہ عنہماتمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں افضل ہیں اوریہی آیت کریمہ ان دونوں کی خلافت کی صحت پردلالت کرتی ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۱۲۷) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرطعن سخت حرام ہےامام محمدبن کعب القرظی رضی اللہ عنہ کافرمان شریف
رُوِیَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ زِیَادٍ أَنَّہُ قَالَ: قُلْتُ یَوْمًا لِمُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ أَلَا تُخْبِرُنِی عَنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِیمَا کَانَ بَیْنَہُمْ، وَأَرَدْتُ الْفِتَنَ، فَقَالَ لِی: إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَدْ غَفَرَ لِجَمِیعِہِمْ، وَأَوْجَبَ لَہُمُ الْجَنَّۃَ فِی کِتَابِہِ، مُحْسِنُہُمْ وَمُسِیئُہُمْ، قُلْتُ لَہُ:وَفِی أَیِّ مَوْضِعٍ أَوْجَبَ لَہُمُ الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّہِ! أَلَا تَقْرَأُ قَوْلَہُ تَعَالَی: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہاجِرِینَ وَالْأَنْصارِ إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ؟ فَأَوْجَبَ اللَّہُ لِجَمِیعِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلَامُ الْجَنَّۃَ وَالرِّضْوَانَ۔وَشَرَطَ عَلَی التَّابِعِینَ شَرْطًا شَرَطَہُ عَلَیْہِمْ. قُلْتُ: وَمَا ذَاکَ الشَّرْطُ؟ قَالَ: اشْتَرَطَ عَلَیْہِمْ أَنْ یَتَّبِعُوہُمْ بِإِحْسَانٍ فِی الْعَمَلِ، وَہُوَ أَنْ یَقْتَدُوا بِہِمْ فِی أَعْمَالِہِمُ الْحَسَنَۃِ، وَلَا یَقْتَدُوا بِہِمْ فِی غَیْرِ ذَلِکَ، أَوْ یُقَالُ: الْمُرَادُ أَنْ یَتَّبِعُوہُمْ بِإِحْسَانٍ فِی الْقَوْلِ، وَہُوَ أَنْ لَا یَقُولُوا فِیہِمْ سُوء ًا، وَأَنْ لَا یُوَجِّہُوا الطَّعْنَ فِیمَا أَقْدَمُوا عَلَیْہِ. قَالَ حُمَیْدُ بْنُ زِیَادٍ: فَکَأَنِّی مَا قَرَأْتُ ہَذِہِ الْآیَۃَ قَطُّ!. ترجمہ:امام حمیدبن زیادرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضر ت سیدنامحمدبن کعب القرظی رحمہ اللہ تعالی سے سوال کیاکہ آپ مجھے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بارے میں بتائیں گے جو ان کے درمیان اختلافات تھے ؟ توفرمانے لگے کہ اللہ تعالی نے ان تمام کو بخش دیااوراپنی کتاب میں ان کے لئے جنت لازم کردی ،وہ جیسے بھی تھے ۔ میں نے ان سے سوال کیاکہ قرآن کریم میں کس جگہ یہ مسئلہ بیان ہواہے ؟ توفرمانے لگے کہ کیاتم نے اللہ تعالی کایہ فرمان شریف {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہاجِرِینَ وَالْأَنْصارِ }نہیں پڑھا؟اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے جنت اوراپنی رضالازم فرمادی ہے اورتابعین کے لئے ایسی شرط لگائی ہے جوان پرہے میںنے سوال کیاکہ وہ شرط کونسی ہے ؟ توفرمانے لگے کہ ان پریہ شرط لگائی کہ وہ عمل میں احسان کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع کریں ۔ اس کامفہوم یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اچھے اعمال میں ان کی اتباع کریں اوران کے علاوہ میں ان کی اتباع نہ کریں ۔ یایوں کہاجائے کہ مراد یہ قول ہے کہ احسان کے ساتھ ان کی اتباع یہ ہے کہ ان کے بارے میں کوئی براجملہ نہ کہے اوران کے اقدامات پرطعن نہ کرے ۔شیخ حمیدبن زیادرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ گویاکہ میں نے پہلے یہ آیت کریمہ پڑھی ہی نہ تھی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۱۲۷)اہل ایمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاذکرخیراچھے الفاظ میں کرتے ہیں
وَالَّذِینَ اتَّبَعُوہُمْ بِإِحْسانٍ قَالَ عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عنہم: یُرِیدُ، یَذْکُرُونَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارَ بِالْجَنَّۃِ وَالرَّحْمَۃِ وَالدُّعَاء ِ لَہُمْ، وَیَذْکُرُونَ مَحَاسِنَہُمْ، وَقَالَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی وَالَّذِینَ اتَّبَعُوہُمْ بِإِحْسَانٍ عَلَی دِینِہِمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْآیَۃَ دَلَّتْ عَلَی أَنَّ مَنِ اتَّبَعَہُمْ إِنَّمَا یَسْتَحِقُّونَ الرِّضْوَانَ وَالثَّوَابَ، بِشَرْطِ کَوْنِہِمْ مُتَّبِعِینَ لَہُمْ بِإِحْسَانٍ، وَفَسَّرْنَا ہَذَا الْإِحْسَانَ بِإِحْسَانِ الْقَوْلِ فِیہِمْ، وَالْحُکْمُ الْمَشْرُوطُ بِشَرْطٍ، یَنْتَفِی عِنْدَ انْتِفَاء ِ ذَلِکَ الشَّرْطِ، فَوَجَبَ أَنَّ مَنْ لَمْ یُحْسِنِ الْقَوْلَ فِی الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ لَا یَکُونُ مُسْتَحِقًّا لِلرِّضْوَانِ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی، وَأَنْ لَا یَکُونَ مِنْ أَہْلِ الثَّوَابِ لِہَذَا السَّبَبِ، فَإِنَّ أَہْلَ الدِّینِ یُبَالِغُونَ فِی تَعْظِیمِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا یُطْلِقُونَ أَلْسِنَتَہُمْ فِی اغْتِیَابِہِمْ وَذِکْرِہِمْ بِمَا لَا ینبغی. ترجمہ :حضرت سیدناعطاء رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضر ت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ امکان یہ ہے کہ لوگ مہاجرین وانصارصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاذکرجنت ورحمت اوران کے لئے دعاسے اوران کے محاسن کاذکرکریں۔ دوسری روایت میں یہ بیان کیاگیاہے کہ لوگ قیامت تک ان کی دین میں اتباع کریں ، یہ آیت کریمہ اس پردلالت کرتی ہے کہ ان کی اتباع کرنے والے رضاوثواب کے مستحق بنیں گے بشرطیکہ وہ بھلائی میں ان کی اتباع کریں ۔ ہم نے اس احسان کی تفسیران کے بارے میں اچھے قول سے کی تھی اورحکم شرط کے ساتھ مشروط ،شرط کی نفی سے ختم ہوجاتاہے توضروری ہے کہ جو مہاجرین وانصار رضی اللہ عنہم کے بارے میں اچھی بات نہ کریں وہ اللہ تعالی کی رضاکے مستحق نہیں ہونگے ۔ اورنہ ہی وہ اس وجہ سے اہل ثواب ہوں گے کیونکہ اہل دین توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوب تعظیم کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی غیبت میں زبان نہیں کھولتے اورغیرمناسب الفاظ کے ساتھ ذکرنہیں کرتے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۱۲۷)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پراعتراض نہ کریں
شرط علیہم أن یتبعوہم بإحسان وہو أن یقتدوا بہم فی أعمالہم الحسنۃ ولا یقتدوا بہم فی غیر ذلک أو یقال: ہو أن یتبعوہم بإحسان فی القول وأن لا یقولوا فیہم سوء ا وأن لا یوجہوا الطعن فیما أقدموا علیہ۔ ترجمہ :امام شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی المتوفی:۱۲۷۰ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان پریہ شرط عائد کی کہ مہاجرین وانصارصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہراچھی اورنیک خصلت میں پیروی کریں اورایک قول یہ ہے کہ احسان یعنی ان کاذکرخیرکے ساتھ کریں اوران کی اتباع کریں اوران کے بارے میں گستاخانہ بات نہ کہیں اورنہ ہی ان پرکوئی اعتراض کریں۔ (روح المعانی: شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۶:۹)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ ساری دنیامیں سب سے بڑے ذلیل ہیں
فَیَا وَیْلُ مَنْ أَبْغَضَہُمْ أَوْ سَبَّہُمْ أَوْ أَبْغَضَ أَوْ سَبَّ بَعْضَہُمْ، وَلَا سِیَّمَا سَیِّدُ الصَّحَابَۃِ بَعْدَ الرَّسُولِ وَخَیْرُہُمْ وَأَفْضَلُہُمْ أَعْنِی الصِّدِّیقَ الْأَکْبَرَ وَالْخَلِیفَۃَ الْأَعْظَمَ أَبَا بَکْرِ بْنَ أَبِی قُحَافَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، فَإِنَّ الطَّائِفَۃَ الْمَخْذُولَۃَ مِنَ الرَّافِضَۃِ یُعَادُونَ أَفْضَلَ الصَّحَابَۃِ وَیُبْغِضُونَہُمْ وَیَسُبُّونَہُمْ عِیاذًا بِاللَّہِ مِنْ ذَلِکَ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ عُقُولَہُمْ مَعْکُوسَۃٌ وَقُلُوبَہُمْ مَنْکُوسَۃٌ، فَأَیْنَ ہَؤُلَاء ِ مِنَ الْإِیمَانِ بِالْقُرْآنِ إِذْ یَسُبُّونَ مَنْ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ؟ وَأَمَّا أَہْلُ السُّنَّۃِ فَإِنَّہُمْ یَتَرَضُّونَ عَمَّنْ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَیَسُبُّونَ مَنْ سَبَّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ، وَیُوَالُونَ مَنْ یُوَالِی اللَّہَ وَیُعَادُونَ مَنْ یُعَادِی اللَّہَ وہم متبعون لا مبتدعون ویقتدون ولا یبتدئون، وَلِہَذَا ہُمْ حِزْبُ اللَّہِ الْمُفْلِحُونَ وَعِبَادُہُ الْمُؤْمِنُونَ. ترجمہ:حافظ ابن کثیرالحنبلی المتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ افسوس ان پرہے ، خانہ خراب ، کمینے وہ ہیں جوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں ، ان کو براکہتے ہیں ، یاان میں سے کسی ایک کوبھی براکہیں یاان سے دشمنی رکھیں ، خصوصاًتمام صحابہ کرام انصارومہاجرین کے سردارسب سے بہتراورافضل حضرت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ جوکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے خلیفہ اعظم ہیں سے بھی بغض رکھے یاان کی شان میں گستاخی کاکلمہ بولے ، اللہ تعالی ا س سے ناراض ہے ، ساری مخلوق میں ذلیل رافضیوں کابدترین گروہ افضل الصحابہ کوبراکہتاہے ، ان سے دشمنی رکھتاہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ یہی بات دلیل ہے اس پرکہ رافضی سب کے سب پاگل ہیں اوران کے دل اوندھے ہوچکے ہیں ، انہیں قرآن کریم پرایمان نہیں ہے ، جب کہ یہ کمینے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتے ہیں ، جن کے بارے میں قرآن کریم اللہ تعالی کی رضامندی کااظہارکھلے لفظوں میں کرتاہے ، رضی اللہ عنہم اجمعین ، ہاں اہل سنت وجماعت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خوش ہیں جن سے اللہ تعالی راضی ہے اوران کو براکہتے ہیں جنہیں اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺنے براکہا، اللہ تعالی کے دوستوں سے اہل سنت محبت کرتے ہیں ، اللہ تعالی کے دشمنوں کے وہ بھی دشمن ہیں ، وہ متبع ہیں مبتدع نہیں ہیں ، وہ پیروی اوراتباع کرتے ہیں نافرمانی اورخلاف نہیں کرتے ، یہی جماعت اللہ تعالی سے کامیابی حاصل کرنے والی ہے اوریہی اللہ تعالی کے سچے بندے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۷۸)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9