Fatwa #2414
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۴۷۔ لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,325
سوال (Question):
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۴۷۔ لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
منافقین اورلبرل ہمیشہ اہل اسلام کوجہاد میں کمزورکرتے ہیں
{لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَہُمْ وَاللہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ }(۴۷) ترجمہ کنزالایمان:اگر وہ تم میں نکلتے تو ان سے سوا نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتا اور تم میں فتنہ ڈالنے کو تمہارے بیچ میں غرابیں دوڑاتے اور تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اگر منافقین تمہارے ساتھ جہادکے لئے نکلتے تو یہ تمہارے نقصان میں اضافہ ہی کرتے اور تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کرنے کے لئے دوڑتے پھرتے اور تمہارے درمیان ان کے جاسوس موجود ہیں اور اللہ تعالی ظالموں کو خوب جانتا ہے۔منافق جہا دمیں جاکرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف فسادپیداکرتے
ہُوَ تَسْلِیَۃٌ لِلْمُؤْمِنِینَ فِی تَخَلُّفِ الْمُنَافِقِینَ عَنْہُمْ وَالْخَبَالُ:الْفَسَادُ وَالنَّمِیمَۃُ وَإِیقَاعُ الِاخْتِلَافِ وَالْأَرَاجِیف، أَیْ مَا زَادُوکُمْ قُوَّۃً وَلَکِنْ طَلَبُوا الْخَبَالَ وَقِیلَ:الْمَعْنَی لَا یَزِیدُونَکُمْ فِیمَا یَتَرَدَّدُونَ فِیہِ مِنَ الرَّأْیِ إِلَّا خَبَالًا۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوتسلی دی ہے اس بارے میں کہ منافقین ان سے پیچھے رہ گئے اور’’الخبال ‘‘سے مراد فسادبرپاکرنااورچغل خوری کرنااوراختلا ف پیداکرنااورجھوٹی خبریں اڑاناہے ۔یعنی منافقین اگرتمھارے ساتھ چلے بھی جاتے توتمھاری قوت وطاقت میں اضافہ نہ کرتے ، بلکہ وہ فساد اوراختلاف پیداکرتے اوریہ بھی اس کامعنی بیان کیاگیاہے کہ وہ اگرتمھارے ساتھ جاتے تووہاں بھی فساد کھڑاکردیتے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۵۶)منافقین نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان فساد پیداکرنے کی کوشش کی
وَاعْلَمْ أَنَّ حَاصِلَ الْکَلَامِ ہُوَ أَنَّہُمْ لَوْ خَرَجُوا فِیہِمْ مَا زَادُوہُمْ إِلَّا خَبَالًا، وَالْخَبَالُ ہُوَ الْإِفْسَادُ الَّذِی یُوجِبُ اخْتِلَافَ الرَّأْیِ وَہُوَ مِنْ أَعْظَمِ الْأُمُورِ الَّتِی یَجِبُ الِاحْتِرَازُ عَنْہَا فِی الْحُرُوبِ لِأَنَّ عِنْدَ حُصُولِ الِاخْتِلَافِ فِی الرَّأْیِ یَحْصُلُ الِانْہِزَامُ وَالِانْکِسَارُ عَلَی أَسْہَلِ الْوُجُوہِ. ثُمَّ بَیَّنَ تَعَالَی أَنَّہُمْ لَا یَقْتَصِرُونَ عَلَی ذَلِکَ بَلْ یَمْشُونَ بَیْنَ الْأَکَابِرِ بِالنَّمِیمَۃِ فَیَکُونُ الْإِفْسَادُ أَکْثَرَ، وَہُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِہِ: وَلَأَوْضَعُوا خِلالَکُمْ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حاصل کلام یہ ہے کہ اگروہ منافقین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جہاد کے لئے نکلتے تونقصان کااضافہ کرتے اور’’خبال ‘‘ وہ فساد ہے جورائے میں اختلاف پیداکرے اوریہ ان بڑے امورمیں سے ہے جن سے جنگ میں بچنالازمی ہے کیونکہ رائے میں اختلاف کے وقت شکست اورآسان طریقے سے کمزوری لاحق ہوجاتی ہے ۔ پھراللہ تعالی نے یہ بیان کیاکہ ا نہوںنے اسی پراکتفانہ کیابلکہ اکابرکے درمیان چغل خوری کی جوفساد ڈالنے کی بہت بڑی کوشش ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف{وَلَأَوْضَعُوا خِلالَکُم}سے یہی مراد ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۶۴){وَفِیکُمْ سَمَّاعُونَ لَہُم}کامطلب
قَالَ قَتَادَۃُ: فِیکُمْ مَنْ یَسْمَعُ کَلَامَہُمْ وَیَقْبَلُ قَوْلَہُمْ، فَإِذَا أَلْقَوْا إِلَیْہِمْ أَنْوَاعًا مِنَ الْکَلِمَاتِ الْمُوجِبَۃِ لِضَعْفِ الْقَلْبِ قَبِلُوہَا وَفَتَرُوا بِسَبَبِہَا عَنِ الْقِیَامِ بِأَمْرِ الْجِہَادِ کَمَا یَنْبَغِی. ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایسے لوگ ہیں جومنافقین کے کلام کو سنیں گے اورانکے کلام کو قبول کریں گے ،جب یہ ایسے لوگوں کی طرف مختلف قسم کی گفتگوکریں گے ، جن کے دل کمزورہیں وہ اسے سنیں گے اورجہاد میں مناسب استقامت سے کمزوری دکھائیں گے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۶۴) ایک سوال اوراس کاجواب فَإِنْ قِیلَ: کَیْفَ یَجُوزُ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ مَعَ قُوَّۃِ دِینِہِمْ وَنِیَّتِہِمْ فِی الْجِہَادِ؟قُلْنَا: لَا یَمْتَنِعُ فِیمَنْ قَرُبَ عَہْدُہُ بِالْإِسْلَامِ أَنْ یُؤَثِّرَ قَوْلُ الْمُنَافِقِینَ فِیہِمْ وَلَا یَمْتَنِعُ کَوْنُ بَعْضِ النَّاسِ مَجْبُولِینَ عَلَی الْجُبْنِ وَالْفَشَلِ وَضَعْفِ الْقَلْبِ، فَیُؤَثِّرُ قَوْلُہُمْ فِیہِمْ، وَلَا یَمْتَنِعُ أَنْ یَکُونَ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ مِنْ أَقَارِبِ رُؤَسَاء ِ الْمُنَافِقِینَ فَیَنْظُرُونَ إِلَیْہِمْ بِعَیْنِ الْإِجْلَالِ وَالتَّعْظِیمِ، فَلِہَذَا السَّبَبِ یُؤَثِّرُ قَوْلُ ہَؤُلَاء ِ الْأَکَابِرِ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فِیہِمْ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کے لئے کیسے جائز ہے ، حالانکہ ان کادل اورنیت جہاد کے لئے بڑی قوی تھی ؟اس کاجواب یہ ہے کہ اس میں کوئی امتناع نہیں ہے ، جو نیااسلام لانے والاہواس میں منافقین کاقول اثرکرے اوراس میں کوئی ممانعت نہیں کہ کچھ لوگ بطورجبلت بزدل، کمزوراوردل کے ضعف پرہوں تومنافقین کاقول ان میں موثرہوسکتاہے ۔ کچھ منافقین ان کے رشتہ دارہوںاوروہ ان کو تعظیم اورعزت کی نگاہ سے دیکھیں اوران منافقین کاقول ان میں موثرہو۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۶۴)ظالم کون؟
وَاللَّہُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ یَعُمُّ کُلَّ ظَالِمٍ وَمَعْنَی ذَلِکَ:أَنَّہُ یُجَازِیہِ عَلَی ظُلْمِہِ وَانْدَرَجَ فِیہِ مَنْ یَقْبَلُ کَلَامَ الْمُنَافِقِینَ، وَمَنْ یُؤَدِّی إِلَیْہِمْ أَخْبَارَ الْمُؤْمِنِینَ، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْ ہَذِہِ الْغَزَاۃِ مِنَ الْمُنَافِقِینَ۔ ترجمہ :الامام أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی المتوفی : ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {وَاللَّہُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ}اس میں سب ظالم آگئے ، مطلب یہ ہے اللہ تعالی ان سب کو ان کے ظلم کی سزادے گا، اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جومنافقین کی باتیں قبول کرتے ہیںاوروہ بھی شامل ہیں جومنافقین تک اہل ایمان کی خبریں پہنچاتے ہیں اوروہ بھی جو اپنے نفاق کی وجہ سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۵:۴۳۰) اس سے معلوم ہواکہ جو مختلفممالک میں ایجنسی کے لوگ علماء کرام کی جاسوسیاں کرتے ہیں اوران کوناحق تنگ کرتے ہیں اوران کے دین کی بات کرنے پر بھی ان کو دہشت گردقراردیتے ہیں یہ بھی انہیں منافقین کی روحانی اولاد ہیں ۔ ان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کاسراغ تولگتانہیں مگرعلماء کے پیچھے ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے یہ اسرائیلی ہوں اورمسلمانوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ منافق ظاہری نیکی بھی کئی مرتبہ بری نیت سے کرتا ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو کافروں سے ڈرانا اور آپس میں لڑانا منافقوں کا کام ہے۔ ہمارے دور میں بھی ایسے لکھاری جوکالم نگارہیں اورٹی وی پربیٹھے ہوئے لبرل وسیکولر اسلام دشمن حضرات کی کمی نہیں جو ہر وقت غیر مسلم حکومتوں کی طاقت، اسلحہ، فوج اور وسائل کا تذکرہ کرکے مسلمانوں کو ڈرانے میں لگے رہتے ہیں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9