Fatwa #2483
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالرعدآیت ۳۱۔ وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی بَلْ لِّلہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,275
سوال (Question):
تفسیرسورۃالرعدآیت ۳۱۔ وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی بَلْ لِّلہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے بے جامطالبات کرنے والے گستاخوں پررب تعالی کے عذاب کاذکراورگستاخوں کے قتل پردکھ کرناکفارکاکام ہونے کابیان
{وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی بَلْ لِّلہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا اَفَلَمْ یَایْـَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ یَشَآء ُ اللہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیْعًا وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُہُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِہِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُ اللہِ اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ }(۳۱) ترجمہ کنزالایمان:اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں تو کیا مسلمان اس سے نا امید نہ ہوئے کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا اور کافروں کو ہمیشہ ان کے کئے پر سخت دھمک پہنچتی رہے گی یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے باتیں کی جاتیںجب بھی یہ کافر نہ مانتے بلکہ سب کام اللہ تعالی ہی کے اختیار میں ہیں، تو کیا مسلمان اس بات سے ناامید نہ ہوگئے کہ اگر اللہ تعالی چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت د ے دیتا اور کافروں کو ان کے عمل کی وجہ سے ہمیشہ ہلا دینے والی مصیبت پہنچتی رہے گی یا اے حبیب کریمﷺآپ !ان کے گھروں کے نزدیک اتریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالی کا وعدہ آجائے بیشک اللہ تعالی اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ شان نزول روی ان نفرا من مشرکی مکۃ معہم ابو جہل ابن ہشام وعبد اللہ بن امیۃ قالوا یا محمد ان یسرک ان نتبعک فسیر لنا بقرء انک الجبال عن حوالی مکۃ فانہا ضیقۃ حتی تتسع لنا الأرض فنتخذ البساتین والمحارث وشقق الأرض وفجر لنا الأنہار والعیون کما فی ارض الشام واحی رجلین او ثلاثۃ ممن مات من آبائنا منہم قصی بن کلاب لیکلمونا ونسألہم عن أمرک أحق ما تقول أم باطل فلما اقترحوا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم ہذہ الآیات نزل قولہوَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی بَلْ لِّلہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا اَفَلَمْ یَایْـَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ یَشَآء ُ اللہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیْعًا وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُہُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِہِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُ اللہِ اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَاد۔ ترجمہ :روایت کیاگیاہے کہ مشرکین مکہ کاایک گروہ جن میں ابوجہل ، عبداللہ بن امیہ وغیرہ تھے حضور تاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں آکرکہنے لگے کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ ہم آپﷺ کی نبوت مانیں اور آپ ﷺکی پیروی کریں تو آپﷺ قرآن شریف پڑھ کراس کی تاثیر سے مکہ مکرمہ کے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیجئے تاکہ ہمیں کھیتی باڑی کرنے کے لئے وسیع میدان مل جائیں اور زمین پھاڑ کر چشمہ جاری کیجئے تاکہ ہم کھیتوں اور باغوں کو ان سے سیراب کریں اورقُصَی بن کلاب وغیرہ ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کردیجئے تاکہ وہ ہم سے کہہ جائیں کہ آپ نبی ہیں۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ یہ حیلے بہانے کرنے والے کسی حال میں بھی ایمان لانے والے نہیں۔ سب کام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں،تو ایمان وہی لائے گا جس کو اللہ تعالی چاہے اور توفیق دے اس کے سوا اور کوئی ایمان لانے والا نہیں اگرچہ انہیں وہی نشانیاں دکھا دی جائیں جو وہ طلب کررہے ہیں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۳۷۶)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاگستاخ سکھ نہیں پاسکتا
(وَلا یَزالُ الَّذِینَ کَفَرُوا تُصِیبُہُمْ بِما صَنَعُوا قارِعَۃٌ)أَیْ دَاہِیَۃٌ تَفْجَؤُہُمْ بِکُفْرِہِمْ وَعُتُوِّہِمْ،أَیْ لَا یَزَالُ الْکَافِرُونَ تُصِیبُہُمْ دَاہِیَۃٌ مُہْلِکَۃٌ مِنْ صَاعِقَۃٍ کَمَا أَصَابَ أَرْبَدَ أَوْ مِنْ قَتْلٍ أَوْ مِنْ أَسْرٍ أَوْ جَدْبٍ، أَوْ غَیْرِ ذَلِکَ مِنَ الْعَذَابِ وَالْبَلَاء ِ، کَمَا نَزَلَ بِالْمُسْتَہْزِئِینَ،وَہُمْ رُؤَسَاء ُ الْمُشْرِکِینَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی آیت کریمہ کے اس حصے{وَلا یَزالُ الَّذِینَ کَفَرُوا تُصِیبُہُمْ بِما صَنَعُوا قارِعَۃ}کے تحت فرماتے ہیں کہ مصیبت ان کافروں کواوران لوگوں کو جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت کے متعلق یاآپ ﷺکی تعلیمات کے متعلق طعن کرتے ہیں کی وجہ سے پریشان کرے گی۔ یعنی کفاراورگستاخ اس حالت میں رہیں گے جس طرح مشرکین کے سرداروں کوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کی وجہ سے آسمانی بجلی نے پکڑاتھااسی طرح ان کو بھی بجلی کی کڑک سے ہلاک کردینے والی مصیبت اورصدمہ پہنچتارہے گا، جس طرح اربدکولاحق ہواتھااسی طرح ان گستاخوں کو قتل ، قید، قحط سالی یااس کے علاوہ عذاب وآزمائش کی صورتوں میں سے کوئی نہ کوئی صدمہ پہنچتارہے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۱۹)جنگیں اورسرایاگستاخوں کے لئے بطورسزاتھے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:الْقَارِعَۃُ النَّکْبَۃُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَیْضًا وَعِکْرِمَۃُ:الْقَارِعَۃُ الطَّلَائِعُ وَالسَّرَایَا الَّتِی کَانَ یُنَفِّذُہَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ’’القارعۃ ‘‘ کامعنی ہے النکبۃ یعنی مصیبت ، اورحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااورحضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ القارعۃ سے مراد وہ جنگیں اورسرایاہیں جوحضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کے لئے بھیجے تھے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۱۹)گستاخوں کو گستاخی کی وجہ سے شہرمکہ سے ہاتھ دھوناپڑا
وَقِیلَ:نَزَلَتِ الْآیَۃُ بِالْمَدِینَۃِ، أَیْ لَا تَزَالُ تُصِیبُہُمُ الْقَوَارِعُ فَتَنْزِلُ بِسَاحَتِہِمْ أَوْ بِالْقُرْبِ مِنْہُمْ کَقُرَی الْمَدِینَۃِ وَمَکَّۃَ(حَتَّی یَأْتِیَ وَعْدُ اللَّہِ)فِی فَتْحِ مَکَّۃَ، قَالَہُ مُجَاہِدٌ وَقَتَادَۃ۔ ترجمہ : امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اوراس آیت کریمہ میں یہ بتایاگیاکہ ان پرمصیبت نازل ہوتی رہے گی ، پس وہ ان کے صحن میں یاان کے بالکل قریب نازل ہوئی ، جس طرح مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے گائوں ہیں۔ {حَتَّی یَأْتِیَ وَعْدُ اللَّہِ}یعنی فتح مکہ میں ، یہ حضرت سیدنامجاہد اورحضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہماکاقول ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۱۹)گستاخوں کوجواب دینے کے لئے جہاد کی اجازت ملی
وَقِیلَ: نَزَلَتْ بِمَکَّۃَ، أَیْ تُصِیبُہُمُ الْقَوَارِعُ، وَتَخْرُجُ عَنْہُمْ إِلَی الْمَدِینَۃِ یَا مُحَمَّدُ، فَتَحُلُّ قَرِیبًا مِنْ دَارِہِمْ، أَوْ تَحُلُّ بِہِمْ مُحَاصِرًا لَہُمْ، وَہَذِہِ الْمُحَاصَرَۃُ لِأَہْلِ الطَّائِفِ، وَلِقِلَاعِ خَیْبَرَ، وَیَأْتِی وَعْدُ اللَّہِ بِالْإِذْنِ لَکَ فِی قِتَالِہِمْ وَقَہْرِہِمْ. ترجمہ : امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ مکہ مکرمہ میں ناز ل ہوئی اوراس میں بتایاگیاکہ ان پررب تعالی کی طرف سے مصیبت نازل ہوتی رہے گی اوراے حبیب کریمﷺ! آپ یہاں سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے جائیں تویہ مصیبت ان کامحاصرہ کرتے ہوئے اترے گی اوریہ محاصرہ اہل طائف اورخیبرکے قلعہ کاتھا، آپ ﷺکے پاس ان کے ساتھ جنگ کرنے اوران پرسختی کرنے کی اجازت کے ذریعے اللہ تعالی کی مددکاوعدہ آجائے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۱۹)گستاخوں کو قیامت کے دن بھی معافی نہیں ہوگی
وَقَالَ الْحَسَنُ:وَعْدُ اللَّہِ یوم القیامۃ. ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالی گستاخوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلاء فرماکراپنے اس وعدے کوپورافرمائے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۱۹)گستاخوں کے قتل کادکھ کبھی ختم نہیں ہوگا
قِیلَ:أَرَادَ بِہِ جَمِیعَ الْکُفَّارِ لِأَنَّ الْوَقَائِعَ الشَّدِیدَۃَ الَّتِی وَقَعَتْ لِبَعْضِ الْکُفَّارِ مِنَ الْقَتْلِ وَالسَّبْیِ أَوْجَبَ حُصُولَ الْغَمِّ فِی قَلْبِ الْکُلِّ،وَقِیلَ:أَرَادَ بَعْضَ الْکُفَّارِ وَہُمْ جَمَاعَۃٌ مُعَیَّنُونَ وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ فِی لَفْظِ الْکُفَّارِ لِلْمَعْہُودِ السَّابِقِ وَہُوَ ذَلِکَ الْجَمْعُ الْمُعَیَّنُ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مراد تمام کفارہیں کیونکہ کچھ کفارکے حق میں شدیدواقعات ،مثلاًقتل وگرفتاری یہ تمام کفارکے خلاف دل میں غم پیداکرتے ہیں ۔ دوسراقول یہ ہے کہ بعض مفسرین کرام نے فرمایاکہ مراد کچھ کفارہیں اوروہ معین جماعت ہے ۔ لفظ الکفارپرجوالف لام داخل ہے جوسابق معین کی نشاندہی کرتاہے ۔ اوریہ معین جماعت ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۹:۴۲) آیت کریمہ کی دوتفسیریں فِی الْآیَۃِ وَجْہَانِ: الْأَوَّلُ:وَلَا یَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا تُصِیبُہُمْ بِمَا صَنَعُوا مِنْ کُفْرِہُمْ وَسُوء ِ أَعْمَالِہِمْ قَارِعَۃٌ دَاہِیَۃٌ تَقْرَعُہُمْ بِمَا یُحِلُّ اللَّہُ بِہِمْ فِی کُلِّ وَقْتٍ مِنْ صُنُوفِ الْبَلَایَا وَالْمَصَائِبِ فِی نُفُوسِہِمْ وَأَوْلَادِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ، أَوْ تَحُلُّ الْقَارِعَۃُ قَرِیبًا مِنْہُمْ، فَیَفْزَعُونَ وَیَضْطَرِبُونَ وَیَتَطَایَرُ إِلَیْہِمْ شَرَارُہَا وَیَتَعَدَّی إِلَیْہِمْ شُرُورُہَا حَتَّی یَأْتِیَ وَعْدُ اللَّہِ وَہُوَ مَوْتُہُمْ أَوِ الْقِیَامَۃُ وَالْقَوْلُ الثَّانِی:وَلَا یَزَالُ کُفَّارُ مَکَّۃَ تُصِیبُہُمْ بِمَا صَنَعُوا بِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَدَاوَۃِ وَالتَّکْذِیبِ قَارِعَۃٌ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا یَزَالُ یَبْعَثُ السَّرَایَا فَتُغِیرُ حَوْلَ مَکَّۃَ وَتَخْتَطِفُ مِنْہُمْ وَتُصِیبُ مَوَاشِیَہُمْ، أَوْ تَحِلُّ أنت یا محمد قریبا من دارہم بِجَیْشِکَ کَمَا حَلَّ بِالْحُدَیْبِیَۃِ حَتَّی یَأْتِیَ وَعْدُ اللَّہِ وَہُوَ فَتْحُ مَکَّۃَ، وَکَانَ اللَّہُ قَدْ وَعَدَہُ ذَلِکَ۔ ترجمہ :اما م فخرالدین الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کی دو تفسیریں نقل کی گئی ہیں: پہلی تفسیر: یہ کافراپنے کفرکی وجہ سے یہ سزائیں پاتے رہیں گے اوراپنے برے اعمال (حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی گستاخی اوردین متین پرطعن )کی وجہ سے جوان کو ہلاتے رہیں گے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ان پران کے نفوس ، اولاد اوراموال پرمختلف بلائوں اورمصائب کی اقسام اترتی رہیں گی یاان پرعنقریب عذاب آئے اوریہ جزع وفزع کریں گے ، مضطرب ہونگے ، ان کی نحوستیں انہیں پرپڑیں گی ، ان کے شروران کو پہنچیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالی کاوعدہ آجائے وہ ان کی موت یاقیامت ہے۔ دوسری تفسیر: ہمیشہ مکہ کے کفارحضورتاجدارختم نبوتﷺسے دشمنی اورتکذیب کی وجہ سے خوف زدہ رہیں گے کیونکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺہمیشہ سرایابھیجتے تھے ، جن سے مکہ کااردگردتبدیل ہوااوروہ سرایاان میں سے انہیں اچک لیتے اوران کے مویشی حاصل کرلیتے یااے حبیب کریم ﷺ!آپ ان کے گھرکے قریب لشکرلے کرآئیں گے جیساکہ آپﷺحدیبیہ میں تشریف لائے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالی کاوعدہ آگیااوروہ مکہ کی فتح تھی اوراللہ تعالی نے اس کاحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ وعدہ فرمایاتھا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۹:۴۲) اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوتسلی دی کہ آپ ﷺکے گستاخ ضرورمارے جائیں گے ثم قال:إِنَّ اللَّہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیعادَ وَالْغَرَضُ مِنْہُ تَقْوِیَۃُ قَلْبِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِزَالَۃُ الْحُزْنِ عَنْہ۔ ترجمہ :پھراللہ تعالی نے فرمایا{إِنَّ اللَّہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیعاد}(بے شک اللہ تعالی وعدے کے خلاف نہیں کرتا)اس کلام سے غرض حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دل مبارک کوتقویت اوراس سے غم وحزن کو دورکرناہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۹:۴۲)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9