Fatwa #2475
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃیوسف آیت ۵۵۔ قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,374
سوال (Question):
تفسیرسورۃیوسف آیت ۵۵۔ قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضرت سیدنایوسف علیہ السلام پرملحدین کے اعترض کاجواب
{قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ}(۵۵) ترجمہ کنزالایمان:یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:حضرت یوسف(علیہ السلام) نے فرمایا:مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو ، بیشک میں حفاظت والا، علم والا ہوں۔فاجراورکافرحاکم کے ہاں کام کرنا
قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ:فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ مَا یُبِیحُ لِلرَّجُلِ الْفَاضِلِ أَنْ یَعْمَلَ لِلرَّجُلِ الْفَاجِرِ، وَالسُّلْطَانِ الْکَافِرِ، بِشَرْطِ أَنْ یَعْلَمَ أَنَّہُ یُفَوِّضُ إِلَیْہِ فِی فِعْلٍ لَا یُعَارِضُہُ فِیہِ، فَیُصْلِحُ مِنْہُ مَا شَاء َ، وَأَمَّا إِذَا کَانَ عَمَلُہُ بِحَسَبِ اخْتِیَارِ الْفَاجِرِ وَشَہَوَاتِہِ وَفُجُورِہِ فَلَا یَجُوزُ ذَلِکَ وَقَالَ قَوْمٌ: إِنَّ ہَذَا کَانَ لِیُوسُفَ خَاصَّۃً، وَہَذَا الْیَوْمُ غَیْرُ جَائِزٍ، وَالْأَوَّلُ أَوْلَی إِذَا کَانَ عَلَی الشَّرْطِ الَّذِی ذَکَرْنَاہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہے کہ بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اس بات پردلیل موجود ہے کہ ایک فاضل آدمی فاجراورکافربادشاہ کی طرف سے کوئی ذمہ داری سرانجام دے سکتاہے بشرطیکہ وہ جانتاہوکہ وہ اسے کوئی کام سپردنہیں کرے گاجووہ نہیں کرناچاہتااوروہ اپنی مرضی کے مطابق معاملات کرسکتاہے لیکن اگراس کاکام اس فاجرکے اختیار، اس کی خواہش اوراس کے فجورکے مطابق ہواتویہ جائز نہیں ہوگااوربعض لوگوںنے کہاہے کہ یہ صرف حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے اورآج کے زمانے میں یہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے ، بہرحال پہلی صورت بہترہے ، بشرطیکہ اس شرط کے مطابق ہوجوذکرکی گئی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۲۱۲)حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے ولایت قبول کرنے پراعتراض کاجواب
فَأَجَابَ مَنْ ذَہَبَ إِلَی ہَذَا الْمَذْہَبِ عَنْ وِلَایَۃِ یُوسُفَ مِنْ قِبَلِ فِرْعَوْنَ بِجَوَابَیْنِ:أَحَدُہُمَا:أَنَّ فِرْعَوْنَ یُوسُفَ کَانَ صَالِحًا، وَإِنَّمَا الطَّاغِی فِرْعَوْنُ مُوسَی الثَّانِی:أَنَّہُ نَظَرَ فِی أَمْلَاکِہِ دُونَ أَعْمَالِہِ، فَزَالَتْ عَنْہُ التَّبِعَۃُ فِیہِ قَالَ الْمَاوَرْدِیُّ: وَالْأَصَحُّ مِنْ إِطْلَاقِ ہَذَیْنَ الْقَوْلَیْنِ أَنْ یُفَصَّلَ مَا یَتَوَلَّاہُ مِنْ جِہَۃِ الظَّالِمِ عَلَی ثَلَاثَۃِ أَقْسَامٍ: أَحَدُہَا:مَا یَجُوزُ لِأَہْلِہِ فِعْلُہُ مِنْ غَیْرِ اجْتِہَادٍ فِی تَنْفِیذِہِ کَالصَّدَقَاتِ وَالزَّکَوَاتِ، فَیَجُوزُ تَوَلِّیہِ مِنْ جِہَۃِ الظَّالِمِ، لِأَنَّ النَّصَّ عَلَی مُسْتَحِقِّہِ قَدْ أَغْنَی عَنِ الِاجْتِہَادِ فِیہِ، وَجَوَازُ تَفَرُّدِ أَرْبَابِہِ بِہِ قَدْ أَغْنَی عَنِ التَّقْلِیدِوَالْقِسْمُ الثَّانِی مَا لَا یَجُوزُ أَنْ یَتَفَرَّدُوا بِہِ وَیَلْزَمُ الِاجْتِہَادُ فِی مَصْرِفِہِ کَأَمْوَالِ الْفَیْء ِ، فَلَا یَجُوزُ تَوَلِّیہِ مِنْ جِہَۃِ الظَّالِمِ، لِأَنَّہُ یَتَصَرَّفُ بِغَیْرِ حَقٍّ، وَیَجْتَہِدُ فِیمَا لَا یَسْتَحِقُّ وَالْقِسْمُ الثَّالِث :مَا یَجُوزُ أَنْ یَتَوَلَّاہُ لِأَہْلِہِ، وَلِلِاجْتِہَادِ فِیہِ مَدْخَلٌ کَالْقَضَایَا وَالْأَحْکَامِ، فَعَقْدُ التَّقْلِیدِ مَحْلُولٌ، فَإِنْ کَانَ النَّظَرُ تَنْفِیذًا لِلْحُکْمِ بَیْنَ مُتَرَاضِیَیْنِ، وَتَوَسُّطًا بَیْنَ مَجْبُورَیْنِ جَازَ، وَإِنْ کَانَ إِلْزَامُ إِجْبَارٍ لَمْ یَجُزْ۔ ترجمہ:امام ابوعبداللہ محمدبن احمد القرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کی فرعون کی طرف سے ولایت کے قبول کرنے کے دوجواب دیئے گئے ہیں: (۱)…حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے زمانے کافرعون نیک سیرت شخص تھا۔اورسرکش فرعون حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے زمانے کاتھا۔ (۲)…حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے اس کی املاک کو دیکھانہ کہ اس کے اعمال کولھذاآپ علیہ السلام کی طرف سے اس کی متابعت کامعاملہ نہ رہا۔ امام الماوردی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ظالم کی طرف سے ولایت کو قبول کرنے کے معاملہ میں ان دونوں قولوں کے اطلاق کی بجائے تفصیل کو بیان کرنازیادہ درست ہے اوراس کی تین اقسام بنتی ہیں : (۱)…ایسے معاملات کہ جن کانفاذ بغیرکسی اجتہاد کے جائز ہوتاہے جیسے زکوۃ اورصدقات وغیرہ ۔ توان میں ظالم کی طرف سے ولایت کاحاصل کرناجائز ہوگا، اس کے مستحق پرنص نے اس میں اجتہادسے مستغنی کردیاہے ۔ (۲)…وہ معاملات جن میں کسی کے لئے علیحدگی اختیارکرناممکن نہ ہواورجن کے مصارف میں اجتہاد لازم آتاہوجیسے مال فئی وغیرہ توان معاملات میں ظالم کی طرف ولایت کوقبول کرناجائز نہ ہوگاکیونکہ ایسی صورت میں وہ بغیرحق کے تصرف کرے گااورایسے معاملات میں پڑے گاجن کاوہ استحقاق نہیں رکھتا۔ (۳)…وہ امورجن کو وہ تفویض کرسکتاہواوران میںاجتہادکاعمل دخل بھی ہوجیسے قضاء اوراحکام تواگرنظروفکردوباہم رضامندآدمیوں کے درمیان فیصلے کی تنفیذکے بارے میں ہواوردومجبورآدمیوں کے درمیان واسطہ اوروسیلہ کے طورپرہوتوجائز ہے اوراگربالجبرکوئی معاملہ لازم کرنامقصودہوتوپھرجائز نہیں ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۲۱۲)امارت طلب کرنے یانہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کن کلام
امارت طلب کرنے سے ممانعت فرمادی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَۃَ فَإِنَّکَ إِنْ أَتَتْکَ عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ إِلَیْہَا وَإِنْ أَتَتْکَ عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْتُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ وَفِی الْبَاب عَنْ عَلِیٍّ وَجَابِرٍ وَعَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ وَأَبِی الدَّرْدَاء ِ وَأَنَسٍ وَعَائِشَۃَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ وَأَبِی مُوسَی قَالَ أَبُو عِیسَی حَدِیثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:عبدالرحمن !منصب امارت کامطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کرحاصل کیا توتم اسی کے سپردکردیئے جاوگے اوراگروہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد وتوفیق تمہارے شامل حال ہوگی ، اورجب تم کسی کام پرقسم کھاو پھردوسرے کام کو اس سے بہترسمجھو توجسے تم بہتر سمجھتے ہواسے ہی کرو اور اپنی قسم کاکفارہ اداکردو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:عبدالرحمن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۳:۱۵۸)حضورتاجدارختم نبوتﷺنے عہدہ مانگنے والے کو نہیں دیا
عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعِی رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِیِّینَ أَحَدُہُمَا عَنْ یَمِینِی وَالْآخَرُ عَنْ یَسَارِی وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَاکُ فَکِلَاہُمَا سَأَلَ فَقَالَ یَا أَبَا مُوسَی أَوْ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِی عَلَی مَا فِی أَنْفُسِہِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّہُمَا یَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی سِوَاکِہِ تَحْتَ شَفَتِہِ قَلَصَتْ فَقَالَ لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہُ وَلَکِنْ اذْہَبْ أَنْتَ یَا أَبَا مُوسَی أَوْ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ إِلَی الْیَمَنِ ثُمَّ اتَّبَعَہُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ أَلْقَی لَہُ وِسَادَۃً قَالَ انْزِلْ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَہُ مُوثَقٌ قَالَ مَا ہَذَا قَالَ کَانَ یَہُودِیًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَہَوَّدَ قَالَ اجْلِسْ قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّی یُقْتَلَ قَضَاء ُ اللَّہِ وَرَسُولِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاکَرَا قِیَامَ اللَّیْلِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِی نَوْمَتِی مَا أَرْجُو فِی قَوْمَتِی۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو آدمی تھے۔ ان میں سے ایک میری دائیں جانب اور دوسرا بائیں طرف تھا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺاس وقت مسواک فرمارہے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺسے عہدے کی درخواست کی تو آپ ﷺنے فرمایا:اے ابو موسیٰ !یا اے عبداللہ بن قیس!میں نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ!اس ذات کی قسم! جس نے آپﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے،انہوں نے اپنے دل کی بات سے مجھے مطلع نہیں کیا تھا اور نہ ہی مجھے معلوم ہوسکا کہ یہ دونوں عہدہ طلبی کے لیے آئے ہیں،گویا میں اب بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی مسواک آپﷺ کے ہونٹوں تلے دیکھ رہا ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا:جو کوئی ہم سے عہدہ طلب کرتا ہے ہم اسے وہ عہدہ نہیں دیتے لیکن اے ابو موسیٰ !یا اے عبداللہ بن قیس !تم (خدمت کی بجا آوری کے لیے)یمن جاؤ اس کے بعد آپ ﷺنے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے روانہ کیا۔ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے گدا بچھا دیا اور کہا:سواری سے اترو اور گدے پر تشریف رکھو۔ اس وقت ان کے پاس ایک آدمی تھاجس کی مشکیں بندھی ہوئی تھیں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا:یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا، اب پھر یہودی ہوگیا ہے انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دوبارہ بیٹھنے کے لیے کہا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ تعالی اور اس کے رسول کریمﷺ کے حکم کے مطابق اسے قتل نہ کردیا جائے۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دہرائی،چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے قتل کردیا گیا۔ پھر دونوں نے آپس میں رات کے قیام کا تذکرہ کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں تو رات کو عبادت بھی کرتا ہوںاور سوتا بھی ہوں اور مجھے امید ہے کہ سونے میں بھی مجھے وہی اجر ملے گا،جو رات کے وقت عبادت کرنے میں ملتا ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۳:۸۸)ہمارے مشائخ کرام کاعمل
امام اعظم رضی اللہ عنہ کاعہدہ لینے سے انکارکرنا فقد روی عن الربیع بن عاصم قال أرسلنی یزید بن عمر بن ہبیرۃ فقدمت بأبی حنیفۃ علیہ فأرادہ أن یکون حاکماً علی بیت المال فأبی فضربہ عشرین سوطاً۔ ترجمہ : حضرت سیدنا ربیع بن عاصم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں یزید بن عمر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو بیتُ المال کا نگران مقرر کرنا چاہتا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کر دیا تو اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو بیس کوڑے مارے۔ (إحیاء علوم الدین:أبو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی (۱:۲۸) عہدہ قضاقبول نہ کیا وروی أنہ دعی إلی ولایۃ القضاء فقال أنا لا أصلح لہذا فقیل لہ لم فقال إن کنت صادقاً فما أصلح لہا وإن کنت کاذباً فالکاذب لا یصلح للقضاء ۔ ترجمہ : ایک مرتبہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کو قاضی بننے کی دعوت دی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا اگر میں سچا ہوں تو واقعی اس کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر جھوٹا ہوں تو جھوٹا شخص بھی قاضی بننے کا ا ہل نہیں ہے۔ (إحیاء علوم الدین:أبو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی (۱:۲۸)دنیاکاعذاب برداشت ہے آخرت کانہیں
قال الحکم بن ہشام الثقفی حدثت بالشام حدیثاً فی أبی حنیفۃ أنہ کان من أعظم الناس أمانۃ وأرادہ السلطان علی أن یتولی مفاتیح خزائنہ أو یضرب ظہرہ فاختار عذابہم لہ علی عذاب اللہ تعالی۔ ترجمہ:اسی طرح امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی امانت داری کی وجہ سے بادشاہ نے اپنے خزانے کی چابیاں آپ رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے کاارادہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر انکار کیا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کی پیٹھ پر کوڑے برسائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے عذاب پر بادشاہ کی سزا کو ترجیح دی اور خزانے کی چابیاں نہ لیں۔ (إحیاء علوم الدین:أبو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی (۱:۲۸)حکومت کے ہاں عہدہ قبول کرنے کے جواز کے متعلق کلام
مذکورہ دواحادیث شریفہ سے واضح ہواکہ عہدہ طلب کرنامنع ہے توحضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے عہدہ طلب کیوں کیاتواس کاجواب دیتے ہوئے امام القرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول وَدَلَّتِ الْآیَۃُ أَیْضًا عَلَی جَوَازِ أَنْ یَخْطُبَ الْإِنْسَانُ عَمَلًا یَکُونُ لَہُ أَہْلًافَالْجَوَابُ:أَوَّلًا:أَنَّ یُوسُفَ عَلَیْہِ السَّلَامُ إِنَّمَا طَلَبَ الْوِلَایَۃَ لِأَنَّہُ عَلِمَ أَنَّہُ لَا أَحَدَ یَقُومُ مَقَامَہُ فِی الْعَدْلِ وَالْإِصْلَاحِ وَتَوْصِیلِ الْفُقَرَاء ِ إِلَی حُقُوقِہِمْ فَرَأَی أَنَّ ذَلِکَ فَرْضٌ مُتَعَیِّنٌ عَلَیْہِ فَإِنَّہُ لَمْ یَکُنْ ہُنَاکَ غَیْرُہُ، وَہَکَذَا الْحُکْمُ الْیَوْمَ، لَوْ عَلِمَ إِنْسَانٌ مِنْ نَفْسِہِ أَنَّہُ یَقُومُ بِالْحَقِّ فِی الْقَضَاء ِ أَوِ الْحِسْبَۃِ وَلَمْ یَکُنْ ہُنَاکَ مَنْ یَصْلُحُ وَلَا یَقُومُ مَقَامَہُ لَتَعَیَّنَ ذَلِکَ عَلَیْہِ، وَوَجَبَ أَنْ یَتَوَلَّاہَا وَیَسْأَلُ ذَلِکَ، وَیُخْبِرُ بِصِفَاتِہِ الَّتِی یَسْتَحِقُّہَا بِہِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْکِفَایَۃِ وَغَیْرِ ذَلِکَ، کَمَا قَالَ یُوسُفُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَأَمَّا لَوْ کَانَ ہُنَاکَ مَنْ یَقُومُ بِہَا وَیَصْلُحُ لَہَا وَعَلِمَ بِذَلِکَ فَالْأَوْلَی أَلَّا یَطْلُبَ۔لقول عَلَیْہِ السَّلَامُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ:لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ(وَأَیْضًا) فَإِنَّ فِی سُؤَالِہَا وَالْحِرْصِ عَلَیْہَا مَعَ العلم بکثرۃ آفاتہا وصعوبۃ التخلص منہا دلیل عَلَی أَنَّہُ یَطْلُبُہَا لِنَفْسِہِ وَلِأَغْرَاضِہِ، وَمَنْ کَانَ ہَکَذَا یُوشِکُ أَنْ تَغْلِبَ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فَیَہْلِکُ، وَہَذَا مَعْنَی قَوْلِہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ: وُکِلَ إِلَیْہَاوَمَنْ أَبَاہَا لِعِلْمِہِ بِآفَاتِہَا، وَلِخَوْفِہِ مِنَ التَّقْصِیرِ فِی حُقُوقِہَا فَرَّ مِنْہَا، ثُمَّ إِنِ ابْتُلِیَ بِہَا فَیُرْجَی لَہُ التَّخَلُّصُ مِنْہَا، وَہُوَ مَعْنَی قَوْلِہِ: أُعِینَ عَلَیْہَا۔الثَّانِی: أَنَّہُ لَمْ یَقُلْ: إِنِّی حَسِیبٌ کَرِیمٌ، وَإِنْ کَانَ کَمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الْکَرِیمُ ابْنُ الْکَرِیمِ ابْنِ الْکَرِیمِ (ابْنِ الْکَرِیمِ) یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَلَا قَالَ:إِنِّی جَمِیلٌ مَلِیحٌ، إِنَّمَا قَالَ:إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ فَسَأَلَہَا بِالْحِفْظِ وَالْعِلْمِ، لَا بِالنَّسَبِ وَالْجَمَالِ الثَّالِثُ: إِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ عِنْدَ مَنْ لَا یَعْرِفُہُ فَأَرَادَ تَعْرِیفَ نَفْسِہِ، وَصَارَ ذَلِکَ مُسْتَثْنًی مِنْ قَوْلِہِ تَعَالَی:فَلا تُزَکُّوا أَنْفُسَکُمْ الرَّابِعُ أَنَّہُ رَأَی ذَلِکَ فَرْضًا مُتَعَیِّنًا عَلَیْہِ، لِأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ ہُنَالِکَ غَیْرُہُ، وَہُوَ الْأَظْہَرُ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ آدمی جس کام کااہل ہواس کے لئے اپنے آپ کو پیش کرسکتاہے ۔اب حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے عہدہ طلب کرنے کے دوجواب دیئے گئے ہیں : ٭…پہلاجواب یہ ہے کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے ولایت کامطالبہ اس وجہ سے کیاکہ آپ علیہ السلام کو علم تھاکہ عدل ، اصلا ح اورفقراء کوان کے حقوق دینے کے حوالے سے کوئی بھی ان کی طرح نہیں تھاتوآپ علیہ السلام نے یہ خیال کیاکہ یہ آپ علیہ السلام پرفرض ہے کیونکہ وہاں آپ علیہ السلام کے علاوہ اورایساکوئی نہیں تھا، آج بھی یہی حکم ہے ۔یعنی اگرایسی صورت ہوتومطالبہ کرناجائز ہے ۔ اگرکوئی آدمی یہ جانتاہوکہ وہ قضاء اورحساب میں حق کو قائم رکھ سکتاہے اوراس کے علاوہ کوئی بھی ایساآدمی نہیں ہے جواصلاح کرسکے اوراس کے قائم مقام ہوسکے توکام اس پرلازم ہوجاتاہے ، اس پرلازم ہے کہ وہ اس عہدہ کی طلب کرے اوراس کا والی بنے اوراس کامطالبہ کرے اورعلم وفضل میں جن اوصاف کے سبب اس کامستحق ہے ان کے بارے میں بتائے ، جس طرح حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے فرمایااوراگروہاں کوئی ایساآدمی ہوجوحق کوقائم کرسکتاہے اوران کے امورکی اصلاح کرسکتاہے اوراس آدمی کو بھی علم ہوتوبہتریہ ہے کہ وہ مطالبہ نہ کرے ، اس کی وجہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکایہ فرمان شریف ہے کہ آپﷺنے حضرت سیدناعبدالرحمن رضی اللہ عنہ کوفرمایا: امارت کاسوال نہ کروکیونکہ ایسی صورت میں اس کا مطالبہ اس میں پائی جانے والی آفات کی کثرت کے جاننے کے باوجود اس عہدے کالالچ اوراس سے چھٹکاراکے حصول کامشکل ہونااس بات پردلیل ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے اورذاتی اغراض کے لئے مطالبہ کررہاہے ، جس آدمی کی کیفیت یہ ہوممکن ہے اس پراس کانفس غالب آجائے اوروہ ہلاکت میں پڑجائے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: ’’اس کو اس کے سپردکردیاجائے گا‘‘کایہی معنی ہے اورجس آدمی نے اس کی آفت کوجاننے کی وجہ سے اورحقوق میں کوتاہی کے خوف کی وجہ سے اس کاانکارکیااوراس سے بھاگاپھراس کواس میں مبتلاء کردیا(یعنی زبردستی اس کووہ عہدہ دے دیاگیا) تواس کے لئے اس کے چھٹکارے کی امیدکی جاسکتی ہے یہی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ارشاد’’اس پراس کی مددکی جائے ‘‘کامعنی ہے ۔ ٭…دوسراجواب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایاکہ میں کافی ہوں ، کریم ہوںاگرچہ آپ علیہ السلام اسی طرح تھے ، جس طرح حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: {الْکَرِیمُ ابْنُ الْکَرِیمِ ابْنِ الْکَرِیمِ (ابْنِ الْکَرِیم}کریم ابن کریم ابن کریم ابن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۔ اورآپ علیہ السلام نے یہ بھی نہیں فرمایاکہ میںخوبصورت ہوں اورجمال والاہوںبلکہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: {إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ}توآپ علیہ السلام نے حفظ اورعلم کی وجہ سے مطالبہ کیا، نسبت اورجمال کی وجہ سے نہیں ۔ ٭…تیسراجواب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے یہ بات اس آدمی کے سامنے کہی جوآپ علیہ السلام کو جانتانہیں تھاتوآپ علیہ السلام نے اپناتعارف کرواناچاہاتواس وجہ سے آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے ارشاد{فَلا تُزَکُّوا أَنْفُسَکُم}سے مستثنی ہوگئے ۔ ٭…چوتھاجواب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس کو اپنے اوپرفرض متعین سمجھاکیونکہ وہاں آپ علیہ السلام کے علاوہ کوئی اورنہیں تھا۔ یہی بات زیادہ ظاہرہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۲۱۲)امام فخرالدین الرازی رحمہ اللہ تعالی کے جوابات
وَإِذَا ثَبَتَ ہَذَا فَنَقُولُ:إِنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ مُکَلَّفًا بِرِعَایَۃِ مَصَالِحِ الْخَلْقِ مِنْ ہَذِہِ الْوُجُوہِ، وَمَا کَانَ یُمْکِنُہُ رِعَایَتُہَا إِلَّا بِہَذَا الطَّرِیقِ، وَمَا لَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِہِ، فَہُوَ وَاجِبٌ، فَکَانَ ہَذَا الطَّرِیقُ وَاجِبًا عَلَیْہِ وَلَمَّا کَانَ وَاجِبًا سَقَطَتِ الْأَسْئِلَۃُ بِالْکُلِّیَّۃِ، وَأَمَّا تَرْکُ الِاسْتِثْنَاء ِ فَقَالَ الْوَاحِدِیُّ:کَانَ ذَلِکَ مِنْ خَطِیئَۃٍ أَوْجَبَتْ عُقُوبَۃً وَہِیَ أَنَّہُ تَعَالَی أَخَّرَ عَنْہُ حُصُولَ ذَلِکَ الْمَقْصُودِ سَنَۃً۔ ترجمہ ـ:امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی مختلف سوالات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیںکہ ان مسائل کے جواب میں اصل یہ ہے کہ مخلوق کے امورمیں تصرف حضرت سیدنایوسف علیہ السلام پرلازم تھاتواس تک پہنچناان کے لئے جائزتھاخواہ وہ کسی بھی طریقہ سے پہنچے ہمارایہ دعوی کہ تصرف ان پرلازم تھا۔ اس پردلائل یہ ہیں: پہلی دلیل: یہ ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کی طرف سے مخلوق کی طرف رسول برحق تھے اوررسول پربقدرامکان امت کی مصالح کی رعایت لازم ہوتی ہے ۔ دوسری دلیل : حضرت سیدنایوسف علیہ السلام نے وصی کے ذریعے یہ جان لیاتھاکہ عنقریب اس قدرقحط اورشدیدہوگا کہ وہ عظیم مخلوق ہلاک کردی جائے گی ، ممکن ہے کہ اللہ تعالی نے اس میں انہیں تدبیرکاحکم دیاہواورا یساطریقہ بجالانے کوکہاکیونکہ مخلوق میں اس قحط کاضررکم ہوجائے ۔ تیسری دلیل : مستحقین کونفع پہنچانے کی اوران سے ضررزائل کرنے کی کوشش اورجدوجہدکرنامستحسن ہے ۔ جب یہ ثابت ہے توہم کہتے ہیں کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام ان دلائل کی وجہ سے مخلوق کے مصالح کی رعایت کے مکلف تھے اوران مصالح کی رعایت صرف اسی طریق سے ہوسکتی تھی جس کے بغیرفرض پورانہ ہوسکے وہ بھی فرض ہوجاتاہے تویہ طریقہ اختیارکرناان پرلازم تھا، جب یہ آپ علیہ السلام پرلازم تھاتوکلیۃ ً یہ سارے سوال ساقط ہوجائیں گے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۸:۷۳) امام اسماعیل حقی الحنفی رحمہ اللہ کاکلام وفی الآیۃ دلیل علی جواز طلب الولایۃ إذا کان الطالب ممن یقدر علی اقامۃ العدل واجراء احکام الشریعۃ قال العلماء سؤال تولیۃ الأوقاف مکروہ کسؤال تولیۃ الامارۃ والقضاء روی ان قوما جاؤا الی النبی علیہ السلام فسألوہ ولایۃ فقال (انا لن نستعمل علی عملنا من ارادہ)وذلک لان اللہ تعالی یعین المجبور ویسددہ ویکل الطالب الی نفسہ والولایۃ امور ثقیلۃ فلا یقدر الإنسان علی رعایۃ حقوقہا وإذا تعین أحد للقضاء او الامارۃ او نحو ہما لزمہ القبول لانہا من فروض الکفایۃ فلا یجوز إہمالہا ویوسف علیہ السلام کان أصلح من یقوم بما ذکر من التدبیر فی ذلک الوقت فاقتضت الحال تقلدہ وتطلبہ إصلاحا للعالم وفی الآیۃ دلالۃ ایضا علی جواز التقلد من ید الکافر والسلطان الجائر إذا علم انہ لا سبیل الی الحکم بامر اللہ ودفع الباطل واقامۃ الحق الا بالاستظہار بہ وتمکینہ وقد کان السلف یتولون القضاء من جہۃ البغاۃ ویرونہ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی :۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے ثابت ہواکہ اگرکوئی شخص اپنے اوپراعتمادرکھتاہوکہ وہ عدل وانصاف قائم رکھ سکے گااوراحکامات شرعیہ کااجراء بھی تواس کیلئے حکومت کاکوئی بھی عہدہ مانگناجائز ہے ۔ علماء کرام نے اوقاف کے کسی بھی عہدے کاسوال کرنامکروہ لکھاہے ، اسی طرح حکومت کاکوئی عہد ہ مثلاً قضاء ( جج ) اورکسی کام کامتولی بنناوغیرہ وغیرہ ۔ جس شخص کو بلاطلب کسی عہدہ حکومت پرمتعین کردیاجائے اوراسے شرعاًمجبورومعذورسے تعبیرکرتے ہیں اورایسے خوش نصیب انسان کی اللہ تعالی مددفرماتاہے اوران امورمیں اللہ تعالی خود اس کی رہبری فرماتاہے اورجوایسے امورکومانگ کرحاصل کرتاہے اسے اللہ تعالی اسکے نفس کے سپردکردیتاہے اورایساشخص اپنے نفس کے ہاتھوں گرفتارہوجاتاہے پھروہ سینکڑوں ٹھوکریں کھاتاپھرتاہے ۔ امورحکومت دنیاکے تمام معاملات سے سخت ترین ہیں اوراس کے تمام حقوق کی ادائیگی انسان کے بس سے باہرہے ۔ اگرکسی شخص کو کوئی عہدہ اس کے مانگے بغیرمل جائے اوردوسراکوئی بھی اس کی اہلیت وقابلیت رکھتاہے تووہ عہدہ قبول کرلے یہ فرض کفایہ ہے ، ہاں جب کوئی شخص اس کی اہلیت وصلاحیت نہیںرکھتاہے پھروہ عہدہ لیناضروری اورلازمی ہوجاتاہے چونکہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے وقت میں کوئی بھی اہل نہیں تھا، اسی لئے وہ عہدہ آپ علیہ السلام کوسنبھالناضروری ہوابلکہ مانگ کربادشاہ سے وہ عہدہ لیاکیونکہ اس وقت خلق خداکابھلااسی میں تھا۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہواکہ بادشاہ کافرہویاظالم اس کی حکومت میں ملازمت کرناجائز ہے ، یہ اس وقت ہے جب اس کے سواچارہ کارنہ ہواگرچہ کافریاظالم کے احکامات کودفع نہ کرسکے بلکہ اس کے جوروستم کے امورمیں چشم پوشی سے کام لے ، جب طاقت وقوت حاصل نہ ہو چنانچہ ہمارے اسلاف وصالحین باغیوں اوردیگرظالم بادشاہوں کے ملازم رہے ہیں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۲۷۸) پاکستانی لبرل وسیکولرکااس قصہ سے استدلال کاجواب ہمارے زمانے میں قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کی نشستوں کے جوانتخابات ہوتے ہیں ، ان نشستوں کے حصول کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے ممبران از خود کھڑے ہوجاتے ہیں اورجب ان سے کہاجاتاہے کہ اسلام میں منصب کو طلب کرناجائز نہیں ہے توپھروہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کے طلب منصب سے استدلال کرتے ہیں، اس کے حسب ذیل جواب ہیں: یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ شریعت سابقہ ہے اورشریعت سابقہ میںجواحکام ہماری شریعت کے خلاف ہوں وہ ہم پرحجت نہیں ہوتے ، ہمارے لئے یہ حکم ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: خداتعالی کی قسم!ہم اس شخص کو عامل نہیں بنائیں گے جواس کو طلب کرے گااورنہ اس شخص کوعامل بنائیں گے جواس کی حرص کرے گا۔ دوسراجواب یہ ہے کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام اللہ تعالی کے نبی تھے اورنبی کاتقوی قطعی اوریقینی ہوتاہے ، نبی کووحی کی تائیدحاصل ہوتی ہے اوروہ اپنے افعال کے متعلق اللہ تعالی کی رضا پرمطلع رہتے ہیں جبکہ عام آدمی کاتقوی قطعی اوریقینی نہیں ہوتااورغیرقطعی کوقطعی پرقیاس کرنادرست نہیں ہے ۔ تیسراجواب یہ ہے کہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کاعہدہ طلب کرنااللہ تعالی کی اجازت سے تھاجوان کووحی کے ذریعے سے حاصل ہوئی تھی اورعام آدمی کے حق میں یہ متصورنہیں ہے ۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی منصب کااہل نہ ہوتوجوشخص اہل ہواس کامحض خدمت کے لے منصب کوطلب کرناضرورت کی بناپرجائزہے ، ہمیں اس قاعدہ کی صحت سے انکارنہیں ہے ،لیکن جو چیز ضرورت کی بناء پرجائز کی گئی ہواس کو صرف ضرورت کی حد تک محدودرکھناصحیح ہے ، اس کوعام رواج اورمعمول بنالینادرست نہیں ہے ، مثلاًجب کوئی حلال چیزکھانے کے لئے نہ ملے توضرورت کی بناء پرشراب اورخنزیرکی حرمت ساقط ہوجاتی ہے لیکن اگرکوئی شخص اس حوالے سے خنزیراورشراب کوکھانے پینے کاعام معمول بنالے توصحیح نہیں ہے ۔ تبیان القرآن (۵:۷۹۵) (یہ ذہن میں رہے ان ممبران میں اکثریت دین دشمن اوراسلام کے مخالف اوراہل اسلام کے پکے باغی ہوتے ہیں اورکفارکے مخلص حامی اوران کے قوانین کے پہرے دارہوتے ہیں ، ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب یہ لوگ مانتے انگریزکے قانون کوہیں مگرجب اپنی بات آئے پھرقرآن کریم سے مسائل اخذکرناشروع کردیتے ہیں ۔لھذاایسے خسیس لوگوں کی حمایت کرنادراصل انگریزکی حمایت کرناہے ، اس لئے ہرمسلمان خود کو ان سے بچائے ) مسئلہ مذکورہ پرمزیدکلام ثُمَّ السُّلْطَانُ یُؤَاخَذُ عَلَی مَا یَفْعَلُہُ مِنْ الْعُدْوَانِ وَیُفَرِّطُ فِیہِ مِنْ الْحُقُوقِ مَعَ التَّمَکُّنِ لَکِنْ أَقُولُ ہُنَا؛ إذَا کَانَ الْمُتَوَلِّی لِلسُّلْطَانِ الْعَامَّ أَوْ بَعْضَ فُرُوعِہِ کَالْإِمَارَۃِ وَالْوِلَایَۃِ وَالْقَضَاء ِ وَنَحْوُ ذَلِکَ إذَا کَانَ لَا یُمْکِنُہُ أَدَاء ُ وَاجِبَاتِہِ وَتَرْکُ مُحَرَّمَاتِہِ وَلَکِنْ یَتَعَمَّدُ ذَلِکَ مَا لَا یَفْعَلُہُ غَیْرُہُ قَصْدًا وَقُدْرَۃً: جَازَتْ لَہُ الْوِلَایَۃُ وَرُبَّمَا وَجَبَتْ وَذَلِکَ لِأَنَّ الْوِلَایَۃَ إذَا کَانَتْ مِنْ الْوَاجِبَاتِ الَّتِی یَجِبُ تَحْصِیلُ مَصَالِحہَا مِنْ جِہَادِ الْعَدُوِّ وَقَسْمِ الْفَیْء ِ وَإِقَامَۃِ الْحُدُودِ وَأَمْنِ السَّبِیلِ:کَانَ فِعْلُہَا وَاجِبًا فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ مُسْتَلْزِمًا لِتَوْلِیَۃِ بَعْضِ مَنْ لَا یَسْتَحِقُّ وَأَخْذِ بَعْضِ مَا لَا یَحِلُّ وَإِعْطَاء ِ بَعْضِ مَنْ لَا یَنْبَغِی؛ وَلَا یُمْکِنُہُ تَرْکُ ذَلِکَ:صَارَ ہَذَا مِنْ بَابِ مَا لَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ أَوْ الْمُسْتَحَبُّ إلَّا بِہِ فَیَکُونُ وَاجِبًا أَوْ مُسْتَحَبًّا إذَا کَانَتْ مَفْسَدَتُہُ دُونَ مَصْلَحَۃِ ذَلِکَ الْوَاجِبِ أَوْ الْمُسْتَحَبِّ بَلْ لَوْ کَانَتْ الْوِلَایَۃُ غَیْرَ وَاجِبَۃٍ وَہِیَ مُشْتَمِلَۃٌ عَلَی ظُلْمٍ؛ وَمَنْ تَوَلَّاہَا أَقَامَ الظُّلْمَ حَتَّی تَوَلَّاہَا شَخْصٌ قَصْدُہُ بِذَلِکَ تَخْفِیفُ الظُّلْمِ فِیہَاوَدَفْعُ أَکْثَرِہِ بِاحْتِمَالِ أَیْسَرِہِ:کَانَ ذَلِکَ حَسَنًا مَعَ ہَذِہِ النِّیَّۃِ وَکَانَ فِعْلُہُ لِمَا یَفْعَلُہُ مِنْ السَّیِّئَۃِ بِنِیَّۃِ دَفْعِ مَا ہُوَ أَشَدُّ مِنْہَا جَیِّدًا وَہَذَا بَابٌ یَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ النِّیَّاتِ وَالْمَقَاصِدِ فَمَنْ طَلَبَ مِنْہُ ظَالِمٌ قَادِرٌ وَأَلْزَمَہُ مَالًا فَتَوَسَّطَ رَجُلٌ بَیْنَہُمَا لِیَدْفَعَ عَنْ الْمَظْلُومِ کَثْرَۃَ الظُّلْمِ وَأَخَذَ مِنْہُ وَأَعْطَی الظَّالِمَ مَعَ اخْتِیَارِہِ أَنْ لَا یَظْلِمَ وَدَفْعَہُ ذَلِکَ لَوْ أَمْکَنَ:کَانَ مُحْسِنًا وَلَوْ تَوَسَّطَ إعَانَۃً لِلظَّالِمِ کَانَ مُسِیئًاوَإِنَّمَا الْغَالِبُ فِی ہَذِہِ الْأَشْیَاء ِ فَسَادُ النِّیَّۃِ وَالْعَمَلِ أَمَّا النِّیَّۃُ فَبِقَصْدِہِالسُّلْطَانَ وَالْمَالَ وَأَمَّا الْعَمَلُ فَبِفِعْلِ الْمُحَرَّمَاتِ وَبِتَرْکِ الْوَاجِبَاتِ لَا لِأَجْلِ التَّعَارُضِ وَلَا لِقَصْدِ الْأَنْفَعِ وَالْأَصْلَحِ ثُمَّ الْوِلَایَۃُ وَإِنْ کَانَتْ جَائِزَۃً أَوْ مُسْتَحَبَّۃً أَوْ وَاجِبَۃً فَقَدْ یَکُونُ فِی حَقِّ الرَّجُلِ الْمُعِینِ غَیْرُہَا أَوْجَبُ أَوْ أَحَبُّ فَیُقَدَّمُ حِینَئِذٍ خَیْرُ الْخَیْرَیْنِ وُجُوبًا تَارَۃً وَاسْتِحْبَابًا أُخْرَی وَمِنْ ہَذَا الْبَابِ تَوَلِّی یُوسُفَ الصِّدِّیقَ عَلَی خَزَائِنِ الْأَرْضِ لِمَلِکِ مِصْرَ بَلْ وَمَسْأَلَتُہُ أَنْ یَجْعَلَہُ عَلَی خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَکَانَ ہُوَ وَقَوْمُہُ کُفَّارًا کَمَا قَالَ تَعَالَی:(وَلَقَدْ جَاء َکُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِی شَکٍّ مِمَّا جَاء َکُمْ بِہِ)الْآیَۃَ وَقَالَ تَعَالَی عَنْہُ:(یَا صَاحِبَیِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ أَمِ اللَّہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ)(مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِہِ إلَّا أَسْمَاء ً سَمَّیْتُمُوہَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ) الْآیَۃَ وَمَعْلُومٌ أَنَّہُ مَعَ کُفْرِہِمْ لَا بُدَّ أَنْ یَکُونَ لَہُمْ عَادَۃٌ وَسُنَّۃٌ فِی قَبْضِ الْأَمْوَالِ وَصَرْفِہَا عَلَی حَاشِیَۃِ الْمَلِکِ وَأَہْلِ بَیْتِہِ وَجُنْدِہِ وَرَعِیَّتِہِ وَلَا تَکُونُ تِلْکَ جَارِیَۃً عَلَی سُنَّۃِ الْأَنْبِیَاء ِ وَعَدْلِہِمْ وَلَمْ یَکُنْ یُوسُفُ یُمْکِنُہُ أَنْ یَفْعَلَ کُلَّ مَا یُرِیدُ وَہُوَ مَا یَرَاہُ مِنْ دِینِ اللَّہِ فَإِنَّ الْقَوْمَ لَمْ یَسْتَجِیبُوا لَہُ لَکِنْ فَعَلَ الْمُمْکِنَ مِنْ الْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَنَالَ بِالسُّلْطَانِ مِنْ إکْرَامِ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ مَا لَمْ یَکُنْ یُمْکِنُ أَنْ یَنَالَہُ بِدُونِ ذَلِکَ وَہَذَا کُلُّہُ دَاخِلٌ فِی قَوْلِہِ:(فَاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ) فإذا ازْدَحَمَ وَاجِبَانِ لَا یُمْکِنُ جَمْعُہُمَا فَقُدِّمَ أَوْکَدُہُمَا لَمْ یَکُنْ الْآخَرُ فِی ہَذِہِ الْحَالِ وَاجِبًا وَلَمْ یَکُنْ تَارِکُہُ لِأَجْلِ فِعْلِ الْأَوْکَدِ تَارِکَ وَاجِبٍ فِی الْحَقِیقَۃِوَکَذَلِکَ إذَا اجْتَمَعَ مُحَرَّمَانِ لَا یُمْکِنُ تَرْکُ أَعْظَمِہِمَا إلَّا بِفِعْلِ أَدْنَاہُمَا لَمْ یَکُنْ فِعْلُ الْأَدْنَی فِی ہَذِہِ الْحَالِ مُحَرَّمًا فِی الْحَقِیقَۃِ وَإِنْ سُمِّیَ ذَلِکَ تَرْکُ وَاجِبٍ وَسُمِّیَ ہَذَا فِعْلُ مُحَرَّمٍ بِاعْتِبَارِ الْإِطْلَاقِ لَمْ یَضُرَّوَیُقَالُ فِی مِثْلِ ہَذَا تَرْکُ الْوَاجِبِ لِعُذْرِ وَفِعْلُ الْمُحَرَّمِ لِلْمَصْلَحَۃِ الرَّاجِحَۃِ أَوْ لِلضَّرُورَۃِ؛ أَوْ لِدَفْعِ مَا ہُوَ أحرم۔ ترجمہ :شیخ تقی الدین أبو العباس أحمد بن عبد الحلیم بن تیمیۃ الحرانی المتوفی : ۷۲۸ھ) لکھتے ہیں کہ علاوہ ازیں، سلطان کی پکڑ ہوگی کسی ایسی زیادتی پر یا حقوق میں کسی ایسی کوتاہی پر جہاں وہ قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اس مقام پر میں یہ کہوں گا کہ:وہ آدمی جو اقتدارِ عام پر فائز ہوتا ہے یا اقتدار کی بعض فروع پر جیسے امارت، یا کسی محکمہ کی افسری، یا ججی (قضاء )وغیرہ، ایسے آدمی کے لیے اگر اُس عہدے کے واجبات کو ادا کرنا یا اس میں پائے جانے والے حرام کاموں سے بچنا ممکن نہیں ہے تاہم دوسرا کوئی آدمی عمداً اور قدرت رکھتے ہوئے بھی ان امور میں پورا اترنے والا نہیں ہے، تو اس صورت میں اِس آدمی کیلئے یہ عہدہ رکھنا جائز ہوگا اور بعید نہیں کہ یہ اُس پر واجب بھی ہو۔ وجہ یہ کہ اگر وہ عہدہ اُن واجب امور میں سے ہے جس کی مصلحتوں کو بروئے کار لانا واجب ہے جیسے دشمن کے خلاف جہاد، یا اموال فیء کی تقسیم، یا حدود کا قیام، یا راستوں کا امن و امان تو اس عہدے کو اختیار کرنا آدمی پر واجب ہوگا۔ پھر اگر اس عہدے پر رہتے ہوئے یہ بھی لازم آتا ہو کہ آدمی کو کسی ایسے شخص کو اختیارات تفویض کرنا پڑتے ہوں جو اس کا حقدار نہیں یا ایسا مال داخل دفتر کرنا پڑتا ہو جو جائز نہیں یا ایسے آدمی پر سرکاری خرچ کرنا پڑتا ہو جس پر وہ سرکاری اخراجات جائز نہیں؛ درحالیکہ اس کام سے بچا رہنا آدمی کیلئے ممکن ہی نہ ہو، تو ان افعال کا حکم’’ ما لا یتم الواجب إلا بہ‘‘ٖ والا ہوجائے گا۔ یعنی یہ فقہی قاعدہ ہے کہ:وہ کام جس کے بغیر ایک فرض انجام نہ پاسکتا ہو فرض کے حکم میں ہی آجاتا ہے اور وہ کام جس کے بغیر ایک مستحب انجام نہ پاتا ہو مستحب کے ہی حکم میں آجاتا ہے بشرطیکہ اس کی مفسدات اُس فرض یا اُس مستحب کی مصلحت پر بھاری نہ پڑتی ہو۔ بلکہ (معاملہ اس حد تک کشادہ ہے کہ)اگر کوئی بااختیار منصب (قبول کرنا)آدمی پر واجب نہ ہو اور وہ منصب ہو بھی ظلم پر مشتمل؛ تاہم اُس منصب پر فائز جو شخص اس وقت ہے وہ تو نرا ہی ظلم مچا رکھے ہوئے ہے تاآنکہ وہی منصب کسی ایسے (خدارسیدہ)شخص کے ہاتھ لگتا ہے جو یہ عزم رکھتا ہے کہ وہ اس ظلم کو کم ضرور کردے گا اور ظلم کی کسی کم تر صورت کو اختیار کرکے ظلم کی شدید تر صورت کو ختم کردے گا تو ایسی نیت کی موجودگی میں اُس شخص کے حق میں یہ فعل خوب ہوگا۔ ایسے آدمی کا ایک برائی کو اختیار کرنا اس نیت کے ساتھ کہ اس کے ذریعے وہ اس سے سنگین تر برائی کو دفع کریگا مستحسن ہے۔ یہ وہ باب ہے جس میں عزائم اور مقاصد کے بدل جانے سے مسئلے کا حکم بدل جاتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ ایک بااثر ظالم کسی ناتواں شخص سے کوئی مالی تاوان طلب کرتا ہے، یہ دیکھ کر ایک تیسرا شخص بیچ میں پڑجاتا ہے تاکہ کچھ اور نہیں تو وہ اس بیچارے سے ظلم کی شدت کو ہی کچھ کم کرادے؛ یوں یہ شخص (تاوان جتنا کم کراسکتا ہو کرادینے کے بعد)اُس مظلوم سے وہ مال لے کر ظالم کو پہنچا دیتا ہے جبکہ خود طاقت رکھنے کی صورت میں وہ کبھی یہ ظلم کا کام اختیار نہ کرتا:تو ایسا شخص نیکوکار ہی شمار ہوگا۔ ہاں اگر یہ شخص ظالم کے حق میں بچولا بنے تو (عین یہی فعل کرکے)بدکار ٹھہرے گا۔ مسئلہ اصل میں یہ ہے کہ ان امور میں لوگوں پر نیت اور عمل ہردو کا فساد غالب ہے۔ نیت کا فساد یہ کہ آدمی کا ان اشیاء سے مطمحِ نظر ہی اقتدار یا مال کا حصول ہو۔ اور عمل کا فساد یہ کہ آدمی حرام کاموں کا ارتکاب کرتا ہے اور واجبات کا ترک کرتا ہے کسی (حسنات و سیئات کے)تعارض کے باعث نہیں اور نہ اس غرض سے کہ وہ کوئی مفید تر اور خوب تر خدمت انجام دے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی عہدہ (اپنی عمومی حیثیت میں)جائز یا مستحب یا واجب ہولیکن کسی خاص آدمی کے حق میں اُس کے ماسوا کوئی عہدہ اس سے بھی بڑھ کر واجب یا مطلوب ہو۔ پس اس صورت میں اس کو دو خوب چیزوں میں سے خوب تر کو ترجیح دینا ہوگی کسی وقت ازراہِ وجوب اور کسی وقت از راہِ استحباب۔ اسی باب میں حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کا بادشاہِ مصر کے ہاں خزائن الارض کا عہدہ قبول کرنا بلکہ طلب کرکے لینا آتا ہے، درحالیکہ وہ بادشاہ اور اس کی قوم کفار تھے، جیساکہ اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے {وَلَقَدْ جَاء َکُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِی شَکٍّ مِمَّا جَاء َکُمْ بِہِ }اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس آئے تھے صاف نشانیاں لیکر پھر تم ان کے لائے ہوئے کی بابت شک ہی میں رہے(نیز یہ الفاظ:){ یَا صَاحِبَیِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ أَمِ اللَّہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِہِ إلَّا أَسْمَاء ً سَمَّیْتُمُوہَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ }اے میرے زندان کے دونوں ساتھیو!کیا بہت سے متفرق خدا بہتر ہیں یا اللہ تعالی اکیلا قہار۔ نہیں پوجتے تم اسے چھوڑ کر مگر کچھ نام جنہیں تم نے اور تمہارے آباء نے اختیار کرلیا ہے( پھر علاوہ اُن (اہل مصر)کے کفار ہونے کے، یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ لازماً اُن (اہل مصر)کا کوئی معمول اور کوئی دستور ہو مالیات کی وصولی کے معاملے میں بھی اور مالیات کے مصارف کے معاملہ میں بھی جوکہ بادشاہ کے درباریوں پر بھی خرچ کیے جاتے ہوں گے اور اس کے اہل خانہ پر بھی اور اُس کے لاؤ لشکر پر بھی اور اس کی رعایا پر بھی، اور (اہل مصر کے)یہ اخراجات اُس دستور پر رائج نہ ہوں گے جوکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور ان کے عدل کی شان ہے۔ جبکہ حضرت سیدنایوسف علیہ السلام کیلئے ممکن نہ تھا کہ وہ تمام امور انجام دے لیں جو وہ چاہتے ہیں اور جنہیں وہ دینِ خداوندی کا حصہ جانتے ہیں۔ وجہ یہ کہ اُ ن لوگوں نے ابھی یوسف علیہ السلام کی دعوت پر لبیک ہی نہیں کہہ رکھا ہوا تھا۔ لیکن جتنا بس میں تھا اتنا عدل اور احسان یوسف علیہ السلام نے ضرور کیا۔ نیز اس اقتدار سے کام لے کر اپنے خاندان کے اہل ایمان کو اعزاز واکرام دینے میں کامیاب رہے جوکہ اس کے بغیر وہ نہ دے سکتے تھے۔ یہ سب اللہ رب العزت کے اس قول میں داخل ہے:{فَاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ} اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا تمہارے بس میں ہے۔ پس جب دو فرض آپس میں ٹکرائیں اور دونوں میں جمع ممکن نہ ہو اور ایسی صورت میں دونوں میں سے اہم فرض کو مقدم کردیا جائے تو وہ دوسرا فرض (جو چھوٹ گیا)اُس صورت میں فرض ہی نہ رہے گا، اور اس کا تارک جوکہ اُس سے اہم تر فرض کو ادا کرنے کے باعث اس کا تارک ہوا بلحاظِ حقیقت تارکِ فرض نہ ہوگا۔ اسی طرح؛ جب دو گناہ کے کام اکٹھے ہوجائیں اور ان میں سے زیادہ بڑے گناہ سے بچنے کی کوئی صورت نہ ہو سوائے اس کے کہ ان دونوں میں سے چھوٹے گناہ کو اختیار کرلیا جائے، تو ایسی صورت میں چھوٹا گناہ بلحاظِ حقیقت گناہ نہ ہوگا ۔ ایسی صورت میں وہ جو ترکِ واجب ہوا تھا اُسے ایک عمومی معنیٰ میں ترکِ واجب کہہ بھی لیا جائے، یا یہ جو ارتکابِ حرام ہوا ہے اُسے ایک عمومی معنیٰ میں ارتکابِ حرام کہہ بھی لیا جائے، تو مضائقہ نہیں۔ ایسی صورت میں جو (صحیح ترلفظ بولا جائے گا وہ ہے:ترکِ واجب بہ سببِ عذر، یا ارتکابِ حرام بہ سبب مصلحتِ راجحہ یا ضرورۃ۔ یا یہ کہ ایک حرام کو اختیار کرنا اس لیے کہ اس سے بڑے حرام کو دفع کرنا ہے۔ (مجموع الفتاوی:تقی الدین أبو العباس أحمد بن عبد الحلیم بن تیمیۃ الحرانی (۲۰:۵۵) یہ بھی یادرہے کہ شیخ ابن تیمیہ اس کیلئے لفظ ولایت استعمال کرتے ہیں، جیساکہ آپ ان کے فتویٰ کے عربی متن میں دیکھ لیں گے۔ ولایت کا لفظ کسی عام سی نوکری پر نہیں بولا جاتا۔ مثلاً ایک چپڑاسی یا کلرک کی نوکری کو ولایت نہیں کہا جائے گا، حتیٰ کہ شعبہ تعلیم کی ملازمت کیلئے بھی لفظ ولایت بعید از استعمال ہے۔یہ لفظ صرف ایک اعلیٰ اختیاراتی منصب کیلیے ہی بولا جاتا ہے۔ عربی لغت سے واقفیت رکھنے والا کوئی شخص اس بات سے اختلاف نہیں کرے گا۔ ولایت رکھنے یا سونپے جانے والے شخص کو والی کہا جائے گا، جوکہ کسی حد تک اردو میں بھی مستعمل ہے۔مختلف مقامات پرنوکری کرنے کامسئلہ
امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی کاقول کافِر اصلی غیرِمُرتَد کی وہ نوکری جس میں کوئی اَمر ناجائزِ شرعی کرنا نہ پڑے جائز ہے اور کسی دُنیوی مُعامَلہ کی بات چیت اُس سے کرنا اور اس کے لئے کچھ دیر اُس کے پاس بیٹھنا بھی منع نہیں ۔ اِتنی بات پر(کسی مسلمان کو)کافِر بلکہ فاسق بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ ہاں ،مُرتَد کے ساتھ یہ سب باتیں مُطلَقاً منع ہیں اور کافِر اُس وقت بھی(یعنی مُرتد کے پاس نوکری کی وجہ سے بھی)نہ ہوگامگر یہ کہ اُس کے مذہب وعقیدہ کُفر پر مُطَّلَع ہو کر اُس کے کفر میں شک کرے تو البتّہ کافر ہو جائے گا ۔ بِغیرثُبُوتِ وجہِ کُفر کے مسلمان کو کافر کہنا سخت عظیم گناہ ہے بلکہ حدیث میں فرمایا کہ وہ کہنا اُسی کہنے والے پر پلٹ آتا ہے ۔ والعیاذباللہ ۔ وَاللّٰہُ تَعالٰی اعلم ۔ (فتاوٰی رضویہ لامام احمدرضاحنفی الماتریدی( ۲۳:۵۹۱،۵۹۲)قادیانیوں کے ہاں نوکری کرناکیسا؟
قادیانیوں کے ہاں نوکری کرنے کے متعلق لوگ سوالات کرتے ہیں کہ ان کے ہاں نوکری کرناکیساہے تواس کاجواب یہ ہے کہ قادیانی چوں کہ شرعی اَحکام کی رو سے مرتد و زندیق ہیں، اس بنا پر قادیانیوں ،مرزائیوں سے خریدوفروخت ،تجارت، لین دین ،سلام و کلام ، ملنا جلنا، کھانا پینا ، شادی و غمی میں شرکت ، جنازہ میں شرکت ،تعزیت ،عیادت،ان کے ساتھ تعاون یاملازمت سب، شریعتِ اسلامیہ میں سخت ممنوع اور حرام ہیں۔ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے میں بہت بڑا علاج اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے، اورحضورتاجدارختم نبوتﷺسے محبت کی نشانی ہے ، لہذا ان کے ہاں ملازمت کرنا یا کاروباری معاملات کرنا حرام ہے۔دارالحرب میں کفارکے ہاں نوکری کرناکیسا؟
دار الحرب میں سرکاری نوکری جائز ودرست ہے۔ بلکہ بعض حالات میں تو ضروری ہو جاتی ہے۔ اور مقبوضہ علاقوں کی صورت حال تو بہت ہی مختلف ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہاں سرکاری نوکری کرنا(کلیدی عہدوں پر) بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ بلکہ یوں سمجھے کہ مسلمان سرکاری نوکری کو قابض کفار کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ مسلمان حکومتیں بہت خطیر رقم خرچ کر کے اپنے جاسوس تیار کرتی ہے اور پھر انہیں کفار کے ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ حتی کہ دشمن ملک کی فوج انکے حساس اداروںاور اہم سرکاری عہدوں تک انہیں پہنچانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ اور اگر آپکو یہ سب کام بآسانی میسر آسکتے ہیں تو آپ ضرور کیجئے۔ اور قابض دشمن کے خلاف مظلوم مسلمانوں کی مناصرت کے لیے حکمت ودانائی کے ساتھ اپنے ان سرکاری عہدوں سے فائدہ اٹھائیے۔ مگریہ ہوتادکھائی نہیں دیتاکہ آج مسلمانوں کے عقائدایسے متزلزل ہوئے ہیں کہ صرف نوکری کی غرض سے اپنے عقیدے اورایمان تک کوبھول جاتے ہیں اوراہل اسلام پرہی ظلم وتشددکرناشروع کردیتے ہیں۔ اللہ تعالی اہل اسلام کواپنے مسلمان بھائیوں کاخیرخواہ بننے کی توفیق رفیق عطافرمائے۔ مگر اس پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مقاصد سرکاری ملازمین حاصل نہ کر سکیں یا پھر الٹا وہ قابض حکومت کے قبضے کو دوام ہی بخشتے ہوں اور ان کی جڑوں کو مضبوط ہی کریں، جیسا کہ آج مختلف ممالک میں سرکاری ملازمین اکثر و بیشتر کفر نواز ہی پائے جاتے ہیں اس صورت حال میںحکم یکسربدل جائے گا۔یہاں امارت سے متعلق ۳اَہم مسائل یاد رکھئے:
(۱)… عدل قائم کرنے کی نیت سے ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدہ قبول کرنا جائز ہے۔ (۲)…اگر دین کے احکام کو جاری کرنا کافر یا فاسق بادشاہ کی طرف سے عہدہ لئے بغیر نہ ہو سکے تو اس میں اس سے مدد لینا جائز ہے۔ (۳)…فخر اور تکبر کے لئے ـاپنی خوبیوں کو بیان کرنا ناجائز ہے لیکن دوسروں کو نفع پہنچانے یا مخلوق کے حقوق کی حفاظ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9