صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2406 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۳۸۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,371

سوال (Question):

تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۳۸۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غزوہ تبوک جہاد اقدامی تھانہ کہ دفاعی

{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ فَمَا مَتٰعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیْلٌ }(۳۸) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ راہِ خدا میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کرلی اور جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان !تمہیں کیا ہوا؟ جب تم سے کہا جائے کہ اللہ تعالی کی راہ میں نکلو تو زمین پربیٹھ جاتے ہو ۔ کیا تم آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کوپسندکرنے لگے ہو ؟تو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سازو سامان بہت ہی تھوڑا ہے۔ شان نزول الْمَرْوِیُّ عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، وَذَلِکَ لِأَنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا رَجَعَ مِنَ الطَّائِفِ أَقَامَ بِالْمَدِینَۃِ وَأَمَرَ بِجِہَادِ الرُّومِ، وَکَانَ ذَلِکَ الْوَقْتُ زَمَانَ شِدَّۃِ الْحَرِّ وَطَابَتْ ثِمَارُ الْمَدِینَۃِ وَأَیْنَعَتْ، وَاسْتَعْظَمُوا غَزْوَ الرُّومِ وَہَابُوہُ، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ یہ آیت کریمہ غزوہ تبوک کے متعلق نازل ہوئی ، یہ اس لئے کہ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺطائف سے واپس تشریف لائے اورمدینہ منورہ تشریف فرماہوئے توآپﷺپررومیوں کے خلاف جہاد کاحکم نازل ہوا، وہ زمانہ شدیدگرمی کاتھااورشہرمدینہ منورہ کی کھجوریں پک چکی تھیں ، تولوگوں نے رومیوں کے خلاف جہاد میں جانے کو بڑابھاری جانااورڈرگئے تویہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۴۶)

ترک جہاد پرزجروتوبیخ

قَالَ الْمُفَسِّرُونَ: مَعْنَاہُ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی نَعِیمِ الْأَرْضِ، أَوْ إِلَی الْإِقَامَۃِ بِالْأَرْضِ وَہُوَ تَوْبِیخٌ عَلَی تَرْکِ الْجِہَادِ وَعِتَابٌ عَلَی التَّقَاعُدِ عَنِ الْمُبَادَرَۃِ إِلَی الْخُرُوجِ، وَہُوَ نَحْوُ مَنْ أَخْلَدَ إِلَی الْأَرْضِ۔ ترجمہ :مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ { اثَّاقَلْتُمْ }کامعنی یہ ہے کہ تم زمین کی نعمتوں کی یازمین اقامت پراختیارکرنے کی طرف بوجھل ہوکرجھک جاتے ہواوریہ جہاد ترک کرنے پرزجروتوبیخ ہے اورنکلنے میں جلدی نہ کرنے پرعتاب ہے اوریہ اس کی طرح ہے جوزمین پر دوام اورہمیشگی اختیارکرلے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۴۰)

موت کے ڈرسے جہاد ترک کرناجہالت ہے

وذکر أقو الہم الْمُنْکَرَۃَ وَأَعْمَالَہُمُ الْقَبِیحَۃَ فِی الدِّینِ وَالدُّنْیَا، وَعِنْدَ ہَذَا لَا یَبْقَی لِلْإِنْسَانِ مَانِعٌ مِنْ قِتَالِہِمْ إِلَّا مُجَرَّدُ أَنْ یَخَافَ الْقَتْلَ وَیُحِبَّ الْحَیَاۃَ فَبَیَّنَ تَعَالَی أَنَّ ہَذَا الْمَانِعَ خَسِیسٌ لِأَنَّ سَعَادَۃَ الدُّنْیَا بِالنِّسْبَۃِ إِلَی سَعَادَۃِ الْآخِرَۃِ کَالْقَطْرَۃِ فِی الْبَحْرِ، وَتَرْکُ الْخَیْرِ الْکَثِیرِ لِأَجْلِ الشَّرِّ الْقَلِیلِ جَہْلٌ وَسَفَہٌ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی :۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کفارومشرکین کے دین اوردنیاکے اعتبارسے برے اعمال اورقبیح اقوال کاذکرکیا، اب کسی انسان کے لئے ان کے ساتھ جہاد کرنے سے کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی ، مگریہ کہ وہ صرف قتل سے ڈرے ، اللہ تعالی نے واضح کیاکہ یہ موت کے ڈرکی وجہ سے جہاد نہ کرنانہایت ہی گھٹیاحرکت ہے کیونکہ دنیاکے منافع آخرت کے منافقوں کی نسبت سمندرکے سامنے قطرے کی مانندہیںاورخیرکثیرکو قلیل شرکی وجہ سے ترک کرنانہایت جہالت اوربے وقوفی ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۴۶)

غزوہ تبوک کے بھاری ہونے کی پانچ وجوہات

قَالَ الْمُحَقِّقُونَ: وَإِنَّمَا اسْتَثْقَلَ النَّاسُ ذَلِکَ لِوُجُوہٍ:أَحَدُہَا: شِدَّۃُ الزَّمَانِ فِی الصَّیْفِ وَالْقَحْطِ وَثَانِیہَا:بُعْدُ الْمَسَافَۃِ وَالْحَاجَۃُ إِلَی الِاسْتِعْدَادِ الْکَثِیرِ الزَّائِدِ عَلَی مَا جَرَتْ بِہِ الْعَادَۃُ فِی سَائِرِ الْغَزَوَاتِ وَثَالِثُہَا:إِدْرَاکُ الثِّمَارِ بِالْمَدِینَۃِ فِی ذَلِکَ الْوَقْتِ وَرَابِعُہَا:شِدَّۃُ الْحَرِّ فِی ذَلِکَ الْوَقْتِ وَخَامِسُہَا:مَہَابَۃُ عَسْکَرِ الرُّومِ فَہَذِہِ الْجِہَاتُ الْکَثِیرَۃُ اجْتَمَعَتْ فَاقْتَضَتْ تَثَاقُلَ النَّاسِ عَنْ ذَلِکَ الْغَزْوِ۔وَاللَّہُ أَعْلَمُ. ترجمہ :محققین رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ لوگوں پریہ چیز ان وجوہات سے ثقیل ہوئی : پہلی وجہ : گرمی اورقحط کی وجہ سے وقت کی شدت دوسری وجہ : مسافت زیادہ تھی ، جس کے لئے کثیرزادہ راہ کی ضرورت تھی جودیگرغزوات کی نسبت کافی زیادہ تھا۔ تیسری وجہ : وہ وقت مدینہ منورہ میں پھلوں کے حصول کاتھا۔ چوتھی وجہ : اس وقت شدیدگرمی تھی ۔ پانچویں وجہ : رومیوں کے لشکرکابڑارعب تھا۔ یہ کثیروجوہات تھیں جن کے اجتماع کی وجہ سے لوگ اسے بھاری محسوس کرنے لگے اورنہ گئے، واللہ تعالی اعلم ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۴۶)

غزوہ تبوک جہاد اقدامی تھانہ کہ دفاعی

اعْلَمْ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ تَدُلُّ عَلَی وُجُوبِ الْجِہَادِ فِی کُلِّ حَالٍ لِأَنَّہُ تَعَالَی نَصَّ عَلَی أَنَّ تثاقلہم عَنِ الْجِہَادِ أَمْرٌ مُنْکَرٌ، وَلَوْ لَمْ یَکُنِ الْجِہَادُ وَاجِبًا لَمَا کَانَ ہَذَا التَّثَاقُلُ مُنْکَرًا، وَلَیْسَ لِقَائِلٍ أَنْ یَقُولَ الْجِہَادُ إِنَّمَا یَجِبُ فِی الْوَقْتِ الَّذِی یُخَافُ ہُجُومُ الْکُفَّارِ فِیہِ، لِأَنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَا کَانَ یَخَافُ ہُجُومَ الرُّومِ عَلَیْہِ، وَمَعَ ذَلِکَ فَقَدْ أَوْجَبَ الْجِہَادَ مَعَہُمْ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی :۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ توجان لے کہ یہ آیت کریمہ ہر حال میں جہادکے فرض ہونے پر دلالت کررہی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے تصریح کی ہے کہ ان پرجہاد سے بوجھل ہوجانابرامعاملہ ہے ، اگرجہاد لازم نہ ہوتاتواس بوجھل پن پران کو براقرارنہ دیاجاتا، کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ جہاد کفارکے حملے کے وقت لازم ہوتاہے کیونکہ آپ ﷺکورومیوں کے حملے کاکوئی خوف نہیں تھا، اس کے باجودان کے خلاف جہا دکولازم قراردیاگیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۴۶) اقدامی جہاد میں پہلے اسلام کی دعوت دی جاتی ہے، پھر جزیہ کا مطالبہ ہوتا ہے، پھر قتال ہوتا ہے۔ قرونِ اولٰی کے فقہاء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دور میں دعوت تقریبًاً ہر جگہ پہنچ گئی تھی، اس لیے انہوں نے فرمایا کہ اب دعوت کی ضرورت نہیں، بلکہ سیدھا قتال بھی کر سکتے ہیں۔ (جہاد اقدامی کے متعلق لبرل وسیکولرطبقہ کے اعتراضات کے جوابات ہم ماقبل میں تفصیل کے ساتھ نقل کرآئے ہیں وہیں ملاحظہ فرمائیں)

جب جہاد کااعلان ہوجائے توفرض ہوجاتاہے

ظَاہِرُ الْآیَۃِ وُجُوبَ النَّفِیرِ عَلَی مَنْ یَسْتَنْفِرْوَقَالَ فِی آیَۃٍ بَعْدَہَا انْفِرُوا خِفَافًا وثقالا فَأَوْجَبَ النَّفِیرَ مُطْلَقًا غَیْرَ مُقَیَّدٍ بِشَرْطِ الِاسْتِنْفَارِ فَاقْتَضَی ظَاہِرُہُ وُجُوبَ الْجِہَادِ عَلَی کُلِّ مُسْتَطِیعٍ لَہُ ۔ ترجمہ :امام أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی المتوفی :۳۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے ثابت ہواکہ جب جہاد کے لئے بلایاجائے تو اس کے لئے نکلنافرض( کفایہ) ہوجاتاہے اوراللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں اس کے بعد{انْفِرُوا خِفَافًا وثقالا فَا}فرمایاتواس سے معلوم ہواکہ ہرحال میں جہاد کے لئے نکلناواجب ہے اوربغیرکسی قیدکے اوراس آیت کریمہ کاظاہرہی اس بات پردلالت کررہاہے کہ ہرطاقتورپرجہاد فرض ہے ۔ (أحکام القرآن:أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی(۴:۳۰۹

معارف ومسائل

(۱)جہاد کی دو قسمیں ہیں:اقدامی اور دفاعی۔کفارکو اقدامی جہاد میں دعوت دینا شرط ہے اور اس دور میں پوری دنیا میں جہاں بھی جہاد ہورہا ہے وہ دفاعی ہے اقدامی نہیں، نیز اقدامی جہاد میں بھی ایمان کی دعوت دینا اس وقت شرط ہے جب کہ کفار کو کسی بھی طرح سے اسلام کا علم نہ ہو،مگر اس دور میں اسلام اتنا عام ہے کہ کفار کو اسلام کے بارے میں خوب علم ہے، بلکہ معلومات کی حد تک تو بعض کفار کو مسلمانوں سے بھی زیادہ علم ہے ۔ (۲)موجودہ دور کے کچھ دانشور حضرات جو کہ’’ ریسرچ اور تحقیق ‘‘کے شعبے سے وابستہ ہونے کے دعویدار ہیں ،اپنی تلبیسی استدلال کے ذریعے یہ بات عامۃ المسلمین میں پھیلارہے ہیں کہ جہاد اگر فرض عین ہوبھی جائے تو وہ تمام مسلمانوں پر کبھی فرض عین نہیں ہوتا بلکہ اس کی ادائیگی صرف مسلمان حکمران اور ان کی افواج پرفرض ہے ،عام مسلمانوں کی تو صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف تقریرو تحریر،پرنٹ میڈیا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن سیاسی و احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے دباؤڈالیں مگر خود اس جہاد میں شریک ہونا اُن پر فرض نہیں اورآج توخود حکومت اوران کے لشکری اہل اسلام پرظلم ہونے پرصرف گانے ریلیزکررہے ہیںاوراپنے ہی ملک کے باسیوں کو سخت گرمی میں سڑکوں ،چوکوں اورچوراہوں پرآدھاگھنٹہ کھڑاکرکے جہاد سے منہ پھیررہے ہیں ۔اسی طرح یہ ریسرچ اور تحقیق کے دعوے دار جہاد کے فرض عین کو صرف اُن مصنوعی لکیروں تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ معاہدہ سائیکس پیکونے ہمارے لئے کھینچی تھیں یا جان انتون نامی برطانوی یا کسی اور فرانسیسی کافر نے جن کا تعین کیا تھا!لیکن ان مفکرین کے ان تلبیسی استدلال اور تاویلات کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ۔عامۃ المسلمین کے لئے ان ائمۃ المضلّین سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔ (۳)آج کفار و مشرکین مسلمانوں کے اکثر علاقوں میں قابض ہوچکے ہیں یااُن کا اثر ونفوذ ان علاقوں میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ عملاً ان ہی کی عملداری ہوچکی ہے اور وہ ان علاقوں میں مسلمانوں کے جان ومال،عزت وآبروکو اپنے لئے حلال سمجھ چکے ہیں ، کفار ومشرکین اور مسلمانوں کے لشکر پوری دنیا میں باہم مقابل ہیں ،مسلمانوں کے لئے جہاد فی سبیل اللہ میں پیچھے بیٹھے رہنے کا کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا کہ آج مسلمانوں کے اکثرمقبوضہ علاقوں کے رہنے والے مسلمان مدد ونصرت کے محتاج ہیں۔ آج مسلمان عورتوں اور مردوں کی ایک کثیر تعداد کفار ومشرکین کی قید میں ہیں ،چاہے وہ ابوغریب جیل ہو یا کیوبا کے گوانتا نامو کا عقوبت خانہ ،کابل میں قائم مشہور زمانہ بگرام جیل ہو یا کفار و مشرکین کے علاقوں کے علاوہ بلادِ اسلامیہ بشمول پاکستان ،مصر ،ترکی ،سعودی عرب وغیرہ میں پھیلے ہوئے عقوبت خانے،جن میں اُن پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے جارہے ہیں جن کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔

لبرل وسیکولریہودونصاری کی غلامی کی وجہ سے جہاد اقدامی کاانکارکرتے ہیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام پھیلانے میں ہجومی جہاد کا بہت زیادہ دخل اور اثر ہے، اور گروہ در گروہ لوگوں کا اسلام میں داخل ہونے میں بھی اسی کا اثر تھا۔اسی لیے دشمنان اسلام کے دلوں میں جھاد کا رعب اور دبدبہ بھرا ہوا ہے۔ In the English-language Muslim World Magazine it says: There should be some kind of fear in the western world, one of the causes of which is that since the time it first appeared in Makkah, Islam has never decreased in numbers, rather it has always continued to increase and spread. Moreover Islam is not only a religion, rather one of its pillars is jihad. ترجمہ یورپی دنیا پر کچھ نہ کچھ خوف طاری رہنا ضروری ہے، اور اس خوف کے کئی ایک اسباب ہیں، جن میں یہ سبب بھی ہے کہ جب سے اسلام مکہ مکرمہ میں ظاہر ہوا اس وقت سے اس کی افرادی قوت بڑھ رہی، بلکہ ہمیشہ سے ہی افرادی قوت زیادہ ہو رہی ہے اور پھیل رہی ہیں، پھر اسلام صرف دین ہی نہیں بلکہ اس کے ارکان میں جہاد جیسی اشیاء بھی شامل ہیں۔

رابرٹ پین کہتا ہے

Robert Bean says: The Muslims conquered the entire world before and they could do it again. ترجمہ:یقینا اس سے قبل بھی مسلمانوں نے پوری دنیا میں جنگیں لڑی ہیں اور وہ ایک بار پھر ایسا کریں گے۔ اوراسی طرح مستشرقین نے اسلام میں طعن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔

مستشرق ٹومس ارنالڈ لکھتاہے کہ

The orientalist Thomas Arnold wrote his book The Preaching of Islam with the aim of killing off the spirit of jihad among the Muslims and proving that Islam was not spread by the sword, rather that it spread by means of peaceful preaching, free from any use of force. ترجمہ :مستشرق ٹومس ارنالڈ نے ’’اسلام کی دعوت ‘‘نامی ایک کتاب لکھی ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں جہادی روح ختم کرنا اور مٹانا تھا، اس میں اس نے اپنے خیال کے مطابق یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا، بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ سے پھیلا ہے جو ہر قسم کی قوت سے خالی اور بری اور سلیم تھی۔ مسلمان بھی اس پھیلائے ہوئے جال میں پھنس گئے ہیں، لھذا جب وہ کسی مستشرق کی جانب سے کسی کو اسلام پر حملہ کرتے ہوئے سنتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ تم اپنی نسل کے آدمی کی بات سنو جو اس کا رد کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے، اور اس نے یہ کچھ کہا ہے۔ پھرمسلمانوں میں سے کچھ شکست خوردہ ذہنیت (لبرل وسیکولر)کے مالک لوگ نکلے تو اسلام کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنے خیال میں انہوں نے دین اسلام کو اس بہتان سے بری کرنے کی کوشش کی اور اس طرح انہوں نے اسلام تلوار سے پھیلنے کی نفی کرنا شروع کردی، اور اس کے نتیجہ میں انہوں نے اسلام میں جہاد کی مشروعیت کی نفی کردی، صرف دفاعی جہاد کرنا جائز قرار دیا، لیکن ان کے ہاں اقدامی جہاد یعنی کافر پر ان کے ملک میں جا کر حملہ کرنے کا وجود ہی نہیں ملتا، یہ قرآن و سنت کے مخالف تو ہے ہی لیکن مسلمان ائمہ کرام کے فیصلوں کے بھی خلاف ہے۔ قرآن کے منکرین کے ساتھ تلوارسے جہادکرو! وقد روی عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ قال :أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن نضرب بہذا یعنی السیف من عدل عن ہذا یعنی المصحف۔ ترجمہ:حضرت سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جو کوئی بھی اس مصحف و قرآن سے انحراف کرے اسے تلوار کے ساتھ مارو۔ (مجموع الفتاوی:تقی الدین أبو العباس أحمد بن عبد الحلیم بن تیمیۃ الحرانی (ا۲۴:۲۶۴) اس سے معلوم ہواکہ جس نے بھی کتاب اللہ تعالی انحراف کیا اسے لوہے (اسلحہ )کے ساتھ سیدھا کیا جائے گا، اور اسی لیے دین کی درستگی قرآن اور تلوار کے ساتھ ہوتی رہی ۔ نیز ہ اورتلواردین کی مددکرنے میںدونوں سگے بھائی ہیں وَبَعثہ النبی ﷺ بِالْکتاب الْہَادِی وَالسیف النَّاصِر بَین یَدی السَّاعَۃ حَتَّی یعبد سُبْحَانَہُ وَحدہ لَا شریک لَہُ وَجعل رزقہ تَحت ظلّ سَیْفہ وَرمحہ وَجعل الذلۃ وَالصغَار علی من قَابل أمرہ بالمخالفۃ والعصیان ،َ فَإِن اللہ سُبْحَانَہُ أَقَامَ دین الْإِسْلَام بِالْحجَّۃِ والبرہان وَالسیف والسنان فکلاہما فِی نَصرہ أَخَوان شقیقان۔ ترجمہ :امام محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ المتوفی : ۷۵۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اور اللہ تعالی نے اسے یعنی حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو قیامت سے قبل کتاب اور ہدایت اور مدد والی تلوار کے ساتھ مبعوث کیا تا کہ اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی جائے، اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی روزی ان کی تلوار اور نیزے کے نیچے رکھی۔کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے دین اسلام کو دلیل و برھان اور حجت اور تلوار و نیزے کے ساتھ قائم کیا ہے اور یہ دونوں اشیاء مدد کرنے میں سگے بھائی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ( الفروسیۃ:محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ :۸۱) اسلام کے پھیلنے کے اسباب میں تلوار اور قوت کا سبب بننا اسلام کے لیے کوئی عیب کی بات نہیں، بلکہ یہ تو اسلام کی خصوصیات اور محاسن میں شامل ہوتا ہے کہ وہ لوگوں پر ایسی چیز لازم کر رہا ہے جس میں ان کی دنیا و آخرت دونوں کا فائدہ ہے. اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جن پر حماقت اور قلت حکمت و علم غالب ہوتی ہے، اگر ایسے لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ حق سے اندھے ہو جائیں، اور شہوات میں ڈوب جائیں، اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کوحق کی طرف پلٹانے اور جس میں ان کا فائدہ ہے اسے حاصل کرنے کے لیے جھاد مشروع کیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمت کا تقاضہ یہی ہے کہ احمق اور بے وقوف شخص کو نقصان اور ضرر دینے والی چیز سے بچایا جائے، اور اسے ایسے کام پر ابھارا جائے جس میں اس کا نفع اور فائدہ ہو۔ اس ’’بات میں کہ جہاد اورتلواراسلام کے شعائر میں سے ہے ‘‘میں اسلام کی مدح اور تعریف ہے نہ کہ قابل مذمت، لھذا ان شکست خوردہ ذہنوں کے مالک لوگوں کو چاہیے کہ (وہ اللہ تعالی کا ڈر اختیار کریں اور اس دین کو مسخ کر کے پیش کرنے سے باز رہیں، اور یہ دلیل دے کر کہ دین اسلام امن و سلامتی والا دین ہے اسے کمزور اور اس کی بنیادیں کھوکھلی نہ کریں. جی ہاں یہ امن و سلامتی کا دین ہے، لیکن اس اساس پر کہ ساری بشریت کو غیر اللہ کی عبادت سے بچایا جائے، اور ساری بشریت کو اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت اور تابع فرمان بنایا جائے، کیونکہ یہ طریقہ اور منھج تو اللہ تعالی کا ہے، نہ کہ بندوں میں سے کسی بندے اور غلام کا قانون اور طریقہ نہیں، اور نہ ہی ایسا مذہب ہے جو کسی انسان اور مفکر کی اختراع ہو، حتی کہ اس کی دعوت دینے والے یہ اعلان کرنے سے شرم محسوس کرتے ہوں کہ ان کا آخری ہدف یہ ہے کہ سارے کا سارا دین اللہ تعالی کا ہی ہو کر رہ جائے۔ جب وہ مذاہب جس کے لوگ تابع ہیں وہ بشری مذہب ہوں اور کسی بندے کی اختراع اور ایجاد ہوں اور جب قوانین اور نظام جو ان کی زندگی کو چلاتے ہوں وہ بھی کسی بندے کی اختراع اور ایجاد ہوں تو اس حالت میں ہر مذہب اور ہر قانون اور نظام کو حق حاصل ہے کہ اپنی حدود کے اندر امن کے ساتھ قائم رہے جب تک کہ وہ کسی دوسرے کی حدود سے تجاوز نہیں کرتا، اور اس مذہب اور نظام اور مختلف حالات کو حق ہے کہ زندہ رہیں، اور کسی دوسرے کو مٹانے اور زائل کرنے کی کوشش نہ کریں. اورجب وہاں منہج الہی اور ربانی شریعت موجود ہو اور اس کے مقابلے میں دوسرے مذاہب جو انسانی اور بشری اختراع ہیں پائے جائیں تو بنیادی طور پر ہی معاملہ مختلف ہو جاتا ہے، اور الہی منہج کو حق ملتا ہے کہ وہ بشری حدود اور پردوں کو پھلانگ کر لوگوں کو بندوں کی عبادت سے باہر نکالے۔

اسلام کے تلوارسے پھیلنے کی توجیہ

الإسلام انتشر بالحجۃ والبیان بالنسبۃ لمن استمع البلاغ واستجاب لہ وانتشر بالقوۃ والسیف لمن عاند وکابر حتی غُلِب علی أمرہ ،فذہب عنادہ فأسلم لذلک الواقع۔ ترجمہ:سعودی مفتی لکھتے ہیں کہ اس شخص کی بنسبت جو دعوت کو سنتا اور اسے قبول کرتا ہے اسلام حجت و دلیل اور بیان کے ساتھ پھیلا، اور جو شخص اسلام کی مخالفت اور اس کے ساتھ معاندانہ اور متکبرانہ رویہ اختیار کرتا ہے، اس کی بنسبت اسلام قوت و تلوار کے ساتھ پھیلا حتی کہ یہ اس کے معاملہ پر غالب آگیا، تو اس کا عناد اور دشمنی جاتی رہی اور اس نے اس واقع کی بنا پراسلام قبول کر لیا۔ (فتاوی اللجنۃ الدائمۃ(۱۴:۱۲)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh