صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2515 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃبنی اسرائیل آیت ۴ تا ۷۔ وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّاکَبِیْرًا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,225

سوال (Question):

تفسیرسورۃبنی اسرائیل آیت ۴ تا ۷۔ وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّاکَبِیْرًا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

انبیاء کرام علیہم السلام کے قتل اوران کی گستاخیوں کی وجہ سے اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے عذابوں کی تفصیل

{وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّاکَبِیْرًا }(۴){فَاِذَا جَآء َ وَعْدُ اُوْلٰیہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا }(۵){ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِمْ وَ اَمْدَدْنٰکُمْ بِاَمْوٰلٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰکُمْاَکْثَرَ نَفِیْرًا }(۶){اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَہَا فَاِذَا جَآء َ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓء ا وُجُوْہَکُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا }(۷) ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبار فساد مچاؤ گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے۔ پھر جب ان میں پہلی بار کا وعدہ آیا ہم نے تم پر اپنے کچھ بندے بھیجے سخت لڑائی والے تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے اور یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہونا۔پھر ہم نے ان پر اُلٹ کر تمہارا حملہ کردیا اور تم کو مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمہارا جتھا بڑھا دیا۔اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے اور برا کرو گے تو اپنا پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں اور مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں تباہ کرکے برباد کردیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور ہم نے بنی اسرائیل کی طرف کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دو بار فساد کرو گے اور تم ضرور بڑا تکبر وغرورکرو گے۔پھر جب ان دو بار میں سے پہلی بار کا وعدہ آیا توہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے جو سخت لڑائی والے تھے تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کیلئے گھس گئے اور یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہونا تھا۔پھر ہم نے تمہارے غلبہ کوان پر اُلٹ دیا اور مال اوراولاد کے ساتھ تمہاری مدد کی اور ہم نے تمہاری تعداد بھی زیادہ کردی۔اگر تم نیکی کرو گے تو تم اپنے لئے ہی بہتر کرو گے اور اگر تم برا ئی کرو گے تو تمہاری جانوں کیلئے ہی ہوگا۔ پھر جب دوسری بار کاوعدہ آیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد میں داخل ہوجائیں جیسے پہلی باراس میں داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ وبرباد کردیں۔

آیت کریمہ کی تفسیرمیں تین اقوال

لَتُفْسِدُنَّ یُرِیدُ الْمَعَاصِیَ وَخِلَافَ أَحْکَامِ التَّوْرَاۃِ وَقَوْلُہُ:فِی الْأَرْضِ یَعْنِی أَرْضَ مِصْرَ وَقَوْلُہُ: وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیراً یَعْنِی أَنَّہُ یَکُونُ اسْتِعْلَاؤُکُمْ عَلَی النَّاسِ بِغَیْرِ الْحَقِّ اسْتِعْلَاء ً عَظِیمًا، لِأَنَّہُ یُقَالُ لِکُلِّ مُتَجَبِّرٍ:قَدْ عَلَا وَتَعَظَّمَ، ثم قال:فَإِذا جاء َ وَعْدُ أُولاہُما یَعْنِی أُولَی الْمَرَّتَیْنِ: بَعَثْنا عَلَیْکُمْ عِباداً لَنا أُولِی بَأْسٍ شَدِیدٍ وَالْمَعْنَی:أَنَّہُ إِذَا جَاء َ وَعْدُ الْفُسَّاقِ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولَی أَرْسَلْنَا عَلَیْکُمْ قَوْمًا أُولِی بَأْسٍ شَدِیدٍ، وَنَجْدَۃٍ وَشِدَّۃٍ، وَالْبَأْسُ الْقِتَالُ، وَمِنْہُ قَوْلُہُ تَعَالَی:وَحِینَ الْبَأْسِوَمَعْنَی بَعَثْنا عَلَیْکُْ أَرْسَلْنَا عَلَیْکُمْ، وَخَلَّیْنَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ خَاذِلِینَ إِیَّاکُمْ، وَاخْتَلَفُوا فِی أَنَّ ہَؤُلَاء ِ الْعِبَادِ مَنْ ہُمْ؟ قِیلَ:إِنَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ تَعَظَّمُوا وَتَکَبَّرُوا وَاسْتَحَلُّوا الْمَحَارِمَ وَقَتَلُوا الْأَنْبِیَاء َ وَسَفَکُوا الدِّمَاء َ، وَذَلِکَ أَوَّلُ الْفَسَادَیْنِ فَسَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ بُخْتَنَصَّرَ فَقَتَلَ مِنْہُمْ أَرْبَعِینَ أَلْفًا مِمَّنْ یَقْرَأُ التَّوْرَاۃَ وَذَہَبَ بِالْبَقِیَّۃِ إِلَی أَرْضِ نَفْسِہِ فَبَقُوا ہُنَاکَ فِی الذُّلِّ إِلَی أَنْ قَیَّضَ اللَّہُ مَلِکًا آخَرَ غَزَا أَہْلَ بَابِلَ وَاتَّفَقَ أَنْ تَزَوَّجَ بِامْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فَطَلَبَتْ تِلْکَ الْمَرْأَۃُ مِنْ ذَلِکَ الْمَلِکِ أَنْ یَرُدَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَفَعَلَ، وَبَعْدَ مُدَّۃٍ قَامَتْ فِیہِمُ الْأَنْبِیَاء ُ وَرَجَعُوا إِلَی أَحْسَنِ مَا کَانُوا، فَہُوَ قَوْلُہُ:ثُمَّ رَدَدْنا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِمْ۔وَالْقَوْلُ الثَّانِی:إِنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِہِ:بَعَثْنا عَلَیْکُمْ عِباداً لَنا أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی سَلَّطَ عَلَیْہِمْ جَالُوتَ حَتَّی أَہْلَکَہُمْ وَأَبَادَہُمْ وَقَوْلُہُ:ثُمَّ رَدَدْنا لَکُمُ الْکَرَّۃَ ہُوَ أَنَّہُ تَعَالَی قَوَّی طَالُوتَ حَتَّی حَارَبَ جَالُوتَ وَنَصَرَ دَاوُدَ حَتَّی قَتَلَ جَالُوتَ فَذَاکَ ہُوَ عَوْدُ الْکَرَّۃِ وَالْقَوْلُ الثَّالِثُ:إِنَّ قَوْلَہُ:بَعَثْنا عَلَیْکُمْ عِباداً لَنا ہُوَ أَنَّہُ تَعَالَی أَلْقَی الرُّعْبَ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فِی قُلُوبِ الْمَجُوسِ،فَلَمَّا کَثُرَتِ الْمَعَاصِی فِیہِمْ أَزَالَ ذَلِکَ الرُّعْبَ عَنْ قُلُوبِ الْمَجُوسِ فَقَصَدُوہُمْ وَبَالَغُوا فِی قَتْلِہِمْ وَإِفْنَائِہِمْ وإہلاکہم۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {لَتُفْسِدُنَّ}کامعنی ہے کہ تم ضرورمعاصی میں مبتلاء ہوجائوگے اورتوراۃ کے احکامات کی مخالفت کروگے اور{فِی الْأَرْضِ}سے مراد مصرکی سرزمین ہے {وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیراً}یعنی ان لوگوں کابڑااورناجائز قبضہ تھا، کیونکہ ہرظالم کوکہاجاتاہے {قَدْ عَلَا وَتَعَظَّمَ}پھراللہ تعالی نے فرمایا{فَإِذا جاء َ وَعْدُ أُولاہُما }پھرجب ان میں پہلی بارکاوعدہ آیا) اس کامعنی یہ ہے کہ جب پہلی دفعہ کاوعدہ آیاتوہم نے تم پرایسی قوم بھیجی جوشدیدصاحب شدت اوربہت زبردست جنگجوتھی ’’باس ‘‘ کامعنی قتال ہے ۔ {بَعَثْنا عَلَیْکُمْ عِباداً لَنا أُولِی بَأْسٍ شَدِید}کامعنی یہ ہے کہ ہم نے تم پربھیجااورتمھارے اوران کے درمیان ہم نہ آئے تاکہ وہ تم کو ذلیل کریں ، اس میں اختلاف ہے کہ یہ بندے کون تھے ؟ پہلاقول: یہ بنی اسرائیل ہیں جو ظالم اورمتکبرہوگئے اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء کو حلال ٹھہرالیاتھا، انبیاء کرام علیہم السلام کو شہیدکیااورخون بہایا، یہ پہلافساد تھا، اللہ تعالی نے ان پربخت نصرکو مسلط کردیاجس نے ان میں سے چالیس ہزارتوراۃ کے علما ء کو قتل کردیااورباقیوں کو وہ اپنی سرزمین پرلے گئے ، وہاں وہ حالت ذلت میں باقی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ایک اوربادشاہ کو قبضہ دے دیا، اس نے اہل بابل کے ساتھ جنگ کی اورا س نے بنی اسرائیل کی عورت کے ساتھ نکاح کیا، اس عورت نے بادشاہ سے مطالبہ کیاکہ بنی اسرائیل کوواپس بیت المقدس بھیج دے تواس نے ایساہی کیا، پھرایک مدت گزرنے کے بعد اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجااوروہ اچھی حالت کی طرف لوٹ آئے۔ اللہ تعالی کایہ فرمان شریف {ثُمَّ رَدَدْنا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِم}سے یہی مراد ہے ۔ دوسراقول : اللہ تعالی کایہ فرمان شریف {بَعَثْنا عَلَیْکُمْ عِباداً لَنا}کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان پرجالوت کو مسلط کردیاحتی کہ اس نے ان کو ہلاک کردیااوراللہ تعالی کے فرمان شریف {ثُمَّ رَدَدْنا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِم}سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے طالوت کوطاقت دی انہوں نے جالوت سے جنگ کی حضرت سیدنادائودعلیہ السلام نے ان کی مددکی اورجالوت کوقتل کردیااوردوبارہ لوٹنے سے مرادیہی ہے ۔ تیسراقول: اللہ تعالی کایہ فرمان شریف {بَعَثْنا عَلَیْکُمْ عِباداً لَنا}کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کارعب مجوسیوں کے دلوں میں بٹھادیا۔ پھرجب ان کے معاصی کثیرہوگئے تواللہ تعالی نے مجوسیوں کے دلوں سے ان کارعب ختم کردیاتومجوسی ان پرچڑھ دوڑے اورانہیں خوف ، قتل، ہلاک اورفناکردیا، یادرہے ان مخصوص قوموں کی معرفت سے زیادہ مقصدمتعلق نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ جب ان کے معاصی زیادہ ہوگئے تواللہ تعالی نے ان پرایسے لوگوںکومسلط کیاجوانہیں تباہ وبربادکردیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۲۰:۲۹۹)

بنی اسرائیل کادماغ مال ودولت کی کثرت کی وجہ سے خراب ہوا؟

قال الکاشفی (درین قصہ اختلاف بسیارست وہر مفسری نقلی کہ بدو رسیدہ إیراد نمودہ وقول أصح وأشہر در مختار القصص وسیر وغیر آن از کتبی کہ در اخبار أنبیاء علیہم السلام نوشتہ اند چنانست کہ چون سلطنت بنی إسرائیل در ولایت شام بصدیقہ رسیدہ از أولاد سلما واو مردی ضعیف حال واعرج بود ملوک أطراف طمع در ولایت ایلیہ بستہ متوجہ آن صوب شدند أول سنجاریب ملک موصل بیامد ومتعاقب او سلما پادشاہ آذربایجان رسید وہر دو تلاش شہر بیت المقدس نمودہ با یکدیگر محاربہ آغاز کردند آتش قتال میان ایشان اشتعال پذیرفت ودریای مبارزت از صرصر مخاصمت بموج درآمد سپہداران سپہـ درہم فکندند … صلای مرگ در عالم فکندند ز پیکان عالمی را ژالہ بگرفت … ز خون روی زمین را لالہ بگرفت عاقبت سطوت ہیبت الہی ظہور نمودہ ہر دو لشگر از یکدیگر منہزم گشتند وغنایم ایشان بدست بنی إسرائیل افتاد دیگر بارہ پادشاہ روم وملک صقالیہ وسلطان أندلس ہر یک با لشگر جرار کرار ہمہ تیغ زن ونیزہ گذار بر در بیت المقدس جمع شدندو چون رتبہ سلطنت شرکت بر نتابد ایشان نیز آغاز نزاع کردہ بلشکر آرایی ونبرد آزمایی قیام واہتمام نمودند در افتادند ہمچون شیر غران بکرز ونیزہ وشمشیر بران بنی إسرائیل دعای اللہم اشتغل الظالمین بالظالمین وأخرجنا من بینہم سالمین غانمین آغاز کردند ونکبای نکبت غبار ادبار بر دیدہ آن خاکساران پاشید ہزیمت را غنیمت دانستہ دلہا بر فرار قرار دادہ از یکدیگر گریزان شدند نہ جای قرار ونہ جای ستیز … نہادند ناکام رو در گریز اموال ایشان نیز بہ دست بنی اسرائیلیان افتاد و چون غنیمت پنج لشکر عظیم در حوزہ تصرف در آوردند بحکم إِنَّ الْإِنْسانَ لَیَطْغی أَنْ رَآہُ اسْتَغْنی سر تجبر از گریبان عصیان برآوردہ ودست تغلب از آستین طغیان بیرون کردہ حکم توراترا بر طرف نہادند ہر چند ارمیا پیغمبر ایشانرا پند داد وگفت از آنچہـ در تورات مقرر شدہ واین فساد أول است مکنید وخود را در معرض سخط الہی میارید نشنیدند حق سبحانہ وتعالی بخت نصر مجوسی را کہ کاتب سنجاریب بود وبعد از فوت او بحکم وصیت ملک بوی رسید بر ایشان گماشت تا بیامد وبا ایشان حرب کردہ غالب شد ومسجد را خراب کرد تورات را بسوخت وہفتاد ہزار کسی را بنی إسرائیل بندہ کرفت واین عقوبت أول بود ۔ ترجمہ :امام کاشفی رحمہ اللہ تعالی نے لکھاہے کہ اس بارے میں زیادہ صحیح اورمشہورتروہ روایت ہے جسے مختارالقصص اوردیگرسیرت کی کتب میں انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق لکھاہے کہ جب ولایت شام میں بنی اسرائیل کی سلطنت صدیقہ از اولاد سلما کے سپردہوئی کیونکہ وہ ضعیف تھااوراعرج بھی (اعرج لنگڑے کوکہتے ہیں)اسی لئے اطراف کے بادشاہوں کوایلیاکی سلطنت کاطمع دامن گیرہوااورانہوںنے سب سے پہلے سخاریب کے علاقہ موصل پرقبضہ جمایااس کے سلما بادشاہ نے آزربائیجان پرقبضہ پالیا، ان دونوں کو ایلیاء کی فتح کابھوت سوارہوا، دونوں آپس میں برسرپیکارہوئے اوربہت خون ریز جنگ ہوئی ۔ آغاز نزاع کردہ بلشکر آرایی ونبرد آزمایی قیام واہتمام نمودند در افتادند ہمچون شیر غران بکرز ونیزہ وشمشیر بران ترجمہ اشعار:لڑنے والوںکی سپاہ لڑنے لگی ، موت کی سزاجہاں میں پھیلی ، جنگیوں کی جنگ سے جہاں پرژالہ پڑا، زمین پرخون نے لالہ پھیلایا۔ ان دونوں کی لڑائی کانتیجہ یہ نکلاکہ ان دونوں کوشکست ہوئی اورتمام غنیمت بنی اسرائیل کونصیب ہوئی اوراس کے بعد پھربادشاہ روم اورصقالیہ اورسلطان اندلس بہت بڑالشکرلے کربیت المقدس پرچڑھ دوڑالیکن ان تینوں کو اپنااپنالالچ تھا، اس لئے بجائے بیت المقدس کو فتح کرنے کے آپس میں لڑناشروع کردیا: در افتادند ہمچون شیر غران بکرز ونیزہ وشمشیر بران ترجمہ شعر:شیرمست کی طرح آپس میں لڑے ، گرز، نیزوں اورتلواروں سے ۔ بنی اسرائیل ان کی آپس کی لڑائی کے وقت یہ دعامانگتے تھے {اللہم اشتغل الظالمین بالظالمین}اے اللہ !ظالموں کوظالموںمیں مشغول رکھ اورہمیں درمیان میں محفوظ ومامون رکھ۔ ان تینوں بادشاہوں کی لڑائی بڑے زوروںپررہی بالآخرتینوں کو شکست ہوئی اورشکست کھاکراپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے گئے ۔ نہ جای قرار ونہ جای ستیز نہادند ناکام رو در گریز ترجمہ شعر:نہ قرارنہ جنگ بالآخربھاگنے پرمجبورہوگئے ۔ ان تینوں کے اموال غنیمت بھی بنی اسرائیل کوحاصل ہوگئے ۔ جب بنی اسرائیل کو ان پانچوں بادشاہوں کی ان گنت دولت حاصل ہوئی توان کے دماغوں میں سرکشی اوربغاوت نے جگہ لی ، جیساکہ انسان کی فطرت ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ الْإِنْسانَ لَیَطْغی أَنْ رَآہُ اسْتَغْنی}ترجمہ ( بے شک انسان سرکشی کرتاہے جب دولت مند ہوجاتاہے ) اسی فطرت پر بنی اسرائیل پرسرکشی اوربغاوت کابھوت سوارہواتوانہوںنے توراۃ شریف کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا، حضرت سیدناارمیا علیہ السلام نے ان کو بہت زیادہ سمجھایااوران کو خداتعالی کاخوف یاددلایااوراللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایامگرانہوںنے ایک بھی نہ مانی ، پھرانہوںنے بنی اسرائیل کوفرمایاکہ تم نے توراۃ شریف میں پڑھاہے کہ تم لوگ دوبار فساد ڈالوگے ، یادرکھوان دونوں فسادوں کاآغاز تم ہی کررہے ہو، اگرتم اس سے باز نہ آئے تواللہ تعالی کاعذاب تمھاری بیخ کنی فرمائے گالیکن چونکہ ان پردولت کابھوت سوارتھا، بخت نصرسخاریب کاکاتب تھا، جب سخاریب فوت ہوا، تواس نے وصیت کی کہ جہاں تک تجھ سے ہوسکے تم بیت المقدس پرضرورحملہ کرنااوراسے اپنے قبضہ میں لینا، سخاریب کی وصیت پرعمل کرتے ہوئے بخت نصرنے بیت المقدس پرحملہ کردیابالآخرفتح یاب ہوا،ا س نے بیت المقد س کو ویران کردیااورتوراۃ شریف کو آگ میں جلادیااوربنی اسرائیل کے سترہزارآدمیوں کو قید کردیا، یہ بنی اسرائیل کی تباہی اوربربادی کاپہلاواقعہ ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۱۳۲) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب کوئی قوم اپنی مذہبی کتاب مقدس پرعمل کرناترک کردے تودشمن کو اس سے ہمت ہوتی ہے کہ وہ اس کی توہین کرناشروع کردے ، جس طرح بنی اسرائیل نے توراۃ شریفہ کے سارے احکامات پرعمل کرناترک کردیاتوبخت نصرذلیل نے توراۃ شریفہ کو آگ میں جلادیا۔ بعینہ یہی حال آج ہمارے ساتھ ہواہے ، آج پوری دنیامیں کہیں بھی قرآن کریم کی حکومت نہیں ہے اوراہل اسلام نے قرآن کریم کو جس طرح اس کو اپنانے کاحکم تھااس طرح نہیں اپنایااوراس پرعمل ترک کردیاہے توآج عیسائی چوہڑے اتنے دلیرہوگئے ہیں کہ وہ جگہ جگہ قرآن کریم کوجلانے کے مقابلے کرواتے ہیں ۔ کاش کہ امت پھرقرآن کریم کے دامن رحمت سے وابستہ ہوجائے ۔

جالوت کابنی اسرائیل پرحملہ کرنا

وَقَالَ قَتَادَۃُ:أَرْسَلَ عَلَیْہِمْ جَالُوتَ فَقَتَلَہُمْ، فَہُوَ وَقَوْمُہُ أُولُو بَأْسٍ شَدِیدٍ. ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان پرجالوت کو بھیجااوراس نے انہیں قتل کردیا، پس وہ اوراس کی قوم بڑے کرخت اورسخت تھے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۲۱۵)

بخت نصرکواللہ تعالی نے مسلط کردیا

وَقَالَ مُجَاہِدٌ: جَاء َہُمْ جُنْدٌ من فارس یتجسسون أخبارہم ومعہم بخت نصر فَوَعَی حَدِیثَہُمْ مِنْ بَیْنِ أَصْحَابِہِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَی فَارِسَ وَلَمْ یَکُنْ قِتَالٌ، وَہَذَا فِی الْمَرَّۃِ الْأُولَی، فَکَانَ مِنْہُمْ جَوْسٌ خِلَالَ الدِّیَارِ لَا قَتْلَ۔ ترجمہ:حضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فارس سے ایک لشکران کے پاس آیا، وہ ان کی خبروں کی جاسوسی کرنے لگے اوران کے ساتھ بخت نصربھی تھا، پس اس نے اپنے ساتھیوں کے درمیان سے ان کی باتیں یادکرلیں ، پھروہ فارس کی طرف لوٹ گئے اورجنگ نہ ہوئی اوریہ پہلی بارمیں ہوا۔ پس ان کی طرف سے آبادیوں میں گھسنااورگھومناپھرناہوا، قتال اورجنگ نہ ہوئی ۔ (جامع البیان فی تأویل القرآن:محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۱۷:۲۶۸)

بخت نصر نے بنی اسرائیل کوتباہ کردیا

وَذَکَرَ المہدوی عن مجاہد أنہ جاء ہم بخت نصر فَہَزَمَہُ بَنُو إِسْرَائِیلَ، ثُمَّ جَاء َہُمْ ثَانِیَۃً فَقَتَلَہُمْ وَدَمَّرَہُمْ تَدْمِیرًا. ترجمہ :امام مہدوی رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ سے ذکرکیاہے کہ ان کے پاس بخت نصرآیااوربنی اسرائیل نے اسے شکست دے دی ، پھروہ دوسری باران کے پاس آیااس نے انہیں قتل کیااوران کو مکمل طورپرتباہ وبربادکردیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۲۱۵)

حضرت سیدنا شعیاء علیہ السلام کے قتل کے سبب سارے بنی اسرائیل قتل کردیئے گئے

وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فِی خَبَرٍ فِیہِ طُولٌ إِنَّ الْمَہْزُومَ سَنْحَارِیبُ مَلِکُ بَابِلَ، جَاء َ وَمَعَہُ سِتُّمِائَۃِ أَلْفَ رَایَۃٍ تَحْتَ کُلِّ رَایَۃٍ مِائَۃُ أَلْفِ فَارِسٍ فَنَزَلَ حَوْلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَہَزَمَہُ اللَّہُ تَعَالَی وَأَمَاتَ جَمِیعَہُمْ إِلَّا سَنْحَارِیبَ وَخَمْسَۃَ نَفَرٍ مِنْ کُتَّابِہِ، وَبَعَثَ مَلِکُ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَاسْمُہُ صدیقَۃُ فِی طلب سنحاریب فأخذ مع الخمسۃ، أحدہم بخت نصر، فَطَرَحَ فِی رِقَابِہِمُ الْجَوَامِعَ وَطَافَ بِہِمْ سَبْعِینَ یَوْمًا حَوْلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَإِیلِیَاء َ وَیَرْزُقُہُمْ کُلَّ یَوْمٍ خُبْزَتَیْنِ مِنْ شَعِیرٍ لِکُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ، ثُمَّ أَطْلَقَہُمْ فَرَجَعُوا إِلَی بَابِلَ، ثُمَّ مَاتَ سنحاریب بعد سبع سنین، واستخلف بخت نصر وَعَظُمَتِ الْأَحْدَاثُ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ، وَاسْتَحَلُّوا الْمَحَارِمَ وقتلوا نبیہم شعیا، فجاء ہم بخت نصر وَدَخَلَ ہُوَ وَجُنُودُہُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ وَقَتَلَ بَنِی إِسْرَائِیلَ حَتَّی أَفْنَاہُمْ. ترجمہ :محمدبن اسحاق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بے شک شکست کھانے والاسخاریب بادشاہ بابل تھااوروہ آیااوراس کے ساتھ چھے لاکھ جھنڈے تھے اورہرجھنڈے کے نیچے ایک لاکھ شاہسوارتھے ، پس وہ بیت المقدس کے گردآکراتراتواللہ تعالی نے اسے شکست سے دوچارکیااورسخاریب اوراس کے کاتبوں میں سے پانچ آدمیوں کے سواسبھی کوقتل کردیااوربنی اسرائیل کے بادشاہ جس کانام صدیقہ تھااسے سخاریب کی تلاش میں بھیجا، پس وہ اپنے پانچوں ساتھیوں سمیت پکڑاگیا، ان میں سے ایک بخت نصرتھا، پس ان کی گردن میں طوق ڈالے گئے اورانہیں ستردن تک بیت المقدس اورایلیاکے اردگردگھمایااورچکرلگایاجاتارہااوروہ ان میں سے ہر آدمی کوہرروز جوکی دوروٹیاں دیتا، پھراس نے انہیں چھوڑدیا، پھروہ بابل کی طرف واپس لوٹ گئے ، پھرسات برس بعد سخاریب فوت ہوگیااوراس نے بخت نصرکواپناخلیفہ اورجانشین بنایااوربنی اسرائیل میں نئے واقعات اوربدعات بڑھ چکی تھیں ، انہوں نے اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء کو حلال قراردیاتھااوراپنے نبی حضرت سیدناشعیاء علیہ السلام کو شہیدکردیاتھا، پس بخت نصروہاں آیااوراپنے لشکرسمیت بیت المقدس میں داخل ہوگیااوربنی اسرائیل کاقتل عام کیایہاں تک کہ ان کو فناء اوربالکل تباہ کردیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۲۱۵)

حضرت سیدنازکریاعلیہ السلام کے قتل پربنی اسرائیل پررب تعالی کاعذاب

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ مَسْعُودٍ: أَوَّلُ الْفَسَادِ قَتْلُ زَکَرِیَّاوَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَسَادُہُمْ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولَی قَتْلُ شَعْیَا نَبِیِّ اللَّہِ فِی الشَّجَرَۃِ، وَذَلِکَ أَنَّہُ لَمَّا مات صدیقۃ ملکہم مرج أمر ہم وَتَنَافَسُوا عَلَی الْمُلْکِ وَقَتَلَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا وَہُمْ لَا یَسْمَعُونَ مِنْ نَبِیِّہِمْ، فَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی لَہُ قُمْ فِی قَوْمِکَ أُوحِ عَلَی لِسَانِکَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِمَّا أَوْحَی اللَّہُ إِلَیْہِ عَدَوْا عَلَیْہِ لِیَقْتُلُوہُ فَہَرَبَ فَانْفَلَقَتْ لَہُ شَجَرَۃٌ فَدَخَلَ فِیہَا، وَأَدْرَکَہُ الشَّیْطَانُ فَأَخَذَ ہُدْبَۃً مِنْ ثَوْبِہِ فَأَرَاہُمْ إِیَّاہَا، فَوَضَعُوا الْمِنْشَارَ فِی وَسَطِہَا فَنَشَرُوہَا حَتَّی قَطَعُوہَا وَقَطَعُوہُ فِی وَسَطِہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس اورحضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ پہلافساد حضرت سیدنازکریاعلیہ السلام کاقتل ہے اورامام محمدبن اسحاق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پہلی بار میں ان کافساد اللہ تعالی کے پاک نبی حضرت سیدناشعیاء علیہ السلام کو درخت میں قتل کرناہے وہ اس طرح کہ صدیقہ فوت ہوگیاتوان کے بادشاہ نے ان کامعاملہ خراب کردیااوروہ لوگ بادشاہ پرغالب آگئے اورآپس میں ایک دوسرے کوقتل کرنے لگے اوراپنے نبی علیہ السلام کی بات بھی نہ سنتے تھے تواللہ تعالی نے انہیں حکم دیا: اٹھواوراپنی قوم میں جائواوراپنی زبان میں ان کو پیغام پہنچائو، پس جب وہ اس کے بیان سے فارغ ہوئے جواللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی تھی تووہ لوگ آپ علیہ السلام پردوڑکرآگئے تاکہ وہ آپ علیہ السلام کو قتل کردیں ، پس آپ علیہ السلام بھاگ گئے اورآپ علیہ السلام کے لئے ایک درخت پھٹ گیایعنی اس میں شگاف ہوگیااورآپ علیہ السلام اس میں داخل ہوگئے اورشیطان نے آپ علیہ السلام کو پالیا، اس نے آپ علیہ السلام کے کپڑے کاپلوپکڑکردشمنوں کو دکھادیاتوانہوں نے اس درخت کے درمیان میں آری رکھ دی اوراسے چیرڈالا، یہاں تک کہ انہوںنے اس درخت کواوراس کے وسط میں آپ علیہ السلام کو بھی کاٹ ڈالا۔ (الکشف والبیان:أحمد بن محمد بن إبراہیم الثعلبی، أبو إسحاق (۶:۷۵)

بنی اسرائیل کادوسرافساد حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کاقتل ہے

(فَإِذا جاء َ وَعْدُ الْآخِرَۃِ)مِنْ إِفْسَادِکُمْ، وَذَلِکَ أَنَّہُمْ قَتَلُوا فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا عَلَیْہِمَا السَّلَامُ، قَتَلَہُ مَلِکٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ یُقَالُ لَہُ لَاخِتُ، قَالَہُ القتبی۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {فَإِذا جاء َ وَعْدُ الْآخِرَۃِ}کے تحت فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے فسادپھیلانے کے بارے میں دوسراوعدہ یہ ہے کہ انہوںنے دوسری بار حضرت سیدنایحٰی علیہ السلام کو شہیدکردیا، حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے قتل کردیاتھا۔جس کانام لاخت تھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۱۱۶) تنبیہ : حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کے قتل کاقصہ ہم پہلے تفصیلاًذکرکرآئے ہیں ۔

ہروہ قوم اس عذاب میں مبتلاء ہوگی جو بھی احکامات الہیہ کو پس پشت ڈالے گی

وَیَحْتَمِلُ أَنَّہُ خُوطِبَ بِہَذَا بَنُو إِسْرَائِیلَ فِی زَمَنِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَیْ عَرَفْتُمُ اسْتِحْقَاقَ أَسْلَافِکُمْ لِلْعُقُوبَۃِ عَلَی الْعِصْیَانِ فَارْتَقِبُوا مِثْلَہُ أَوْ یَکُونُ خِطَابًا لِمُشْرِکِی قُرَیْشٍ عَلَی ہَذَا الْوَجْہِ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کے ساتھ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے زمانہ اقدس کے یہودیوں کو خطاب ہوکہ تم نے اپنے اسلاف کااستحقاق پہچان لیاہے پس تم بھی اسی کی مثل عذاب کاانتظارکرویایہ اسی وجہ کی بناء پرمشرکین قریش کو خطاب ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۱۱۶)

حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کے قاتلین میں سترہزارلوگ قتل ہوئے

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔۔۔۔۔حتی بعث اللہ علیہم بخت نصر فَأَلْقَی فِی نَفْسِہِ أَنْ یَقْتُلَ عَلَی ذَلِکَ الدَّمِ مِنْہُمْ حَتَّی یَسْکُنَ ذَلِکَ الدَّمُ، فَقَتَلَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ سَبْعِینَ أَلْفًا، فِی رِوَایَۃٍ خَمْسَۃً وَسَبْعِینَ أَلْفًا. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب انہوںنے حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کو قتل کیاتواللہ تعالی نے بنی اسرائیل پربخت نصرکومسلط کردیااس نے بنی اسرائیل کے سترہزارلوگ قتل کردئیے اورایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پچھترہزارلوگ قتل ہوئے۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۷:۱۵)

امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے عوض میں سترہزارلوگ قتل ہوئے

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوْحَی اللَّہُ إِلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنِّی قَتَلْتُ بِیَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا سَبْعِینَ أَلْفًا، وَإِنِّی قَاتِلٌ بِابْنِ ابْنَتِکَ سَبْعِینَ أَلْفًا وَسَبْعِینَ أَلْفًا. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی طرف وحی فرمائی کہ میں نے حضرت یحیی علیہ السلام کے قتل کے بدلے میں سترہزارکوقتل کیاتھا، میں آپﷺکے نواسے کے بدلے میں بھی سترہزارکوقتل کروں گا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:زین الدین محمد المدعو بعبد الرؤوف المناوی (۱:۲۰۴) ہرنبی علیہ السلام کی دیت قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ:ہِیَ دِیَۃُ کُلِّ نَبِی۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہرنبی کی دیت یہی ہے یعنی ہرنبی علیہ السلام کے قتل کے بدلے میں سترہزارلوگ ہی قتل ہوئے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۱۱۶)

صرف ایک ہی مقام پرسترانبیاء کرام علیہم السلام کو شہیدکیاگیا

وَعَنْ سُمَیرِ بْنِ عَطِیَّۃَ قَالَ:قُتِلَ عَلَی الصَّخْرَۃِ الَّتِی فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ سَبْعُونَ نَبِیًّا مِنْہُمْ یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّاوَعَنْ زَیْدِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ:رَأَیْتُ رَأْسَ یَحْیَی عَلَیْہِ السَّلَامُ حَیْثُ أَرَادُوا بِنَاء َ مَسْجِدِ دِمَشْقَ أُخْرِجَ مِنْ تَحْتِ رُکْنٍ مِنْ أَرْکَانِ الْقُبَّۃِ التی تلی المحراب مِمَّا یَلِی الشَّرْقَ، فَکَانَتِ الْبَشَرَۃُ وَالشَّعْرُ عَلَی حَالِہِ لَمْ یَتَغَیَّرْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسمیربن عطیہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بیت المقدس میں موجود صخرہ پرسترانبیاء کرام علیہم السلام کو شہیدکیاگیا، ان میں حضرت سیدنایحیی علیہ السلام بھی تھے ۔حضرت سیدنازید بن واقد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کے سرمبارک کو دیکھاجب وہ مسجد دمشق کو بنانے لگے توگنبدکے ستون میں سے نکلاتھاجومشرق کی جانب تھا، اوراس وقت آپ علیہ السلام کاچہرہ مبارک اورموئے مبارک بالکل اسی حالت پرتھے ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۶۴:۲۱۷)

آسمان بھی روپڑا

وَعَنْ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ:مَا بَکَتِ السَّمَاء ُ عَلَی أَحَدٍ إِلَّا عَلَی یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا وَالْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ، وَحُمْرَتُہَا بُکَاؤُہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام قرہ بن خالد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنایحیی علیہ السلام اورحضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کے سواآسمان کسی پربھی نہیں رویااوراس کی سرخی ہی اس کاروناہے ۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۶۴:۲۱۷)

جوبھی لوگ اللہ تعالی کے قانون کو ترک کریں گے ان پرعذاب آئے گا

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ،قَالَ:أَقْبَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِیتُمْ بِہِنَّ،وَأَعُوذُ بِاللَّہِ أَنْ تُدْرِکُوہُنَّ:لَمْ تَظْہَرِ الْفَاحِشَۃُ فِی قَوْمٍ قَطُّ، حَتَّی یُعْلِنُوا بِہَا، إِلَّا فَشَا فِیہِمُ الطَّاعُونُ، وَالْأَوْجَاعُ الَّتِی لَمْ تَکُنْ مَضَتْ فِی أَسْلَافِہِمُ الَّذِینَ مَضَوْا، وَلَمْ یَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ، إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِینَ، وَشِدَّۃِ الْمَئُونَۃِ، وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَیْہِمْ، وَلَمْ یَمْنَعُوا زَکَاۃَ أَمْوَالِہِمْ، إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاء ِ، وَلَوْلَا الْبَہَائِمُ لَمْ یُمْطَرُوا، وَلَمْ یَنْقُضُوا عَہْدَ اللَّہِ، وَعَہْدَ رَسُولِہِ، إِلَّا سَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ، فَأَخَذُوا بَعْضَ مَا فِی أَیْدِیہِمْ، وَمَا لَمْ تَحْکُمْ أَئِمَّتُہُمْ بِکِتَابِ اللَّہِ، وَیَتَخَیَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ، إِلَّا جَعَلَ اللَّہُ بَأْسَہُمْ بَیْنَہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیںکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا: اے مہاجرین!جب تم پانچ کاموں میں مبتلا کر دئیے جاو (تو تمہارا کیا حال ہو گا)اور میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان کاموں میں مبتلا ہو جائو، (۱)…جب کسی قوم میں بے حیائی کے کام اِعلانیہ ہونے لگ جائیں تو ان میں طاعون اور وہ بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں۔ (۲)…جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو ان پر قحط اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں اور بادشاہ ان پر ظلم کرتے ہیں۔ (۳)…جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بارش کو روک دیتا ہے،اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ (۴)…جب لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے عہد کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے اوروہ ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لیتے ہیں۔(۵)…جب مسلمان حکمران اللہ تعالیٰ کے قانون کو چھوڑ کردوسرا قانون نافذکرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے کچھ پر عمل کرتے اور کچھ کو چھوڑدیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اختلاف پیدا فرما دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۱۳۳۲)

معارف ومسائل

بنی اسرائیل کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم اپنی تاریخ کو دیکھیں تو پہلی نظر میں ہی مسلمانوں کے عروج و زوال کا سبب واضح ہو جائے گا کہ مسلمان جب تک قرآنِ مجید کے احکامات اور رسول کریم ﷺکی اطاعت پر عمل پیرا رہے تو دنیا بھر میں انہیں غلبہ،قوت اور اِقتدار حاصل رہا اور انہیں لاثانی شان و شوکت حاصل رہی اور جب سے انہوں نے قرآن و حدیث کی پیروی میں سستی کرنا شروع کی اور حرام و ناجائز اَفعال میں مبتلا ہوئے تب سے ان کی شوکت اوراِقتدار زوال پذیر ہونا شروع ہو گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جس میں اسلامی ملکوں اور شہروں کو تباہی وبربادی کے ایسے طوفان کا سامنا کرنا پڑا کہ لاکھوں افراد کی آبادی پر مشتمل شہروں میں کوئی زندہ انسان نظر نہ آتا تھا اوروحشی پرندے اور جانور ان کی لاشوں پر گوشت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ پھر جب مسلمان اپنی بے عملی چھوڑ کر عمل کی طرف مائل ہوئے اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کو انہوں نے حرز جاں بنایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر دنیا میں طاقت اور سلطنت عطا فرما دی اور مسلمان اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت بحال کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے، لیکن جب پھر مسلمانوں میں بد عملی کا رواج ہوا اور مسلمان شراب ورَباب کی مستی میں گم ہو گئے اور نفسانی لذات کے حصول کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور مال و دولت کی حرص و ہَوس کا شکار ہو گئے تو اس کے بعد مسلمانوں کا جو حال ہوا ہے وہ صاحبِ نظر سے پوشیدہ نہیں،اگر اب بھی مسلمان نہ سنبھلے اور انہوں نے اپنی عملی حالت کو نہ سدھارا تو حالات اس سے بھی بدتر ہوجائیں گے۔ (تفسیرصراط الجنان( ۵: ۴۲۵)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh