Fatwa #2234
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۸۔۱۱۹۔یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْ لُوْنَکُمْ خَبٰلًا وَدُّوْا مَاعَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآء ُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,708
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۱۸۔۱۱۹۔یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْ لُوْنَکُمْ خَبٰلًا وَدُّوْا مَاعَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآء ُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کفارکے ساتھ دوستی لگانے کی ممانعت اورکفارکو اپنارازداربنانے کاوبال
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْ لُوْنَکُمْ خَبٰلًا وَدُّوْا مَاعَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآء ُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ}(۱۱۸){ہٰٓاَنْتُمْ اُولَآء ِ تُحِبُّوْنَہُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْکِتٰبِ کُلِّہٖ وَ اِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ}(۱۱۹) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو غیروں کو اپنا را زدار نہ بناؤ وہ تمہاری بُرائی میں کمی نہیں کرتے اُن کی آرزو ہے جتنی ایذا تمہیں پہنچے بِیران کی باتوں سے جھلک اُٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو ۔سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو اور وہ تمہیں نہیں چاہتے اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہواور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرما دو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن میں اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان! اپنے علاوہ کسی کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مصیبت میں مبتلاء ہوجائو۔ بیشک ان کی تمھارے ساتھ دشمنی تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ یقیناہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ خبردار!یہ تم ہی ہو جو ا ن کے ساتھ دوستی لگاتے ہو اور وہ تم سے دوستی نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں ہم ایمان لاچکے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو غصے کے مارے تم پر انگلیاں چباتے ہیں۔ اے حبیب کریم ﷺ!آپ فرمادیں :اپنے غصے میں مرجائو۔ بیشک اللہ تعالی دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے ۔کن کفارسے اختلاط منع ہے ؟
اخْتَلَفُوا فِی أَنَّ الَّذِینَ نَہَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ عَنْ مُخَالَطَتِہِمْ مَنْ ہُمْ؟ عَلَی أَقْوَالٍ:الْأَوَّلُ:أَنَّہُمْ ہُمُ الْیَہُودُ وَذَلِکَ لِأَنَّ الْمُسْلِمِینَ کَانُوا یُشَاوِرُونَہُمْ فِی أُمُورِہِمْ وَیُؤَانِسُونَہُمْ لِمَا کَانَ بَیْنَہُمْ مِنَ الرَّضَاعِ وَالْحِلْفِ ظَنًّا مِنْہُمْ أَنَّہُمْ وَإِنْ خَالَفُوہُمْ فِی الدِّینِ فَہُمْ یَنْصَحُونَ لَہُمْ فِی أَسْبَابِ الْمَعَاشِ فَنَہَاہُمُ اللَّہُ تَعَالَی بِہَذِہِ الْآیَۃِ عَنْہُ، وَحُجَّۃُ أَصْحَابِ ہَذَا الْقَوْلِ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَاتِ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا مُخَاطَبَۃٌ مَعَ الْیَہُودِ فَتَکُونُ ہَذِہِ الْآیَۃُ أَیْضًا کَذَلِکَ الثَّانِی:أَنَّہُمْ ہُمُ الْمُنَافِقُونَ،وَذَلِکَ لِأَنَّ الْمُؤْمِنِینَ کَانُوا یَغْتَرُّونَ بِظَاہِرِ أَقْوَالِ الْمُنَافِقِینَ وَیَظُنُّونَ أَنَّہُمْ صَادِقُونَ فَیُفْشُونَ إِلَیْہِمُ الْأَسْرَارَ وَیُطْلِعُونَہُمْ عَلَی الْأَحْوَالِ الْخَفِیَّۃِ، فَاللَّہُ تَعَالَی مَنَعَہُمْ عَنْ ذَلِکَ، وَحُجَّۃُ أَصْحَابِ ہَذَا الْقَوْلِ أَنَّ مَا بَعْدَ ہَذِہِ الْآیَۃِ یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ وَہُوَ قَوْلُہُ وَإِذا لَقُوکُمْ قالُوا آمَنَّا وَإِذا خَلَوْا عَضُّوا عَلَیْکُمُ الْأَنامِلَ مِنَ الْغَیْظِ (آلِ عِمْرَانَ:۱۱۹)وَمَعْلُومٌ أَنَّ ہَذَا لَا یَلِیقُ بِالْیَہُودِ بَلْ ہُوَ صِفَۃُ الْمُنَافِقِینَ، وَنَظِیرُہُ قَوْلُہُ تَعَالَی فِی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ:وَإِذا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قالُوا آمَنَّا وَإِذا خَلَوْا إِلی شَیاطِینِہِمْ قالُوا إِنَّا مَعَکُمْ إِنَّما نَحْنُ مُسْتَہْزِؤُنَ (الْبَقَرَۃِ:۱۴) الثَّالِثُ: الْمُرَادُ بِہِ جَمِیعُ أَصْنَافِ الْکُفَّارِ وَالدَّلِیلُ عَلَیْہِ قَوْلُہُ تَعَالَی: بِطانَۃً مِنْ دُونِکُمْ فَمَنَعَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْ یَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِنْ غَیْرِ الْمُؤْمِنِینَ فَیَکُونُ ذَلِکَ نَہْیًا عَنْ جَمِیعِ الْکُفَّارِ وقال تعالی:یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیاء َ (الْمُمْتَحِنَۃِ: ۱) ترجمہ :حضرت سیدناامام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مفسرین کاان کفارکے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون سے کافرہیں کہ جن کے ساتھ اختلاط اہل ایمان کو منع ہے ۔ اس بارے میں چنداقوال ہیں۔ پہلاقول: اس سے مراد یہودی ہیں کیونکہ اہل اسلام اپنے امورمیں ان سے مشورہ کرتے اوران سے اختلاط رکھتے تھے کیونکہ ان میں رضاعت اورحلف کارشتہ موجود تھا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ اگرچہ یہ دین میں مخالف ہیں لیکن یہ دنیاوی معاملات میں بھلائی چاہنے والے ہیں تواللہ تعالی نے اہل اسلام کو اس آیت کریمہ میں اس سے منع فرمادیا۔ اوراس قول والوں کی دلیل یہ ہے کہ ان آیات کریمہ میں اول سے آخرتک یہودیوں سے خطاب ہے تواس آیت کریمہ کامعاملہ بھی اسی طرح ہوگا۔ دوسراقول:یہ ہے کہ اس آیت کریمہ سے مراد منافقین ہیں ، اس لئے کہ اہل ایمان منافقین کے ظاہری اقوال سے دھوکہ کھاجاتے یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ مخلص ہیں اوروہ اپنے راز ان کو بتادیتے اوروہ اپنے مخفی حالات سے ان کو مطلع کردیتے تھے تواللہ تعالی نے اس سے ان کو منع فرمادیا۔ اس قول والوں کودلیل یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کے بعد یہ الفاظ ہیں ۔{ وَإِذا لَقُوکُمْ قالُوا آمَنَّا وَإِذا خَلَوْا عَضُّوا عَلَیْکُمُ الْأَنامِلَ مِنَ الْغَیْظِ }(آلِ عِمْرَانَ:۱۱۹)ترجمہ : اوروہ جب تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اوراکیلے ہوں توتم پرانگلیاں چبائیں غصے سے اوریہ واضح ہے کہ یہ بات یہودیوں کی نہیں بلکہ منافقین کاعمل ہے ، اس کی نظیرسورۃ البقرہ میں اللہ تعالی کایہ فرمان شریف ہے {وَإِذا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قالُوا آمَنَّا وَإِذا خَلَوْا إِلی شَیاطِینِہِمْ قالُوا إِنَّا مَعَکُمْ إِنَّما نَحْنُ مُسْتَہْزِؤُنَ} (الْبَقَرَۃِ: ۱۴)ترجمہ : اورجب وہ ایمان والوں سے ملیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اورجب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ، ہم تویونہی اہل ایمان کے ساتھ مذا ق کرتے ہیں ۔ تیسراقول: تمام کفارمراد ہیں ، اس پردلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ارشادفرمایا{بِطانَۃً مِنْ دُونِکُم}تواہل ایمان کواپنے علاوہ کسی سے بھی دوستی لگانے سے منع کیاگیاہے ۔ اوریہ الفاظ کفارکے حوالے سے ممانعت ہیں ، اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیاء َ }(الْمُمْتَحِنَۃِ: ۱)ترجمہ:اے ایمان والو!میرے اوراپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۸:۳۳۹) امام القرطبی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں أَکَّدَ اللَّہُ تَعَالَی الزَّجْرَ عَنِ الرُّکُونِ إِلَی الْکُفَّارِنَہَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُؤْمِنِینَ بِہَذِہِ الْآیَۃِ أَنْ یَتَّخِذُوا مِنَ الْکُفَّارِ وَالْیَہُودِ وَأَہْلِ الْأَہْوَاء ِ دُخَلَاء َوَوُلَجَاء َ، یُفَاوِضُونَہُمْ فِی الْآرَاء ِ،وَیُسْنِدُونَ إِلَیْہِمْ أُمُورَہُمْ وَیُقَالُ:کُلُّ مَنْ کَانَ عَلَی خِلَافِ مَذْہَبِکَ وَدِینِکَ فَلَا یَنْبَغِی لَکَ أَنْ تُحَادِثَہُ۔ملتقطاً۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ اللہ تعالی نے کفارکی طرف میلان اورجھکائورکھنے سے منع کرنے اوراس پر زجروتوبیخ کرنے کو موکدفرمایاہے ۔ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو اس آیت کریمہ کے ساتھ منع فرمایاہے کہ وہ کفار، یہودوونصاری اورخواہش پرست ( لبرل وسیکولر) کو اپنے معاملات میں دخیل اوررازدارنہ بنائیں کہ وہ آراء اورمشاورت میں ان کے ساتھ تبادلہ خیالات کرکے اوراپنے معاملات ان کے سپردکردیں اورکہاجاتاہے کہ {کُلُّ مَنْ کَانَ عَلَی خِلَافِ مَذْہَبِکَ وَدِینِکَ فَلَا یَنْبَغِی لَکَ أَنْ تُحَادِثَہ}یعنی ہر وہ شخص جو دین اورتیرے مذہب کے خلاف ہے اس کے ساتھ تیرامشاورت اورگفتگوکرنامناسب نہیں ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۱۷۸)قَدْ بَدَتِ الْبَغْضاء ُ مِنْ أَفْواہِہِم
قَالَ قَتَادَۃُ: قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء ُ لِأَوْلِیَائِہِمْ مِنَ المنافقین والکفار لاطلاع بعضہم بعضاً عَلَی ذَلِکَ، أَمَّا إِنْ حَمَلْنَاہُ عَلَی الْیَہُودِ فَتَفْسِیرُ قَوْلِہِ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضاء ُمِنْ أَفْواہِہِمْ فَہُوَ أَنَّہُمْ یُظْہِرُونَ تَکْذِیبَ نَبِیِّکُمْ وَکِتَابِکُمْ وَیَنْسِبُونَکُمْ إِلَی الْجَہْلِ وَالْحُمْقِ،وَمَنِ اعْتَقَدَ فِی غَیْرِہِ الْإِصْرَارَ عَلَی الْجَہْلِ وَالْحُمْقِ امْتَنَعَ أَنْ یُحِبَّہُ، بَلْ لَا بُدَّ وَأَنْ یَبْغَضَہُ،فَہَذَا ہُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِہِ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضاء ُمِنْ أَفْواہِہِمْ.ثُمَّ قَالَ تَعَالَی:وَما تُخْفِی صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ یَعْنِی الَّذِی یَظْہَرُ عَلَی لِسَانِ الْمُنَافِقِ مِنْ عَلَامَاتِ الْبَغْضَاء ِ أَقَلُّ مِمَّا فِی قَلْبِہِ مِنَ النَّفْرَۃِ، وَالَّذِی یَظْہَرُ مِنْ عَلَامَاتِ الْحِقْدِ عَلَی لِسَانِہِ أَقَلُّ مِمَّا فِی قَلْبِہِ مِنَ الْحِقْدِ، ثُمَّ بَیَّنَ تَعَالَی أَنَّ إِظْہَارَ ہَذِہِ الْأَسْرَارِ لِلْمُؤْمِنِینَ مِنْ نِعَمِہِ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ:قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْآیاتِ إِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُونَ أَیْ مِنْ أَہْلِ الْعَقْلِ وَالْفَہْمِ وَالدِّرَایَۃِ، وَقِیلَ:إِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُونَ الْفَصْلَ بَیْنَ مَا یَسْتَحِقُّہُ الْعَدُوُّ وَالْوَلِیُّ، وَالْمَقْصُودُ بَعْثُہُمْ عَلَی اسْتِعْمَالِ الْعَقْلِ فِی تَأَمُّلِ ہَذِہِ الْآیَۃِ وَتَدَبُّرِ ہَذِہِ الْبَیِّنَاتِ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ. ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ منافقین اورکفارکابغض اپنے ساتھیوں پرظاہرہوگاکیونکہ وہ ایک دوسرے پرمطلع ہوتے ہیں ۔ اگرہم اس ارشاد{قَدْ بَدَتِ الْبَغْضاء ُ مِنْ أَفْواہِہِم}سے مراد یہودی لیں تو پھرمعنی یہ ہوگاکہ وہ تمھارے نبی کریم ﷺاورتمھاری کتاب یعنی قرآن کریم کو جھوٹاکہتے ہیں اوروہ تمھیں جاہل اوراحمق کہتے ہیں ، جو دوسرے کوجہالت اورحماقت پر منحصرمانے اس کے ساتھ محبت کرنامحال ہوگابلکہ وہ اس کے ساتھ سخت نفرت کرے گاتویہاں اسی بغض اورناپسندیدگی کااظہارکیاگیاہے ، پھرفرمایا:{وَما تُخْفِی صُدُورُہُمْ أَکْبَر}جوان کے سینوں میں مخفی ہے وہ اس سے بھی کہیں بڑھ کرہے۔یعنی منافقین کی زبان سے بطوربغض جوکچھ ظاہرہوتاہے وہ ان کی دلی نفرت سے بہت کم ہے اورجوکچھ ان کی زبان سے حسدکااظہارہوتاوہ ان کے دل میں موجود حسدسے کہیں کم ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے ان اسرارورموزکو بطورنعمت ذکرفرمایا{ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْآیاتِ إِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُونَ}ہم نے یہ نشانیاں کھول کرتم کو سنادیں اگرتم کو عقل ہو۔ یعنی اگرتم عقل وفہم اوردرایت والے ہو۔ بعض نے کہاکہ اس کامعنی یہ ہے کہ اگرتم دشمن ودوست کے استحقاق کافرق محسوس کرسکوتو مقصود اہل ایمان کو اس آیت کریمہ اوردیگردلائل میں تدبرکرنے کے لئے استعمال عقل کاحکم ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۸:۳۳۹) جب کافرکو منشی رکھناجائز نہیں ہے تووزیراعظم بنانا کیسے جائز ہوسکتاہے ؟ وَرُوِیَ أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِیَّ اسْتَکْتَبَ ذِمِّیًّا فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ یُعَنِّفُہُ وَتَلَا عَلَیْہِ ہَذِہِ الْآیَۃَ. وَقَدِمَ أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِیُّ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِحِسَابٍ فَرَفَعَہُ إِلَی عُمَرَ فَأَعْجَبَہُ، وَجَاء َ عُمَرَ کِتَابٌ فَقَالَ لِأَبِی مُوسَی:أَیْنَ کَاتِبُکَ یَقْرَأُ ہَذَا الْکِتَابَ عَلَی النَّاسِ؟ فَقَالَ:إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْمَسْجِدَفَقَالَ لِمَ!أَجُنُبٌ ہُوَ؟ قَالَ: إِنَّہُ نَصْرَانِیٌّ، فَانْتَہَرَہُ وَقَالَ:َا تُدْنِہِمْ وَقَدْ أَقْصَاہُمُ اللَّہُ، وَلَا تُکْرِمْہُمْ وَقَدْ أَہَانَہُمُ اللَّہُ، وَلَا تَأْمَنْہُمْ وَقَدْ خَوَّنَہُمُ اللَّہُ وَعَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ:لَا تَسْتَعْمِلُوا أَہْلَ الْکِتَابِ فَإِنَّہُمْ یَسْتَحِلُّونَ الرِّشَا، وَاسْتَعِینُوا عَلَی أُمُورِکُمْ وَعَلَی رَعِیَّتِکُمْ بِالَّذِینَ یَخْشَوْنَ اللَّہَ تَعَالَی وَقِیلَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ:إِنَّ ہَاہُنَا رَجُلًا مِنْ نَصَارَی الْحِیرَۃِ لَا أَحَدَ أَکْتَبُ مِنْہُ وَلَا أَخَطُّ بِقَلَمٍ أَفَلَا یَکْتُبُ عَنْکَ؟ فَقَالَ:لَا آخُذُ بِطَانَۃً مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ. فَلَا یَجُوزُ اسْتِکْتَابُ أَہْلِ الذِّمَّۃِ، وَلَا غَیْرُ ذَلِکَ مِنْ تَصَرُّفَاتِہِمْ فِی الْبَیْعِ وَالشِّرَاء ِ وَالِاسْتِنَابَۃِ إِلَیْہِمْ. ترجمہ :حضرت سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ حساب لے کرحضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اورآپ رضی اللہ عنہ کو وہ پیش کیااورآپ رضی اللہ عنہ کو تعجب میں ڈال دیا، حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ ایک تحریرلائے اورحضرت سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو فرمایاکہ تیراکاتب کہاں ہے ؟ وہ یہ تحریرلوگوں پر پڑھے ۔ توانہوںنے عرض کی: وہ مسجد شریف میں داخل نہیں ہوسکتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیاوہ جنبی ہے ؟توانہوںنے عرض کی : وہ نصرانی ہے ۔ توآپ رضی اللہ عنہ نے انہیں خوب جھڑکااورفرمایا: توانہیں قریب نہ کر، جب کہ اللہ تعالی نے ان کو دورکیاہے اورتوان کی عزت نہ کرجبکہ اللہ تعالی نے ان کو ذلیل ورسواکیاہے اورتوان کو امین نہ بناجبکہ اللہ تعالی نے ان کو خائن قراردیاہے ۔ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اہل کتاب کو عامل نہ بنائوکیونکہ وہ سوداوررشوت کو حلال جانتے ہیں اوراپنے اموال اوراپنی رعایاپر ان لوگوں سے مددطلب کروجواللہ تعالی سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کو بتایاگیاکہ یہاں حیرہ کے عیسائیوں میں سے ایک آدمی ہے اس سے بہترلکھنے والاکوئی نہیں ہے اورنہ ہی قلم کے ساتھ اس سے اچھاکوئی لکھ سکتاہے ، کیاوہ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف کاتب نہ ہوجائے؟ توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مومنین کے سواکسی کو رازدارنہیں بنائوں گا۔ پس اہل ذمہ کو کاتب بناناجائز نہیں ہے اورنہ ہی اس کے سواکسی بیع وشراء کے معاملات سے کسی میں ان کاتصرف کرنااوران کو نیابت کی ذمہ داری سونپناجائز ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۱۷۸)امام قرطبی رحمہ اللہ تعالی کے دورکے حکمرانوں کی کفردوستی
قُلْتُ: وَقَدِ انْقَلَبَتِ الْأَحْوَالُ فِی ہَذِہِ الْأَزْمَانِ بِاتِّخَاذِ أَہْلِ الْکِتَابِ کَتَبَۃً وَأُمَنَاء َوَتَسَوَّدُوا بِذَلِکَ عِنْدَ الْجَہَلَۃِ الْأَغْبِیَاء ِ مِنَ الْوُلَاۃِ وَالْأُمَرَاء ِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں اہل کتاب کو کاتب اورامین بنانے کے سبب احوال بدل چکے ہیں اوروہ حکمرانوں اورامراء کے پاگل اورجاہل ہونے کے سبب کافرسرداربنے ہوئے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۱۷۸) اللہ اکبر!یہ توامام القرطبی رحمہ اللہ تعالی کادورمبارک ہے کہ حکمران پاگل اوراحمق تھے ، اگروہ ہمارادوراورہمارے حکمرانوں کو دیکھ لیتے توکیافرماتے کہ اتنے بڑے جاہلوں اوراتنے بڑے پاگلوں کوکس نے حکمران بنادیا۔ اوریہ بھی دیکھتے توحیران رہ جاتے کہ ان کے حکمران کوشش میں ہیں کہ پاکستان میں اب مرزائی اورعیسائی لوگوں کو حکمران اوروزیراعظم بنادیاجائے ۔مشرکین کی آگ سے آگ روشن نہ کرو‘‘کامطلب؟
وَرَوَی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)لَا تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ وَلَا تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ غَرِیبًافَسَّرَہُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِی الحسن فقال:أراد علیہ السلام لا تستشیروا المشرکین فی شی مِنْ أُمُورِکُمْ، وَلَا تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ مُحَمَّدًاقَالَ الْحَسَنُ:وَتَصْدِیقُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ:یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطانَۃً مِنْ دُونِکُمْ۔ ترجمہ:حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ ارشادفرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرواوراپنی انگوٹھیوں میں غریب نہ لکھوائو۔ اس حدیث شریف کی شرح میں امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اس سے یہ ارادہ فرمایاہے کہ تم اپنے معاملات میں سے کسی کے بارے مشرکین کے ساتھ مشاورت نہ کرواوراپنی انگوٹھیوں میں اسم محمد(ﷺ)نہ لکھوائو۔ امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ہے {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِنْ دُونِکُم} (الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أحمد بن محمد بن إبراہیم الثعلبی (۳:پ۱۳۵) اس حدیث پرغورکریں حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ عَنِ الْأَزْہَرِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ:کَانُوا یَأْتُونَ أَنَسًا فَإِذَا حَدَّثَہُمْ بِحَدِیثٍ لَا یَدْرُونَ مَا ہُوَ، أَتَوُا الْحَسَنَ یَعْنِی الْبَصْرِیَّ، فَیُفَسِّرُہُ لَہُمْ، قَالَ:فَحَدَّثَ ذَاتَ یَوْمٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ لَا تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ،وَلَا تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا فَلَمْ یَدْرُوا مَا ہُوَ، فَأَتَوُا الْحَسَنَ فَقَالُوا لَہُ:إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ، وَلَا تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا فَقَالَ الْحَسَنُ: أَمَّا قَوْلُہُ لا تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا :مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا قَوْلُہُ: لَا تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ المشرکین یَقُولُ:لَا تَسْتَشِیرُوا الْمُشْرِکِینَ فِی أُمُورِکُمْ ثُمَّ قَالَ الْحَسَنُ: تَصْدِیقُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطانَۃً مِنْ دُونِکُمْ ہَکَذَا رَوَاہُ الْحَافِظُ أَبُو یَعْلَی رحمہ اللہ تعالی، وَقَدْ رَوَاہُ النَّسَائِیُّ عَنْ مُجَاہِدِ بْنِ مُوسَی، عَنْ ہُشَیْمٍ، وَرَوَاہُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ عَنْ ہُشَیْمٍ بإسنادہ مثلہ فی غَیْرِ ذِکْرِ تَفْسِیرِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ.وَہَذَا التَّفْسِیرُ فِیہِ نَظَرٌ وَمَعْنَاہُ ظَاہِرٌ لَا تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا أَیْ بِخَطٍّ عَرَبِیٍّ، لِئَلَّا یُشَابِہَ نَقْشَ خَاتَمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّہُ کَانَ نَقْشُہُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ ، وَلِہَذَا جَاء َ فِی الْحَدِیثِ الصَّحِیحِ أَنَّہُ نَہَی أَنْ یَنْقُشَ أَحَدٌ عَلَی نَقْشِہِ وَأَمَّا الِاسْتِضَاء َۃُ بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ۔ ترجمہ :ازہر بن راشد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حسن بصری رضی اللہ عنہ سے جا کر مطلب حل کر لیتے تھے ایک دن حضرت سیدناانس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آ کرحضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺنہ لکھواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو!اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ۔ لیکن حضرت سیدناحسن بصری رضی اللہ عنہ کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چنانچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے ۔ یہ اس لیے تھا کہ نبی کریمﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے؟اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۲:۹۲)اس حدیث شریف کی وضاحت حافظ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی کے قلم سے
فَمَعْنَاہُ لَا تُقَارِبُوہُمْ فِی الْمَنَازِلِ بِحَیْثُ تکون مَعَہُمْ فِی بِلَادِہِمْ، بَلْ تَبَاعَدُوا مِنْہُمْ، وَہَاجِرُوا من بلادہم، ولہذا روی أبو داود لا تتراء ی نارہما وَفِی الْحَدِیثِ الْآخَرِ مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِکَ أَوْ سَکَنَ مَعَہُ فَہُوَ مِثْلُہُ فَحَمْلُ الْحَدِیثِ عَلَی مَا قَالَہُ الْحَسَنُ رَحِمَہُ اللَّہُ،وَالِاسْتِشْہَادُ عَلَیْہِ بِالْآیَۃِ فِیہِ نَظَرٌ،وَاللَّہُ أَعْلَمُ ثُمَّ قَالَ تَعَالَی:قَدْ بَدَتِ الْبَغْضاء ُ مِنْ أَفْواہِہِمْ وَما تُخْفِی صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ أَیْ قَدْ لَاحَ عَلَی صَفَحَاتِ وُجُوہِہِمْ، وَفَلَتَاتِ أَلْسِنَتِہِمْ مِنَ الْعَدَاوَۃِ، مَعَ مَا ہُمْ مُشْتَمِلُونَ عَلَیْہِ فِی صُدُورِہِمْ مِنَ الْبَغْضَاء ِ لِلْإِسْلَامِ وَأَہْلِہِ، مَا لَا یَخْفَی مِثْلُہُ علی لبیب عاقل، ولہذا قال تعالی:قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْآیاتِ إِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُونَ. ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس پہلے جملے کا معنی یہ ہے کہ مشرکین کی بستی کے پاس نہ رہو، اس کے پڑوس سے دوررہو، ان کے شہروں سے ہجرت کرجائو، جیساکہ ابودائودشریف میں ہے کہ مسلمانوں اورمشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیاتم نہیں دیکھتے اورحدیث شریف میں ہے جومشرکین کے ساتھ میل جول کرے یاان کے ساتھ رہے اوران کے ساتھ بسے وہ بھی انہیں جیساہے ۔ پھرفرمایاکہ ان کی باتوں سے بھی ان کی دشمنی ٹپک رہی ہے ، ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتاہے ، پھرجوان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ توتم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے توصاف صاف بیان کردیاہے ، عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے ۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۲:۹۲)معارف ومسائل
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ کفار سے دوستانہ تعلقات، دلی محبت و اخلاص حرام ہے اور انہیں اپنا راز دار بنانا بھی ناجائز ہے اور تجربات سے بھی یہی ثابت ہے کہ کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے۔ نیزاس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان حکمران کافروں اور مرتدوں کو اہم ترین عہدوں پر نہ لگائے جس سے یہ لوگ غداری کرنے کا موقعہ پائیں کیونکہ یہ لوگ تمہاری برائی چاہنے میں کوئی کمی نہیں کریں گے، ان کی تو خواہش ہی یہ ہے کہ مسلمان تکلیف و مشقت میں پڑے رہیں نیز ان کی دشمنیاں ان کے الفاظ اور کردار سے ظاہر ہیں جو وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے ۔ جب زبانی دشمنی بھی سامنے آتی رہتی ہے تو جو دشمنی اور مسلمانوں سے بغض و عداوت ان کے دلوں میں ہوگی وہ کس قدر ہوگی؟ یقینا ان کے دلوں میں موجود دشمنی ظاہری دشمنی سے بڑھ کر ہے۔ لہٰذا اے مسلمانوں!اِن سے دوستی نہ کرو۔اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں کھول کر بیان فرماتا ہے۔قرآنِ پاک کی جامعیت اور حقانیت کو اگر سمجھنا ہو تو ان آیات کو سامنے رکھ کر تمام دنیا کے مسلمان اور کافر ممالک کے حالات کا جائز ہ لیں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بیان فرمایا وہ قطعی طور پر حق اور سچ نہیں ہے؟ یقینا سچ ہے۔ تاریخِ عالم، تاریخِ اسلام اور موجودہ حالات تمام کے تمام قرآن کی ان آیات کی صداقت پر دلالت کررہے ہیں لیکن افسوس کہ ابھی بھی ہماری آنکھیں خواب ِ غفلت میں ہیں ، ہمارے لوگ ابھی بھی انہی کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روا مان رہے ہیں جنہیں اپنے راز بتانے سے بھی اللہ تعالیٰ ہمیں منع فرمارہا ہے ۔ ارشاد فرمایا گیا کہ اے مسلمانو!یہ صرف تم ہو جو رشتہ داری اور دوستی وغیرہ تعلقات کی بناء پر ان سے محبت کرتے ہو جبکہ وہ تمہیں پسند نہیں کرتے اور دینی مخالفت کی بنا پر تم سے دشمنی رکھتے ہیں حالانکہ تم قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہو اور ان کی کتابوں پر بھی لیکن وہ تمہاری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے توجب وہ اپنے کفر میں اتنے پختہ ہیں تو تم اپنے ایمان میں پختہ کیوں نہیں ہوتے اوران میں سے جو منافقین ہیں ان کا حال یہ ہے کہ جب وہ تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لاچکے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو غصے کے مارے تم پر انگلیاں چباتے ہیں۔ جب ان کا یہ حال ہے تو اے مسلمانو! تم ان سے بچو۔ان کے اِس غیض و غضب پر اے حبیب!ﷺمَ ، آپ ان سے فرما دیں کہ تم مرتے دم تک اپنے غصے پر قائم رہواور اِس جلن میں جلتے رہولیکن یاد رکھو کہ اس وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑے گاالبتہ تمہارے لئے یہ غصہ عذاب کا باعث بن جائے گا کیونکہ تمہاری یہ قلبی حالت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جودلوں کی باتیں بھی جانتا ہے ۔ (تفسیرصراط الجنان( ۲: ۴۰)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9