صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2228 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۰۴۔ وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,072

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۰۴۔ وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تحریک لبیک کی طرف سے فیض آباددھرنادیناشرعاًکیسا؟

{وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْن}(۱۰۴) ترجمہ کنزالایمان:اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اورتم میں سے ایک گروہ ایساہوناچاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اورنیکی کی طرف دعوت دیں اوربرائی سے منع کریں اوریہی لوگ کامیابی پانے والے ہیں۔ اس آیت کریمہ کی روسے اہل حق پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کاحکم کریں اوربرائی سے منع کریں اوراگروہ نیکی کاحکم نہ کریں اوربرائی سے منع نہ کریں توپھراللہ تعالی کاعذاب سب پرآئے گا۔ امربالمعروف ونہی عن المنکرکے اعظم ارکان میں سے دین کادفاع کرنااوراللہ تعالی کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عزت وناموس پرپہرہ دیناہے اوریہی وجہ ہے کہ جب پاکستان میں کچھ بے دین اورلبرل وسیکولرطبقہ کی جانب سے ختم نبوت کے قانون پرشب خون ماراگیاتو تب سارے علماء ومشائخ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے تواس وقت حضورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی نے اپنے لاکھوں عقیدتمندوںکے ساتھ فیض آباددھرنادیااوروہاں جب آپ کو کامیابی ہوئی توآپ نے ا س کے بعد ایک جگہ بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ اگرہم فیض آباد نہ جاتے توپورے پاکستان پر عذاب آجاتا۔ اوریہی حقیقت ہے کہ جس طرح بے دین لوگ دین پر کھلے عام حملے کررہے تھے اگرآپ اس وقت ان کے خلاف کمربستہ نہ ہوتے تو ان کی بدمعاشیاں بڑھنی تھیں اوراللہ تعالی کاعذاب آجاناتھا۔ اب ہم یہاں نیکی کاحکم کرنے اوربرائی سے منع کرنے کا اجروثواب اوراس کے بعد امربالمعروف اورنہی عن المنکرنہ کرنے والوں کے بارے میں قرآن کریم اورحدیث شریف سے چندوعیدیں نقل کریں گے ۔

کمزورایمان والاکون؟

عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَاء ٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ:قَالَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَلْیَفْعَلْ،فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ،وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَانِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا :تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اپنے ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اپنی زبان سے بھی روکنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو (کم از کم اس برائی کو)اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (الآداب للبیہقی:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی :۶۲)

بعدوالوں کااجرپہلوں کی مثل

عَنْ عَطَاء ِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ:سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ یَقُولُ:أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:إِنَّ مِنْ أُمَّتِی قَوْمًا یُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِہِمْ فَیُنْکِرُونَ الْمُنْکَرَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعطابن السائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناعبدالرحمن بن الخضرمی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ مجھے اس نے خبر دی جس نے حضور تاجدارختم نبوت ﷺکو فرماتے ہوئے سنا :بے شک میری اُمت میں ایک قوم ایسی ہے جس کو پہلے لوگوں کے اجور (ثواب)کی طرح کا اجر دیا جائے گا۔ وہ برائی سے منع کرنے والے ہوں گے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۷:۱۳۷)

فتنہ پروربے دین لوگوں سے جہاد کرنا

عَنْ عَطَاء ِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ:أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ:أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:یَکُونُ فِی آخِرِ أُمَّتِی قَوْمٌ یُعْطَوْنَ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَا یُعْطَی أَوَّلُہُمْ وَیُقَاتِلُونَ أَہْلَ الْفِتَنِ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعطابن السائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناعبدالرحمن بن الخضرمی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ مجھے اس نے خبر دی جس نے حضور تاجدارختم نبوت ﷺکو فرماتے ہوئے سنا :بے شک میری اُمت میں ایک قوم ایسی ہے جس کو پہلے لوگوں کے اجور (ثواب)کی طرح کا اجر دیا جائے گا، وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور فتنہ پرور لوگوں سے جہاد کریں گے۔ (البدع والنہی عنہا:أبو عبد اللہ محمد بن وضاح بن بزیع المروانی القرطبی (۲:۱۵۲) اور جنگ لڑنے کا معنی سمجھ لیں دہشتگردی کی جنگ نہیں ہو گی، وہ دہشتگرد نہیں ہوں گے، کسی کا خون نہیں بہائیں گے، کسی کا گھر نہیں لوٹیں گے، کسی کی عزت نہیں لوٹیں گے، ایک گملا بھی نہیں توڑیں گے، درخت کا ایک پتہ بھی نہیں توڑیں گے، وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے سچے غلام اگر ۲۱ دن بھی ننگے آسمان کے نیچے اورسخت سردی اوربارش میں ہزاروں کی تعداد میں بیٹھیں گے تو پلٹیں گے ایک پائی کا نقصان کئے بغیر،ان کے اپنے آٹھ لوگ بھی شہیدہوگئے توپھربھی ہتھیارنہیں اٹھائیں گے ،اتنے پرامن ہوں گے۔ کیونکہ دہشتگردی کا کوئی تعلق اسلام اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت کے ساتھ نہیں۔ امر بالمعروف بھی ہو گئی، نہی عن المنکر بھی ہو گیا اور اہل فتن، فتنہ بپا کرنے والوں کے خلاف ایک منظم جنگ بھی ہو گئی۔اورلبرل وسیکولرطبقہ بھی ذلیل ہوگیااورختم قانون میں تبدیلی کرنے والے ڈاکوبھی بے نقاب ہوگئے اوربحمداللہ تعالی اہل حق کاقافلہ سرخروہوکرفیض آبادسے واپس لاہورکوپلٹا۔

ایک جماعت حق پرقائم رہے گی

حَدَّثَنِی عُمَیْرُ بْنُ ہَانِئٍ، أَنَّہُ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ،یَقُولُ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،یَقُولُ:لاَ یَزَالُ مِنْ أُمَّتِی أُمَّۃٌ قَائِمَۃٌ بِأَمْرِ اللَّہِ،لاَ یَضُرُّہُمْ مَنْ خَذَلَہُمْ،وَلاَ مَنْ خَالَفَہُمْ،حَتَّی یَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللَّہِ وَہُمْ عَلَی ذَلِکَ۔ ترجمہ: حضرت سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی۔ جو اُنہیں ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا یا اُن کی مخالفت کرے گا وہ اُنہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر(یعنی قیامت کا دن)آئے گا اور وہ اِسی حالت پر ہوں گے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۲۰۷) قیامت تک ہر دور میں میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اب اس جماعت کا نام نہیں ہے چونکہ پندرہ صدیاں گزریں ہر صدی میں جماعت کا ہونا لازم ہے اور قیامت تک رہے گی، جب قیامت آئے گی اس وقت بھی حق پر قائم رہنے والی ایک جماعت ہو گی۔ اور وہ جماعت سیدنا امام محمد مہدی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گی، ان کی اقتدا میں جنگ لڑے گی اور سیدنا عیسی علیہ السلام قیادت فرما رہے ہوں گے اور حق پر قائم جماعت سیدنا عیسی مسیح علیہ السلام اور سیدنا امام محمد مہدی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دجال کے لشکروں سے جنگ لڑے گی اور دجال کو باب لُد کے مقام پر قتل کر دے گی اور حق کو سر بلند کرے گی۔ یہ جماعت ہردورمیں موجودرہی ہے جیسے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اکیلے ہی لڑتے رہے اورجیل میں ہی جام شہادت نوش فرمایا۔ اوراسی طرح امام مالک رضی اللہ عنہ کو روزانہ کوڑے مارے جاتے مگروہ حق سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ۔ اوراسی طرح امام غزالی رحمہ اللہ تعالی نے فلاسفہ اوربے دین طبقہ کے خلاف جہاد کیا، ان کے بعد حضرت سیدناالشیخ الامام عبدالقادرالجیلانی رضی اللہ عنہ کی جماعت اوران کے بعد یونہی سلسلہ چلتارہاحتی کہ حضورسیدنامجددالف ثانی رحمہ اللہ تعالی نے اکبربادشاہ کے مصنوعی دین کے خلاف علم جہاد بلندکیااورپھرجہانگیرکے دورمیں آپ رحمہ اللہ تعالی ایک عرصہ دراز تک جیل میں قیدرہے ، ان کے بعد انگریز کے خلاف ہماری اہل اسلام کی ایک جماعت جن کے سرکردہ حضرت مولانافضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ تعالی ، سیدکفایت علی کافی ، مولاناحسرت موہانی رحمہ اللہ تعالی اورامام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی کے داداجان مولانارضاعلی خان بریلوی رحمہ اللہ تعالی انگریزکے خلاف محاذ سنبھالے رہے اوران کے بعد جب انگریز میدان جنگ سے عبرت ناک شکست سے دوچار ہواتواس نے الحاد کی جنگ شروع کی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف نت نئے لوگ سامنے لاتااورآپ ﷺکی گستاخیاں کرواتاتوایسے حالات میں امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی برسرپیکارہوئے اوران انگریزی پودوں کو جڑسے اکھیڑنے کے لئے میدان میں اترے اوراس وقت کے جتنے فتنے تھے سب کے خلاف نبردآزماہوئے چاہے وہ لبرل ازم وسیکولرازم ہویانیچیریت کاناسورجو سرسیدکی صورت میں امت میں چھوڑاگیایاپھرمرزادجال اکبرفی الہندقادیانی ہوسب کے خلاف تن تنہاآپ رحمہ اللہ تعالی نے جہاد کیا۔ ا ن کے بعد اب پاکستان میں دین دشمنو ں کی بڑھتی بدمعاشی اورحکمرانوں کی کفارکی کاسہ لیسی کی وجہ سے دین پرحملے روزبروز بڑھتے جارہے تھے ، کبھی مساجدمیں اذان پر پابندی توکبھی ختم نبوت پر ڈاکہ توکبھی قادیانیوں کو کھلی چھٹی دینے کی باتیں ۔ اللہ تعالی نے ایک بارپھراپنی سنت کریمہ کوجاری فرمایا۔ اہل اسلام کو حضورامیرالمجاہدین شیخ الحدیث والتفسیرمولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی کی صورت میں للکارایوبی ، جانشین زنگی اورحضرت مجددالف ثانی اورامام احمدرضاحنفی کاسچاجانشین عطافرمایاجنہوںنے باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرملت کفرپرلرزہ طاری کردیااورکفرکی زنجیریں یکے بعددیگرے ٹوٹنے لگیں ۔ ایک بارپھرمساجد سے توحیدورسالت کی صدائیں بلند ہونے لگیں اورختم نبوت کے قانون پر شب خون مارنے والوںکومنہ کی کھانی پڑی اورلبرل وسیکولرلرزہ براندام ہیں ۔ جن کی للکارسے امریکہ کادجال ڈولنڈٹرنمپ بھی کانپ رہاہے اورہالینڈکاخنزیرجو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخیاںکرنے کے مقابلے کرواتاتھاوہ بھی آپ کی للکارسے ذلیل ورسواہوکرخاموش ہوگیاہے۔ اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہواکہ ساری دنیاان کی مخالف ہوگی مگران کی مخالفت ان کو نقصان نہیں دے سکے گی۔ ایک جماعت دین کی ناموس کی خاطردشمنوں سے لڑتی رہے گی عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ:لَنْ یَبْرَحَ ہَذَا الدِّینُ قَائِمًا،یُقَاتِلُ عَلَیْہِ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ،حَتَّی تَقُومَ السَّاعَۃُ۔ ترجمہ :حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا :یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس دین کی خاطر قیامت تک جنگ کرتی رہے گی۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۵۲۴) جس طرح قرآن اللہ تعالی نے اتارا اسی طرح دین اسلام اللہ تعالی نے بھیجا اور قیامت تک اس دین کی حفاظت بھی اللہ تعالی نے کرنی ہے۔ اور دین کی حفاظت اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت سے کروانی ہے۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت نے کرنی ہے اور صاف ظاہر ہے امت کا ہر فرد حفاظت دین کے کام پر مشغول نہیں ہے۔ پھر اس لیے فرمایا :کہ امت تو بہت ہو گی مگر ہر دور میں میری امت میںایک طبقہ، ایک جماعت، ہر زمانے، ہر صدی میں ایسا ایک طبقہ رہے گا جو اس دین کی حمیت و غیرت کے لیے جنگ لڑتا رہے گا۔ جو اقامت دین کا جھنڈا بلند کرتا رہے گا اور اہل فتن اور خائن و بددیانت لوگوں کے خلاف ، جو دین کی قدروں کو مٹا رہے ہوں گے ان کے خلاف اس دین کو سربلند کرنے کے لیے تن من دھن کی بازی لگاتا رہے گا اور جان و مال قربان کرتا رہے گا۔

حق نہ کہنے والے علماء ، مشائخ اورگدی نشین پیروں کے لئے وبال

اللہ تعالی نے ارشادفرمایا {لَوْلَا یَنْہٰیہُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَ اَکْلِہِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ }(سورۃ المائدۃ : ۶۳) ترجمہ کنزالایمان:انہیں کیوں نہیں منع کرتے اُن کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے بے شک بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:انہیں کیوں نہیں منع کرتے اُن کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے بے شک بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ا ن کو مشائخ اور علماء گناہوں کی بابت کہنے سے (یعنی جھوٹ بولنے سے )اور حرام مال کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے:واقعی ان کی یہ عادت بری ہے کہ اپنا فرض منصبی امربالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے،قوم کو ہلاکت کی طرف جاتا ہوا دیکھتے ہیں اور ان کو نہیں روکتے۔اس آیت کا آخری جملہ بہت ہی قابل غور ہے{لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ } ان علماء ومشائخ کا برائیوں سے نہ روکنا بہت بری حرکت ہے، ان بدکاروں کے اعمال بد سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے۔

اس سے بڑھ کرکوئی ڈانٹ کرنے والی آیت نہیں ہے

عَنْ خَالِدِ بْنِ دِینَارٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال:مَا فِی الْقُرْآنِ آیَۃٌ أَشَدَّ تَوْبِیخًا مِنْ ہَذِہِ الْآیَۃِ:(لَوْلَا یَنْہَاہُمُ الرَّبَّانِیُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْإِثْمَ وَأَکْلِہِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَصْنَعُون۔ ترجمہ :حضرت سیدناخالد بن دیناررضی اللہ عنہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مشائخ اور علماء کے لیے پورے قرآن میں اس آیت سے زیادہ سخت تنبیہ کہیں نہیں۔ (تفسیر حدائق الروح والریحان :الشیخ العلامۃ محمد الأمین بن عبد اللہ الأرمی الشافعی(۷:۷۶۴) امام الطبری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں وَکَانَ الْعُلَمَاء ُیَقُولُونَ:مَا فِی الْقُرْآنِ آیَۃٌ أَشَدَّ تَوْبِیخًا لِلْعُلَمَاء ِ مِنْ ہَذِہِ الْآیَۃِ وَلَا أَخْوَفَ عَلَیْہِمْ مِنْہَا۔ ترجمہ :امام محمدبن جریرابوجعفرالطبری المتوفی : ۳۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں علماء کرام فرماتے ہیں کہ برے علماء اور مشائخ کے لیے یہ آیت سب سے زیادہ خوف ناک ہے۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری(۸:۵۵۰)

حافظ ابن کثیرالمتوفی :۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں

ہَلَّا کَانَ یَنْہَاہُمُ الرَّبَّانِیُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ تَعَاطِی ذَلِکَ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَہُمُ:الْعُلَمَاء ُ الْعُمَّالُ أَرْبَابُ الْوِلَایَاتِ عَلَیْہِمْ،وَالْأَحْبَارُ:وَہُمُ الْعُلَمَاء ُ فَقَطْ. ترجمہ:اس آیت کا حاصل یہ ہوا کہ جس قوم کے لوگ جرائم اور گناہوں میں مبتلا ہوں گے اور ان کے علماء اور مشائخ کو یہ بھی اندازہ ہو کہ ہم روکیں گے تو یہ باز آجائیں گے۔ ایسے حالات میں اگر کسی لالچ یا خوف کی وجہ سے ان جرائم اور گناہوں سے نہیں روکتے تو ان کا جرم اصل مجرموں ،بدکاروں کے جرم سے بھی زیادہ سخت ہے۔ (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۳:۱۴۴)

جب عالم اورپیرکی نظرصرف نذرانوں پر ہواورحق نہ کہیں۔۔۔

عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمُرَ قَالَ:خَطَبَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ:أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ ہَلَکَ قَبْلَکُمْ بِرُکُوبِہِمُ الْمَعَاصِیَ وَلَمْ یَنْہَہُمُ الرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ،فَلَمَّا تَمَادَوْا فِی الْمَعَاصِی وَلَمْ یَمْنَعْہُمُ الرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ أَخَذَتْہُمُ الْعُقُوبَاتُ فَمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ بِکُمْ مِثْلُ الَّذِی نَزَلَ بِہِمْ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ لَا یقطع رزقا ولا یقرب أجلا۔ ترجمہ:حضرت سیدنایحی بن یعمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے ایک دن دوران خطبہ ارشادفرمایا: لوگو! تم سے پہلے لوگ بھی اسی وجہ سے ہلاک ہوگئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے اوران کے علماء اوران کے پیرفقیرخاموش رہتے تھے ، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تواللہ تعالی نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں ۔ پس تم پر لازم ہے کہ بھلائی کاحکم کرواوربرائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم پر اللہ تعالی کاوہی عذاب آئے جو تم سے پہلے لوگوں پر آتے تھے۔یقین رکھوکہ نیکی کاحکم کرنااوربرائی سے منع کرنانہ توتمھاری روٹی کم کرے گااورنہ ہی تمھاری موت قریب کرے گا۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی(۴:۱۱۶۶)

اللہ تعالی عذاب نازل فرمادیتاہے

عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیرٍ،عَنْ أَبِیہِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا مِنْ قَوْمٍ یَکُونُ بَیْنَ أَظْہُرِہِمْ مَنْ یَعْمَلُ بِالْمَعَاصِی ہُمْ أَعَزُّ مِنْہُ وَأَمْنَعُ لَمْ یُغَیِّرُوا عَلَیْہِ، إِلَّا أَصَابَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْہُ بِعِقَابٍ۔ ترجمہ:حضرت سیدناالمنذربن جریررضی اللہ عنہ اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ جس قوم میں کوئی اللہ تعالی کی نافرمانی کرے اوروہ لوگ باوجود اس کے کہ اس کو روک سکیں جان بوجھ کراس کو منع نہ کریں تواللہ تعالی سب پر اپناعذاب نازل فرمائے گا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۱:۵۴۸)

برائی سے منع نہ کرنے والوں پر رب تعالی کاعذاب

عَنْ جَرِیرٍ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:مَا مِن رَجُلٍ یَکُونُ فِی قَوْمٍ یُعْمَلُ فِیہِمْ بِالْمَعَاصِی، یَقْدِرُونَ عَلَی أَنْ یُغَیِّرُوا عَلَیْہِ، فَلَا یُغَیِّرُوا،إِلَّا أَصَابَہُمُ اللَّہُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَمُوتُوا۔ ترجمہ:حضرت سیدناجریررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جو شخص کسی قوم میں ہو اور وہاں گناہ کے کام ہو رہے ہوں وہ گناہ کرنے والوں کو گناہ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو،(پھر بھی)نہ روکے توا للہ تعالیٰ (گناہ سے روکنے میں غفلت کرنے والوں کو)مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر الأزدی السَِّجِسْتانی (۴:۱۲۲) اب دنیا میں آنے والے عذاب عمومی بھی ہوسکتے ہیں ،جیسے زلزلہ، طوفان،قحط سالی،خشک سالی،مہنگائی،آپس کے لڑائی جھگڑے، قومیت، وطنیت کے نام پر قتال، ظالم بادشاہوں کا مسلط ہونا وغیرہ۔ اسی طرح خصوصی نوعیت کے مختلف عذاب بھی ہوسکتے ہیں،جیسے ذاتی اور خاندانی دشمنی،اولاد کا نافرمان ہونا،قسم قسم کی نت نئی بیماریاں ،بھوک، افلاس،تنگ دستی ،وغیرہ یہ سب اجتماعی انفرادی گناہوں کا وبال ہے ۔

جوگناہوں کودیکھ کر منع نہ کرے ۔۔۔

عَنْ جَابِرٍ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَوْحَی اللہ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنِ اقْلِبْ مَدِینَۃَ کَذَا وَکَذَا بِأَہْلِہَا،قَالَ:فَقَالَ:یَا رَبِّ إِنَّ فِیہِمْ عَبْدَکَ فُلَانًا لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، قَالَ:فَقَالَ:اقْلِبْہَا عَلَیْہِمْ، فَإِنَّ وَجْہَہُ لَمْ یَتَمَعَّرْ فِیَّ سَاعَۃً قَطُّ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدناجبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ فلاں شہر کو الٹ دو(عذاب میں اس بستی کو الٹ پلٹ دو)اس کے باشندوں سمیت،پس جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یااللہ !بے شک اس میں تیر افلاں بندہ ہے جس نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تیری نافرمانی نہیں کی ؟تو ارشاد باری تعالیٰ ہو ا کہ اس شہر کوالٹ دو، اس نیک بند ے پر اور ان لوگوں پر،کیوں کہ میری خاطر (یعنی میری نافرمانیوں اور کھلے عام گناہوں کو دیکھ کر)کبھی اس کے چہرے کا رنگ بھی نہیں بدلا ۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۱۰:۷۴)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh