صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2469 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃھودآیت ۱۱۲۔ فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلَا تَطْغَوْا اِنَّہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,526

سوال (Question):

تفسیرسورۃھودآیت ۱۱۲۔ فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلَا تَطْغَوْا اِنَّہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غلبہ دین کے لئے کام کرنے میں استقامت انتہائی ناگزیرہے

{فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلَا تَطْغَوْا اِنَّہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ}(۱۱۲) ترجمہ کنزالایمان:تو قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے اور اے لوگو سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ ترجمہ ضیا ء الایمان: اے حبیب کریم ﷺ!آپ ثابت قدم رہیں جیسا کہ آپﷺکو حکم دیا گیا ہے اور جو آپﷺکے ساتھ رجوع کرنے والا ہے اور اے لوگو!تم سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

استقامت کامعنی

وَالِاسْتِقَامَۃُ الِاسْتِمْرَارُ فِی جِہَۃٍ وَاحِدَۃٍ مِنْ غَیْرِ أَخْذٍ فِی جِہَۃِ الْیَمِینِ وَالشِّمَالِ، فَاسْتَقِمْ عَلَی امْتِثَالِ أَمْرِ اللَّہِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دائیں بائیں کی طرف سے کوئی چیز لئے بغیرصرف ایک ہی جہت میں استمراراختیارکرنااستقامت کہلاتاہے ۔یعنی اللہ تعالی کے حکم کی بجاآوری پرثابت قدم رہیئے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۱۰۷)

دین پراستقامت کیاہے ؟

عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ،قَالَ:قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللہِ، قُلْ لِی فِی الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا بَعْدَکَ وَفِی حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ غَیْرَکَ قَالَ:قُلْ:آمَنْتُ بِاللہِ، فَاسْتَقِمْ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسفیان بن عبداللہ الثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ عالیہ میں عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات ارشادفرمائیں جس کے متعلق میں آپﷺکے بعدکسی سے نہ پوچھوں ۔ آپﷺنے فرمایا: کہہ دوکہ میں اللہ تعالی پرایمان لایااورپھراس کے بعد اسی پرثابت قدم رہو۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا:۶۵)

دین میں استقامت اختیارکرو

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَاضِرٍ الْأَزْدِیِّ، قَالَ:دَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقُلْتُ أَوْصِنِی فَقَالَ:نَعَمْ، عَلَیْکَ بِتَقْوَی اللَّہِ، وَالِاسْتِقَامَۃِ، اتَّبِعْ وَلَا تَبْتَدِعْ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعثمان بن حاضرالازدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکی بارگاہ میں حاضرہواتومیںنے عرض کی : مجھے وصیت فرمائیں ۔توآپ رضی اللہ عنہمانے فرمایا: تواللہ تعالی کاتقوی اختیارکراوردین پراستقامت اختیارکراوردین کی پیروی کراوراپنے جدیدطریقے نہ نکال ۔ (سنن الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن بن الفضل بن بَہرام بن عبد الصمد الدارمی(۱:۲۵۰)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکو سورہ ہود نے بوڑھاکردیا

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا نَزَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آیَۃٌ ہِیَ أَشَدُّ وَلَا أَشَقُّ مِنْ ہَذِہِ الْآیَۃِ عَلَیْہِ، وَلِذَلِکَ قَالَ لِأَصْحَابِہِ حِینَ قَالُوا لَہُ:لَقَدْ أَسْرَعَ إِلَیْکَ الشَّیْبُ! فَقَالَ:شَیَّبَتْنِی ہُودٌ وَأَخَوَاتُہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺپرکوئی بھی ایسی آیت کریمہ نازل نہیں ہوئی جوآپﷺپراس آیت کریمہ سے زیادہ سخت اورزیادہ شدیدہو، اسی وجہ سے آپﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب آپﷺکی بارگاہ ختم نبوت میں عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!آپ پربڑی تیزی سے بڑھاپاآگیاہے توآپﷺنے فرمایاکہ مجھے سورہ ہوداوراس جیسی سورتوں نے بوڑھاکردیاہے ۔ (التحریر والتنویر :محمد الطاہر بن محمد بن محمد الطاہر بن عاشور التونسی (۱۲:۱۷۳)

آیت استقامت نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوبوڑھاکردیا

وَرُوِیَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَلِیٍّ السَّرِیَّ یَقُولُ:رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَنَامِ فَقُلْتُ:یَا رَسُولَ اللَّہِ! رُوِیَ عَنْکَ أَنَّکَ قُلْتَ:شَیَّبَتْنِی ہُودٌفَقَالَ:نَعَمْ فَقُلْتُ لَہُ: مَا الَّذِی شَیَّبَکَ مِنْہَا؟ قَصَصُ الْأَنْبِیَاء ِ وَہَلَاکُ الْأُمَمِ! فَقَالَ:لَا وَلَکِنْ قَوْلُہُ: فَاسْتَقِمْ کَما أُمِرْتَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوعبدالرحمن رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعلی السری رحمہ اللہ تعالی کوکہتے ہوئے سناہے کہ میںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو خواب میں دیکھاتوعرض کی : یارسول اللہﷺ!آپﷺکافرمان عالی شان ہے کہ مجھے سورہ ہود نے بوڑھاکردیاہے ، آپﷺنے فرمایا: ہاں ۔ میںنے بارگاہ ختم نبوتﷺمیں عرض کی : یارسول اللہﷺ!اس میں سے کس چیز نے آپﷺکوبوڑھاکیاہے ، انبیاء کرام علیہم السلام کے قصص نے یاان کی امت کے گستاخوں کی ہلاکت نے ؟ توآپﷺنے فرمایا: نہیں۔ بلکہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {قُلْ آمَنْتُ بِاللہِ، فَاسْتَقِمْ } (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۱۰۷)

امراستقامت کے بوڑھاکرنے کی وجہ ؟

وذلک لان حقیقۃ الاستقامۃ ہی الوفاء بالعہود کلہا وملازمۃ الصراط المستقیم برعایۃ حد التوسط فی کل الأمور من الطعام والشراب واللباس فی کل امر دینی ودنیوی ترغیب او ترہیب او حال او حکم او صفۃ او معاملۃ وذلک ہو الصراط المستقیم کالصراط المستقیم فی الآخرۃ والتمشی علی ہذا الصراط الذی یقال لہا الاستقامۃ الاعتدالیۃ عسیر جدا کما قال فی بحر العلوم الاستقامۃ علی جمیع حدود اللہ علی الوجہ الذی امر اللہ بالاستقامۃ علیہ مما یکاد یخرج عن طوق البشر ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی: ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ واقعی استقامت ایک مشکل امرہے ، اس لئے کہ حقیقی استقامت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کو پوراکرنااورہرامردینی ہویادنیاوی یہاں تک کہ کھانے پینے اورلباس وغیرہ ،اسی طرح ترغیب اورترہیب یاہرحال یاہرحکم ہرصفت ہرہرمعاملہ میں امراوسط کی رعایت کرکے صراط مستقیم پرمداومت کولازمی اختیارکرنا ،اس استقامت کودنیاوی پل صراط سے تعبیرکیاگیاہے اوراسی پل صراط یعنی استقامت اعتدالیہ پرچلناامکان بشرسے باہرہے اوراسی طرح بحرالعلوم میں لکھاہے کہ جمیع حدوداللہ پراسی طرح استقامت رکھناجیساکہ اللہ تعالی کاحکم ہے بمشکل ہی کوئی فردبشراس سے عہدہ برآہوسکتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۹۴)

پیربن کرکرامت نہ دکھاوٓ بلکہ غلبہ دین کے لئے استقامت دکھاوٓ

وقال ابو علی الجرجانی کن طالب الاستقامۃ لا طالب الکرامۃ فان نفسک متحرکۃ فی طلب الکرامۃ ویطلب منک الاستقامۃ فالکرامۃ الکبری الاستقامۃ فی خدمۃ الخالق لا بإظہار الخوارق۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوعلی الجرجانی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ توکرامت کی طلب مت کر، بلکہ استقامت کی طلب کر، اس لئے کہ نفس ہروقت کرامت کاخواہش مندرہتاہے اورہرآن چاہتاہے کہ اس سے کرامت کاظہورہوتاکہ اس کی عالم دنیامیں شہرت ہولیکن اللہ تعالی کاولی اپنے لئے سب سے بڑی کرامت یہی سمجھتاہے کہ اسے اللہ تعالی کی بندگی میں استقامت نصیب ہواورخداکرے کہ اس سے کبھی بھی کرامت کاصدورنہ ہو۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۹۴)

جوشخص استقامت ترک کردے ۔۔

قال أوحد المشایخ فی وقتہ ابو عبد اللہ الشیرازی قدس سرہ رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام وہو یقول من عرف طریقا الی اللہ فسلکہ ثم رجع عنہ عذبہ اللہ بعذاب لم یعذب بہ أحدا من العالمین۔ ترجمہ :اپنے وقت کے بہت بڑے ولی کامل حضرت سیدناابوعبداللہ الشیرازی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خواب میں زیارت کی توآپﷺنے فرمایاکہ جوکوئی راہ حق پرچل کراستقامت اختیارنہ کرے اوراس سے ہٹ جائے اسے ایسے عذاب میں مبتلاء کیاجائے گاکہ اس جیساکسی کو بھی عذاب نہیں ہوگا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۵۵)

ہزارسال استقامت اختیارکرکے ترک کرنے والے کی سزا

وقال الجنید قدس سرہ لو اقبل صدیق علی اللہ الف سنۃ ثم اعرض عنہ لحظۃ فان ما فاتہ اکثر مما نالہ وفی شرح التجلیات البیعۃ لازمۃ الی ان یلقی اللہ تعالی ومن نکث الاتباع فحسبہ جہنم خالدا فیہا لا یکلمہ اللہ ولا ینظر الیہ ولہ عذاب الیم ہذا ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجنیدبغدادی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جوکامل شخص ایک ہزارسال تک استقامت کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں اس کے دین کے لئے جدوجہدکرتارہے اورلحظہ بھراس سے روگردانی کرے توحاصل کردہ مراتب میں سے بہت سے مراتب اس سے ضائع ہوجائیں گے ، اگربعد میں بہت بڑے مراتب حاصل کرے مگرضائع شدہ کمالات پھرحاصل نہیں کرسکے گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۵۵) غلبہ دین کیلئے کوشش کرنا ہر شخص پر فرض ہے، اسے چاہئے کہ اللہ تعالی کے دین، کتاب اللہ ، اور اسکے رسول کریمﷺ کی سنت کریمہ کے غلبہ کیلئے جد و جہد کرے مظلوموں کی مدد کرے ، یتیموں اور فقیروں کی مدد کرے۔ غلبہ دین کے لئے ہمیں دینی تعلیمات کو نشر و اشاعت کے ذریعے عام کرنا ہوگا، ہمیں اسکا محافظ بن کر رہنا ہوگا، اور سختی کے ساتھ اس پر کار بند رہتے ہوئے جن کاموں کا حکم دیا گیا ان پر عمل اور جن سے روکا گیا اُن سے بچنا ہوگا، دینِ اسلام کی خوبیاں لوگوں تک پہنچانی ہونگی، حقیقت جانو تو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا اصل راستہ ہی یہی ہے۔ غلبہ دین کیلئے کوشاں رہنا بہت بڑا مقام اور ہدف ہے، اور یہ میدان ہر مسلمان کیلئے کھلا ہے، اس ہدف کی بنیاد رکھنی ہو تو گناہوں کو چھوڑکر اللہ تعالی کے ساتھ سچا تعلق قائم کر لو۔ استقامت فی الدین میں معاون اوراستقامت میں رکاوٹ بننے والی چندچیزوں کاذکر ترغیب کے لئے ہم یہاں چند وہ اَسباب ذکر کرتے ہیں جن کی وجہ سے بندہ دینِ اسلام پرثابت قدم رہتا ہے اور چند وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو دینِ اسلام پر ثابت قدمی سے مانع ہیں ، چنانچہ دینِ اسلام پر ثابت قدمی کے چند اسباب یہ ہیں ٭…علمِ دین حاصل کرنا۔ ٭…کثرت سے مسجد میں حاضر ہونا۔ ٭…زبان کی حفاظت کرنا۔٭…کفر اور گناہوں سے بچنا۔ ٭…کافروں ، بد مذہبوں اور فاسق و فاجر لوگوں سے تعلقات نہ رکھنا۔٭…نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچنا۔ ٭… مصائب و آلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر صبر کرنا۔٭… اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ ٭…لمبی امیدیں نہ رکھنا۔ ٭…اور دنیا میں زہد و قناعت اختیار کرنا وغیرہ ۔ اس کے برعکس ایمان و عمل پر ثابت قدمی سے رکاوٹ بننے والی چند چیزیں یہ ہیں۔٭…علمِ دین سے بہرہ ور نہ ہونا۔ ٭… مسجد میں حاضر ہونے سے کترانا۔ ٭…زبان کی حفاظت نہ کرنا۔ ٭…کفر اور گناہوں کے ذریعے اپنی جانوں پر ظلم کرنا۔ ٭… کافروں بد مذہبوں اور فاسق و فاجر لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔ ٭…نفسانی خواہشات کی لذت حاصل کرنے کی حرص ہونا۔ ٭… مصائب وآلام اور آزمائشوں پر صبر نہ کرنا۔٭…اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ ٭…لمبی امیدیں رکھنا۔ ٭…اور دنیا میں رغبت رکھنا وغیرہ۔تفسیرصراط الجنان( ۴:۵۰۶)

غلبہ دین کے کام میں رکاوٹ بننے والوں کاانجام بد

غلبہ دین کے کام کرنے والے شیخ کے دشمن ہلاک کردئیے گئے منہا انی کنت فی الاسکوب من الدیار الرومیۃ انہی عن المنکر فلقبنی من القوم فی مدۃ ست سنین ما یضیق نطاق البیان عنہ حتی آل الأمر الی الہجرۃ من تلک البلدۃ فاخرجونی من بینہم فانقلب الابتلاء الی مقاساۃ شدائد الہجرۃ مع الأہل والأولاد حتی إذا دخلت مدینۃ بروسۃ باشارۃ حضرۃ الشیخ قدس سرہ ووجدت فیہا الراحۃ العظمی استولی الکفار علی البلاد الرومیۃ واحرقوا الاسکوب وجعل اللہ من فیہا من المستکبرین کأن لم یکن شیأ مذکورا۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں ملک روم کے شہراسکوب میں دین حق کے غلبہ کے لئے کام کرنے کے لئے گیالیکن لوگوںنے ناقابل برداشت اذیتیں دیں ، انہوںنے چھے سال تک مجھے بہت ستایا، یہاں تک کہ میں وہاں سے ہجرت کرنے پرمجبورہوگیااوراپنے بال بچوں سمیت وہاں سے ہجرت کرکے شہربروسہ میں پہنچااوریہی میرے شیخ کافرمان شریف تھا، یہاں کے لوگوں نے بھی مجھے اپنے شہرسے نکالنے کی ناکام کوشش کی ، بروسہ میں میںنے سکون پایا، شہراسکوب سے میرے نکل جانے کے بعد ملک روم پرکفارنے حملہ کردیااورشہراسکوب کی مٹی پلید کردی ، اسے آگ لگادی اوروہاںکے سرغنوںکو جومیرے سخت مخالف تھے کوایسے ملیامیٹ کیاگویاوہ اس عالم دنیامیں تھے ہی نہیں ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۵۵)

دین دشمن وزیروں کاقتل ہونا

ومنہا ان ابراہیم الوزیر فی اواخر دولۃ السلطان محمد الرابع نفی حضرۃ شیخنا الاجل الذی جعلہ اللہ آیۃ من آیات ہذہ الدورۃ القمریۃ الی بلدۃ المعروفۃ بشمنی وکان حین النفی متمکنا فی القسطنطینیۃ فلم یلبث حتی نفاہ اللہ ای الوزیر ثم قتل ثم لما آلت الوزارۃ الی مصطفی المعروف بابن کوپریلی فی دولۃ السلطان سلیمان الثانی اخرج حضرۃ الشیخ ایضا لغرض فاسد الی جزیرۃ قبرس فما مضی سنۃ الا قتل الوزیر وجعل عبرۃ للمعتبرین ومثلا للآخرین وکنت اتحزن فی امر حضرۃ الشیخ حین کان فی الجزیرۃ المذکورۃ فبینما انا فی تفکرہ یوما إذ ورد لی کتاب من جنابہ مندرج فیہ قولہ تعالی وَلا تَسْتَعْجِلْ لَہُمْ کَأَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ ما یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا ساعَۃً مِنْ نَہارٍ بَلاغٌ فَہَلْ یُہْلَکُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ فصادف قتل الوزیر وہو من کراماتہ العجیبۃ حفظہ اللہ سبحانہ ومتعنا بعلومہ الالہیۃ ووارداتہ الربانیۃ۔ ترجمہ :ابراہیم الوزیرنے سلطان محمدرابع کے دورمیں میرے شیخ مکرم رحمہ اللہ تعالی کو شہرسے نکال دیااورآپ رحمہ اللہ تعالی شہرشمنی میں چلے گئے اوراس سے قبل آپ قسطنطنیہ میں مقیم تھے ، اس وزیربے تدبیرکوچندروز کے بعد بادشاہ نے شہربدرکردیا، اس کے بعد وہی وزیرذلیل قتل کردیاگیا، اس کے مرنے کے بعد وزارت عظمی مصطفی المعروف بابن کوپریلی سلطان سلیمان کے دورکومنتقل ہوگئی ، اس وزیرنے بھی کسی غرض فاسد کے تحت میرے شیخ کامل رحمہ اللہ تعالی کوجزیرہ قبرص کی طرف شہربدرکردیا، اس وزیرکوبھی ایک سال کے اندرہلاک کردیاگیا۔ اس سے تمام لوگوںکو عبرت ہوئی کہ اللہ تعالی کے نیک بندوں کی مخالفت اورمخاصمت کانتیجہ کیاہوتاہے ۔ امام اسماعیل حقی الحنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے شیخ کے بارے میں بہت فکررہتی تھی ، جب وہ جزیرہ قبرص کی جانب شہربدرکردیئے گئے تواسی اثنامیں مجھے ایک خط ملاجس میں لکھاتھا{وَلا تَسْتَعْجِلْ لَہُمْ کَأَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ ما یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا ساعَۃً مِنْ نَہارٍ بَلاغٌ فَہَلْ یُہْلَکُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ}ان کے لئے عجلت نہ کریں ، جب انہیں ان کے وعدہ کے مطابق سزاملے گی تووہ خودکہیں گے کہ ہم گھڑی بھرٹھہرے ہیں ، یہ پیغام ربانی پہنچ گیااورصرف فاسق لوگ ہی ہلاک ہوں گے ۔ اس کے بعد وہی ہواکہ وزیرماراگیا۔یہ بھی میرے شیخ کامل رحمہ اللہ تعالی کی کرامت تھی ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۴۵)

حکومتی درندوں کاعلماء حقہ پرظلم اوررب تعالی کی پکڑ

۲۰۱۸ء میں جب حکومت پاکستان نے دشمنی کرتے ہوئے اہل سنت پرشب خون مارااورکریک ڈون کیاگیااورڈیڑھ لاکھ اہل اسلام کو پکڑکرجیلوںمیں ڈالاگیا، اسی اثناء میں بہت سے علماء کرام کوپکڑپکڑکربے دردی کے ساتھ ظلم وستم کانشانہ بنایاگیااوراس دوران علماء کرام اورسادات عظام کے گھروں کابھی حیاکئے بغیرحکومتی ذلیلوں نے اندرگھس گھس کرگندی گندی گالیاںدیں ۔ ایک باریہ فقیرپرتقصیرحضرت شیخ الحدیث امیرالمجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ کی خدمت اقدس میں حاضرتھاایک سیدصاحب نے اپنادردبھراقصہ بیان کیاکہ کس طرح حکومتی ذلیلوں نے ان کے گھرمیں گھس کران کی خواتین کوگالیاںدیں اوران کوگرفتارکیا، بعد میں وہی سیدصاحب فرمانے لگے کہ ہمارے علاقہ کے ڈی پی اوکوجبرا!معزول کردیاگیااوروہی ڈی پی او سید صاحب کے گھرآکرمعافیاں مانگنے لگا۔

ایک پولیس والے کاحضرت امیرالمجاہدین حفظہ اللہ کی توہین کرنے پرذلیل ہونا

حضرت شیخ الحدیث مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ کی خدمت میں ایک پولیس والاحاضرہوااورمعافی مانگتے ہوئے اس نے بتایاکہ میں نے دوران گرفتاری آپ کواپنے پائوں سے ٹھوکرماری تھی تواللہ تعالی نے مجھے مصیبت میں گرفتارکردیاہے اورآج ڈاکٹرکہہ رہے ہیں کہ تیری ٹانگ کاٹنی پڑے گی ، آپ مجھے معاف فرمادیں ، حضرت شیخ الحدیث حفظہ اللہ نے فرمایاکہ میں توتمھیں جانتاہی نہیں کہ تم کون ہو، پھرآپ نے فرمایاکہ تم بھی اپنی ڈیوٹی کرتے ہوہم بھی اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں لھذاجوتمھاری ڈیوٹی تھی تم نے کی ہے اورجوہماری ڈیوٹی ہے وہ ہم کرتے رہیں گے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh