Fatwa #2233
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۷۔ مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,602
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۷۔ مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غازیان اسلام کے خلاف اورگستاخوں پر صرف ہونے والاپیسہ خرچ کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن وبال جان بنے گا
{مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَاَہْلَکَتْہُ وَمَا ظَلَمَہُمُ اللہُ وَلٰکِنْ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ}(۱۱۷) ترجمہ کنزالایمان:کہاوت اُس کی جو اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی بُرا کرتے تھے تو اُسے بالکل مارگئی اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جان پرظلم کرتے ہیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اس دنیاکی زندگی میں جو خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں شدید ٹھنڈ ہو، وہ ہوا کسی ایسی قوم کی کھیتی کو جاپہنچے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو تو وہ ہوا اس کھیتی کو ہلاک کردے اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔کفارکے صدقہ وخیرات کاان کوکوئی اجرنہیں ملے گا
ای حال ما ینفقہ الکفرۃ قربۃ او مفاخرۃ وسمعۃ وطلبا لحسن الذکر بین الناس وعداوۃ لاہل الإسلام کما أنفق ابو سفیان وأصحابہ مالا کثیرا علی الکفار یوم بدر واحدمَثَلِ رِیحٍ فِیہا صِرٌّای برد شدید مہلک فانہ فی الأصل مصدر وان شاع إطلاقہ علی الریح البارد کالصرصرصابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ای زرع قوم لَمُوا أَنْفُسَہُمْ بالکفر والمعاصی فباؤا بغضب من اللہ وانما وصفوا بذلک لان الإہلاک عن سخط أشد وأفظع أَہْلَکَتْہُ عقوبۃ لہم ولم تدع منہ اثرا ولا عثیرا والمراد تشبیہ ما أنفقوا فی ضیاعہ وذہابہ بالکلیۃ من غیران یعود إلیہم نفع ما بحرث کفار ضربتہ صرّ فاستأصلتہ ولم یبق لہم فیہ منفعۃ بوجہ من الوجوہ فہو من التشبیہ المرکب ما ظَلَمَہُمُ اللَّہُ بما بین من ضیاع ما أنفقوا من الأموال لکِنْ أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ لما انہم أضاعوہا بانفاقہا لا علی ما ینبغی وتقدیم المفعول لرعایۃ الفواصل لا للتخصیص واعلم ان انفاق الکفار اما ان یکون لمنافع الدنیا او لمنافع الآخرۃ فان کان لمنافع الدنیا لم یبق منہ اثر البتۃ فی الآخرۃ فی حق المسلم فضلا عن الکافر وان کان لمنافع الآخرۃ ولعلہم أنفقوا أموالہم فی الخیرات ببناء الرباطات والقناطر والإحسان الی الضعفاء والأیتام والأرامل وکان ذلک المنفق یرجو من ذلک الانفاق خیرا کثیرا فاذا قدم الآخرۃ رأی کفرہ مبطلا لآثار الخیرات وکان کمن زرع زرعا وتوقع منہ نفعا کثیرا فاصابہ ریح فاحرقہ ولا یبقی معہ الا الحزن والأسف ہذا إذا أنفقوا الأموال فی وجوہ الخیرات۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کفارنے جو اموال خرچ کئے ان کی غرض دنیوی منفعت مطلوب تھی یااخروی منفعت مقصود تھی ، اگروہ منافع دنیویہ کے لئے خرچ کرتارہاتوایسے خرچ کرنے کااجراہل اسلام کو بھی نہیں ملتاچہ جائیکہ کافروں کو کچھ حاصل ہواورمنافع اخرویہ کے لئے خرچ کرتارہاچنانچہ ایسے ہی بعض کفارومرتدین کارِ خیرمیں اس قسم کے بہت بڑے خرچ کرتے ہیں مثلاًسرائیں بنواتے ہیں اورپلیں تیارکرتے تھے اورضعیفوں اورمسکینوں کو کھاناکھلاتے ہیں اوربے شوہرعورتوں کی مددکرتے ہیں ، ایسے اخراجات سے اسے قیامت کے دن خیرکثیرملنے کی امیدہوتی ہے ، لیکن وہ جب آخرت میں پہنچے گاتوکفرنے اس کی تمام خیرات کو ملیامیٹ کردیاہوگاجیسے کسی کسان نے کھیتی باڑی میں بہت بڑی محنت کی اوراسے امیدہوکہ اس دفعہ بہت کچھ سرمایہ حاصل ہوگالیکن اچانک آندھی آکرتمام کھیتوں کو جڑوں سے اکھیڑدیتی ہے اورمٹی میں ملادیتی ہے تواب کسان کے پاس سوائے حزن وملال کے کچھ نہیں رہتا۔ ایسے ہی حسرت ویاس کے سواکافروں کو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی(۲:۸۲) حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخیوں پراورگستاخوں پرصرف ہونے والاپیسہ اما إذا أنفقوہا فیما ظنوا انہ من الخیرات لکنہ کان من المعاصی مثل انفاق الأموال فی إیذاء الرسول وفی قتل المؤمنین وتخریب دیارہم فالذی قلنا فیہ أشد وأشد ونظیر ہذہ الآیۃ وَقَدِمْنا إِلی ما عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْناہُ ہَباء ً مَنْثُوراً ویدخل فیہ ما ینفقہ بعض صاحبی الغرض لنفی رجل صالح من بلدہ او قتلہ او إیذائہ ونعوذ باللہ من ذلک۔ ترجمہ:امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک صورت یہ ہے کہ وہ بزعم خویش نیکی سمجھ کرمال خرچ کرتاہے جیسے کفارنے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو شہیدکرنے کے لئے منصوبے بنائے اوربہت بڑامال خرچ کیایااہل ایمان کے قتل کرنے کے لئے زورلگاتے رہے یاان کے گھروں کوتباہ کرنے کے لئے کوشش کرتے رہے توایسے اخراجات پر ان کو سخت سے سخت عذاب ہوگاچنانچہ اللہ تعالی نے ارشادفرمایا: { وَقَدِمْنا إِلی ما عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْناہُ ہَباء ً مَنْثُوراً }۔ اس میں وہ خرچ بھی داخل ہے جو کسی نیک آدمی کو شہربدرکرنے کے لئے یااسے ایذادینے کے لئے یااسے قتل کرنے کے لئے خرچ کیاجائے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی(۲:۸۲)معارف ومسائل
(۱) اس سے معلوم ہواکہ کافروں کاحضورتاجدارختم نبوت ﷺکو شہیدکرنے کے لئے مال خرچ کرناان کے لئے سخت عذاب کاباعث ہوگا۔ (۲) اسی طرح پاکستانی حکمرانوں کاحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گستاخوں کی حفاظت کرنے پر مال خرچ کرناان کے لئے سخت سے سخت عذاب کاباعث ہوگا۔ (۳) اوران کاغازیان اسلام کو شہیدکرنے کے لئے ان کو جیلوں میں رکھنااوران کو شہیدکردیناحتی کہ ان کے تمام کے تمام معاملات پرخرچ ہونے والاپیسہ ان کے لئے وبال جان بنے گا۔ اس میں وہ پیسہ بھی شامل ہوگاجو یہ انگریزی کوٹ میں بیٹھے ججوں کو دیتے ہیں کہ تم ناموس رسالت ﷺکے خلاف فیصلے کرواوراسی طرح وہ پیسہ جو ان ذلیل جاسوسوں پر خرچ کرتے ہیں جن کو علماء حق کے پیچھے لگایاجاتاہے ۔ (۴) اوراسی طرح وہ پیسہ بھی ان کے لئے وبال جان بنے گاجویہ لوگ ختم نبوتﷺ کی تحریک کے خلاف خرچ کرتے ہیں ، ان کوقیامت کے دن ان گولیوں اورشیلوں کاحساب بھی دیناپڑے گاجوانہوںنے لیاتوبیت المال سے تھامگر چلایاانہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس پر پہرہ دینے والوں پر ہے۔ (۵) اس سے وہ لوگ بھی عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ انگریزوں نے اتناپیسہ لگاکرموبائل تیارکیاہے لھذاوہ قیامت کے دن جنت جائیں گے اوران کو ان کے موبائل بنانے کااجرملے گا۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے واضح فرمادیاکہ اجرصرف اورصرف اہل ایمان کو ہی ملے گا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9