صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2443 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۱۲۲۔ وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً  فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,505

سوال (Question):

تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۱۲۲۔ وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً  فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہرطالب علم مجاہد فی سبیل اللہ بھی ہوناچاہئے

{وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً  فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ }(۱۲۲) ترجمہ کنزالایمان: اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے  ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب جہاد کے لئے نکلیں تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔ آیت کریمہ کامطلب (وَما کانَ الْمُؤْمِنُونَ) ہی أَنَّ الْجِہَادَ لَیْسَ عَلَی الْأَعْیَانِ وَأَنَّہُ فَرْضُ کِفَایَۃٍ کَمَا تَقَدَّمَ، إِذْ لَوْ نَفَرَ الْکُلُّ لَضَاعَ مَنْ وَرَاء َہُمْ مِنَ الْعِیَالِ، فَلْیَخْرُجْ فَرِیقٌ مِنْہُمْ لِلْجِہَادِ وَلْیُقِمْ فَرِیقٌ یَتَفَقَّہُونَ فِی الدِّینِ وَیَحْفَظُونَ الْحَرِیمَ، حَتَّی إِذَا عَادَ النَّافِرُونَ أَعْلَمَہُمُ الْمُقِیمُونَ مَا تَعَلَّمُوہُ مِنْ أَحْکَامِ الشَّرْعِ، وَمَا تجدد نزول عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ. ترجمہ : امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۷۶۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {وَما کانَ الْمُؤْمِنُونَ}بات یہ ہے کہ جہاد فرض عین نہیں ہے بلکہ جہاد کرنافرض کفایہ ہے جیساکہ پہلے بھی بیان کیاجاچکاہے لھذاایسانہیں ہے کہ سارے مومن جہادکے لئے نکل کھڑے ہوں کیونکہ اگرتمام کے تمام جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوں گے تو ان کے پیچھے ان کے اہل وعیال ضائع ہوجائیں گے ، ہلاک ہوجائیں گے ۔ پس ان پرلازم ہے کہ ان میں سے ایک فریق جہاد کے لئے نکلے اوردوسرافریق مقیم رہے تاکہ وہ دین متین میں تفقہ حاصل کرے اوروہ حرام کی ہوئی اشیاء کوخوب یادکرلیں ، یہاں تک کہ جب جہا دپرجانے والے لوٹ کرآئیں تومقیم رہنے والے انہیں وہ بتائیں جواحکامات شرع میں انہوںنے سیکھے ہیں اوروہ جن کانزول حضورتاجدارختم نبوتﷺپرہواہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۲۹۳)

کب جہاد فرض عین ہوتاہے ؟

وَہَذَا کُلُّہُ فِی الِانْبِعَاثِ إِلَی غَزْوِ الْعَدُوِّ عَلَی الدُّخُولِ فِی الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا إِذَا أَلَمَّ الْعَدُوُّ بِجِہَۃٍ فَیَتَعَیَّنُ عَلَی کل أحد القیام بذنبہ وَمُکَافَحَتِہِ۔ ترجمہ :امام أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی المتوفی: ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ پوری ترتیب اس طرح ہے کہ جب اہل اسلام کافروں تک اسلام پہنچانے کے لئے ان کے علاقوں اورملکوں پرجہاد کررہے ہوں ، اگردشمن اہل اسلام کی جانب بڑھنے کاارادہ کرلے توپھرہرہرمسلمان پرجہاد کرنامسلمانوں کے دفاع کے لئے جہاد کرنالازم ہوجائے گا۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف أثیر الدین الأندلسی(۵:۵۲۳)

علم کو ادلہ کے ساتھ طلب کرنالازم ہے

قُلْتُ: قَوْلُ مُجَاہِدٍ وَقَتَادَۃَ أَبْیَنُ، أَیْ لِتَتَفَقَّہَ الطَّائِفَۃُ الْمُتَأَخِّرَۃُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّفُورِ فِی السَّرَایَا وَہَذَا یَقْتَضِی الْحَثَّ عَلَی طَلَبِ الْعِلْمِ وَالنَّدْبِ إِلَیْہِ دُونَ الْوُجُوبِ وَالْإِلْزَامِ، إِذْ لَیْسَ ذَلِکَ فِی قُوَّۃِ الْکَلَامِ، وَإِنَّمَا لَزِمَ طَلَبُ الْعِلْمِ بِأَدِلَّتِہِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں کہتاہوں حضرت سیدنامجاہداورقتادہ رضی اللہ عنہماکاقول زیابہ بین اورواضح ہے یعنی تاکہ وہ گروہ تفقہ حاصل کرے جوسرایامیں جانے سے رک گئے ہیں اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت اقدس میں حاضررہے اوریہ طلب علم پرابھارنے اوراس کے مندوب ہونے کاتقاضاکرتاہے نہ کہ وجوب کااورلازم ہونے کاتقاضاکرتاہے کیونکہ کلام قوت میں نہیں ہے بلاشبہ علم کو اس کے ادلہ کے ساتھ طلب کرنالازم ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۲۹۳)

سب سے افضل جہاد

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:أَفْضَلُ الْجِہَادِ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا یُعَلِّمُ فِیہِ الْقُرْآنَ وَالْفِقْہَ وَالسُّنَّۃَ. ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ سب سے افضل جہاد اس شخص کاہے جس نے مسجد تعمیرکی اورپھراس میں قرآن کریم ، حدیث شریف اورفقہ کی تعلیم دی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۲۹۳)

خوشامسجد ومدرسہ وخانقاہ

عَنْ عَلِیٍّ الْأَزْدِیِّ قَالَ: أَرَدْتُ الْجِہَادَ فَقَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی مَا ہُوَ خیر لک من الجہاد، تأتی مسجدا فتقری فِیہِ الْقُرْآنَ وَتُعَلِّمُ فِیہِ الْفِقْہَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعلی الازدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے جہاد پرجانے کاارادہ کیاتوحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایاکہ میں تجھے جہادسے بھی افضل عمل پررہنمائی نہ کروں؟تم جاکرمسجدمیں بیٹھواوروہاں لوگوںکو قرآن کریم کی تعلیم دواورفقہ پڑھائو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۲۹۳)

استاد تعلیم دین کے وقت کیانیت کرے؟

فکل مرشد من الورثۃ ینبغی ان یکون غرضہ اقامۃ جاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتعظیمہ بتکثیر اتباعہ وقد قال (انی مکاثر بکم الأمم) ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہرعالم دین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی دینی خدمات میں یہ نیت کرے کہ میری خدمت اسلامی سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وجاہ اورکمال ومرتبہ میں اضافہ ہوکیونکہ جس قدرکثیرالتعدادافراد علماء کرام کے فرمانبردارہوں گے اسی قدرحضورتاجدارختم نبوتﷺکوقیامت کے دن راحت اورخوشی حاصل ہوگی ۔ چنانچہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: بے شک میں قیامت کے دن کثیرفرمانبرداروں کی وجہ سے دوسری امتوں پرفخرکروں گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۵۳۷)

دینی طالب علم کی شان

وفی الحدیث (من أحب ان ینظر الی عتقاء اللہ من النار فلینظر الی المتعلمین فو الذی نفسی بیدہ ما من متعلم یختلف الی باب العالم الا کتب اللہ لہ بکل قدم عبادۃ سنۃ وبنی لہ بکل قدم مدینۃ فی الجنۃ ویمشی علی الأرض والأرض تستغفر لہ ویمشی ویصبح مغفورا لہ وشہدت لہ الملائکۃ بانہ من عتقاء اللہ من النار۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جسے یہ خواہش ہوکہ وہ دوزخ سے آزادشدہ لوگوںکودنیامیں دیکھے تواسے چاہئے کہ میرے دین کے طلبہ کی زیارت کرے ، بخداوہ طالب علم جو اپنے استاد گرامی کے ہاں درس گاہ یاان کے گھرکی حاضری دیتاہے تواسے ایک سال کی عبادت کاثواب نصیب ہوتاہے اوراس کے ایک قدم پربہشت میں اس کے لئے ایک شہرتیارہوگااوروہ زمین پرچلتاہے توزمین اسے دعائیں دیتی ہے اورہرشام وسحراس کی مغفرت کااعلان ہوتاہے اورفرشتے گواہی دیتے ہیں کہ یہ دین کا طالب علم دوزخ سے آزادہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۵۳۷)

 مدرسہ کی روٹی اور بقائے تہذیب اسلامی!

مفتی عبیدالرحمن شاہجہانپوری حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ مدرسہ کی روٹی مغربی سرمایہ دارانہ تہذیب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ۔مولوی تہذیب اسلامی کا ’’منصب‘‘ہے سرمایہ دارانہ نظام کا ’’طبقہ‘‘ نہیں۔مولوی و مدرسہ کی کرامت کہ دینی اخلاقیات کا سرمایہ دارانہ اخلاقیات سے اختلاط نہ ہوسکا۔مولوی و مدرسہ کی روٹی مادہ پرستی کے اس تعفن زدہ ماحول میں عملاً ’’برہان زہد‘‘ہے۔

تاثر مہ خانہ افرنگ

تہذیب مغرب نے اپنے مخصوص سرمایہ دارانہ تصورِ علم و معاش کے تناظر میں اپنے مہ خانہ افرنگ کی جو سوغات مسلم سماج میں متعارف کرائی ہیں ان میں سرفہرست یہ حقارت آمیز تاثرِ افرنگ ہے کہ مولوی مدرسہ کی روٹی کھاتا ہے۔ایسے میں ناقدین کا مطالبہ یہ ہے کہ مولوی اپنی تہذیبی بنیاد پرستی کو ترک کرکے افادیت پرستی( (Utilitarianismکو اختیار کرے، اپنے تئیں تقدیر پر تدبیر کو ترجیح دے اور یوں سرمایہ دارانہ اقدار کے شانہ بشانہ مستقبل پرست( (Futuristicہونے کے لئے مفاد و موقع پرستی( (Opportunismکی سرمایہ دارانہ فکری نفسیات کو قبول کرے!

محلات فرعون میں بیٹھ کر علماء ملت پر تبراء

لیکن نرگسیت و خودشیفتگی میں مبتلا ان ارباب مہ خانہ سے کوئی سوال کرے کہ آپ حضرات نے زندگی بھر جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آلہ کاری (نوکری)میں گزاری ہے، جن کا اول دن سے سیاسی و معاشی ایجنڈا ہی یہ ہے کہ مسلم سماج کے عارفانہ معاشروں کو صارفانہ معاشروں( (Consumer societyمیں ڈھالا جائے، سرمایہ دارانہ نظام کے اس بیانیہ کی بنیادوں کو اپنے خون پسینہ سے سینچ کر اور پورے کے پورے سماج کو سرمایہ کا غلام( (Corporate slavesبنانے کے بعد آپ کی حقارت سے لبریز اس تنقید کی کیا اخلاقی، تہذیبی اور مذہبی حیثیت رہ جاتی ہے؟آپ اپنے تئیں سماج میں وائٹ کالر ہوں گے اور اپنے دفتر میں سی ای او یا مینیجر، لیکن ارباب اصول و تہذیب کی نگاہِ وفا میں آپ کی حیثیت طاغوتی نظام میں فقط اولیاء الطاغوت کی ہے!

مولوی سے محبت نہیں بلکہ تہذیب مغرب سے مرعوبیت

جدت پسندوں کا یہی وہ طبقہ ہے جو مولوی سے اس لئے بھی نالاں ہے کہ مولوی مغربی مادہ پرستانہ ’’فنون‘‘کو ’’علم‘‘قرار نہیں دیتا۔ لیکن مدرسہ کے مولوی کو مخاطب بنانے کے بجائے کبھی کالج و یونیورسٹی کا بھی رخ کر کے یہ صدا دی جائے کہ اے اقوام افرنگ!تم اپنے تصور علم کی تحصیل و کسب کو سرمایہ و پیسے سے کیوں مشروط کرتے ہو؟!اس قدر کی اگر ہمت نہ ہو تو کم سے کم یہ کہہ دیا جائے کہ دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں اسلامک فیکلٹی میں فیس نہ لی جائے کہ تدریس علوم شرعیہ پر پیسے لینا ناجائز ہے! لیکن یہ سوال نہ کبھی کیا جاتا ہے اور نہ کیا جائے گا کیونکہ غلامانہ نفسیات کا تنقیدی رویہ و منہج، اصولی و اخلاقی نہیں بلکہ غالب تہذیب سے مرعوبیت تو مغلوب تہذیب سے حقارت کے نتیجے میں تشکیل پاتا ہے۔ اس لیے کالج و یونیورسٹی کے اساتذہ سے تو سوال نہیں کیا جاتا جہاں بھاری بھرکم فیسز لی جاتی ہیں!لیکن مدارس جہاں سرے سے طالبان علم و رشد سے فیس ہی نہیں لی جاتی بلکہ معاونین مدارس کی مدد سے مدرسہ انتظامیہ بقدر ضرورت اساتذہ کو رزق کفاف مہیا کرتی ہے، اس مدرسہ و مولوی کو مورد الزام و حقارت بنا دیا جاتا ہے!

امور دینیہ پر معاوضہ کی شرعی حیثیت

شرعی مؤقف اس باب میں یہ ہے کہ فی نفسہ تبلیغ دین پر اجرت لینا درست نہیں ہے البتہ تدریس دین پر جواز کا قول ہے اور یہ عین معقول ہے کیوں کہ علم دین کلی فراغت کو چاہتا ہے، ایسے میں علمائے ملت کی معاشی کفایت – یہ خلافت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے۔ جبھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور حکومت میں ان علماء کرام کے معاوضے مقرر فرمائے جو تدریس میں مصروف تھے۔ (کتاب الاموال لابی عبید قام بن سلام:۳۶۲) نیز اس باب میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکی درج ذیل حدیث ہی کافی ہے: فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا کِتَابُ اللَّہ۔ِ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:تم جس پر اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ مستحق کتاب اللہ ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۷:۱۳۱) تاہم یہ جواز کا قول ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے ہے نہ کہ مادہ پرستانہ معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے جیسا کہ بعض مغرب زدہ، رخصت پرست علماء سلاطین کی روش ہے امام حامد مرزا خان الفرغانی النمنکانی الحنفی قُدِّسَ سِرُّہُ (المتوفی:۱۳۹۳ھ)تصریح فرماتے ہیں: لا أن یشتری بالدین السیارۃ وان یبنی القصور ویجمع حطام الدنیا۔ ترجمہ :یہ مراد ہرگز نہیں کہ دین کے نام پر اعلی شان گاڑیاں خریدی جائیں، عمارتیں و بنگلے بنائے جائیں اور دنیا کا دھندہ کیا جائے۔ (المسائل التسع لامام حامد مرزا خان الفرغانی النمنکانی الحنفی :۴۶)

تغیر اقدار بذریعہ معیار، مغربی استعمار کا فارمولہ

مغربی استعمار عالم اسلام میں اس وقت جس سرمایہ دارانہ ریاست و اقدار کو عام کررہا ہے، اس کا منہج ’’معیار زندگی‘‘ (Standard of livingمیں بڑھوتی کر کے’’اقدار زندگی ‘‘کو تبدیل کر دینا ہے کیونکہ مادہ پرستانہ معیار زندگی میں بڑھوتی سرمایہ و معاش کے مخصوص تصور ہی سے مشروط ہے یوں جہاں بھی یہ جدید تصور معیار در آئے گا، اقدار تہذیب و روایت خود بخود متغیر ہو جائیں گی۔ جبھی مغربی مفکرینِ تہذیب زہد و فَقر کو سرمایہ کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ مشہور امریکی معیشت داں والٹ رسٹو (Walt Rostow) کی تصریح ملاحظہ ہو: ”According to Rostow the traditional cultural values and social institutions of low income countries impede their economic effectiveness!” روسٹو کی تحقیق کے مطابق کم آمدنی والے ممالک کی تہذیبی و ثقافتی، اقدار و روایات اور ان کی تہذیبی صف بندی (مثلاً مسجد، مدرسہ، خانقاہ) ان کی معاشی ترقی اور اس کی بڑھوتی میں حائل ہیں۔ (Sociology, Anthony Gidden, Pg : 549)

تہذیب تسنن کے امام شاہ احمد رضا حنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی کی تہذیب شناسائی

تہذیب افرنگ کے اس مخصوص زاویہ نظر کو یعنی تبدیلی اقدار بذریعہ معیار کو اہل تہذیب و روایت بہت پہلے بھانپ چکے تھے۔ چنانچہ صاحب فتاویٰ رضویہ سیدی اعلیٰ حضرت نور اللہ مرقدہ شریف تصریح فرماتے ہیں: اب تو ریل بھی آگبوٹ بھی ہے، تار بھی ہے، اخبار بھی ہیں، ڈاک کے سلسلے بھی منظم ہیں، مہینوں کی راہیں دنوں میں طے ہوتی ہیں، گھر بیٹھے اقطار و امصار کی جھوٹی سچی خبریں ملتی ہیں، مدت ہا مدت سے جغرافیہ کے عظیم اہتمام ہیں، کروڑوں روپے کے صرف سے مشرق و مغرب کی پیمائش ہوتی ہے، بلاد و بقاع کے طول و عرض جانچے جاتے ہیں، آئے دن تازہ تازہ اطلس بنتی رہتی ہے، غرض جس قدر دین کا انحطاط و تنزل ہے اسی قدر دنیوی ترقیاں ہیں جسے دنیا پرست عبید النفیس ترقی ترقی گا رہے ہیں۔ زمانہِ مشائخ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ان آسانیوں سے ایک بھی نہ تھی۔ (فتاویٰ رضویہ لامام احمدرضاحنفی الماتریدی( ۱۹:۵۹۴)

مدرسہ کی روٹی تہذیب افرنگ سے مزاحمت کی نمایاں ترین علامت

مولوی بھی اگر سماج کے دیگر لوگوں کی طرح سرمایہ دارانہ معیار زندگی کو خوابوں میں بساتے ہوئے اقدار زندگی پر مفاہمت کر لیتا تو یقیناً تہذیب اسلامی بڑے زوال کا شکار ہو جاتی، تاہم تہذیبِ مغرب کے اس قدر تہذیبی، سیاسی، معاشی جبر کے باوجود مولوی اپنے تہذیبی مورچے سے پسپا نہیں ہوا، الحمدللہ!مولوی کے اس تہذیبی تصلب و استقامت نے امت کی دینی اقدار و تہذیبی ساخت کا تحفظ کس طرح کیا اور کن بڑے فکری و اخلاقی انحرافات سے امت کو اپنے دامنِ تقدیس و فقر میں تحفظ دیا، یہاں بعض ملاحظہ ہوں: اولاً:مولوی اس دور میں عملاً’’برہان زہد‘‘ہے۔ چنانچہ عصر جدید میں اگر کوئی شخص عملی تناظر میں دیکھنا چاہے کہ کم آمدنی میں کس طرح طمانیت، فرحت، عزت، غیرت، قناعت کے ساتھ زندگی گزاری جاسکتی ہے تو اس تہذیبی مولوی کو دیکھ لے اور سنن زہد پر عین الیقین حاصل کر لے!مدرسہ کی روٹی کا اگر یہ ایک احسان ہی سمجھ میں آجائے تو حقانیت تہذیب اسلامی بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔ ثانیاً:مولوی اگر سرمایہ دارانہ نظام کی ادارتی صف بندی میں ضم ہو چکا ہوتا تو مسلم سماج میں تہذیبی و دینی اخلاقیات کی جگہ سرمایہ دارانہ مغربی اخلاقیات( (Business Ethicsکا تعفن معاشرے میں پھیل چکا ہوتا، جیسا کہ مغرب میں عیسائیت نے سرمایہ دارانہ نظام سے مفاہمت اختیار کی تو کیتھولک( (catholic فرقہ نے مذہبی لبادہ میں یہ سرمایہ دارانہ بیانیہ عام کیا کہ جو شخص دنیا میں غریب ہوگا روز محشر غریب لایا جائے گا اور ادھر امیر لوگ شان امیری کے ساتھ میدان محشر میں پیش کیے جائیں گے (مارٹن لوتھر)۔ اس لئے مولوی کے رزق کفاف نے مسلم سماج کی اقدار کو تحفظ دیا ورنہ مغربی سرمایہ دارانہ اقدار ہمارے سماج کو کب کا فتح کر چکی ہوتیں اور یوں فرد کا فرد سے تعلق کی بنیاد فقط افادیت پرستی و سرمایہ پرستی قرار پاتیں اور فطرت دینی، عبدیت اور رشتوں کی تقدیس و فرق مراتب کی بنیاد پر تعاشر’’بے معنی‘‘ہو چکا ہوتا! ثالثا:گذشتہ سال اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اَسِّی (÷ ۸۰)فیصد معیشت اب بھی غیر سودی ہے، اس لئے کہ پاکستان میں دیہی علاقوں کی اکثریت ہے جہاں کی اکثریت گاؤں کے مولوی صاحب کی تبلیغ کے سبب بینک کی آب و ہوا سے نفور برتتی ہے، الحمدللہ۔ ایسے میں اگر مولوی سرمایہ کی غلامی قبول کر چکا ہوتا تو آج سودی نظام مسلم سماج پر مطلقاً غلبہ پا چکا ہوتا، فتدبر! رابعاً:آج مدارسِ دینیہ میں طالبان علم و رشد کو مفت تعلیم دی جاتی ہے، کتابیں بھی مدرسہ ہی اپنی لائبریری سے دیتا ہے اور تو اور رہائش و طعام تک مفت ہے! ایسے میں کہنے دیجیے کہ مولوی نے علم کو ذریعہ کاروبار نہیں بنایا اور اس کے ذریعے اپنا مادہ پرستانہ معیار زندگی نہیں بلند کیا!جب کہ ادھر مغربی علوم جاہلیہ تو ایک طرف خود کالج یونیورسٹیوں میں اسلامیات پڑھانے والے پروفیسر حضرات اسی ہزار سے دو لاکھ روپے تک مہینہ لے رہے ہیں، غریب طالب علم بھاری فیسیں دینے پر مجبور ہے۔ لیکن ادھر مولوی نے مغربی یونیورسٹیوں کے معیار و منہج یعنی تحصیل سرمایہ برائے سرمایہ کی اساس کو رد کر کے اور طالبِ علموں سے ایک روپیہ لئے بغیر وقار، روحانیت، تقدیس علم کو باقی رکھا ہے جبکہ کالج و یونیورسٹیوں نے اپنے تصور علم کو پروڈکٹ کے طور پر فروخت کیا ہے! خامِسا:مولوی سرمایہ دارانہ نظام کی راہ میں تہذیبِ اسلامی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے! چناں چہ سرمایہ دارانہ ریاست کی بھرپور کوشش ہے کہ مولوی و مدرسہ ’’منصب‘‘نہیں بلکہ ’’طبقہ‘‘قرار پائے اور نظام میں ضم ہو جائے، جیسا کہ مصر و سعودیہ کے علماء سلاطین ضم ہو گئے۔ یہاں تک کہ مولوی بھی سرمایہ کی اس دوڑ میں عوام کالانعام کی طرح مگن ہو جائے، اپنے تہذیبی مؤقف و منصب کو بھول جائے اور نظام باطل کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے اس کی پُر امن چاکری میں مشغول ہو جائے! تاہم مولوی نے سرمایہ دارانہ نظام کا ”طبقہ” بننے سے انکار کر دیا اور تہذیبِ اسلامی کے عطا کردہ ”منصب” پر فخر کیا۔ ایسے میں سرمایہ دارانہ نظام کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہی یہ ہے کہ اس کے حدود اربعہ میں اس کے طبقاتی نظام سے انکار کر کے کوئی عین اس کے تختِ شاہی کے سامنے اپنی تقدیس و حاکمیتِ منصب کی مسند لگائے! یہ اس لیے کہ اس کے نتیجے میں سرمایہ کا ارتکاز و اجتماع منتشر ہو جاتا ہے اور سماج میں بیک وقت دو متوازی دائرہ حاکمیت قائم ہو جاتے ہیں۔

مولوی مغربی سرمایہ دارانہ نظام کا باغی

آج جب تمام لبرل طاقتوں کی کوشش ہے کہ مولوی بینک کا ایڈوائزر، یونیورسٹی کا پروفیسر، پارلیمنٹ کا ممبر بن کر سرمایہ دارانہ نظام کی صف بندی کو سندِ جواز عطا کرے اور یوں مذہبی زہد، سرمایہ کا حریف نہ قرار پائے بلکہ دیگر طبقات (مثلاً بیوروکریسی، اقلیاتی طبقات وغیرہ)کی طرح محض طبقہ قرار پائے! مزید یہ کہ جب پورا سماج سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی میں غرق ہو چکا تھا، عین اسی وقت میں مولوی اپنی تہذیبی اقدار پر قائم ہے! اس نے مدرسے کی ٹوٹی ہوئی چٹائی اور دال روٹی کو اپنا فخر جانا!غربت کو سینہ سے لگایا لیکن تہذیبی اقدار پر سودا نہیں کیا، یوں تہذیبِ اسلامی کی حسن سادگی و زہد کا اسیر ہو کر نہ جادہ بدلا نہ دروازہ بدلا نہ ارادہ بدلا اور آج تک اپنے اسی طرز کہن پر ڈٹا ہوا ہے! آج جب پورا عالم کفر مولوی سے مذاکرات کرنے پر مجبور و مقہور ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم تمھیں کچھ نہیں کہتے تم ہمارا فقط ہر دل عزیز ’’طبقہ‘‘ بن جاؤ! مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے اس گلیمر کو دیکھ کر بھی مولوی برملا اعلان کر رہا ہے کہ وہ ’’طبقہ’’نہیں ’’منصب‘‘ہے یعنی  ’’تابع‘‘نہیں ’’امام‘‘ہے! وہ امام جسے ابھی اپنے تہذیبی بیانیے کے تناظر میں امامت صغریٰ سے لے کر امامت کبریٰ تک سفر طے کرنا ہے! ایسے میں آج بھی اس کا تہذیبِ افرنگ کے خلاف یہی اعلان بغاوت و اعلان براء ت ہے ۔ بشکریہ حضرت ابوالہند مفتی عبیدالرحمن شاہجہانپوری حفظہ اللہ تعالی

معارف ومسائل

(۱)علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی نے کہاتھا :ان مدارس کواپنی حالت پررہنے دو ، اگریہ مدارس اور اس کی ٹوٹی ہوئی چٹائیوں پربیٹھ کر پڑھنے والے یہ درویش نہ رہے ، تو یادرکھناتمہارا وہی حال ہوگا جو میں اندلس اورغرناطہ میں مسلمانوں کادیکھ کرآیا ہوں۔ میں عید سے اگلے دن بائیک پرجارہاتھا کہ ایک مدرسہ کے سامنے سے میراگزرہوا میں نے دیکھا کہ اس کے گیٹ پرچندچھوٹے چھوٹے بچے کھڑے ہیں ، ان کے چہرے نوررانیت سے بھرپورتھے، میں ان کے پاس چلا گیا ، سلام کیا انہوں نے بہت احترام کیساتھ سلام کاجواب دیا،میں نے کہا بیٹا آپ کیا کرتے ہویہاں؟ انہوں نے کہا بھائی ہم یہاں حفظ کرتے ہیں ، میں نے کہا عید پر آپ گھر نہیں گئے؟ ان میں سے ایک دو تو آنکھوں میں آنسوبھرکر اندرچلے گئے اور باقیوں نے ریندی ھوئی آواز میں کہا ہمیں کوئی لینے نہیں آیا ہم بہت دورچترال سے آئے ہیں بابا کہتے تھے کرایہ نہیں ہے تم وہیں رہو ، میرا دل بھی ایسے بوجھل سا ہو گیا ، میں نے کہا آپ کو آئے ہوئے یہاں کتنا عرصہ بیت گیاہے؟ انہوں نے کہا ہم پچھلی عید پر بھی یہیں تھے ۔ میں نے اپنی جیب سے پیسے نکالے اوران کو سو سو روپیہ دینا چاہا ، پر آفرین ان کی تربیت پر کسی نے بھی ہاتھ بڑھا کرنہیں لیے ، بلکہ سب اندرچلے گئے ، میں بوجھل سی طبیعت کیساتھ آگے بڑھ گیاکہ یہ ہیں وہ مدارس کے طلباء جن کو لوگ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میں بھی انہی مدارس سے ہوتا ہوا آیا ہوں اس جگہ پر۔ میں نے ان مدارس کے اندرکے معاملات کو دیکھا ہے ، جب مدارس کے شیوخ مہینے کے آخری ایام میں بہت پریشان دکھتے تھے کہ اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگربل کیسے ادا کیے جائیں؟ یار سوچو کون سا ایسا پرائیویٹ یاسرکاری ادارہ ہے جو اس قدرسکالرشپ دیتاہے؟ ملک کے طول و عرض میں سینکڑوں ایسے مدارس ہیں جن میں رہاشی طلباء کی تعداد ہزاروں تک جاتی ہے لیکن ان کے کھانے ،رہائش کتابیں اوردوائیاںمکمل اخراجات مدرسہ کے ذمہ ہوتے ہیں ، کیا ہے کوئی ایسی یونیورسٹی جس کا ہاسٹل اور فیس فری ہو؟ یہ دین کے مدارس اسلام کے قلعے ہیں ، انہیں اداروں سے اسلام کے علماء اورفقہاء اورمجاہدپیدا ہوتے ہیں جو اسلام کیخلاف ہونیوالے اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں ۔ یہیں سے مجددالف ثانی رحمہ اللہ تعالی اٹھے اوراکبرکے خود ساختہ دین کو تہہ وبالاکردیا۔ یہیں سے شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی اٹھے اورچٹائی پربیٹھ کر حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث شریف کافیضان عام کیا۔ اسی مدرسہ سے مولانافضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ تعالی اٹھے اورانگریز کے خلاف جہاد کافتوی جاری کیااورپھرساری زندگی جزیرہ انڈیمان میں کسمرپرسی کی حالت میں گزاری اورپھروہیں پرہی آپ نے آخری سانس لی ۔ اسی مدرسہ سے ہی مولانارضاعلی خان رحمہ اللہ تعالی اٹھے جنہوںنے انگریز کے خلاف علم جہاد بلندکیا۔ اسی مدرسہ سے سید کفایت علی کافی رحمہ اللہ تعالی اٹھے جنہوںنے انگریزکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرشہادت کی موت توقبول کرلی مگرجہاد کے اعلان سے برات کااعلان نہیں کیا۔ اسی مدرسہ سے ہی امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ اٹھے جنہوںنے زندگی بھرانگریزوں کے خلاف کام کیااوران سے ایک لمحہ بھربھی مرعوب نہیں ہوئے ۔ اسی مدرسہ سے ہی شیخ الحدیث امیرالمجاہدین حافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی اٹھے اورانہوںنے دنیابھرکے کفاروسیکولراورلبرل کو دھول چٹادی اوربحمداللہ ساری پاکستانی حکومت ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرمجبورہوگئی اورختم نبوت کابھرپوردفاع کیا۔ اورآج بھی دنیابھرکے کفارجس شخصیت سے لرزاں ہیں وہ یہی حضرت امیرالمجاہدین حفظہ اللہ ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب کبھی کسی عید وغیرہ کے موقعہ پرچھٹیاں ہوتیں تو سب اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ، ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے تھے جو خود جا نہیں سکتے تھے اور لینے والے اس لیے نہیں آسکتے تھے کہ ان کے پاس آنے کیلیے کرایہ نہیں بن پاتا تھا ۔ اور پھر وہ اسی مدرسہ کے اندر ہی اپنی خوشیوں کی قربانی اپنے ماں باپ کی خواہش پرقربان کیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل لیتے ہیں ۔ ان مدارس کے طلباء کو کبھی حقیرنہ جانو!آپ نہیں جانتے ان کے مقام کو ، یہ جب چلتے ہیں ان کے قدموں کے نیچے اللہ تعالی  کے فرشتے اپنے پروں کوبچھانا اپنے لیے باعثِ فخرمحسوس کرتے ہیں ۔ سمندرکی مچھلیاں ، فضاؤں میں پرندے زمین کے اندرحشرات ان کی کامیابی کی دعا اللہ رب العزت سے ان کے لیئے مانگتے ہیں ، عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدرسوں میں داخل وہی ہوتے ہیں جو ہرطرف سے دھتکاردیئے جائیں ، اگر ایسا بھی ہے تو بھی لوگوں کو ان مدارس کا شکرگزار ہونا چاہیے ، جنہوں نے ایسے بچوں کو گلیوں میں آوارہ نہیں ہون دیا بلکہ ان کو داخلہ دیکرقرآن وحدیث کی تعلیم دی۔ وہی بچہ صوم و صلوۃ کا پابند، ماں باپ کا فرمان بردار اور ایک عالم دین بن کر لوگوں کے ایمان کی فکر کرنے لگے گا۔ ان مساجد و مدارس کیساتھ محبت کریں!دینی تعلیم کیلیے اپنے بچوں کا رخ ان کی طرف کریں! اور ہر لحاظ سے ان مدارس کے معاون بن جائیں۔( اس مضمون کے لکھنے والے صاحب شخص کانام معلوم نہیں ہوسکا، اللہ تعالی ان کو جزائے خیرسے نوازے) (۲) جب جہاد ہمیشہ ہی فرض کفایہ ہے اورعلوم دینیہ کوزندہ رکھنابھی ضروری ہے اورمجاہدین کی خانگی حاجات اورضروریات بھی ہیں توایساکرناضروری ہوگاکہ فرض کفایہ کو قائم رکھنے کے لئے ایک جماعت جہاد میں چلی جایاکرے اوران کی واپس پربلکہ ان کے آنے سے پہلے ہی دوسری جماعت جہاد کے لئے روانہ ہوجایاکرے ، جولوگ علوم دینیہ کے سیکھنے میں مشغول تھے ، وہ مجاہدین کے پیچھے ان کے گھروالوں کی ان کے پیچھے خیرخبررکھیں اورجب وہ واپس آجائیں توان کو احکامات شرعیہ بیان کریں اوران کو قرآن کریم اورحدیث شریف کی تعلیم دیں ۔( انوارالبیان) (۳)مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ۔ مدارس دین کے دفاع کاسبب ہیں جس کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ ادارے امریکا اور اسلام دشمن استعماری قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ حکومت دینی مدارس کی مشکلات اور ان کے لئے مسائل کھڑے کرنے سے گریزکرے۔ تمام اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ دینی مدارس کے دفاع میں کھڑے ہوں تاکہ دینی مدارس کو درپیش چیلنجز اور مشکلات کا خاتمہ ہوسکے۔ دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ دینی مدارس کی بنیاد آج سے چودہ سو سال پہلیحضورتاجدارختم نبوتﷺ نے رکھی تھی جبکہ دہشت گردی کاتعلق مذہب اسلام سے نہیں ہے۔جبکہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اوراسلام تلواربھی اٹھاتاہے توامن قائم کرنے کے لئے ۔ مجموعی لحاظ سے تمام مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ اس سر زمین پر اسلام کو نافذ کریں اوررات دن غلبہ اسلام کے لئے کام کریں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh