صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2474 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃیوسف آیت ۲۴۔ وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰبُرْہٰنَ رَبِّہٖ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْٓء َ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,268

سوال (Question):

تفسیرسورۃیوسف آیت ۲۴۔ وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰبُرْہٰنَ رَبِّہٖ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْٓء َ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی طرف منسوب گستاخانہ روایات کاردبلیغ

{وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰبُرْہٰنَ رَبِّہٖ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْٓء َ وَالْفَحْشَآء َ اِنَّہ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ}(۲۴) ترجمہ کنزالایمان:اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا ہم نے یونہی کیا کہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور بیشک عورت نے یوسف کا ارادہ کیا اوراگروہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا تووہ بھی عورت کا ارادہ کرتا۔ ہم نے اسی طرح کیاتاکہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں ،بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے۔ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے اورعزیزمصرکی بیوی کے ارادے میں فرق پہلاقول أنہا ہمت بہ أن یفترشہا، وہمّ بہا، أی:تمنَّاہا أن تکون لہ زوجۃ، رواہ الضحاک عن ابن عباس۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ عزیزمصرکی بیوی نے یہ ارادہ کیاکہ وہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کو گناہ کی طرف مائل کرے اورحضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے یہ ارادہ کیاکہ وہ آپ علیہ السلام کی منکوحہ بن جائے ۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۲:۴۸۷) دوسراقول حضرت سیدناشیخ اکبرمحی الدین ابن العربی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ روحانی اورکشفی طورپرحضرت سیدنایوسف علیہ السلا م سے میری ملاقات ہوئی تومیںنے عرض کی : اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کے قصہ میں یہ فرمایاہے {وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ وَہَمَّ بِہَا}اوراس {ہَم}کی کوئی تعیین نہیں فرمائی ، بظاہراشترا ک معلوم ہوتاہے ؟حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے جواباًفرمایا: نعم صدقت ، لکن فی لفظ دون المعنی فانہاہمت بی فتعمدنی علی ماکانت ارادت منی وہممت انھابالقہربالدفع عن ذلک فی الاشتراک فی طلب القہرمنہی ومنہا۔ ترجمہ :ہاں تونے سچ کہالیکن وہ اشتراک صرف اورصرف لفظی ہے نہ کہ معنوی ، اس نے یہ ارادہ کیاکہ مجھے اپنے مطلب پرمجبورکرے اورمیں نے یہ ارادہ کیاکہ میں اس کے د فع کرنے میں غالب آجائوں ، پس اشتراک طلب قہراورغلبہ میں ہے ، مگرایک کامقصد اورمطلب جداجداہے اورفرمایاکہ دلیل اس کی یہ ہے کہ خود عزیزمصرکی بیوی نے اقرارکیا{قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْــئٰـنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّہ عَنْ نَّفْسِہٖ }اورمیرے قصہ میں کسی بھی جگہ قرآن کریم میں کہیں بھی نہیں آیاکہ { اَنَا رَاوَدْتُّہ عَنْ نَّفْسِہا}اوریہ فرمایاکہ میں کیسے اس کاارادہ کرتااللہ تعالی نے مجھے اپنی برہان دکھلائی ۔ (الیواقیت الجواہرفی بیان عقائدالاکابرلامام عبدالوہاب الشعرانی (۲: ۳۲۴) تیسراقول أَنْ نَقُولَ لَا نُسَلِّمُ أَنَّ یُوسُفَ عَلَیْہِ السَّلَامُ ہَمَّ بِہَاوَالدَّلِیلُ عَلَیْہِ:أَنَّہُ تَعَالَی قَالَ:وَہَمَّ بِہا لَوْلا أَنْ رَأی بُرْہانَ رَبِّہِ ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے اس برائی کاارادہ کیا۔ اس پردلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا{وَہَمَّ بِہا لَوْلا أَنْ رَأی بُرْہانَ رَبِّہِ }اوروہ بھی عورت کاارادہ کرتے اگروہ اپنے رب تعالی کی دلیل نہ دیکھ لیتے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۸:۴۴۰) چوتھاقول لا یکاد یدخل تحت التکلیف لا قصدا اختیاریا لانہ کما انہ برء من ارتکاب نفس الفاحشۃ والعمل الباطل کذلک برء من الہمّ المحرم وانما عبر عنہ بالہمّ لمجرد وقوعہ فی صحبۃ ہمہا فی الذکر بطریق المشاکلۃ لا لشبہہ بہ ولقد أشیر الی تباینہما بانہ لم یقل ولقدہما بالمخالطۃ او ہم کل منہما بالآخر۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جیسے انبیاء کرام علیہم السلام حرام اورفواحش کے ارتکاب سے پاک اورمعصوم ہوتے ہیں ایسے قصداختیاری سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ اگرحضرت سیدنایوسف علیہ السلام قصداختیاری سے معصوم اورپاک تھے تواللہ تعالی نے اسے ’’ہم‘‘سے کیوں تعبیرفرمایا؟۔اس کاجواب یہ ہے کہ ہم پہلے بھی یہ لکھ آئے ہیں کہ مشاکلت کاخیال رکھناضروری ہوتاہے چونکہ زلیخاکے لئے ’’ہمُ‘‘ پہلے آیاہے اسی مناسبت سے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے لئے بھی لفظ ’’ہم‘‘ لایاگیاہے۔ سوال : مشاکلت میں تباین تونہیں ہوناچاہئے جبکہ یہاں توتباین ہے ؟جواب اس کایہ ہے کہ اگرچہ تباین بھی ہوتب بھی مشاکلت کااعتبارضروری ہے ۔ اگرحضرت سیدنایوسف علیہ السلام اورعزیزمصرکی بیوی کاقصدایک جیساتھاتوتثنیہ کاصیغہ ’’ہما‘‘بولاجاتا، اسطرح کلام مختصربھی ہوتااورمقصدبھی پوراہوجاتاچونکہ ان دونوں کے ارادوںمیں تباین تھااس لئے کلام کی طوالت کے خطرہ کودرمیان میں لائے بغیرعزیزمصرکی بیوی کے ’’ہم ‘‘کوعلیحدہ اورحضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے لئے ’’ہم‘‘ کو علیحدہ بیان فرمایاگیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۲۳۷)

برہان سے مرادکیاہے؟

فِی أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِکَ الْبُرْہَانِ مَا ہُوَ أَمَّا الْمُحَقِّقُونَ الْمُثْبِتُونَ لِلْعِصْمَۃِ فَقَدْ فَسَّرُوا رُؤْیَۃَ الْبُرْہَانِ بِوُجُوہٍ: الْأَوَّلُ:أَنَّہُ حُجَّۃُ اللَّہ تَعَالَی فِی تَحْرِیمِ الزِّنَا وَالْعِلْمِ بِمَا عَلَی الزَّانِی مِنَ الْعِقَابِ وَالثَّانِی: أَنَّ اللَّہ تَعَالَی طَہَّرَ نُفُوسَ الْأَنْبِیَاء ِ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ عَنِ الْأَخْلَاقِ الذَّمِیمَۃِبَلْ نَقُولُ: إِنَّہُ تَعَالَی طَہَّرَ نُفُوسَ الْمُتَّصِلِینَ بِہِ عَنْہَا کَمَا قَالَ:إِنَّما یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیراً (الْأَحْزَابِ: ۳۳) فَالْمُرَادُ بِرُؤْیَۃِ الْبُرْہَانِ ہُوَ حُصُولُ تِلْکَ الْأَخْلَاقِ وَتَذْکِیرُ الْأَحْوَالِ الرَّادِعَۃِ لَہُمْ عَنِ الْإِقْدَامِ عَلَی الْمُنْکَرَاتِ. وَالثَّالِثُ: أَنَّہُ رَأَی مَکْتُوبًا فِی سَقْفِ الْبَیْتِ وَلا تَقْرَبُوا الزِّنی إِنَّہُ کانَ فاحِشَۃً وَساء َ سَبِیلًا (الْإِسْرَاء ِ:۳۲)وَالرَّابِعُ: أَنَّہُ النُّبُوَّۃُ الْمَانِعَۃُ مِنَ ارْتِکَابِ الْفَوَاحِشِ، وَالدَّلِیلُ عَلَیْہِ أَنَّ الْأَنْبِیَاء َ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ بُعِثُوا لِمَنْعِ الْخَلْقِ عَنِ الْقَبَائِحِ وَالْفَضَائِحِ فَلَوْ أَنَّہُمْ مَنَعُوا النَّاسَ عَنْہَا، ثُمَّ أَقْدَمُوا عَلَی أَقْبَحِ أَنْوَاعِہَا وأفحش أقسامہا لدخلوا تحت قولہ تعالی:یا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّہِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصَّفِّ: ۲، ۳)وَأَیْضًا أَنَّ اللَّہ تَعَالَی عَیَّرَ الْیَہُودَ بِقَوْلِہِ: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَکُمْ (الْبَقَرَۃِ: ۴۴)وَمَا یَکُونُ عَیْبًا فِی حَقِّ الْیَہُودِ کَیْفَ یُنْسَبُ إِلَی الرَّسُولِ الْمُؤَیَّدِ بِالْمُعْجِزَاتِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ عصمت ماننے والے محققین نے برہان دیکھنے کی تفسیرمیں یہ اقوال نقل کیے ہیں : پہلاقول: اللہ تعالی کی تحریم زناکے بارے میں ، حجت اوریہ علم کہ زانی کی یہ سزاہے ۔ دوسراقول:اللہ تعالی نے حضرات انبیا ء کرام علیہم السلام کے نفوس قدسیہ کوبرے اخلاق سے پاک رکھاہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان سے اتصال ( یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ تعلق رکھنے والے ) لوگوں کے نفوس کو پاک فرمادیاہے جیسے فرمایا:{إِنَّما یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیراً }(الْأَحْزَابِ: ۳۳)(اللہ تعالی تویہی چاہتاہے کہ اے نبی ﷺکے گھروالو!کہ تم سے ہرناپاکی کو دورفرمادے اورتمھیں پاک کرکے خوب ستھراکردے۔ برہان دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ ان اخلاق کے حصول اوراحوال کی یادجوبرائیوں کے ارتکاب پرجھڑک بنے ۔ تیسراقول:آپ علیہ السلام نے گھرکی چھت پریہ تحریرپڑھی {ِ وَلا تَقْرَبُوا الزِّنی إِنَّہُ کانَ فاحِشَۃً وَساء َ سَبِیلًا} (الْإِسْرَاء ِ:۳۲) اوربدکاری کے پاس نہ جائوبے شک وہ بے حیائی ہے اوربہت ہی بری راہ ہے ۔ چوتھاقول: فحش کام کے ارتکاب سے نبوت مانع بنی ، اس پردلیل یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام قبائح اورفضائح سے مخلوق کومنع کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں تواگروہ لوگوں کوان سے منع کریں اورخود ان بدترانواع واقسام پرعمل کریں تواس ارشادمبارک {یا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّہِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ} (الصَّفِّ: ۲، ۳)(اے ایمان والو!کیوں کہتے ہووہ جونہیں کرتے ۔ کیسی سخت ناپسندہے اللہ تعالی کو وہ بات کہ وہ کہوجوتم خودنہ کرو) کہ تحت داخل ہوجائیں گے ۔ اوردوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہودیوں کاعیب ان الفاظ میں بیان کیاکہ{اَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَکُمْ}(الْبَقَرَۃِ:۴۴)ترجمہ : تم لوگوں کو بھلائی کاحکم دیتے ہواوراپنی جانوں کو بھولتے ہو؟ جویہودیوں کے حق میں عیب ہے اس کی نسبت اللہ تعالی کے پاک نبی اوررسول علیہ السلام کی طرف کیسے کی جاسکتی ہے ؟جس کی معجزات کے ساتھ تائیدکی گئی ہو؟۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۸:۴۴۰)

حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے حق میں چارگواہیاںاوران کی تفصیل

وَاعْلَمْ أَنَّ الَّذِینَ لَہُمْ تَعَلُّقٌ بِہَذِہِ الْوَاقِعَۃِ یُوسُفُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَتِلْکَ الْمَرْأَۃُ وَزَوْجُہَا، وَالنِّسْوَۃُ وَالشُّہُودُ وَرَبُّ الْعَالَمِینَ شَہِدَ بِبَرَاء َتِہِ عَنِ الذَّنْبِ، وَإِبْلِیسُ أَقَرَّ بِبَرَاء َتِہِ أَیْضًا عَنِ الْمَعْصِیَۃِ، وَإِذَا کَانَ الْأَمْرُ کَذَلِکَ، فَحِینَئِذٍ لَمْ یَبْقَ لِلْمُسْلِمِ تَوَقَّفٌ فِی ہَذَا الْبَابِ أَمَّا بَیَانُ أَنَّ یُوسُفَ عَلَیْہِ السَّلَامُ ادَّعَی الْبَرَاء َۃَ عَنِ الذَّنْبِ فَہُوَ قَوْلُہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ:ہِیَ راوَدَتْنِی عَنْ نَفْسِی(یوسف: ۲۶) وَقَوْلُہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ:رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ (یُوسُفَ:۳۳)وَأَمَّا بَیَانُ أَنَّ الْمَرْأَۃَ اعْتَرَفَتْ بِذَلِکَ فَلِأَنَّہَا قَالَتْ لِلنِّسْوَۃِ: وَلَقَدْ راوَدْتُہُ عَنْ نَفْسِہِ فَاسْتَعْصَمَ (یُوسُفَ:۳۲)وَأَیْضًا قَالَتْ:الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا راوَدْتُہُ عَنْ نَفْسِہِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ (یُوسُفَ:۵۱) وَأَمَّا بَیَانُ أَنَّ زَوْجَ الْمَرْأَۃِ أَقَرَّ بِذَلِکَ، فَہُوَ قَوْلُہُ:إِنَّہُ مِنْ کَیْدِکُنَّ إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ یُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ ہذاوَاسْتَغْفِرِی لِذَنْبِکِ(یُوسُفَ:۲۸، ۲۹)وَأَمَّا الشُّہُودُ فَقَوْلُہُ تَعَالَی:وَشَہِدَ شاہِدٌ مِنْ أَہْلِہا إِنْ کانَ قَمِیصُہُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکاذِبِینَ (یُوسُفَ:۲۶)وَأَمَّا شَہَادَۃُ اللَّہ تَعَالَی بِذَلِکَ فَقَوْلُہُ:کَذلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوء َ وَالْفَحْشاء َ إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِینَ (یوسف:۲۴)فَقَدْ شَہِدَ اللَّہ تَعَالَی فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ عَلَی طَہَارَتِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ:أَوَّلُہَا:قَوْلُہُ:لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوء َ وَاللَّامُ لِلتَّأْکِیدِ وَالْمُبَالَغَۃِ وَالثَّانِی :قَوْلُہُ:وَالْفَحْشاء َ أَیْ کَذَلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوء َ وَالْفَحْشَاء َوَالثَّالِثُ:قَوْلُہُ:إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا مَعَ أَنَّہُ تَعَالَی قَالَ:وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِینَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً وَإِذا خاطَبَہُمُ الْجاہِلُونَ قالُوا سَلاماً (الْفُرْقَانِ:۶۳)وَالرَّابِعُ:قَوْلُہُ:الْمُخْلَصِینَ ۔وَفِیہِ قِرَاء َتَانِ:تَارَۃً بِاسْمِ الْفَاعِلِ وَأُخْرَی بِاسْمِ الْمَفْعُولِ فَوُرُودُہُ بِاسْمِ الْفَاعِلِ یَدُلُّ عَلَی کَوْنِہِ آتِیًا بِالطَّاعَاتِ وَالْقُرُبَاتِ مَعَ صِفَۃِ الْإِخْلَاصِ وَوُرُودُہُ بِاسْمِ الْمَفْعُولِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ اللَّہ تَعَالَی اسْتَخْلَصَہُ لِنَفْسِہِ وَاصْطَفَاہُ لِحَضْرَتِہِ، وَعَلَی کِلَا الْوَجْہَیْنِ فَإِنَّہُ مِنْ أَدَلِّ الْأَلْفَاظِ عَلَی کَوْنِہِ مُنَزَّہًا عَمَّا أَضَافُوہُ إِلَیْہِ، وَأَمَّا بَیَانُ أَنَّ إِبْلِیسَ أَقَرَّ بِطَہَارَتِہِ، فَلِأَنَّہُ قَالَ:فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِینَ إِلَّا عِبادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِینَ فَأَقَرَّ بِأَنَّہُ لَا یُمْکِنُہُ إِغْوَاء َ الْمُخْلَصِینَ وَیُوسُفُ مِنَ الْمُخْلَصِینَ لِقَوْلِہِ تَعَالَی:إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِینَ فَکَانَ ہَذَا إِقْرَارًا مِنْ إِبْلِیسَ بِأَنَّہُ مَا أَغْوَاہُ وَمَا أَضَلَّہُ عَنْ طَرِیقَۃِ الْہُدَی۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جن کاتعلق اس واقعہ سے ہے ، وہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی معصیت سے برات پرگواہ ہیں۔ اس واقعہ سے متعلق جو(۱)…حضرت سیدنایوسف علیہ السلام(۲)…وہ عورت (۳)…اوراس کاخاوند(۴)…اوراللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی گناہ سے برات پرگواہی دی اورابلیس نے بھی اس معصیت سے ان کی برات کااقرارکیا۔جب معاملہ اسی طرح ہے توکسی بھی مسلمان کواس بارے میں توقف کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ ٭…حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی گواہی خود اپنے حق میں (اس میں آپ علیہ السلام نے اپنی برات کااعلان فرمایا) {ہِیَ راوَدَتْنِی عَنْ نَفْسِی(یوسف: ۲۶) ترجمہ :اس نے مجھے لبھایاکہ میں اپنی حفاظت نہ کروں۔ اورحضرت سیدنایوسف علیہ السلام کایہ فرمان شریف ہے کہ {رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ} (یُوسُفَ:۳۳) ترجمہ :اے میرے رب مجھے قیدخانہ زیادہ پسندہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہے ۔ ٭…اوراس عورت نے بھی برات کااقرارکیا، اس لئے اس نے خواتین کو کہا: {وَلَقَدْ راوَدْتُہُ عَنْ نَفْسِہِ فَاسْتَعْصَمَ }(یُوسُفَ:۳۲) ترجمہ : اوربے شک میں نے ہی ان کاجی لبھاناچاہاتوانہوںنے اپنے آپ کو بچالیا۔ اورعزیزمصرکی بیوی نے یہ بھی کہا: {الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا راوَدْتُہُ عَنْ نَفْسِہِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ} (یُوسُفَ: ۵۱) ترجمہ : اب اصلی بات کھل گئی ، میںنے ہی ان کاجی لبھاناچاہاتھا، بے شک وہ سچے ہیں۔ ٭…عزیزمصرکاحضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے حق میں بیان { إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ یُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ ہذاوَاسْتَغْفِرِی لِذَنْبِک}ِ(یُوسُفَ:۲۸، ۲۹) ترجمہ : بے شک تمھارافریب بڑاہے ، اے یوسف آپ اس کاخیال نہ کریں اوراے عورت تواپنے گناہ کی معافی مانگ۔ ٭…گواہوں کے بارے میں اللہ تعالی کایہ فرمان شریف ہے {وَشَہِدَ شاہِدٌ مِنْ أَہْلِہا إِنْ کانَ قَمِیصُہُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکاذِبِینَ }(یُوسُفَ:۲۶) ترجمہ : اورعورت کے گھروالوں میں سے ایک گواہ نے یہ گواہی دی اگرحضرت سیدنایوسف علیہ السلام کاکرتہ آگے سے پھٹاہے توعورت سچی ہے اورانہوںنے غلط کہا۔ ٭…اوراللہ تعالی کی حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے حق میں گواہی {کَذلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوء َ وَالْفَحْشاء َ إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِین} (یوسف:۲۴) ترجمہ : ہم نے یونہی کیاکہ یوسف ( علیہ السلام) سے برائی اوربے حیائی کوپھیردیں، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔ تواللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں چارمرتبہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی پاکدامنی اورطہارت پرگواہی دی ۔ پہلی وجہ : اللہ تعالی نے فرمایا: { لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوء َ }تاکہ اس سے برائی کو پھیردیں۔اس میں لام تاکیداورمبالغہ کے لئے ہے ۔ دوسری وجہ : { وَالْفَحْشاء}یعنی اسی طرح ہم نے ان سے برائی اورفحشاء کو دورکیا۔ تیسری وجہ : {إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِین}بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِینَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً وَإِذا خاطَبَہُمُ الْجاہِلُونَ قالُوا سَلاماً }(الْفُرْقَانِ:۶۳) ترجمہ : اوررحمن عزوجل کے وہ بندے زمین پرآہستہ چلتے ہیں اورجب جاہل ان سے بات کرتے ہیں توکہتے ہیں کہ بس سلام ۔ چوتھی وجہ : { الْمُخْلَصِین}اس کی دوطرح قرات ہے ، اسم فاعل اوردوسری بطوراسم مفعول ہے ۔ اسم فاعل کے طورپرہونااس پردلالت کرتاہے کہ آپ علیہ السلام اخلاص کے ساتھ طاعت وعبادت بجالانے والے ہیںاوراسم مفعول کے طورپراس کی قرات اس پردلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کو اپنے لئے مخلص اوراپنی بارگاہ اقدس کے لئے منتخب کیا۔ بہرحال یہ دونوں صورتیں سب سے بڑی دلیل ہیںکہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام اس سے منزہ اوربالاترہیں ، جس کی ان لوگوں نے آپ علیہ السلام کی طرف نسبت کی ۔ یہ بیان کہ ابلیس نے بھی آپ علیہ السلام کی طہارت اورپاکدامنی کااقرارکیاکیونکہ اس نے کہا: {فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِینَ ،إِلَّا عِبادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِینَ }(سورۃ ص: ۸۲،۸۳) ترجمہ : تیری عزت کی قسم !ضرورمیں ان سب کوگمراہ کردوں گامگرجوان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔ تو شیطان نے اس بات کااقرارکیاکہ وہ مخلص لوگوںکواغواء کرنے پرقدرت نہیں رکھتااورحضرت سیدنایوسف علیہ السلام اس ارشادخداوندی {إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِین}بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے۔کی وجہ سے مخلصین میں سے ہیں ۔ توابلیس کایوں اقراربناکہ اس نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کو ہدایت کے راستے سے نہ اغواء کیااورنہ ہی گمراہ کیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۸:۴۴۰) حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی طرف گستاخانہ باتیں منسوب کرنے والوں کو تنبیہ وَعِنْدَ ہَذَا نَقُولُ ہَؤُلَاء ِ الْجُہَّالُ الَّذِینَ نَسَبُوا إِلَی یُوسُفَ عَلَیْہِ السَّلَامُ ہَذِہِ الْفَضِیحَۃَ إِنْ کَانُوا مِنْ أَتْبَاعِ دِینِ اللَّہ تَعَالَی فَلْیَقْبَلُوا شَہَادَۃَ اللَّہ تَعَالَی عَلَی طَہَارَتِہِ وَإِنْ کَانُوا مِنْ أَتْبَاعِ إِبْلِیسَ وَجُنُودِہِ فَلْیَقْبَلُوا شَہَادَۃَ إِبْلِیسَ عَلَی طَہَارَتِہِ وَلَعَلَّہُمْ یَقُولُونَ کُنَّا فِی أَوَّلِ الْأَمْرِ تَلَامِذَۃَ إِبْلِیسَ إِلَی أَنْ تَخَرَّجْنَا عَلَیْہِ فَزِدْنَا عَلَیْہِ فِی السَّفَاہَۃِ ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اب ہم ان جاہلوں سے کہتے ہیں جنہوںنے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی طرف اس رسوائی کی نسبت کی اگروہ اللہ تعالی کے دین کے تابع ہیں توحضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی طہارت پراللہ تعالی کی گواہی کوقبول کرلیں اوراگروہ ابلیس اوراس کے لشکروں کے تابع ہیں توابلیس کی ان کی طہارت پرگواہی کوقبول کرلیں ، شایدوہ کہیں کہ ہم ابتداء میں ابلیس کے شاگردتھے یہاں تک کہ تم نے اس سے باغی کردیاتوہم اس سے زیادہ احمق اوربے وقوف ہوگئے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۸:۴۴۰)

راوی کوجھوٹامان لیناآسان ہے اللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کی گستاخی سے

وَاعْلَمْ أَنَّ بَعْضَ الْحَشْوِیَّۃِرُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ:مَا کَذَبَ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ إِلَّا ثَلَاثَ کِذْبَاتٍ فَقُلْتُ الْأَوْلَی أَنْ لَا نَقْبَلَ مِثْلَ ہَذِہِ الْأَخْبَارِ فَقَالَ عَلَی طَرِیقِ الِاسْتِنْکَارِ فَإِنْ لَمْ نَقْبَلْہُ لَزِمَنَا تَکْذِیبُ الرُّوَاۃِ فَقُلْتُ لَہُ:یَا مِسْکِینُ إِنْ قَبِلْنَاہُ لَزِمَنَا الْحُکْمُ بِتَکْذِیبِ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَإِنْ رَدَدْنَاہُ لَزِمَنَا الْحُکْمُ بِتَکْذِیبِ الرُّوَاۃِ وَلَا شَکَّ أَنَّ صَوْنَ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَنِ الْکَذِبِ أَوْلَی مِنْ صَوْنِ طَائِفَۃٍ مِنَ الْمَجَاہِیلِ عَنِ الْکَذِبِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض حشویہ نے کہاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے منقول ہے کہ {مَا کَذَبَ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ إِلَّا ثَلَاثَ کِذْبَات}یعنی حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے تین کذبات کہے ۔تومیں کہتاہوں کہ بہتریہ ہے کہ ہم اس روایت کو ہی قبول نہ کریں توحشویہ نے اسے برامحسوس کرتے ہوئے کہا: اگرہم اسے قبول نہ کریں توان راویوں کاجھوٹاہونالازم آئے گا، میں نے انہیں کہاکہ ممکن ہے کہ اگرہم اس روایت کو قبول کرلیں توحضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کے جھوٹے ہونے کاحکم لازم آئے گااوراگرہم اسے ردکردیں توان راویوں کاجھوٹاہونالازم آتاہے ۔ بلاشبہ حضر ت سیدناابراہیم علیہ السلام کاجھوٹ سے محفوظ ہونااولی ہے ، ان مجاہلین راویوں کے گروہ کے کذب سے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۸:۴۴۰)

انبیاء کرام علیہم السلام اعلان نبوت سے قبل بھی معصوم ہوتے ہیں

مسئلہ ھذا میںمفسرین کے نقل کردہ واقعات سب مکذوبات ہیں قالَ مَعاذَولا یصح ما یروی عن المفسرین أنہ حلّ السراویل وقعد منہا مقعد الرجل، فإنہ لو کان ہذا، دل علی العزم، والأنبیاء معصومون من العزم علی الزنا. ترجمہ :حضرت سیدنامعاذ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جوکچھ بھی مفسرین نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے متعلق نقل کیاہے وہ سب جھوٹ اورکذب ہے ، کیونکہ اگروہ سب سچ ہے توپھرحضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی طرف سے گناہ پرعزم پایاجائے گااورانبیاء کرام علیہم السلام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۲:۴۲۹)

حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی طہارت پرزبردست دلیل

أَنَّ الزِّنَا مِنْ مُنْکَرَاتِ الْکَبَائِرِ وَالْخِیَانَۃَ فِی مَعْرِضِ الْأَمَانَۃِ أَیْضًا مِنْ مُنْکَرَاتِ الذُّنُوبِ، وَأَیْضًا مُقَابَلَۃُ الْإِحْسَانِ الْعَظِیمِ بِالْإِسَاء َۃِ الْمُوجِبَۃِ لِلْفَضِیحَۃِ التَّامَّۃِ وَالْعَارِ الشَّدِیدِ أَیْضًا مِنْ مُنْکَرَاتِ الذُّنُوبِ، وَأَیْضًا الصَّبِیُّ إِذَا تَرَبَّی فِی حجر إنسان وبقی مکفی المؤنۃ مصون الغرض مِنْ أَوَّلِ صِبَاہُ إِلَی زَمَانِ شَبَابِہِ وَکَمَالِ قُوَّتِہِ فَإِقْدَامُ ہَذَا الصَّبِیِّ عَلَی إِیصَالِ أَقْبَحِ أَنْوَاعِ الْإِسَاء َۃِ إِلَی ذَلِکَ الْمُنْعِمِ الْمُعَظَّمِ مِنْ مُنْکَرَاتِ الْأَعْمَالِ. إِذَا ثَبَتَ ہَذَا فَنَقُولُ: إِنَّ ہَذِہِ الْمَعْصِیَۃَ الَّتِی نَسَبُوہَا إِلَی یُوسُفَ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَتْ مَوْصُوفَۃً بِجَمِیعِ ہَذِہِ الْجِہَاتِ الْأَرْبَعِ وَمِثْلُ ہَذِہِ الْمَعْصِیَۃِ لَوْ نُسِبَتْ إِلَی أَفْسَقِ خَلْقِ اللَّہ تَعَالَی وَأَبْعَدِہِمْ عَنْ کُلِّ خَیْرٍ لَاسْتُنْکِفَ مِنْہُ، فَکَیْفَ یَجُوزُ إِسْنَادُہَا إِلَی الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ! الْمُؤَیَّدُ بِالْمُعْجِزَاتِ الْقَاہِرَۃِ الْبَاہِرَۃِ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بے شک زناکبائرگناہ میں سے ہے ، اسی طرح امانت میں خیانت کرنابھی بڑے گناہوں میں سے ہے اورپھراحسان کابدلہ ایسی برائی سے دیناجوکامل رسوائی اورشدیدعارکاموجب بنے ، یہ بھی بڑی برائیوں میں سے ہے ، اوریہ بھی کہ بچہ کسی انسان کی گودمیں پلے اوروہ بچپن سے لیکراس کی جوانی اورکمال قدرت کے زمانہ تک اس کی کفالت کاذمہ داربنے اوراس کامحافظ بنے ، اس بچے کااپنے اس عظیم منعم کے ساتھ ایسی بدترین برائی نہایت ہی برے اعمال میں سے ہے ، جب یہ بات ثابت ہے توسنئے !جس معصیت کی نسبت حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی طرف ان لوگوں نے کی وہ ان تمام چاروں جہات سے متصف ہے ، ایسی معصیت کی نسبت اگراللہ تعالی کی مخلوق میں سب سے بڑے فاسق اورہرقسم کی بھلائی سے دورہنے والے کی طرف کردی جائے تووہ بھی اس سے انکارکردے گاتواس کی نسبت اللہ تعالی کے رسول علیہ السلام کی طرف کرناکیسے جائز ہے ؟جس کی تائیدان معجزات سے کی گئی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۸:۴۴۰)

عقیدہ اہل سنت

فمن نسب الی الأنبیاء الفواحش کالعزم علی الزنی ونحوہ الذی یقولہ الحشویۃ فی یوسف کفر لانہ شتم لہم کذا فی القنیۃ ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی :۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جوشخص انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف فواحش جیسے زناوغیرہ کی نسبت کرتاہے وہ کافرومرتدہے جیسے حشویہ وغیرہ کہتے ہیںچنانچہ ان کاعقیدہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے متعلق یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے عزیزمصرکی بیوی کے ساتھ گناہ کاارادہ فرمایاتھا، اس لئے انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق ایسی بات کہنابالاتفاق کفرہے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۲۳۷) ہم پرواجب ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں۔۔۔ قال فی بحر العلوم واعلم انہ تعالی شہد ببراء تہ من الذنب ومدحہ بانہ من المحسنین وانہ من عبادہ من المخلصین فوجب علی کل أحد ان لا یتوقف فی نزاہتہ وطہارۃ ذیلہ وعفتہ وتثبتہ فی مواقع العثار ۔ ترجمہ:جب اللہ تعالی نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی برات اوران کی مدح اورثنابیان کی ہے کہ وہ محسنین اورمخلصین عباد میں سے تھے توہم پرکون ہوتے ہیں کہ ان کی عفت وعصمت میں شک کریں۔بلکہ ہم پرواجب ہے کہ ہم حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کو پاکدامن اورمعصوم مانیں اوریہ یقین رکھیں کہ خطااورگناہ سے ان کادامن پاک ہے ۔ (تفسیر حدائق الروح والریحان:الشیخ محمد الأمین بن عبد اللہ الہرری الشافعی(۱۳:۳۷۶) کسی کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرناجائز نہیں ہے قال الحسن:لم یَقُصَّ اللہ تعالی علیکم ما حکی من أخبار الأنبیاء تعْییرًا لہم، لکن لئلا تَقنَطُوا من رحمتہ؛ لأنَّ الحُجَّۃَ للأنبیاء ألزم، فإذا قبلت توبتہم،کان قبولہا من غیرہم أسْرَعَ۔ ترجمہ :امام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات بیان فرمائے اس غرض سے نہیں ہے کہ لوگ اٹھ کرانبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخیاں شروع کردیں بلکہ اس لئے بیان فرمایاکہ عام لوگوں کونصیحت نصیب ہوبلکہ وہ اللہ تعالی کی رحمت سے ناامیدنہ ہوں۔اس لئے کہ وہ ایساکریم ہے کہ جب انبیاء کرام علیہم السلام کی توبہ قبول منظورفرمالیتاہے توعام بندوں کی توبہ بھی ضرورمنظورفرمائے گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۲۳۷) حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے متعلق مروی گستاخانہ روایات کے متعلق ائمہ کرام اورمفسرین کانظریہ

امام فخرالدین الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی کانظریہ

أَنَّ یُوسُفَ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ بَرِیئًا عَنِ الْعَمَلِ الْبَاطِلِ، وَالْہَمِّ الْمُحَرَّمِ، وَہَذَا قَوْلُ الْمُحَقِّقِینَ مِنَ الْمُفَسِّرِینَ وَالْمُتَکَلِّمِینَ، وَبِہِ نَقُولُ وَعَنْہُ نَذُبُّ.وَاعْلَمْ أَنَّ الدَّلَائِلَ الدَّالَّۃَ عَلَی وُجُوبِ عِصْمَۃِ الْأَنْبِیَاء ِ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ کَثِیرَۃٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنایوسف علیہ السلام اس عمل باطل اورحرام کے ارادہ سے بری تھے ، مفسرین میں سے محققین کایہی قول ہے اورہم بھی یہی بات کہتے ہیں اورحضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی عزت وناموس پرپہرہ دیتے ہیں ۔ حضرات انبیاء کرا م علیہم السلام کی عصمت کے لزوم پرکثیردلائل موجود ہیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۸:۴۴۰) امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی کانظریہ وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْ حَالِ یُوسُفَ مِنْ حِینِ بُلُوغِہِ فَقَالَ:وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّہُ آتَیْناہُ حُکْماً وَعِلْماً(یوسف:۲۲)عَلَی مَا تَقَدَّمَ بَیَانُہُ، وَخَبَرُ اللَّہِ تَعَالَی صِدْقٌ،وَوَصْفُہُ صَحِیحٌ، وَکَلَامُہُ حَقٌّ، فَقَدْ عَمِلَ یوسف بما علمہ اللہ من تحریم الزنی وَمُقَدِّمَاتِہِ، وَخِیَانَۃِ السَّیِّدِ وَالْجَارِ وَالْأَجْنَبِیِّ فِی أَہْلِہِ، فَمَا تَعَرَّضَ لِامْرَأَۃِ الْعَزِیزِ،وَلَا أَجَابَ إِلَی الْمُرَاوَدَۃِ، بَلْ أَدْبَرَ عَنْہَا وَفَرَّ مِنْہَا، حِکْمَۃً خُصَّ بِہَا، وَعَمَلًا بِمُقْتَضَی مَا عَلَّمَہُ اللَّہُ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی خبرسچی ، اس کاوصف صحیح اورحق ہے ، پس اللہ تعالی نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کوزنااوراس کے مقدمات کی حرمت ، سردار، پڑوسی اوراجنبی کے ساتھ خیانت کی حرمت وغیرہ میں سے جوکچھ سکھایاآپ علیہ السلام نے اس سب پرعمل کیااورآپ علیہ السلام نے عزیزمصرکی بیوی سے اعراض برتااوراس کی دعوت کونہ قبول کیااورنہ ہی اس کی طرف آپ علیہ السلام کاخیال گیااوراس سے پیٹھ پھیرلی اوراس سے بھاگے یہ ایسی حکمت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو خاص کیااورحقیقت میں یہ اللہ تعالی کے دیئے ہوئے علم کے مقتضی پرآپ علیہ السلام کاعمل تھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۱۶۸) آپ علیہ السلام کی عصمت کے خلاف جتنی بھی روایات مروی ہیں سب کی سب جھوٹی ہیں قُلْتُ: وَإِذَا تَقَرَّرَتْ عِصْمَتُہُ وَبَرَاء َتُہُ بِثَنَاء ِ اللَّہِ تَعَالَی عَلَیْہِ فَلَا یَصِحُّ مَا قَالَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں کہتاہوں کہ جب اللہ تعالی نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی تعریف کی اوراس کی وجہ سے ان کی عصمت وبرات پختہ ہوگئی۔پس اس کے علاوہ جوکچھ بھی آپ علیہ السلام کے متعلق کہاجاتاہے وہ سب کاسب غلط ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۱۶۸)

شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالی کانظریہ

عزیزمصرکی بیوی نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے ساتھ گناہ کاقصدکرلیاتھا{ٖ وَہَمَّ بِہَا}کاہمارے نزدیک مختارمعنی یہ ہے کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے اس گناہ سے اپنادامن بچانے کاقصدکیااوراگروہ اپنے رب تعالی کی دلیل نہ دیکھ لیتے توگناہ میں مبتلاء ہوجاتے اورجمہورمفسرین کرام کے نزدیک اس آیت کریمہ کامعنی اسی طرح ہے ۔ بعض مفسرین نے ایسی روایات لکھی ہیں کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے زناکاارتکاب تونہیں کیالیکن زناکے تمام مقدمات میں ملوث ہوگئے ، ہم ایسی تمام روایات اورخرافات سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں۔ (تبیان القرآن لعلامہ غلام رسول سعیدی ( ۵: ۷۳۳)

مفتی محمدقاسم قادری لکھتے ہیں

زلیخا نے حضرت سیدنایوسف علیہ السلام سے برائی کاا رادہ کیا اور اگرحضرت سیدنایوسف علیہ السلام اپنے رب تعالی کی دلیل نہ دیکھ لیتے تو انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق وہ بھی عورت کی طرف مائل ہو جاتے لیکن حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے اپنے رب تعالیٰ کی دلیل دیکھی اور اس فاسد ارادے سے محفوظ رہے اور وہ دلیل وبُرہان عِصْمت ِنبوت ہے، اللہ تعالیٰ نے انبیاء ِ کرام علیہم السلام کے پاکیزہ نُفوس کو برے اَخلاق اور گندے اَفعال سے پاک پیدا کیا ہے اور پاکیزہ، مُقَدّس اور شرافت والے اَخلاق پر ان کی پیدائش فرمائی ہے، اس لئے وہ ہر ایسے کام سے باز رہتے ہیں جس کا کرنا منع ہو۔ (تفسیرصراط الجنان از مفتی محمدقاسم قادری( ۴:۵۴۴)

فقیرپرتقصیرکااس بارے میں گزارش

فقیرپرتقصیرعرض گزارہے کہ مفسرین نے جواس بارے میں نازیباروایات نقل کی ہیں وہ سب کی سب غلط ہیں اورآیت کریمہ کے سیاق وسباق کے بالکل خلاف ہیں کیونکہ قصہ کاتمام سیاق وسباق حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی مدح اورمنقبت اوران کی کمال عفت وعصمت کے بیان سے بھراہواہے اورقرآن کریم کی آیات کریمہ خود ان قصوں کی تکذیب کرتی ہیں اوران جھوٹے واقعات کی تردیدکے لئے کافی ووافی ہیں۔ اللہ تعالی اپنے حبیب کریم ﷺکی عزت وناموس کاکام کسی سے بھی لے لیتاہے

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ کو ڈاکووٓں نے قتل کردیا

قال بعض ارباب الأحوال کنت بمجلس بعض القصاص فقال ما سلم أحد من ہوی ولا فلان وسمی من لا یلیق ذکرہ فی ہذا المقام العظم الشأن فقلت اتق اللہ فقال ألم یقل (حبب الیّ)فقلت ویحک قال حبب ولم یقل أحببت قال ثم خرجت بالہمّ فرأیت النبی علیہ السلام فقال لاتہتم فقد قتلناہ قال فخرج ذلک القاص الی بعض القری فقتلہ بعض قطاع الطریق ۔ ترجمہ:ایک بزرگ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں حاضرہوا، اس میں واعظ کہنے لگاکہ خواہش نفسانی سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا، یہاں تک کہ اس گستاخ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکااسم گرامی بھی شامل کرلیا، میں نے اسے کہاکہ اللہ تعالی کاخوف کرو!حضورتاجدارختم نبوتﷺکے متعلق ایسی گستاخانہ بات نہ کہو، اس نے کہاکہ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے خود فرمایاہے{ حبب الی}میرے لئے محبوب بنائی گئی ہے دنیاوغیرہ )میںنے اسے کہاکہ حدیث شریف کوتونے پورے طورپرسمجھاہی نہیں ہے اس لئے کہ{ حبب الی}فرمایاہے نہ کہ {احببت}فرمایا، یعنی حضورتاجدارختم نبوتﷺنے از خود دنیاسے محبت نہیں فرمائی بلکہ دنیاکی محبت من جانب اللہ تعالی تھی اوروہ بھی امت کی تعلیم کے لئے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکو دنیانے نقصان نہیں پہنچایابلکہ دنیاکوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی ذات شریفہ سے فائدہ پہنچاہے ۔ وہ بزرگ فرماتے ہیں کہ اس گستاخ ذلیل کی وجہ سے میرادل بہت زیادہ تنگ ہوا، را ت کو خوا ب میں مجھے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی زیارت نصیب ہوئی توآپ ﷺنے فرمایا: غم نہ کرومیں نے اس گستاخ ذلیل کوقتل کردیا، چنانچہ اسی صبح کو وہی گستاخ کہیں وعظ کہنے کے لئے جارہاتھاکہ اسے ڈاکوئوں نے قتل کردیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۲۳۷) جیسے اس گستاخ کو ڈاکوئوں نے قتل کیااسی طرح ایک ایمان افروز واقعہ یہاں نقل کرتاہوں کہ وہ بھی ڈاکوکے متعلق ہے کہ اس نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس پرپہرہ دیاتواللہ تعالی نے اس پربڑاکرم فرمایا۔

نورا ڈاکو کاحضورتاجدارختم نبوتﷺکی ناموس پرپہرہ دینا

مولانا ضیاء اللہ قادری رحمہ اللہ تعالی کوضلع وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بھرا خط لکھاگیا کہ مولانا صاحب ہمارے گاؤں میں آج تک حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سیرت شریفہ پر بیان نہیں ہوا۔ ہمارا بہت دل کرتا ہے ،آپ ہمیں وقت عنائیت فرما دیں ہم تیاری کر لیں گے ۔ میں نے محبت بھرے جزبات دیکھ کرخط لکھ دیا کہ فلاں تاریخ کو میں حاضر ہو جاؤں گا۔ دیئے گئے وقت پر میں ٹرین سے اتر کر تانگہ پر بیٹھ کرگاؤں پہنچ گیا تو آگے میزبانوں نے مجھے ھدیہ پیش کر کے کہا: مولانا آپ جا سکتے ہیں ہم بیان نہیں کروانا چاہتے۔ وجہ پوچھی تو بتایا کہ ہمارے گاؤں میں نوے فی صدقادیانی ہیں وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ نا تو تمہاری عزتیں نہ مال نہ گھربار محفوظ رہے گا اگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی سیرت شریفہ پر بیان کروایا تو۔ مولانا ہم کمزور ہیں غریب ہیں تعداد میں بھی کم ہیں اس لیئے ہم نہیں کرسکتے۔میں نے لفافہ واپس کردیا اور کہا بات تمہاری ہوتی یامیری ہوتی تو واپس چلا جاتا بات حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت کی آگئی ہے اب بیان ہوگا ضرور ۔ وہ گھبرا گئے کہ آپ تو چلے جائیں گے مسئلہ تو ہمارے لیے ہوگا۔میں نے کہا:اس گاؤں کے آس پاس کوئی ڈنڈے والا ہے؟انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دور نورا ڈاکو ہے پورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے۔میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نورے کے پاس، جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے، دیکھ کرنورا بولا،آج خیرہے مولوی کیوں آگئے ہیں؟میں نے کہا کہ بات حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت کی آ گئی ہے تم کچھ کرو گے؟ میری بات سن کرنورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا، میں ڈاکو ضرورہوں مگربے غیرت نہیں ہوں۔وہ ہمیں لے کرچل نکلا مسجد میں۳گھنٹے میں نے بیان کیا۔ اور نورا ڈٹ کرکھڑا رہا آخر میں نورے نے یہ کہا کہ اگر کسی نے مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھاکربھی دیکھا تو نورے سے بچ نہیں سکے گا۔میں واپس آگیا کچھ ماہ بعد میرے گھر پر اک آدمی آیا سر پرعمامہ چہرے پرداڑھی زبان پر درود پاک کاورد میں نے پوچھا، کون ہو..؟ وہ رو کر بولا، مولانا میں نورا ڈاکوہوں۔جب اس دن میں واپس گھر کو لوٹا اورجا کر سو گیا ،آنکھ لگی ہی تھی حضورتاجدارختم نبوتﷺمیری خواب میں تشریف لائے میرا ماتھا چوما اور فرمایا ،:آج تو نے میری عزت پر پہرا دیا ہے۔میں اور میرا اللہ تعالی تم پرخوش ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالی نے تیرے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔مولانا صاحب اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو سب کچھ بدل چکا تھا اب تو ہر وقت آنکھوں سے آنسو ہی خشک نہیں ہوتے ۔مولانا صاحب میں آپ کاشکریہ ادا کرنے آیا ہوں آپ کی وجہ سے تو میری زندگی ہی بدل گئی میری آخرت سنور گئی ہے۔

ناموس رسالت کے پہرے دارکی تصویردیکھ کرڈاکوتوبہ کرگئے

کراچی کے ایک مفتی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ راہ جاتے ہوئے مجھے ڈاکوئوں نے پکڑلیااورجیب سے موبائل ، پیسے اورموٹرسائیکل سب کچھ چھین گئے اوردوسرے دن وہ میرے پاس آئے اورآکرکہنے لگے کہ ہم نے آپ کاموبائل جب چلایاتواس میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے سچے سپاہی اوران کی عزت وناموس کے محافظ مولاناامیرالمجاہدین شیخ الحدیث حافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی کی تصویرتھی ، اسے دیکھ کر ہمیں بہت حیا ء آئی کہ یہ بندہ توحضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس کاپہرے دارہے لہذاہم نے آج سے ہرطرح کی چوری اورڈکیتی سے توبہ کرلی ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh