صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2457 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃیونس آیت ۴۶۔۴۷۔ وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,201

سوال (Question):

تفسیرسورۃیونس آیت ۴۶۔۴۷۔ وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

انبیاء کرام علیہم السلام کے تمام گستاخوں پررب تعالی کاعذاب آیاہے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ بدرمیں قتل کئے گئے

{وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ اللہُ شَہِیْدٌ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ }(۴۶){وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَآء َ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَہُمْ لَایُظْلَمُوْنَ }(۴۷) ترجمہ کنزالایمان:اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے ان کے کاموں پر۔اور ہر امت میں ایک رسول ہوا جب ان کا رسول ان کے پاس آتا ان پر انصاف کا فیصلہ کردیا جاتا اور ان پر ظلم نہ ہوتا۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اوراے حبیب کریمﷺ ہم آپﷺ کو اس چیزکا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں یا ہم آپﷺکو پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے پھر اللہ تعالی ان کے کاموں پرگواہ ہے ۔اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہوئے ہیں توجب ان کے رسول ان کے پاس تشریف لاتے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا اور ان پرکسی طرح کابھی ظلم نہیں کیا جاتاہے۔ اللہ تعالی نے ان آیات کریمہ میںفرمایاکہ جس عذاب کاہم ان سے وعدہ کررہے ہیںاسمیں تھوڑاسااگرہم آپﷺکودکھلادیں توآپﷺدیکھ ہی لیں گے یاہم آپﷺکواپنی طرف بلالیں (کافروں پرعذاب نازل ہونے سے پہلے) سوکفارکوقیامت کے دن ہمارے پاس لوٹ کرآناتوہے ، یہ عذاب سے توچھوٹ ہی نہیں سکتے تواس صورت میں ان کاعذاب ہم آخرت میں آپﷺکودکھادیں گے ،اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکو تسلی دی گئی کہ کفارپراگرآپﷺکے وصال شریف سے پہلے عذاب آیاتوآپﷺاپنی آنکھوںسے مشاہدہ کرلیں گے اوراگرآپﷺکی ظاہری حیات مبارکہ میں عذاب نہیں آیاتوقیامت کے دن آپﷺمشاہدہ فرمائیں گے ، بہرحال ان کے لئے عذاب ثابت ہوچکاہے ،جس سے وہ کسی بھی صورت بچ نہیں سکتے ۔

عذاب موعود آکررہے گا

وَإِمَّا نُرِیَنَّکَ یعنی یا محمد بَعْضَ الَّذِی نَعِدُہُمْ یعنی ما نعدہم بہ من العذاب فی الدنیا فذاک أَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ قبل أن نریک ذلک الوعد فی الدنیا فإنک ستراہ فی الآخرۃ وہو قولہ سبحانہ وتعالی:فَإِلَیْنا مَرْجِعُہُمْ یعنی فی الآخرۃ وفیہ دلیل علی أن اللہ یری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنواعا من عذاب الکافرین وذلہم وخزیہم فی حال حیاتہ فی الدنیا وقد أراہ ذلک فی یوم بدر وغیرہ من الأیام وسیر بہ ما أعد لہم من العذاب فی الآخرۃ بسبب کفرہم وتکذیبہم ثُمَّ اللَّہُ شَہِیدٌ عَلی ما یَفْعَلُونَ فیہ وعید وتہدید لہم یعنی أنہ سبحانہ وتعالی شاہد علی أفعالہم التی فعلوہا فی الدنیا فیجازیہم علیہا یوم القیامۃ. ترجمہ :امام علاء الدین علی بن محمد بن إبراہیم الخازن المتوفی : ۷۴۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ فرمایا گیا کہ اے حبیب کریمﷺ جس عذاب کا ہم نے کفار سے وعدہ کیا ہے اگر اس کا کچھ حصہ آپﷺ کو دنیا میں ہی دکھا دیں تو وہ ملاحظہ کیجئے اور اگر دنیا میں وہ عذاب دکھانے سے پہلے ہم آپﷺ کواپنے پاس بلالیں تو عنقریب آخرت میں آپﷺ ان کے عذاب کو دیکھ لیں گے کیونکہ آخرت میں انہیں بہر حال ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اورکفار دنیا میں جو اَعمال کرتے ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر گواہ ہے اور قیامت کے دن وہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کریمﷺ کو کافروں کے بہت سے عذاب اور ان کی ذلت و رسوائیاں آپﷺ کی حیاتِ دنیا ہی میں دکھائے گا چنانچہ بدر وغیرہ میں ذلت و رُسوائیاں دکھائی گئیں اور جو عذاب کافروں کے لئے کفر و تکذیب کی وجہ سے آخرت میں مقرر فرمایا ہے وہ آخرت میں دکھائے گا۔ (تفسیرالخازن:علاء الدین علی بن محمد بن إبراہیم المعروف بالخازن (۲:۴۴۶)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کاانجام دنیاوآخرت میں بہت براہے

فَاعْلَمْ أَنَّ قَوْلَہُ فَإِلَیْنا مَرْجِعُہُمْ جَوَابُ نَتَوَفَّیَنَّکَ وَجَوَابُ نُرِیَنَّکَ مَحْذُوفٌ،وَالتَّقْدِیرُوَإِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُہُمْ فِی الدُّنْیَا فَذَاکَ أَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ قَبْلَ أَنْ نُرِیَنَّکَ ذَلِکَ الْمَوْعِدَ فَإِنَّکَ سَتَرَاہُ فِی الْآخِرَۃِ وَاعْلَمْ أَنَّ ہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ تَعَالَی یُرِی رَسُولَہُ أَنْوَاعًا مِنْ ذُلِّ الْکَافِرِینَ وَخِزْیِہِمْ فِی الدُّنْیَا، وَسَیَزِیدُ عَلَیْہِ بَعْدَ وَفَاتِہِ، وَلَا شَکَّ أَنَّہُ حَصَلَ الْکَثِیرُ مِنْہُ فِی زَمَانِ حَیَاۃِ رَسُولِ اللَّہ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَحَصَلَ الْکَثِیرُ أَیْضًا بَعْدَ وَفَاتِہِ، وَالَّذِی سَیَحْصُلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَکْثَرُ، وَہُوَ تَنْبِیہٌ عَلَی أَنَّ عَاقِبَۃَ الْمُحِقِّینَ مَحْمُودَۃٌ وَعَاقِبَۃَ الْمُذْنِبِینَ مذمومۃ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ { فَإِلَیْنا مَرْجِعُہُمْ }{ نَتَوَفَّیَنّک}کاجواب ہے اور{نُرِیَنَّک}کاجواب محذوف ہے ۔ پوری عبارت یوں بنے گی’’ہم ضرورآپﷺکودکھائیں گے کچھ وہ چیزیں جن کاہم نے دنیامیں وعدہ کیا، یاہم آپﷺکو اپنے پاس بلالیں گے ‘‘پہلے اس کے کہ ہم آپﷺکووعدہ دکھائیں کیونکہ آپﷺعنقریب اسے قیامت کے دن دیکھیں گے ۔ واضح رہے کہ یہ چیز اس پردلالت کررہی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکودنیامیں ان گستاخوں کی ذلتوںاوررسوائیوں کی کچھ انواع دکھائیں اورآپﷺکے وصال شریف کے بعد اس پراوراضافہ کرے گابلاشبہ ان میں سے کثیرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی ظاہری حیات شریفہ میںسامنے آگئیں اورآپﷺکے وصال شریف کے بعد بھی کافروں اورگستاخوں پر بہت زیادہ ذلتوں اوررسوائیوں کانزول ہوااورقیامت کے دن بھی جوگستاخوں پرعذاب نازل ہوگاوہ اس سے زیادہ ہے ، اس میںتنبیہ ہے کہ حق والوں کاانجام بہتراورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں اوردین دشمنوں کاانجام بہت ہی براہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۷:۲۵۶)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ہرہرحکم کو دل سے ماننے سے کامیابی نصیب ہوتی ہے

ثم الرسول یأتی بالوحی الظاہر والباطن ووارث الرسول یأتی بالوحی الباطن وہو الإلہام الإلہی وکل ما جاز وقوعہ للانبیاء من المعجزات جاز للاولیاء مثلہ من الکرامات واللہ تعالی لا یحکم بین العباد الا بعد مجیء رسولہم بالظاہر والباطن فان صدقوہ قضی بینہم بالسعادۃ علی قدر تصدیقہم وان کذبوہ قضی بینہم بالشقاوۃ علی قدر تکذیبہم: ہر کسی از ہمت والای خویش سود دارد در خور کالای خویش فعلیک بالصدق والتصدیق فی حق الأنبیاء والأولیاء واتباع ما جاؤا بہ من الوحی والإلہام لتظفر بکل مرام ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہررسول کی ایک وحی ظاہری ہوتی ہے اورایک باطنی ، جسے الہام سے تعبیرکیاجاتاہے اورقاعدہ ہے کہ جوکچھ انبیاء کرام علیہم السلام کے لئے معجزہ واقع ہوسکتاہے وہی اولیاء کرام علیہم الرحمہ کے لئے بطورکرامت کے واقع ہوسکتاہے ۔ ہررسول علیہ السلام کی تشریف آوری ظاہری اورباطنی وحی سے ہوتی ہے جوان کی تصدیق کرتاہے اسے تصدیق کے مطابق سعادت نصیب ہوتی ہے اورجوان کوجھوٹاکہتاہے کہ اسے اس کی گستاخی کے مطابق بدبختی حاصل ہوتی ہے ۔ انبیاء کرام علیہ السلام اوراولیاء کرام علیہم الرحمہ کوتہہ دل سے ماننااوران کے ہرہرحکم کی تصدیق اوراتباع کرنے سے انسان کو ہرطرح کی سعادت اورکامیابی اورکامرانی نصیب ہوتی ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۴۷)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کابدرمیں قتل ہونا

یقول الفقیر ان قلت یرد علی ظاہر الآیۃ زمان الفترۃ فانہا بظاہرہا ناطقۃ بانہ لم یہمل امۃ قط ولم یبعث لاہل الفترۃ رسول کما یشہد علیہ قولہ تعالی لِتُنْذِرَ قَوْماً ما أُنْذِرَ آباؤُہُمْ قلت مساق الآیۃ الکریمۃ علی ان کل امۃ قضی لہا بالہلاک قد انذروا اولا علی لسان رسول من الرسل ولم یعذب اہل الفترۃ لان العرب لم یرسل إلیہم رسول بعد إسماعیل غیر رسول اللہ علیہما الصلاۃ والسلام فعذب أعقابہم ببدر وغیرہ لتکذیبہم رسول اللہ کما دل علیہ قولہ تعالی وَما کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا وقد انتہت رسالۃ إسماعیل بموتہ کبقیۃ الرسل لان ثبوت الرسالۃ بعد الموت من خصائص نبینا علیہ السلام ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ سے بظاہرمعلوم ہوتاہے کہ ہرزمانہ میں ہرامت کے لئے رسول علیہ السلام بھیجے گئے، حالانکہ زمانہ فترت میں نہ ان کے ہاں رسول آئے اورنہ ہی وہ بربادہوئے حلانکہ غلط کاریوں میں وہ بھی سابقہ امتوں سے پیچھے نہیں تھے ، قرآن کریم کی آیت کریمہ { لِتُنْذِرَ قَوْماً ما أُنْذِرَ آباؤُہُمْ }میں بھی اسی طرح اشارہ ملتاہے ۔ اس کاجواب یہ ہے کہ آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ ہرامت کے لئے ہلاکت اورتباہی مقدرکی گئی ہے خواہ انہیں کسی رسول علیہ السلام کے ذریعے سے عذاب خداوندی سے ڈرایاجائے یانہ۔ اہل فترت کوعذاب میں اس لئے مبتلاء نہیں کیاگیاکہ عرب میں حضرت سیدنااسماعیل علیہ السلام کے بعد حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا، جب حضورتاجدارختم نبوتﷺعرب میں تشریف لائے توکفارنے آپﷺکی تکذیب کی تواللہ تعالی نے بدرمیں ان کو عذاب میں مبتلاء کیا۔ چنانچہ { وَما کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا}حضرت سیدنااسماعیل علیہ السلام کی رسالت کے احکام کااجراء تودوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت شریفہ کی طرح ان کے وصال شریف کے بعد منقطع ہوگیا۔ یہ صرف ہمارے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت شریفہ کاخاصہ ہے کہ آپﷺکی نبوت شریفہ غیرمنقطع ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۴۷)

رب تعالی نے گستاخوں کے قتل کاعدہ پورافرمادیا

(بَعْضَ الَّذِی نَعِدُہُمْ)أَیْ مِنْ إِظْہَارِ دِینِکَ فِی حَیَاتِکَ وَقَالَ الْمُفَسِّرُونَ:کَانَ الْبَعْضُ الَّذِی وَعَدَہُمْ قَتْلُ مَنْ قُتِلَ وَأَسْرُ مَنْ أُسِرَ بِبَدْرٍ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں وہ بعض جس کارب تعالی نے وعدہ فرمایاہے وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کو غالب کرنے کاتھاوہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حیات مبارکہ میں پورافرمادیااورمفسرین نے یہ بھی بیان کیاہے وہ وعدہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کے قتل کاوعدہ تھاجو رب تعالی نے بدرمیں پورافرمایااوربڑے بڑے گستاخ مارے گئے اوربہت سے قیدی بنے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۳۴۵) امام الخازن رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں وفی وقت ہذا القضاء والحکم بینہم قولان:أحدہما:أنہ فی الدنیا وذلک أن اللہ سبحانہ وتعالی أرسل إلی کل أمۃ رسولا لتبلیغ الرسالۃ وإقامۃ الحجۃ وإزالۃ العذر فإذا کذبوا رسلہم وخالفوا أمر اللہ قضی بینہم، وبین رسلہم فی الدنیا فیہلک الکافرین وینجی رسلہم والمؤمنین ویکون ذلک عدلا لا ظلما لأن قبل مجیء الرسول لا یکون ثوابا ولا عقاباالقول الثانی:إن وقت القضاء فی الآخرۃ وذلک أن اللہ إذا جمع الأمم یوم القیامۃ للحساب والقضاء بینہم والفصل بین المؤمن والکافر والطائع والعاصی جیء بالرسل لتشہد علیہم والمراد من ذلک، المبالغۃ فی إظہار العدل،وہو قولہ تعالی:وَہُمْ لا یُظْلَمُونَ یعنی من جزاء أعمالہم شیئا ولکن یجازی کل أحد علی قدر عملہ. ترجمہ :امام علاء الدین علی بن محمد بن إبراہیم الخازن المتوفی : ۷۴۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ اس میں دنیا کا بیان ہے اور معنی یہ ہے کہ ہر اُمت کے لئے دنیا میں ایک رسول ہوا ہے جو انہیں دینِ حق کی دعوت دیتا اور طاعت و ایمان کا حکم کرتا، جب ان کا رسول ان کے پاس تشریف لاتا اور احکامِ الٰہی کی تبلیغ کرتا تو کچھ لوگ ایمان لاتے اور کچھ تکذیب کرتے اور مُنکر ہوجاتے ، تب ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا کہ رسول کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دی جاتی اور تکذیب کرنے والوں کو عذاب سے ہلاک کردیا جاتا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں آخرت کا بیان ہے اور معنی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر امت کے لئے ایک رسول ہوگا جس کی طرف وہ منسوب ہوگی جب وہ رسول مَوقف میں آئے گا اور مومن و کافر پرگواہی دے گا ،تب ان میں فیصلہ کیا جائے گا اور مومنوں کو نجات نصیب ہوگی اور کافر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ (تفسیرالخازن:علاء الدین علی بن محمد بن إبراہیم المعروف بالخازن (۲:۴۴۶)

معارف ومسائل

(۱)…جیسے کھیت والے کوکھیت تباہ کرنے والے دشمن کیڑے مکوڑوں کی ہلاکت سے خوشی ہوتی ہے ایسے ہی حضورتاجدارختم نبوتﷺکودین کے دشمن کفارکی ہلاکت سے خوشی ہوتی ہے کہ ان کی ہلاکت سے دین متین کی بقا، امت کی حفاظت ہے ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرعون کی ہلاکت کے دن یعنی عاشوراء کو روزہ رکھناپہلے توفرض کردیاتھا،پھرفرضیت منسوخ ہوئی ، سنت ابھی بھی باقی ہے کیونکہ اس امت کے فرعون ابوجہل کی ہلاکت کی خوشی میں سجدہ شکراداکیا، رب تعالی نے اس آیت میں اس کی ہی خوشخبری دی کہ ہم آپﷺکوآپ کے گستاخ کافروں کی ہلاکت دکھائیں گے ، بعض کی ہلاکت کو ظاہری حیات شریف میں ان کی آنکھوں سے بعض کی ہلاکت وفات شریف کے بعد کشف سے ۔ ہرامت میں رسول علیہ السلام آتے جاتے رہے ، ہمارے حضورتاجدارختم نبوتﷺسارے عالم کے لئے تشریف لائے اورہمیشہ کے لئے آئے ، ایسے آئے کہ آکرنہ گئے ، اب تاقیامت وارثین رسول علماء کرام اوراولیاء عظام وحی باطنی یعنی کشف والہام لاتے رہیں گے ولی کی کرامت اورعلماء کرام کی امامت حضورتاجدارختم نبوتﷺکے معجزے ہیںجوان کی تصدیق کریں وہ نیک بخت ہیں اورجوعلماء واولیاء کاانکارکریں وہ بدبخت ہیں۔(تفسیرنعیمی ( ۱۱: ۳۵۳) (۲)…علماء اسلام میں ایک بہت بڑے عالم دین یہ فرمایاکرتے تھے کہ ہمیں توقیامت کاشوق صرف اسی لئے ہیں تاکہ ہم قیامت میں حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے گستاخوںکو عذاب میں مبتلاء دیکھیں اوراپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔ نوٹ : اس مسئلہ پرہماراایک رسالہ بنام ’’قتل گستاخ پررسول اللہ ﷺکاخوش ہونا‘‘ بہت ہی قابل مطالعہ ہے ، یہ ایک لبرل وسیکولرپروفیسرکے جواب میں لکھاگیاہے ، جس نے کہاتھاکہ آسیہ ملعونہ گستاخہ کو چھوڑ دیں توحضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی امت سے خوش ہوجائیں گے کہ میری امت نے ایک جان بچالی ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh