Fatwa #2422
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۶۱۔ وَمِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ہُوَ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,173
سوال (Question):
تفسیرسورۃالتوبہ آیت ۶۱۔ وَمِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ہُوَ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں میں منافقین اورلبرل کانام سرفہرست آتاہے
{وَمِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ہُوَ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّکُمْ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَرَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ }(۶۱) ترجمہ کنزالایمان:اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کا ن ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں اور وہ جو رسولُ اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور ان میں کچھ وہ ہیں جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں۔ اے حبیب کریم ﷺ!آپ فرمادیں:تمہاری بہتری کے لئے کان ہیں ، وہ اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور تم میں جو مسلمان ہیں ان کیلئے رحمت ہیں اور جو رسول کریم ﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ شان نزول بَیَّنَ تَعَالَی أَنَّ فِی الْمُنَافِقِینَ مَنْ کَانَ یَبْسُطُ لِسَانَہُ بِالْوَقِیعَۃِ فِی أَذِیَّۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَقُولُ: إِنْ عَاتَبَنِی حَلَفْتُ لَہُ بِأَنِّی مَا قُلْتُ ہَذَا فَیَقْبَلُہُ، فَإِنَّہُ أُذُنٌ سَامِعَۃٌ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں بیان فرمایاکہ منافقین میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخیاں کرنے کے لئے غیبت اورتصادم کی زبان لمبی کرتے تھے اورکہتے تھے کہ اگرمجھے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے جھڑکاتومیں قسم کھالوں گاکہ میں نے توکوئی ایسی بات نہیں کی توآپﷺاسے قبول کرلیں گے کیونکہ آپﷺکانوں کے کچے ہیں۔ (ہرایک کی بات کو تسلیم کرلیتے ہیں) (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۹۲)گستاخی کرنے والاشخص کون؟
وَہَذِہِ الْآیَۃُ نَزَلَتْ فِیَ:ہُوَ نبتل بن الحارث، قال ابْنُ إِسْحَاقَ وَکَانَ نَبْتَلُ رَجُلًا جَسِیمًا ثَائِرَ شَعْرِ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، آدَمَ أَحْمَرَ الْعَیْنَیْنِ أَسَفْعَ الْخَدَّیْنِ مُشَوَّہَ الْخِلْقَۃِ، وَہُوَ الَّذِی قَالَ فِیہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی الشَّیْطَانِ فَلْیَنْظُرْ إِلَی نَبْتَلِ بْنِ الْحَارِثِ۔ ترجمہ :اوریہ آیت کریمہ نبتل بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ، محمدبن اسحاق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں نبتل بہت ہی موٹاشخص تھا، اس کے سراورداڑھی کے بال پراگندہ اوربکھرے ہوئے رہتے تھے۔ اس کارنگ گندمی ، آنکھیں سرخ ، رخسار سرخی مائل سادہ رنگ کے تھے اوروہ بہت زیادہ بدشکل تھا، یہ وہی ہے جس کے بارے میں حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جو شخص شیطان کو دیکھناچاہے تواسے چاہئے کہ وہ نبتل بن حارث کو دیکھ لے۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۲:۳۶۴)یہ منافق کان کٹاتھا
وکان رجلا أدلم ثَائِرَ شَعْرِ الرَّأْسِ أَحْمَرَ الْعَیْنَیْنِ أسقع الْخَدَّیْنِ مُشَوَّہَ الْخِلْقَۃِ، وَکَانَ یَنِمُّ حَدِیثَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُنَافِقِینَ، فَقِیلَ لَہُ:لَا تَفْعَلْ، فَقَالَ:إِنَّمَا مُحَمَّدٌ أُذُنٌ فَمَنْ حَدَّثَہُ شَیْئًا صَدَقَہُ، فَنَقُولُ مَا شِئْنَا ثُمَّ نَأْتِیہِ وَنَحْلِفُ بِاللَّہِ فَیُصَدِّقُنَا، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآیَۃَ. ترجمہ:الامام نظام الدین الحسن بن محمد بن حسین القمی النیسابوری المتوفی : ۸۵۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نبتل بن حارث کان کٹا، سرخ آنکھوں والا،سیاہ رخساروں والابدصورت انسان تھا، اوریہ شخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکی باتیں منافقین کو جاکربتایاکرتا، جب اسے منع کیاگیاتواس نے کہاکہ محمدﷺاذن ہیں جوبھی بات ان کو کی جائے اس کو مان لیتے ہیں۔ اس لئے ہم جو چاہیں کہہ لیں ۔ (غرائب القرآن ورغائب الفرقان:نظام الدین الحسن بن محمد بن حسین القمی النیسابوری (۳:۴۹۵)گستاخوں کے لئے دردناک عذاب ہے
یَقُولُ تَعَالَی وَمِنَ الْمُنَافِقِینَ قَوْمٌ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْکَلَامِ فِیہِ، وَیَقُولُونَ ہُوَ أُذُنٌ أَیْ مَنْ قَالَ لَہُ شَیْئًا صَدَّقَہُ فینا ومن حدثہ صدقہ، فإذا جئناہ وَحَلَفْنَا لَہُ صَدَّقَنَارُوِیَ مَعْنَاہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدٍ وقَتَادَۃَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی:قُلْ أُذُنُ خَیْرٍ لَکُمْ أَیْ ہُوَ أُذُنُ خَیْرٍ یَعْرِفُ الصَّادِقَ مِنَ الْکَاذِبِ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ أَیْ وَیُصَدِّقُ الْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَۃٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ أَیْ وَہُوَ حُجَّۃٌ عَلَی الْکَافِرِینَ وَلِہَذَا قَالَ وَالَّذِینَ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّہِ لَہُمْ عَذابٌ أَلِیمٌ. ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ منافقین کی ایک جماعت حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخ ہے ، اپنی باتوں سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو دکھ پہنچاتے ہیں، اورکہتے ہیں کہ یہ نبی ﷺتوکانوں کے بہت کچے ہیں ، جس سے جوسنامان لیا، جب ہم ان کے پاس جائیں گے اورقسمیں کھائیں گے تووہ ہماری بات کایقین کرلیں گے ، اللہ تعالی فرماتاہے کہ میرے حبیب کریم ﷺبہترین کانوںوالے اوربہترین سننے والے ہیں ، وہ صادق وکاذب کو خوب جانتے ہیں ، وہ اللہ تعالی کی باتیں مانتے ہیں اوراہل ایمان کی سچائی کوبھی جانتے ہیں ، وہ اہل ایمان کے لئے رحمت ہیں اوربے ایمانوں کے لئے اللہ تعالی کی حجت ہیں۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۴۹) منافق پاگل ہونے کے باوجودخود کودانشورجانتاہے وَقَالَ الْحَسَنُ:کَانَ الْمُنَافِقُونَ یَقُولُونَ مَا ہَذَا الرَّجُلُ إِلَّا أُذُنٌ، مَنْ شَاء َ صَرَفَہُ حَیْثُ شَاء َ لَا عَزِیمَۃَ لَہُ. ترجمہ :امام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ منافقین کہاکرتے تھے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکان کے کچے ہیں ، جوچاہے جس طرف پھیردے اورآپ ﷺپختہ رائے نہیں رکھتے تھے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۶:۸۹)معارف ومسائل
(۱) اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ نفاق کے مرض میں مبتلالوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو جہاد پرجاتے ہوئے موت نظرآتی ہے ، چنانچہ وہ لوگ جہاد سے بچنے کے لئے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ذات گرامی اورآپ ﷺکی تعلیمات شریفہ کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں شک ڈالتے ہیں۔ (۲) چاہے منافق قدیم ہویادورجدیدکامنافق لبرل وسیکولرنے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ہرہرسنت کریمہ اورہرہرفعل مبارک پر نکتہ چینی کرنااپنے اوپرفرض قراردے رکھاہے ، اوراپنے پاگل پن کی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی تعلیمات شریفہ میںایسے پہلوتلاش کرتے ہیں جو محل اعتراض بن سکیں ، اگرکوئی شخص ہٹ دھرمی اورعناد سے کام لے توعمدہ سے عمدہ قانون میں شک پیداکیاجاسکتاہے ، یہ منافقین کہتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺتوکان کے کچے ہیں جوکچھ آپ ﷺسے کہاجاتاہے اس کو فوراًمان لیتے ہیں اوران کی اپنی کوئی ذاتی فکراوررائے نہیں ہے ۔ (۳) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جس طرح حضورتاجدارختم نبوتﷺکے زمانہ مبارکہ کے گستاخوں کے لئے دردناک عذاب کی وعید تھی وہی وعید آج کے گستاخوں کے لئے بھی ہے ۔ ایسانہیں ہے کہ یہ سزاصرف ان کے لئے تھی اوران کی معافی ہے جوچاہے بکتے رہیں۔ (۴) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرے اس کو شیطان وغیرہ کہناحضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کریمہ ہے جیسے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے نبتل کے متعلق فرمایاکہ جوکوئی شیطان کودیکھناچاہے نبتل کو دیکھ لے۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9