صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2465 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃھود آیت ۵۔ اَلَآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَہُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,049

سوال (Question):

تفسیرسورۃھود آیت ۵۔ اَلَآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَہُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

منافقین کااپنے سینوں میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دشمنیاں چھپانااورسامنے آکرمیٹھی میٹھی باتیں کرنا

{اَلَآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَہُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ اِنَّہ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ }(۵) ترجمہ کنزالایمان:سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: سنو!بیشک وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالی سے چھپ جائیں۔سن لو!جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ تعالی ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے ،بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ شان نزول واعلم أنہا تَعَالَی حَکَی عَنْ ہَؤُلَاء ِ الْکُفَّارِ شَیْئَیْنِ:الْأَوَّلُ: أَنَّہُمْ یَثْنُونَ صُدُورَہُمْ یُقَالُ: ثَنَیْتُ الشَّیْء َ إِذَا عَطَفْتَہُ وَطَوَیْتَہُ، وَفِی الْآیَۃِ وَجْہَانِ:الْوَجْہُ الْأَوَّلُ:رُوِیَ أَنَّ طَائِفَۃً مِنَ الْمُشْرِکِینَ قَالُوا:إِذَا أَغْلَقْنَا أَبْوَابَنَا وَأَرْسَلْنَا سُتُورَنَا، وَاسْتَغْشَیْنَا ثِیَابَنَا وَثَنَیْنَا صُدُورَنَا عَلَی عَدَاوَۃِ مُحَمَّدٍ، فَکَیْفَ یَعْلَمُ بِنَا؟ وَعَلَی ہَذَا التَّقْدِیرِ:کَانَ قَوْلُہُ:یَثْنُونَ صُدُورَہُمْ کِنَایَۃً عَنِ النِّفَاقِ، فَکَأَنَّہُ قِیلَ:یُضْمِرُونَ خِلَافَ مَا یُظْہِرُونَ لِیَسْتَخْفُوا مِنَ اللَّہ تَعَالَی، ثُمَّ نَبَّہَ بِقَوْلِہِ:أَلا حِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیابَہُمْ عَلَی أَنَّہُمْ یَسْتَخْفُونَ مِنْہُ حِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیَابَہُمْ ۔الْوَجْہُ الثَّانِی:رُوِیَ أَنَّ بَعْضَ الْکُفَّارِ کَانَ إِذَا مَرَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہ ثَنَی صَدْرَہُ وَوَلَّی ظَہْرَہُ وَاسْتَغْشَی ثِیَابَہُ،وَالتَّقْدِیرُ کَأَنَّہُ قیل:إنہم یتصرفون عَنْہُ لِیَسْتَخْفُوا مِنْہُ حِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیَابَہُمْ، لِئَلَّا یَسْمَعُوا کَلَامَ رَسُولِ اللَّہ وَمَا یَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ، وَلِیَقُولُوا فِی أَنْفُسِہِمْ مَا یَشْتَہُونَ مِنَ الطَّعْن۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان کفارسے اللہ تعالی نے دوچیزوں کاتذکرہ کیا:پہلی چیز ان کے سینے تنگ ہوتے جب کوئی چیز لپیٹی جائے توکہاجاتاہے کہ {ثَنَیْتُ الشَّیْء َ }اس آیت کریمہ میں دووجوہات ہوسکتی ہیں:پہلی وجہ: منقول ہے کہ مشرکین کے ایک گروہ نے کہا: جب ہم نے اپنے دروازے بندکئے ہیں ، ہم نے پردے ڈال لئے ہیں اورکپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیاہے اورہمارے سینے محمد(ﷺ) کی دشمنی سے تنگ ہیںتوہمیں وہ کیاتعلیم دے سکتے ہیں ؟ اس صورت میں اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {یَثْنُونَ صُدُورَہُم}سے نفاق مراد ہے ۔گویافرمایاکہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف اپنی دشمنی کو مخفی رکھتے ہیں جسے وہ ظاہرکرتے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالی سے وہ مخفی رکھیں ۔ پھر{لا حِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیابَہُمْ}سے اس پرتنبیہ کی کہ وہ وہ اسے چھپاتے ہیں جب اسے کپڑوں سے ڈھانپتے ہیں ۔دوسری وجہ : منقول ہے کہ ایک کافرکے پاس سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاگزرہوا، اس نے اپناسینہ تنگ کیااوراپنی پشت پھیری ، کپڑے سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیا، گویافرمایاکہ یہ لوگ آپﷺسے پھرتے ہیں تاکہ وہ آپ ْﷺسے چھپ سکیں ، اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیتے ہیں تاکہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گفتگواورقرآن کریم کی تلاوت نہ سنیں اوروہ دلوں میں وہ بات کہتے ہیں کہ جس کام کووہ خواہش رکھتے ہیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۷:۳۱۷)

کفارکے دل حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دشمنی سے بھرے ہوتے

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:یُخْفُونَ مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنَ الشَّحْنَاء ِ وَالْعَدَاوَۃِ، وَیُظْہِرُونَ خِلَافَہُ نَزَلَتْ فِی الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِیقٍ، وَکَانَ رَجُلًا حُلْوَ الْکَلَامِ حُلْوَ الْمَنْطِقِ، یَلْقَی رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا یَجِبُ، وَیَنْطَوِی لَہُ بِقَلْبِہِ عَلَی مَا یَسُوء ُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ وہ کافراپنے سینوں میں موجود حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دشمنی اوربغض کو چھپاتے ہیں اوراس کے برعکس کو ظاہرکرتے ہیں ۔ یہ اخنش بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ ایک شیریں لسان اورشیریں کلام شخص تھا، حضورتاجدارختم نبوتﷺکو پسندیدہ طریقے سے ملتااورآپﷺکے لئے اپنے دل میں موجود برے جذبات کو چھپالیتا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۴) ایک قول یہ بھی ہے وَقِیلَ: نَزَلَتْ فِی بَعْضِ الْمُنَافِقِینَ،کَانَ إِذَا مَرَّ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَنَی صَدْرَہُ وَظَہْرَہُ، وَطَأْطَأَ رَأْسَہُ وَغَطَّی وَجْہَہُ، لِکَیْلَا یَرَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَدْعُوہُ إِلَی الْإِیمَانِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی:۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت کریمہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ، جب وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے پاس سے گزرتے تومنافقین اپناسینہ اوراپنی پیٹھ دہری کرلیتے تھے ، اپنے سرکوجھکالیتے اوراپنے چہرے کو ڈھانپ لیتے تاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺان کو دیکھ کرایمان کی دعوت نہ دیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۴)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh