صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2495 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃالحجر آیت ۲۴۔ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,759

سوال (Question):

تفسیرسورۃالحجر آیت ۲۴۔ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جہاد کی پہلی صف میں کھڑے ہوکردشمن سے مقابلہ کرنے والوں کی عظمت کابیان

{وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ }(۲۴) ترجمہ کنزالایمان: اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں آگے بڑھے اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور بیشک ہمیں معلوم ہیں وہ لوگ جو تم میں آگے بڑھے اور بیشک ہمیں وہ لوگ بھی معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے۔

آیت کریمہ کی آٹھ تفسیریں

قَوْلُہُ تَعَالَی:وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِینَ فِیہِ ثَمَانِ تَأْوِیلَاتٍ:الْأَوَّلُ:الْمُسْتَقْدِمِینَ فِی الْخَلْقِ إِلَی الیوم، والْمُسْتَأْخِرِینَ الَّذِینَ لَمْ یُخْلَقُوا بَعْدُ، قَالَہُ قَتَادَۃُ وَعِکْرِمَۃُ وغیرہماالثانی:الْمُسْتَقْدِمِین الأموات، والْمُسْتَأْخِرِینَ الْأَحْیَاء ُ، قَالَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالضَّحَّاکُ الثَّالِثُ:الْمُسْتَقْدِمِینَ من تقدم أمۃ محمد، والْمُسْتَأْخِرِینَ أُمَّۃُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَہُ مُجَاہِدالرابع:الْمُسْتَقْدِمِینَ فی الطاعۃ والخیر، والْمُسْتَأْخِرِینَ فِی الْمَعْصِیَۃِ وَالشَّرِّ، قَالَہُ الْحَسَنُ وَقَتَادَۃُ أَیْضًا الخامس:الْمُسْتَقْدِمِینَ فی صفوف الحرب، والْمُسْتَأْخِرِینَ فِیہَا، قَالَہُ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّب السَّادِسُ:الْمُسْتَقْدِمِینَ من قتل فی الجہاد، والْمُسْتَأْخِرِینَ مَنْ لَمْ یُقْتَلْ، قَالَہُ الْقُرَظِیُّ السَّابِع:الْمُسْتَقْدِمِینَ أول الخلق، والْمُسْتَأْخِرِینَ آخِرُ الْخَلْقِ، قَالَہُ الشَّعْبِیُّ الثَّامِنُ:الْمُسْتَقْدِمِینَ فِی صفوف الصلاۃ، والْمُسْتَأْخِرِینَ فِیہَا بِسَبَبِ النِّسَاء ِوَکُلُّ ہَذَا مَعْلُومٌ لِلَّہِ تَعَالَی، فَإِنَّہُ عَالِمٌ بِکُلِّ مَوْجُودٍ وَمَعْدُومٍ، وَعَالِمٌ بِمَنْ خَلَقَ وَمَا ہُوَ خَالِقُہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِین}کی آٹھ تاویلات کی گئی ہیں: پہلاقول…حضرت سیدناقتادہ اورعکرمہ رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ {الْمُسْتَقْدِمِین}یعنی جوآج دن تک پیداہونے میں آگے بڑھنے والے ہیں { الْمُسْتَأْخِرِین}وہ لوگ جوابھی پیداہی نہیں ہوئے۔ دوسراقول …حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااورحضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ {الْمُسْتَقْدِمِین}سے مراد مرنے والے ہیں اور{ الْمُسْتَأْخِرِین}سے مرادزندہ لوگ ہیں۔ تیسراقول…حضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ {الْمُسْتَقْدِمِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی امت میں سے پہلے گزرچکے ہیں اور{ الْمُسْتَأْخِرِین}وہ ہیں جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی امت میں سے پیچھے آنے والے ہیں ۔ چوتھاقول …حضرت سیدناامام حسن بصری اورحضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ {الْمُسْتَقْدِمِین}وہ ہیں جوخیرواطاعت میں آگے بڑھنے والے ہیں اور{ الْمُسْتَأْخِرِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراورگناہوں میں پیچھے رہنے والے ہیں ۔ پانچواں قول …حضرت سیدناسعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {الْمُسْتَقْدِمِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جوجہاد میں صفوں میں آگے بڑھنے والے ہیں اور{ الْمُسْتَأْخِرِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہاد سے پیچھے رہنے والے ہیں ۔ چھٹاقول …محمدبن کعب القرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں{الْمُسْتَقْدِمِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جوجہاد میں قتل ہونے کے سبب آگے بڑھنے والے ہیں اور{ الْمُسْتَأْخِرِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہاد میں قتل نہیں کئے گئے ۔ ساتواں قول …حضرت سیدناامام الشعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {الْمُسْتَقْدِمِین}سے مراد اول الخلق ہیں اور{ الْمُسْتَأْخِرِین}سے مراد آخرالخلق ہیں۔ آٹھواں قول …{الْمُسْتَقْدِمِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کی صفوں میں آگے نکلنے والے ہیں اور{ الْمُسْتَأْخِرِین}سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان سے پیچھے رہنے والے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۱۰:۱۹) اگران کو پہلی صف کااجرمعلوم ہوجائے تو؟ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ:أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَاء ِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ یَجِدُوا إِلَّا أَنْ یَسْتَہِمُوا عَلَیْہِ لاَسْتَہَمُوا، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی التَّہْجِیرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی العَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اگر لوگ اذان اور صف ِاول میں موجود اجر کو جان لیں اور پھر اس کے حصول کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ نہ پائیں تو ضرور قرعہ اندازی کریں۔ اگر وہ اوّل وقت میں نماز پڑھنے کے اجر کو جان لیں تو ضرور اس میں سبقت کریں اور اگر وہ عشا اور صبح کی نماز کے اجر کو جان لیں تو ضرور اس میں حاضر ہوں، اگرچہ گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۱۲۶)

سب سے بہترین صف کونسی ہے ؟

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:خَیْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُہَا، وَشَرُّہَا آخِرُہَا، وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَاء ِ آخِرُہَا، وَشَرُّہَا أَوَّلُہَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی اور سب سے کم تر صف آخری ہوتی ہے، جب کہ عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری اور سب سے کم تر پہلی ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۳۲۶)

پہلی صف سے پیچھے رہنے والوں کو اللہ تعالی پیچھے کردے گا

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی فِی أَصْحَابِہِ تَأَخُّرًا فَقَالَ لَہُمْ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِی، وَلْیَأْتَمَّ بِکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ، لَا یَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُونَ حَتَّی یُؤَخِّرَہُمُ اللہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے دیکھاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صف میں پیچھے رہتے تھے،توان سے فرمایا:آگے بڑھیں،میری اقتدا کریں اور آپ سے بعد والے آپ کی اقتدا کریں۔ لوگ ہمیشہ (نیکی سے)پیچھے رہنے لگتے ہیں،حتی کہ اللہ تعالیٰ انہیں (اپنی رحمت سے)پیچھے کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۱:۳۲۵)

پہلی صف سے پیچھے ہٹنامنافقین کاکام ہے

عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، أَنَّہُ قَالَ:صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ،فَقَالَ شَاہِدٌ فُلَانٌ؟ فَقَالُوا:لَا. فَقَالَ:شَاہِدٌ فُلَانٌ؟ فَقَالُوا:َلافَقَالَ:شَاہِدٌ فُلَانٌ فَقَالُوا:َلا فَقَالَ:إِنَّ ہَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِینَ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِیہِمَا، لَأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلَی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِیلَتَہُ، لَابْتَدَرْتُمُوہُ، وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَ أَزْکَی مِنْ صَلَاتِہِ وَحْدَہُ وَصَلَاتُہُ مَعَ رَجُلَیْنِ أَزْکَی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا کَانَ أَکْثَرَ فَہُوَ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ایک دن ہمیں صبح کی نماز پڑھائی،پھر فرمایا :کیا فلاں حاضر ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :نہیں۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:فلاں حاضر ہے؟عرض کیا :نہیں۔اس پر حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا :بلاشبہ یہ دونوں نمازیں (عشا وفجر)منافقین پر ساری نمازوں سے زیادہ بھاری ہیں۔اگر آپ لوگوں کو ان کا اجر معلوم ہو جائے تو ان دونوں میں ضرور حاضر ہو جائو ،اگرچہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔یقینا پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہوتی ہے۔اگرآپ لوگ اس کی فضیلت جان لو تو ضرور اسے حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرو۔بلاشبہ ایک شخص کی ایک شخص کے ساتھ نماز اکیلے نماز پڑھنے سے زیادہ اجروثواب والی ہے اور اس کی دو آدمیوں کے ساتھ نماز ایک آدمی کے ساتھ نماز سے زیادہ اجروثواب والی ہے اور جیسے جیسے یہ تعداد بڑھتی جائے گی،وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ پسندیدہ ہو گی۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۵:۱۸۸)

جہاد کی پہلی صف کی فضیلت کابیان

وَکَمَا تَدُلُّ ہَذِہِ الْآیَۃُ عَلَی فَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ فِی الصَّلَاۃِ، فَکَذَلِکَ تَدُلُّ عَلَی فَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ فِی الْقِتَالِ، فَإِنَّ الْقِیَامَ فِی نَحْرِ الْعَدُوِّ، وَبَیْعَ الْعَبْدِ نَفْسَہُ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی لَا یُوَازِیہِ عَمَلٌ، فَالتَّقَدُّمُ إِلَیْہِ أَفْضَلُ، وَلَا خِلَافَ فِیہِ وَلَا خَفَاء َ بِہِ وَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ یتقدم الْحَرْبِ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّہُ کَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ قَالَ الْبَرَاء ُ:کُنَّا وَاللَّہِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِی بِہِ، وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِی یُحَاذِی بِہِ، یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں کہتاہوں کہ جس طرح یہ آیت کریمہ نماز میں صف اول کی فضیلت پردلالت کرتی ہے اسی طرح یہ جہاد میں بھی صف اول کی فضیلت پردلالت کرتی ہے کیونکہ دشمن کے مقابلے میں کھڑاہونااوربندے کااپنی جان کو اللہ تعالی کو فروخت کردیناکوئی عمل اس کے مساوی نہیں ہوسکتا، پس اس کی طرف آگے بڑھناافضل ہے ، اس میں نہ کوئی اختلاف ہے اورنہ ہی کوئی اس میں خفاہے ۔ اورکوئی بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے سامنے کوئی عیب یابرائی بیان نہیں کرسکتاتھاکیونکہ آپ ﷺتمام لوگوں سے زیادہ دلیراورشجاع تھے ، حضرت سیدنابراء بن عاز ب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خداتعالی کی قسم !جب حضورتاجدارختم نبوتﷺکاجلال کی وجہ سے رنگ مبارک سرخ ہوجاتاتوہم آپﷺسے بچتے تھے اورہم میںسے بہادروہ ہوتاتھاجوحضورتاجدارختم نبوتﷺکے سامنے بیٹھ جاتا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۱۰:۱۹)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ نیک عمل میں آگے بڑھنے کاحکم دیاگیاہے کہ کوئی شخص نیک عمل میں ایثارنہیں کرسکتایعنی نماز کی پہلی صف میں شریک ہونے لگے ہیں توکوئی کسی کویہ نہیں کہہ سکتاکہ آگے کھڑے ہوجائومیں پیچھے کھڑاہوجاتاہوں کیونکہ یہ نیکی کاایثارہے جوکہ جائز نہیں ، اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم کو توحکم ملاہے کہ ہم نیکی کے کاموں میں مسابقت کریں ۔تونیکی کے کام میں ایثارمسابقت کے خلاف ہے ۔ (۲)جس طرح مسجد کی پہلی صف میں مسابقت کرنے کاحکم ہے اسی طرح جہاد کی پہلی صف میں بھی مسابقہ کاحکم دیاگیاہے ۔ آج ہم بحیثیت مسلم قوم جہاد کی صفوف میں کہیں بھی نظر نہیںآتے ۔ اللہ تعالی ہمیں جذبہ جہاد سے سرشارکرے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh